چند کائناتی دنیائیں

حمیر یوسف

, چند کائناتی دنیائیں

ہماری زمین واحد سیارہ نہیں ہے جہاں زندگی کے تمام لوازمات دستیاب ہیں،بلکہ اس بھری پری کائنات میں نہ جانے کتنی اور ایسی دنیائیں موجود ہیں جہاں زندگی کے لیے سازگار ماحول میسر ہے۔ یہ کائنات ہمارے اندازے سے بھی زیادہ ستاروں سے بھری ہوئی ہے اور ہر ہر ستارے کے گرد ایک نامعلوم تعداد میں سیارے گردش کررہے ہوتے ہیں۔ کہیں کہیں تو دو دو ستاروں کے ثنائی نظام بھی ہوتے ہیں، جہاں بیک وقت کئی سیارے محو گردش ہورہے ہوتے ہیں۔ لیکن یہ سیارے زمین سے کڑوڑوں اربوں میل فاصلے پر ہیں کیونکہ کائنات بہت وسیع ہے ۔ زمین ہی واحد وہ سیارہ ہے جہاں فی الحال زندگی موجود ہے، لیکن ان سیاروں میں کتنے سیارے ایسے ہیں جہاں زندگی کو مدد دینے والی کنڈیشنز موجود ہیں اور کتنوں کے گرد ایسے سازگار ماحول میسر ہیں، جہاں زندگی پنپنے کو مدد مل سکتی ہے، وہاں پانی موجود ہے، کرہ ہوائی موجود ہے، درجہ حرارت مناسب ہے، ٹھوس سطح میسر ہے وغیرہ وغیرہ، اسکے متعلق ہم قطعیت سے مکمل جانکاری نہیں رکھتے۔ لیکن پھر بھی کچھ سیاروں کے بارے میں امریکی خلائی ایجنسی ناسا اور خلائی دوربینوں سے میسر ڈیٹا سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ایسے سیارے ضرور موجود ہیں، جہاں زندگی کی مدد دینے والے حالات موجود ہیں ۔ ان میں کچھ سیارے ہمارے نظام شمسی کا بھی حصہ ہیں اور کچھ ایسے سیارے بھی ہیں جو ہمارے نظام شمسی سے باہر ہیں انکو Exo Planets کہا جاتا ہے۔ زیل کے مضمون میں ان ہی چند سیاروں کے بارے میں بتایا گیا ہے۔


کیپلر 186F-:
کیپلر 186F-جو KOI-571.05 , Kepler Object of interest کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور یہ ایک سرخ بونے ستارے کیپلر 186 کے گرد گردش کررہا ہے۔ یہ ہم سے قریبا 500 نوری سال کے فاصلے پر ہے (178.5 پارسیک یا تقریبا 5×10^15کلومیٹر )۔ یہ وہ پہلا نظام شمسی سے باہر سیارہ دریافت ہوا تھا جسکا رداس زمین کے رداس کے مماثل اور کسی دوسرے ستارے کے قابل رہائش حصے میں موجود ہوتا ہے۔ مطلب کہ وہ اس ستارے سے اتنے مناسب فاصلے پرہوتا ہے کہ وہاں زندگی کے پائے جانے کا امکان کافی ہوگا۔ ایک واحد کسی سیارے کی وہ خاصیت جو مرکزی ستارے سے براہ راست اخذ کی جاسکتی ہے ، جو گردشی حرکت کے دوران ستارے سے ملنے والی روشنی کی مقدار سے ہوتی ہے۔کیپلر 186Fکو ملنے والی رشنی کی مقدار قریبا 0.21ہوتی ہے۔ اس سیارے کا رداس ، زمینی رداس کے قریبا 11 گنا کے برابر ہے، اور اسکا حجم زمین کے مقابلے میں 1.37 گنا زیادہ ہے۔


سیارہ کن مادوں سے مل کر بنا، اسکے بارے میں صحیح اندازہ ہم اس سیارے کے رداس اور اسکی اوسط کثافت کے ملاکر اخذ کرتے ہیں اور اسکی ممکنہ کمیت کا بھی اسطرح اندازہ لگاتے ہیں۔ یہ ہوسکتا ہو کہ پتھریلا زمینی ٹائپ کا سیارہ ہو یا پھر کم کثافت والا کوئی سمندری سیارہ، جسکا ایک گہرا کرہ ہوائی ہو۔ اگر کسی سیارے کا رداس زمینی رداس کے 1.5 گنے سے زیادہ ہو تو ہوسکتا ہے کہ وہ ہائیڈروجن/ہیلیم کے ایک بے پناہ زبردست کرہ ہوائی سے ڈھانپا ہوا ہو جو کہ اس امکان کو کم کرتا ہے کہ وہ قابل رہائش ہو۔کہا جاتا ہے کہ کیپلر 186fکے لئے متوازن درجہ حرارت ، جو بغیر کسی کرہ ہوائی کے ماحول کی اسکی سطح کا درجہ حرارت ہے تقریبا یہ 188کیلو−85C؛F 1121 )کے ارد گرد ہے ، جو مریخ کے توازنی درجہ حرارت سے کچھ زیادہ ٹھنڈا ہے۔ کیپلر 186fکے ستارے کے گرد قابل رہائش علاقے میں ہونے سے یہ لازمی نہیں کہ وہ لازمی طور پر رہائش کے لیے بھی فٹ ہو۔ یاس کا انحصار اس کی ماحولیاتی خصوصیات پر بھی ہے ، جو ابھی فلحال نامعلوم ہیں۔ کیپلر 186f ہم سے بہت فاصلے پر ہے کہ اسکا اصلی ماحول کسی بھی موجودہ دور بین سے نہیں معلوم کیا جاسکتا ، یا پھر اگلی نسل کی جدید دوربین جیسے جیمز ویب کی خلائی دور بین بھی کیپلر سیارے کے ماحول کو شناخت نہیں کرسکتی۔


آب و ہوا کا ایک آسان نمونہ – جس میں سیارے کی اتار چڑھاؤ کی انوینٹری نائٹروجن ، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی تک ہی محدود ہے اوراسمیں سیارے کے بادلوں یعنی کرہ ہوائی کی جانچ پڑتا نہیں ہوتا ہے، اس سے سیارے کے اصلی حالات کی جانکاری نہیں مل سکتی – اس سے پتہ چلتا ہے کہ اگر سیارے کی سطح کا درجہ حرارت OoC یر پھر 273K, 32oF سے زیادہ ہوگا کم سے کم 0.5 سے 5 بار کرہ ہوائی دباؤ میں CO2 اس کی فضا میں موجود ہے ،اور اس فرض کردہ دباؤ میں N2 جزوی دباؤ کے لئے قیمت بالترتیب 10 بار سے صفر تک ہے۔یہ تقریبا زمینی کرہ ہوائی کے دباؤ کے ہی لگ بھگ ہے۔ لیکن اس ڈیٹا کے ہونے کے بعد یہ امکان ہے کہ اس سیارے کی کرہ ہوئی چونکہ ہماری زمین کے کرہ ہوائی کی ترکیب کے قریب قریب ہے اسلیے یہاں مستقبل کی انسانی آبادی بسانے کی کوشش کی جاسکتی ہے، جب انسان ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرلےاور لمبے فاصلے طے کرنا سیکھ لے۔


کیپلر 442b:
کیپلر 442bجسکو Kepler object of interest یا پھر KOI-4742.01کے نام سے جانا جاتا ہے ایک تصدیق شدہ زمین جیسا سیارہ ہے، جو زمین ہی طرح پتھریلا ہے۔ یہ سیارہ کائناتی برج لائرا Lyra کے ایک K ٹائپ سیارے کیپلر 442 کے گرد گھوم رہا ہے جو ہم سے 1206 نوری سال کے فاصلے (قریبا 370 پارسیک) پر موجود ہے۔


کیپلر 442bایک سپر ارتھ (ایسے سیارے جنکی کمیت زمین سے زیادہ لیکن ہمارے نظام شمسی کے برفانی دیو ، یورنیس، نیپچون وغیرہ سے کم ہو) سیارہ ہےجو ہمارے نظام شمسی سے باہر موجود ہے۔ اسکا توازنی درجہ حرارت قریبا 233 کیلون (-40oC) ہے۔ اسکا رداس زمینی رداس کا 134 گنا ہے۔ اسکے رداس کو دیکھتے ہوئے یہ بات کہی جاسکتی ہےکہ یہ ایک پتھریلا سیارہ ہے، جسکی سطح ٹھوس ہے۔ کیپلر 442bکی کمیت زمینی کمیت کے 2.36گنے کے برابر ہے۔ کیپلر 44bکی سطح کی کشش ثقل زمین کے مقابلتا 30 فیصد زیادہ طاقتور ہے، جس سے یہ انداز لگانے میں مدد ملتی ہے کہ اسکی سطح ٹھوس اور پتھریلی ہوگی۔ اس کے متعلق یہ اعلان کیاگیا ہے کہ اپنے ستارے کے قابل رہائش زون میں ہے، ایک ایسے علاقے میں جہاں کسی بھی سیارے پر مائع پانی پائے جانے کا امکان اسکی سطح پر ہوتا ہے۔ اسکوجتنے سیارے اب تک دریافت ہوچکے ہیں، انکے سائز اور سطحی درجہ حرارت کے لحاظ سے ایک بالکل زمین جیسے سیارے کے جیسا بتایا جاتا ہے۔ یہ اس مدوجزر کے زون سے تقریبا باہر ہے (0.362 AUایک سمندری مدوجز کی اکائی) جو ایک سیارے کو سمندری مدوجزر کےحساب سے اسکے میزبان ستارے سے مکمل طور پر لاکڈ کرتی ہے۔جولائی 2018 تک کیپلر 442b سب سے زیادہ قابل رہائش ،جو مدوجزر سے لاکڈ نہیں ہیں ، نظام شمسی سے باہر سیاروں میں شمار ہوتاتھا اور زمین کے بعد رہائش کے قابل سیاروں کے امیدواروں میں پہلے نمبر پر تھا۔


کیپلر 62f:
کیپلر 62fجسکو Kepler object of interest یاپھر KOI-701.04 بھی کہاجاتا ہے۔ یہ بھی ایک سپر ارتھ ، نظام شمسی سے باہر سیارہ ہے۔ یہ ستارہ کیپلر 62 کے گرد گردش کررہا ہے، ان پانچ ستاروں سے سب سے بیرونی سیارہ جو ناسا کے کیپلر خلائی جہاز نے دریافت کیے تھے، ان میں شامل ہے۔ یہ زمین سے قریبا 1200 نوری سالوں (368 پارسیک) فاصلے پر کائناتی برج لائرا Lyra پر موجود ہے۔ کیپلر 62fاپنے مرکزی ستارے سے قریبا 0.718 AU کے فاصلے پر گردش کررہا ہے (107،4000،000 کلومیٹر ؛ 66،700،000 میل ) اور اسکا ایک سال قریبا 267.3 دنوں کے برابر ہوتا ہے۔ اسکی کمیت ،زمین کی کمیت کے 2.8 گنا کے برابر ہے، اور اسکا رداس (نصف قطر) زمینی رداس کے 1.41 کے برابر ہے۔
یہ سیارہ ان تمام زمین جیسے قابل رہائش سیاروں کے امیدواروں کے مقابلے میں سب سے زیادہ امید افزاء ہے۔ کیونکہ اسکا مرکزی ستارہ ایک نسبتا خوموش ستارہ ہے، جسکی کمیت سورج کے مقابلے میں کم ہے، اور یہ سورج کے مقابلے میں 30 بلین سال مزید اپنی زندگی گزار سکتا ہے۔ اپنی کمیت کے لحاظ سے یہ ایک زمین کی طرح پتھریلا سیارہ یا پھر مکمل سمندر سے ڈھکا سیارہ ہوسکتا ہے۔ لیکن پھر بھی اسکے بنیادی اجزاء جو انسانی رہائش کے قابل بناتے ہیں کو ابھی بھی صحیح سے جانچنا باقی ہے جو اسکی رہائشی صلاحیت کے بارے میں صحیح اشارہ دے۔ جیسے اسکا کرہ ہوائی ، اگر وہ موجود ہو، اسکے بارے میں صحیح معلومات ، کیونکہ یہ اپنے مرکزی ستارے کے بیرونی حصے سے تعلق رکھتی ہے جوکہ قابل رہائش علاقے میں شامل ہوتی ہے۔


کیپلر 62f بھی ایک سپر ارتھ ہے جسکا رداس اور کمیت زمین سے بڑا لیکن یورینس اور نیپچون سے کم ہے۔ اسکا سطح کا توازنی درجہ حرارت 208کیلون (65C, -87F-) کے برابر ہے ، تقریبا مریخ کے درجہ حرارت کے برابر۔ اسکا نصف قطر زمین کے نصف قطر کے 1.4گنا کے برابر ہے۔ اور اسکا درجہ زمینی نصف قطر کے 1.6 گنا کے برابر یا اس سے بڑا ہونے کے برابر ہے، ورنہ یہ چھوٹے نیپچون کے ہی اسطرح برابر ہوتا جسکی بناوٹ غیر مستحکم ہوتی اور اسکی سطح بھی ٹھوس نہ ہوتی جیسے زمین کی ہے۔ اسکے نصف قطر کی وجہ سے یہ ایک پتھریلا سیارہ ہوسکتا ہے۔ لیکن اسکی کمیت کاصحیح اندازہ لگانے میں ابھی دقت ہے جو کہ اپنی اوپری ممکنہ حد 35M سے کافی حد تک کم پائی جاتی ہے۔ اس سیارے کی اصلی قیمت 2.8 زمینی کمیت کے لگ بھگ ہوسکتی ہے جس کی وجہ سے یہ فرض کیا جاسکتا ہے کہ یہ ایک پتھریلا سیارہ ہوسکتا ہے۔ سیارے کی عمر (سات سے چار بلین سال)، شعاع ریزی و چمک (0.41گنا زمین سے زیادہ) اور رداس (زمین کا 1.41گنا) کو دیکھتے ہوئے یہ قرین قیاس ممکن ہے کہ یہ سیارہ ایک پتھریلی (آئرن۔سلیکیٹ) بناؤٹ کا حامل ہے جس میں پانی کی موجودگی کا بھی واضح امکان ہوسکتا ہے۔ ارضیاتی ماڈلنگ کا مطالعہ اس بات کا اشارہ کرتا ہے کہ غالبا اس کے حجم کے حامل سیارے کی پوری اکثریت سمندری حدود میں شامل ہے۔


اگر اس کی کثافت زمین کی طرح ہے تو ، اس کا حجم زمین سے 1.413 یا 2.80 گنا ہوگا۔ ممکنہ طور پر رہائش پذیر سیاروں پر سمندری اثرات کے مطالعے کے مطابق اس سیارے میں اپنے چاند کو اپنے گردش کرنے کی صلاحیت موجود ہے، یعنی زمین کی طرح اسکا ایک ہی چاند ہوسکتا ہے، جو اسکے گرد ، گردش کررہا ہے۔اگرچہ کیپلر- 62f ایک سمندر پر احاطہ کرتا ہوا سیارہ ہوسکتا ہے جس کی سطح پر چٹان اور پانی موجود ہے ، لیکن یہ سیارہ اس کے مرکزی ستارے سے بہت دور ہے ، لہذا کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO2) کی اضافی مقدار کے بغیر ، یہ ایسا سیارہ ہوسکتا ہے جو مکمل طور پر برف میں ڈھانپا ہو۔
کیپلر 62fکو زمین جیسا کرہ ہوائی اور ماحول برقرار رکھنے کے لیے سطح زمین پر تقریبا 284 سے لیکر 290 کیلون (11-17oC، 52-62oF) درجہ حرارت چاہئے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ہوائی دباؤ قریبا 5 بار (4.9 atm) ہوناچاہئے تاکہ ایک مستحکم کرہ ہوائی کا سائیکل بن سکے۔ 13مئی 2016 کو کیلی فورنیا ۔لاس انجلیس )UCLA یونیورسٹی کے تحقیق دانوں نے یہ اعلان کیا کہ انہوں نے ان مختلف منظر ناموں کو ڈھونڈ نکالا جو کسی نظام شمسی سے باہر سیاروں کے قابل رہائش بناتے ہیں۔ انہوں نے متعددکمپیوٹر سمولیشنز کی بنیاد پر کیپلر 62fپر پائے جانے والے آب وہوا کو جانچا جسمیں زمین جیسی کرہ ہوائی سے لیکر اسکی گیارہ گنا زیادہ گاڑھی کرہ ہوائی جیسے حالات، کرہ ہوائی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مختلف ارتکاز جو زمین جتنی مقدار سے لیکر اسکی 2500 گنا زیادہ مقدار تک کے اثرات کا مطالعہ کرنا اور ساتھ ہی مختلف ممکنہ سیارے کے گردشی راستے کی تشکیلات شام تھیں۔ جون 2018 میں ان تحقیقات کی بنیاد پر یونیورسٹی میں یہ ریسرچ پیپر شائع ہوا کہ کیپلر 62fمیں ویسے ہی موسم اور آب ہوا ہوسکتے ہیں جیسے زمین پر ہیں۔ اور اگر آکسیجن کا بھی سراغ یہاںمل گیا تو سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہی سیارہ انسانوں کے لیے دوسرا گھر ثابت ہوسکتا ہے۔

اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں