چاند کو خبر تھی

افسانہ نگار : فارس مغل ، کوئٹہ ، پاکستان

, چاند کو خبر تھی

اس نے دفتر میں نیم عریاں عورت کا جسم اپنے وجود سے علیحدہ کرتے ہوئے قمیص کا حُلیہ درست کیااور نفی میں سر ہلانے لگا”آج نہیں”۔عورت نے ادائے دلبری سے نچلا ہونٹ دانتوں میں داب لیا”کیوں سر جی؟”
“کل میری شادی ہے”
“مبارک ہو! ہمیں نہیں بلایا؟کیااب ہم اتنے برے ہوگئے”
اس نے جواباً مسکرانے پر اکتفا کیا۔
“اب تو آپ بدل جائیں گے ناں۔سرجی”
“ہاں! شاید”اس نے جیب سے دو ہزار روپے نکال کر عورت کی طرف بڑھائے”میری شادی کی مٹھائی کھا لینا”۔وہ بغیر پس و پیش کے پیسے پکڑ کے یوں کِھل اُٹھی جیسے ہر سوال کے جواب کا سراغ ہاتھ لگ گیا ہو۔
٭


اس کی نئی نویلی دلہن کا نام زیبا تھا ۔
گوکہ دونوں میں نزدیکی رشتہ داری تھی مگر شادی سے قبل شاذ ونادر سرسری طور پرسامنا ہوا ہوتو ہو۔چناچہ جب شبِ زفاف اپنی منکوحہ کا گھنی ریشمی زلفوں میں ماہِ کامل سا چمکتا،حیا کی سرخی سے تمتماتا دل ستاں چہرہ دیکھا تو چند لمحوں کے لیے سانس لینا فراموش کر بیٹھا۔ رخصتی رجب کی یکم تاریخ کو انجام پائی اور جب تک چودھویں کا چاندکھڑکی میں نہیں آ ن بیٹھا وہ من موہنی کے رنگ روپ کے ساتھ ہولی کھیلتا رہااور حجلہء عروسی میںبہار کا موسم اپنی آنکھوں پر ہاتھ جمائے مسکراتا تھا۔
“تم اپسرا ہو یا بنتِ حوا۔۔سچ سچ بتا دو۔تمھیں چُھو لوں میلی تو نہیں ہو جائو گی؟کیا واقعی تمھارا جسم مٹی سے بناہوا ہے؟ موم کی طرح پگھل تو نہیں جائو گی”
رومان پرور الفاظ زیبا کی سماعتوں میں رس گھولنے لگے کہ وہ سہاگ کے بستر پر دیوانی ہوئی جاتی تھی ارمانوں کے سرخ پھولوں کی مہکار میں جلترنگ قہقہے کمرے کی دیواروں پر اَن دیکھے بوسوں کی مانند ثبت تھے۔ ابھی بہت سے خوابوں نے تعبیر کے رستے پر چلنا تھا لیکن۔۔۔پھر رنگوں کا تہوار ختم اور موسمِ گل رخصت ہوگیا۔
پورے دو ہفتے بعد صبح دوبارہ دفتر جانے کے لیے تیار ہونے والا رنگ رسیا ایک بدلا ہوا سنجیدہ انسان تھاکہ بدن پر کہیں بھی ہولی کے کسی رنگ کا کوئی مدھم سا نشان باقی نہیں رہاجبکہ زیبا اپنے سترنگی مہکتے بدن کے ساتھ جھومتی تھی ۔
“آج سے ہماری عملی زندگی شروع ہوا چاہتی ہے “اس نے نک ٹائی درست کرتے ہوئے اپنے عقب میں کھڑی زیبا کو آئینے میں دیکھتے ہوئے سپاٹ لہجے میں کہا “میرے خیال میںشادی کے بعد اتنا عرصہ عیش و عشرت کے لیے کافی ہوتا ہے۔اگرفرصت ملی تو ہنی مون پر بھی چلیں گے”


زیبا نے میاں کی بات مذاق سمجھی اور ابھی ازراہ تفنن کچھ کہنے کے لیے لب وا کیے تھے کہ وہ پلٹ کر روبرو آگیا”میری ملازمت کی نوعیت کچھ ایسی ہے کہ صبح تا شام مصروف رہتا ہوں اور کبھی کبھی رات گئے گھر لوٹتا ہوں۔ تم اس کے لیئے خود کو ذہنی طور پر تیار رکھنا ،روایتی جاہل گنوار بیویوں کی طرح فضول سوالات سے اجتناب ہی ہم دونوں کے حق میں بہتر ہوگا” اپنے پریتم کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ دیکھ کر زیبا کے کھلے ہونٹ یکایک سکڑ گئے کہ اسے الفاظ سے زیادہ اجنبی سردلہجہ چبھ گیا۔مجازی خدا نے کوٹ پہن کر اپنی نگاھیں دلہن کے اترے ہوئے چہرے پر رکھیں”اور ہاں !اس شہر میں میرے بہت سے دوست ہیں دوستوں میں مرد اور خواتین کا تناسب تقریباً برابر سمجھو۔یہ بتانا اس لیے مناسب سمجھا کہ تم ابھی دو ہفتہ پہلے میری زندگی میں آئی ہو جبکہ میرے دوستوں کی رفاقت سالوں پر محیط ہے اورانہیںوقت دینا میرے فرائض میں شامل ہے باقی تم پڑھی لکھی سمجھدار ہو میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں تم بہترسمجھ سکتی ہو”نوبیاہتاکا معصوم دل کانپ اٹھا “کیا یہ وہی شخص ہے جو ابھی پچھلی شب تک میرے بدن پر اپنے ہونٹوں سے وفاداری کی قسمیں لکھ رہا تھا؟نہیں۔۔”اسے یوں محسوس ہواجیسے کسی نے اسے سرما کی تیز بارش میں دھکیل دیا ہے اور سارے رنگ جسم سے یکسر بہہ نکلے ہیں۔اس پر کھلا کہ وہ گزشتہ چودہ روزسے خود کو جس خوبرو شہزادے کی شہزادی سمجھتی رہی تھی درحقیقت محض ایک دیوتا کی داسی ہے اوردیوتا کو ہر حال میں راضی رکھنا فرائضِ منصبی میں شامل ہے اور؟۔اور بس۔
بھنورے نے جاتے سمے پھول کے ہونٹوں پر بوسہ دیا لیکن اس میں ذراسی بھی حلاوت نہیں تھی۔
وہ اداسی کی پہلی شب تھی جو سہاگن نے ٹیرس پر تنہائیوں کے حصار میں پندرھویں کے چاند کوتکتے ہوئے گزار دی۔ ایک بے نام سی الجھن جوسرگوشیوں میں باور کرانے کی کوشش کر تی رہی کہ اسے روحانی طور پرطلاق ہوچکی ہے ۔
٭


وہ ریڈیو میں خواتین کے ایک مشہور پروگرام کا پروڈیوسر تھا۔
اس کے کمرے میں ہر وقت خواتین کا تانتا بندھا رہتاجس کی وجہ سے کبھی باچھیں کھلی رہتیں اورکبھی چہرے پر بیزاری کے سائے منڈلاتے لیکن اُس دن وہ واقعی بہت خوش تھاکہ اس کی ایک پرانی دوست ریحانہ نے اسے اپنے گھر چائے پر مدعو کیا تھا۔ یوں تو اس کا پہلو ہمیشہ کسی نہ کسی گل بدن سے آباد رہتا لیکن ریحانہ سے ملاقات کی خوشی الگ نوعیت کی تھی۔ وہ آٹھ سال بعد شہر میں واپس لوٹی تھی اس کاشوہرکسٹم میں ایک اعلٰی عہدہ پر فائز اور بیٹی کسی اعلٰی تعلیمی ادارے کے ہاسٹل میں مقیم تھی۔ گئے وقتوں میں دونوں کی دوستی ہم آغوشی میں جام چھلکانے جتنی گہری اور ڈرائنگ روم سے بیڈروم تک وسیع تھی۔ دونوں یونیورسٹی میں ہم جماعت تھے۔ ریحانہ روز اول سے آزاد خیال مشہور تھی۔ اس کاجسم اجنتا کی ہوشربا مورتی جیسا جبکہ خیالات اور قہقہے خالصتاً مردانہ تھے ۔
جس روز راس کا شوہر کسی سرکاری دورے پر چائنا روانہ ہوا ۔وہ اسی شام وہسکی کی بوتل میں اپنے پرانے عاشق کے پہلو میں سمٹ آئی۔
“اچھا بتائو۔ میرے علاوہ اور کتنی چڑیلیںہیںجن کے ساتھ قربتیں بڑھا رکھی ہیں”
وہ مسکرا دیا “میں بس اپنی بیگم کا غلام ہوں “
“چل جھوٹا” ریحانہ نے قہقہ لگایا
“اور اگر یہی سوال میں تم سے پوچھوں”اس نے سگریٹ سلگائی۔ریحانہ نے چند لمحے توقف کے بعدلب وا کیئے”میرے یاروں کی تعداد۔۔ میرے شوہر کی سہیلیوں سے ذرا سی کم ہے “
اسے بے اختیار ہنسی آگئی۔چند لمحوں بعد وہ خودبھی ہنسی میں شریک ہوگئی اوردونوںدیوانہ وار ہنستے چلے گئے۔
“تم ابھی تک ویسی ہی ہو۔۔کمینی”
“ہاں مگر۔۔ تم ویسے نہیں رہے۔اب تمھیں دیکھ کر وحشت ہوتی ہے۔ کیا حال بنا رکھا ہے؟ کیا بیوی خیال نہیں رکھتی یا ریڈیو کی کنجریوں سے فرصت نہیں ملتی”
“مجھے کیا ہوا ہے؟ ٹھیک تو ہوں”وہ اپنے رنگے ہوئے بالوں میں ہاتھ پھیر کر مسکرایا تو آنکھوں کے حلقے مزید سیاہ ہوگئے۔
ریحانہ نے مست قہقہ لگا کر اسے چوم لیا”اس وقت مجھے تم ایک معصوم ننھے منے’ ڈوگی‘ لگ رہے ہو”
اس نے سگریٹ ایش ٹرے میں مروڑ دی”اور میرا دل تمھیں کاٹنے کو مچل رہا ہے”
“اچھا کہاں کہاں کاٹناہے؟میرے چھوٹو سے بے بی ڈوگ کو؟”وہ اس کی جانب خمار آلود نگاہوں سے دیکھتے ہوئے ڈگمگا کر اٹھی اور نک ٹائی سے پکڑ کر بیڈ روم میں لے گئی ۔
شام پُرلطف سسکیاں بھرتے ہوئے رات کے سینے پر گر چکی تھی۔
بہت دیر تک ریحانہ نے اسے جانور بنائے رکھا اور وہ بھی فرمانبردار پالتوکتے کی مانند دُم ہلاتا رہا ۔ پہلی بار کسی عورت نے اسے ایک نئے قسم کے تجربہ سے گزارا تھا وگرنہ جنسی تسکین پوری کرنے کے لیئے، وہ تین چار مخصوص طریقوں سے ہی لطف کشید کر لیا کرتا ۔ اس سمے ایک الگ قسم کی سرشاری طاری تھی۔ ہر انسان کے بہیتر ایک سگ صفت نفس موجودہے جسے کچھ لوگ روزانہ کی بنیاد پر ہڈیاں پھینک کر پالتے ہیں۔وہ آج اپنے سگِ چوبند کو تھوڑی دیر کے لیئے بستر میں دیکھ کر نہال ہوگیا تھا۔
رات انگڑائی لے کر بیدار ہو ئی اور کمرے کی کھڑکی سے چاند جھانکنے لگا۔
“اُف!کس قدر خوبصورت چاند ہے ناں”ریحانہ کی مخمور آواز سن کر اس نے ہونٹوں پر بوسہ دیا ۔دونوں تھکن سے نڈھال تھے۔
اس نے دوبارہ سگریٹ سلگا کر یونہی مستی میں سوال اچھالا”فرض کرو !اگر اسی لمحہء موجود میں تمھارا شوہر ہمارے سروں پر آن پہنچے تو تمھارا ردِ عمل کیا ہوگا”
ریحانہ نے فلک شگاف قہقہ بلند کیا “وہ بھڑو۔۔ گ ا اا۔۔سوری بول کے کمرے سے باہر دفع ہوجائے گا”
اس نے دھوئیں کا مرغولہ ہوا میں تحلیل کرتے ہوئے ہلکا سا قہقہ لگایا اورابھی مزید چُہل کے موڈ میں تھا کہ اچانک موبائل پر خلافِ توقع زیبا کی کال موصول ہوئی۔ اس نے تیوری چڑھاتے ہوئے بادلِ نخواستہ کال اٹھالی ۔ دوسری جانب اس کی تین برس کی بیٹی تھی جو اسے اپنی سالگرہ کی یاد دہانی کروا نے لگی۔ اس نے بیٹی سے جلد ی گھر لوٹنے کا وعدہ کر کے کال منقطع کر دی اور خاموشی سے سگریٹ کے کش لینے لگا۔
“تمھاری بیوی کافی شکی مزاج معلوم ہوتی ہے”
وہ چپ چاپ سر کو جنبش دیتا رہالیکن کچھ جواب نہیں دیا۔
ریحانہ کوئی انگریزی گانا گنگنانے لگی اور پھر اچانک گانا چھوڑ کر سوال داغ دیا”اچھا فرض کرو ۔۔اگرتم نے ابھی گھر پہنچ کر بیوی کو اپنے یار کے ساتھ بیڈ روم میں دیکھ لیا توکیسا محسوس کرو گے؟”
اسے ایسا زبردست دھچکا لگا کہ سگریٹ انگلیوں میں لرز اٹھاجبکہ وہ ہنستی ہوئی سینے پر چڑھ کر بیٹھ گئی”بتائو ناں!!تمھارا کیاردِ عمل ہوگا ؟اگر تم نے اپنی بیوی کے اوپرکسی ۔۔۔۔”
اس قیامت خیزسوال کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے وہ سگریٹ ایش ٹرے میں بجھاکر محبوبہ کے سفاک قہقہوں سے پیچھا چھڑاتے ہوئے بستر سے باہر نکل آیا۔
“کیا ہو گیامائی سویٹ ڈوگی”
“آج میری بیٹی کی سالگرہ ہے ۔مجھے ابھی جانا ہوگا” وہ تیزی سے غسل خانے میںگھس گیا۔
“مت جائو ۔جان من ۔پلیز”ریحانہ نے اسے روکنے کی بھرپورکوشش کر دیکھی لیکن وہ بالکل بھی رکنے کے لیئے آمادہ نہیں ہوااور غسل خانے سے نکل کر عجلت میں کپڑے پہننے لگا۔
“اچھا وعدہ کرو کہ کل پھر آئو گے”
اس نے ہوا میں بوسہ اچھالا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
٭


جب گاڑی سڑک پر آئی تو اس نے اپنا چہرہ شیشے میں دیکھا جہاں معشوقہ کے ساتھ گزارے ہوئے وقت کا مسحور کن احساس لذیذ بوسوں کی مانند ثبت تھا ۔ دل کچھ دیر کے لیئے انہی لمحات میں غرق رہنے کو چاہا لیکن اچانک بیٹی کی سالگرہ یاد آگئی۔ ابھی کچھ فاصلہ طے کیا ہوگا کہ پولیس والوں نے بتایا کسی بڑے سیاسی رہنما کے بہیمانہ قتل کے بعد شہر میںتوڑ پھوڑ جلائو گھیرائو کی صورتحال ہے۔اگر وہ گھر کے لیئے شہر سے باہربائی پاس والا راستہ اختیار کر ے تو بہتر ہوگا۔ وہ بائی پاس سے ہوتا ہوا شہر میں داخل ہوا چاہتا تھا کہ وہاں بھی ناکے پر موجوداہلکاروں نے اسے خطرے کے پیش نظر واپسی کا حکم صادر کردیا ۔اسے اپنی بے بسی پر شدید غصہ آیا ۔اچانک سر درد سے پھٹنے لگا اور کچھ دیر ڈرائیونگ وہیل پر ماتھا ٹکائے بیٹھا رہا ۔اسے رہ رہ کر اپنی بیٹی کا خیال آتا جس کی معصوم نگاہیں اس کی راہ میں بچھی ہوئی تھیںلیکن۔۔ شاید صرف یہی ایک بات خانہٗ لاشعور میں کھلبلی نہیں مچا تی تھی وہ کسی ایسی بات کی کھوج میں تھاجس کے سبب عجیب سی بے چینی نے اعصاب جکڑرکھے تھے ۔کچھ توقف کے بعد خیالات کا دھاراخودبخود زیبا کی جانب مڑ گیاجو لازماً شہر کے حالات سے گھبرا کر اسے کال پر کال ملا رہی ہوگی لیکن موبائل سگنلز غائب تھے۔ وہ اس سمے اپنی طبیعت کے برخلاف زیبا کے بارے سوچنا چاہتا تھا جس کے ساتھ اس کا رویہ ہمیشہ دیوتائوں جیسا رہا۔ اُس پندرھویں دن والا جو شبِ زفاف کے جنمے چودہ حسین شب و روز کا سفاک قاتل تھاکہ اس کے بعد دونوں کی زندگی میںکبھی چودھویں کا چاندنہیں چڑھا ۔زیبا اُنہی چودہ دنوں میں سانس لیتی رہی اورپھر دھیرے دھیرے اسے محبت، مجبوری اور مہجوری کے مثلث کے اضلاع اور زاویے سمجھ میں آنے لگے ۔وہ پڑھی لکھی تھی اس لیئے بہت سی کتابوں نے زندگی برتنے کا ہنر سکھا دیا کہ پدر سری معاشرے میں عورت کبھی مرد سے لڑ تے ہوئے نہیں جیت سکتی۔از ازل عورت ، مرد کی ضرورت رہی ہے اور اس کے طرزِ زندگی سے عورت کا سمجھوتہ کرنا مجبوری ہے۔ اگر ایک آقاکے تسلط سے آزاد ہوبھی جائے توگھر سے باہر دیگر آقائوں کو اپنا منتظر پائے گی چناچہ ایک روز چپ چاپ اپنے دیوتا کی پرستش سے خاموش انکار کر دیا۔لونڈی سات برس تک آقا کے کوٹ سے سنہری، بھورے نسوانی بال چنتی رہی مگر استفسار کرنے کی بجائے نظر انداز کر دیتی۔ استری شدہ قمیص پر سلوٹیں اور کالر پر کبھی کبھار لپ اسٹک کے نشان پر کھڑے ہونے والے جھگڑوں سے موبائل فون کی تلاشی لینے تک ، سب ترک کر دیا ۔ان سات برسوں میں آنگن میں دو پھول کھلے لیکن خاموش بغاوت جاری رہی۔ آقا کو اپنا سرد جسم پیش کرتی مگر روح نہیں جبکہ بے خبرفاتح نے کبھی جاننے کی زحمت نہیں کی کہ گردن سے اوپر سندر چہرے پر دو کجراری آنکھوں میں سمندر کی لہروں نے ماہِ کامل کو چھونے کی تمنا میں کیوں طوفان اٹھا رکھا ہے۔ ماہانہ روپوں کو اپنی خدمت کی اجرت سمجھ کر وصول کرتی۔ بچوں کی پرورش میں کسی قسم کی کوتاہی اور غفلت نہ برتی۔یوںدلی مسرت سے عاری مردہ ہنسی ہنستی کہ مندر میں براجمان دیوتا کو گمان تک نہ ہوا کہ اس کے سامنے باادب بیٹھی داسی اپنے پرنام سروپ ہاتھوں کو آزاد کر چکی ہے۔
اس نے تمام خیالات ذہن سے جھٹک دیے اور سگریٹ سلگا کر گاڑی سے باہر آگیا ۔ دائیں جانب ایک نئی ھائوسنگ سکیم زیرِ تعمیر تھی جبکہ سڑک کی بائیں جانب ایک چھوٹا سا ہوٹل تھا جہاںسے ریڈیو ایف ایم پر نصرت فتح علی خاں کی آواز فضا میں سحر پھونکتی تھی۔ اس نے سگریٹ ہونٹوں میں دبا یا اوربوجھل قدم اٹھاتا ہوٹل کے احاطے میں بچھی ایک چارپائی پرنیم دراز ہو گیا۔


وہ موسمِ گرما کی روشن رات تھی۔ پندرھویں کا چاند مشرق کی جانب بجلی کی تاروں کے عین وسط میں پھنسا ہوا تھا۔ آسمان میں ستاروں کے اَن گنت کاروان پڑائو ڈالے اسے ہی گھور تے تھے۔پورب سے ٹھنڈی ہوا کا کوئی جھونکا اسے چھو کر گزرتا توسگریٹ کے سرے پر مدھم سرخ روشنی ذرا سی جھلملاکر راکھ میں گم ہوجاتی۔ شہر کے کشیدہ حالات سے بے نیازچھپرہوٹل میں کافی چہل پہل تھی۔جب ذرا دیر بعد اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو چارپائی کی دوسری جانب ایک ادھیڑ عمر دبلا پتلا آدمی آلتی پالتی مارے ، بیڑی کے لمبے لمبے کش کھینچ کر قوالی کیساتھ سر دھن رہا تھا۔
’سانسوں کی مالا پہ سمروں میں پی کا نام۔اپنے من کی میں جانوں اور پی کے من کی رام‘
سگریٹ انگلیوں میں مکمل طور پر بجھ چکا تھااور جونہی اس نے فلٹر زمین پر پھینکا قریب سے ایک کتے نے ہلکی سی ’بھو‘ کی صدا لگائی۔ اس نے سر اٹھا کر کتے پر ایک نگاہ ڈالی اور دوبارہ سر چارپائی کی پٹی پر جما دیا “صاب جی!! کیا لائوں؟” ایک نوعمر لڑکا سرپر کھڑا تھا جسے دیکھ کر وہ بڑبڑایا”تھوڑی دیر بعد ایک کڑک دودھ پتی لے آنا”۔کوٹ پتلون میں ملبوس شخص کی جانب سے محض ایک کپ چائے کے آرڈر نے لڑکے کو مایوس کردیااسے یقین تھا کہ ہوٹل کی واحد مہنگی ڈش’ مرغ کڑاہی‘ سے کیا ہی کم آرڈرملے گامگراس کے باوجود لڑکے نے ہار نہیں مانی “سموسے ساتھ لیں گے صاب جی ؟”
“لے آنا۔۔یار”وہ آنکھیں بند کرتے ہوئے بیزاری سے بولا۔
لڑکے نے واپس مڑ تے ہوئے قصداًکتے کی دم پر پائوں رکھ دیا اور ساتھ ہی چائوں۔ چائوں۔ چائوںکی دلخراش فریاد ایک خاص رو میں بہتے ہوئے ماحول کو جھنجوڑ نے کے بعد ساکت ہوگئی ۔اس نے ایک مرتبہ پھر سر اٹھا یا اور کتے کی جانب بغور دیکھا۔ وہ کتا نہیںبلکہ تھن دارسفید رنگ کی آوارہ کتیا تھی جو ہنوز اپنے ستمگر کو چپ چاپ زخمی نظروں سے دیکھتی جاتی ۔ اس کے لبوں پر معنی خیز مسکراہٹ کھل اٹھی اور باقاعدہ بیٹھ کر دلچسپی سے اس سمت دیکھنے لگاجہاںکتیا کے سفید اور سیاہ دھبوں والے تین پِلے کچھ فاصلہ پردیوار کے ساتھ انہی رنگوں پر مشتمل ایک مستعد تازہ دم آوارہ کتے کے سامنے اچھل کود میں مصروف تھے۔ کتیا اپنے پِلوں سے بظاہربے نیاز دکھائی دیتی لیکن وقتاً فوقتاً یک لحظہ گردن موڑ کر انہیں دیکھ لیا کرتی۔ اس کے فاقہ زدہ لاغر جسم میں پیٹ پچکا ہوا اور لانبی دُم خشک کیچڑسے لتھڑی ٹانگوںمیں چھپی ہوئی تھی۔ ہوٹل سے چھن کرباہر آنے والی مدھم سی روشنی اور نقرئی چاندنی میں سارا منظر صاف دکھائی دیتا تھا ۔کتیا ابھی اگلی ٹانگیںپھیلا کر بیٹھی تھی کہ پِلے بھاگتے ہوئے آئے اور ماں کے اِردگر اپنی دُم ہلانے لگے۔ ہر ایک کی کوشش تھی کہ ماں کے نیچے گھس کر تھنوں تلک منہ کورسائی مل جائے۔کتیا نے کوئی مزاحمت نہیں کی بلکہ اپنا جسم ذراسا اٹھا یا اورٹہر ٹہر کر اپنی آنکھیں جھپکانے لگی ۔ تینوں پِلے یوں اندر ہی اندر گھستے چلے گئے جیسے ماں کے پیٹ کے اندر گھس کر ہی دم لیں گے۔ کتیا ایک کروٹ لیٹ گئی اور تینوں مقناطیس کی مانند چمٹ گئے۔وہ ہر بار اپنا وجود زبان سے چاٹ کر گردن سیدھی کر لیتی۔کچھ دیر تک پِلے خشک تھنوں پر منہ مارتے رہے اور پھر دُم ہلاتے ہوئے وہیں مٹی میں لوٹ پوٹ ہونے لگے۔


وہ بڑی دلچسپی سے یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا ۔
وہ مستعدکتا جو غالباً پِلوں کا باپ دکھائی دیتا کتیا کے پاس کھڑا ہو کر تیزی سے دم ہلاتے ہوئے ایک جانب دیکھنے لگا اگلے ہی لمحے کسی چارپائی سے ایک ہڈی اس خاندان کے قریب آن گری اور اس سے پہلے کہ کتیا پِلوں کو ہٹا کر ہڈی کی جانب لپکتی کتا فٹ سے ہڈی جبڑوں میں دبوچ کر دیوار کی سمت بھاگ کھڑا ہوا ۔کتیا بھی ہلکا سا ’بھو‘کر کے کھڑی ہوگئی۔ پِلے اس کی ٹانگوں کے گرد اپنا جسم مَس کرکے گول گول گھومتے اور دُم ہلاتے جاتے۔اب وہ اس سمت دیکھنے لگی جہاں سے ہڈی پھینکی گئی تھی۔پھر کچھ توقف کے بعد کتے کی جانب بڑھی تو پِلے بھی ماں کے پیچھے پیچھے دوڑگئے ۔ کتیا نے ہڈی پر منہ مارنا چاہا لیکن کتا غراتے ہوئے ہڈی اپنے مضبوط جبڑوں میں پکڑ کر ایک طرف کو بھاگ گیا۔چند لمحے اسی جانب دیکھنے کے بعد لاغر کتیا سر نیوڑے چلتی ہوئی دوبارہ چارپائیوں کے سامنے آن بیٹھی۔ پِلوں نے ایک مرتبہ پھر ماں کے تھنوں پر ہلہ بول دیا اور وہ تیزی سے انھیں چاٹنے لگی ۔
اس نے سگریٹ سلگانا چاہی مگر ارادہ ترک کردیا۔اسے کتے کے روئیے پر سخت افسوس ہوا مگر وہ اسے جانوروں کی جبلت سمجھ کر نظر انداز کر نے کی کوشش کرنے لگا۔
چارپائیوں پر یاروں کی محفلیں جمی ہوئی تھیں ۔ خوش گپیوں میں قہقہوں کے ساتھ دودھ پتی چائے کا دور چل رہا تھا۔ اس نے گھڑی دیکھی تو چھوٹی سوئی دس کے ہندسہ سے ذرا آگے کھسک چکی تھی۔اب ریڈیو پر کوئی فلمی گانا بج رہا تھا۔ اس کے ساتھ بیٹھا ہوا دبلا آدمی جا چکا تھا۔ لڑکا چائے سموسے لے کر آیا تو اس نے لڑکے کو ایک کلو مرغ کڑاہی کا آرڈر دے ڈالا۔آرڈر لیتے ہی لڑکا ٹھیٹھ کاروباری انداز میں بولا “صاحب جی! چائے واپس نہیں ہوگی آپ پہلے۔۔۔”
“چائے یہیں رہنے دواور جلدی سے ایک کلو دودھ لے کر آئو”
“دودھ؟یا کڑاہی؟”لڑکے نے سر کھجاتے ہوئے تعجب کا اظہار کیا۔
“دونوں ۔۔اور ہاں کوئی بڑا سا برتن بھی لانا۔ ان پِلوں کو دودھ پلانا ہے” اس نے کتیاکے پیٹ سے چمٹے پلوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“صاحب جی ایسا کوئی نجس برتن تو۔۔ ہے کوئی نہیں”لڑکے نے ناگواری سے کتیا پر نگاہ ڈالی۔
“یارکوئی بھی برتن لے آئواس کے الگ پیسے ادا کردوں گا”لڑکے نے کاندھے اچکا ئے اوراسے مشکوک نظروں سے دیکھتا ہوا تقریباً بھاگ کرہوٹل میں داخل ہوگیا۔
ابھی اس نے چائے کی ایک دو چسکیاں لی تھیں کہ ایک اور دلسوز منظر نگاہوں سے الجھ گیا۔ چارپائیوں پر بیٹھے لوگوں کی دبی دبی ہنسی اور سرگوشیاں بتدریج بلند
ہونے لگیں ۔ تمامچہرے دانتوں کی نمائش کرتے ایک ہی جانب پھرے ہوئے تھے۔
پیلے گلابوںکے جھاڑ کے قریب پِلوں کا باپ کسی اور کتیا کے ساتھ جنسی تسکین میں مصروف تھا ۔
“شاواوئے ا شاوا ۔۔”ایک جانب سے آواز اٹھی ۔
“زنانی ادھر پِلوں کے ساتھ بھوکی بیٹھی ہے اور مادر ۔۔ لعنتی معشوقہ کو مزے کروا رہا ہے” ایک بڈھے نے کتے پر چار حرف بھیجے۔
“او باباکیوں تیرے کو جلن ہو رہی ہے؟ “
چارپائیوں پر قہقہے لوٹ پوٹ ہونے لگے۔
“بابا جی! یہ جانور ہے۔ اس نجس بے عقلے پر کیسی حیرت”
اس کی نظریں غیر ارادی طور پر کتیا اور اس کے پِلوں کے تاثرات ٹٹولنے لگیں۔ کتیا نے لیٹے لیٹے اپنی گردن پیچھے گرا کے ایک نظر گلابوں والے جھاڑ کی جانب دیکھا اور پھر آہستہ سے اپنی تھوتنی پہلو میں سمائے بچوں پر رکھ دی۔ اس لاچارا و ربے بس منظر کی ضرب ایسی کاری تھی کہ اس کے ہاتھ میں پکڑی چائے کی پیالی لرز گئی اور آنکھوں کے گوشے بھیگ گئے۔ وہ اسے بھی جانوروں کی جبلت سمجھ کر نظر انداز کر دینا چاہتا تھا لیکن ایسا کر نہ سکا ۔کتیا کودیکھ کر وجود اندر زبردست اداسی کی لہر اٹھی۔ وہ اپنا سر ایک ہاتھ میں تھام کر ان مناظر کو ذہن سے جھٹکنا چاہتا تھا لیکن چارپائیوں پر اچھلتی غلیظ گالیوں سے آلودہ ٹھٹھا دماغ پر ہتھوڑوں کی طرح برستا ۔
لڑکا ہاتھوں میں ٹرے اٹھائے ایک مرتبہ پھر سر پر آن پہنچا اور مرغ کڑاہی، روٹیاں، پانی کی صراحی گلاس، دودھ کا جگ اور ایک مٹی کا پیالہ لکڑی کی چھوٹی سی میز پر چن کر فارغ ہوا تو اس نے فوراً بِل ادا کرتے ہوئے اتنی بخشش دی کہ وہ باچھیں کھلائے بغیر نہ رہ سکا اور اگلے ہی لمحے ایک شریر نظر کتیا پر دوڑاتے ہوئے واپس لوٹ گیا۔
“ویسے ہے بڑا زورآور۔۔کتے کابچہ”یہ آواز اس کے عقب والی چارپائی سے آئی تھی اور اس نے یوں پیچھے مڑ کر دیکھا جیسے گالی اسے بکی گئی ہو۔


اس نے اپنے کان بہرے کرتے ہوئے جگ سے دودھ، مٹی کے پیالے میں انڈیلا اور کتیا کو اپنی جانب پُچکارا جو اپنے پِلوں کو پہلو میں چھپائے بیٹھی تھی۔حلق سے ’بھو‘ کی آواز نکالتے ہوئے گلابوں والی جھاڑ کے پاس ہونے والی کاروائی کو یکسر فراموش کرکے اس جانب لپک آئی۔ پِلے بھی ہڑبڑا کر اٹھ کھڑے ہوئے اور ماں کے پیچھے دوڑنے لگے۔ اس نے روٹیوں کے گرد لپٹے اخبار کے تراشے کو زمین پر بچھایا اور مرغ کی بوٹیاں اس پر رکھ دیں ۔کتیا بوٹیوں پر ٹوٹ پڑی۔ اس نے دودھ کا پیالہ پِلوں کے سامنے دھر ا اور تینوں تیزی سے دُم ہلاتے ہوئے پیالے میں چپڑ چپڑ کرنے لگے۔ وہ وقفے وقفے سے بوٹیاں اخبار پر پھینکتا اور پیالے میں دودھ انڈیلتا جاتا۔اس سمے ناجانے کیوں اس کاجی کتیا کے ساتھ کھانے میں شریک ہونے کے لیے مچلنے لگا ۔شاید دل میں شدید قسم کی ہمدردی جاگ اٹھی تھی۔مگر کیوں؟اس کیوں کے بارے سوچنا محال تھا۔ اس نے آہستہ آہستہ فاقہ زدہ ماںکے سر پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیااور چپ و راست ہلتی دُموں کو دیکھ کر مسکراتا جاتا۔ اسی اثناء میں پلوں کاباپ اپنی جوان معشوقہ کے ساتھ چند قدم پر آکر ٹہر گیا۔ معشوقہ ذرا غور کرنے پر ہی مادی معلوم ہوتی تھی کہ چھاتی کَسی ہوئی تھی۔وہ دونوں چند لمحوں تک کتیا بمع پلوں پر نظریں جمائے کھڑے رہے مگر جونہی پیش قدمی کرنے لگے تو اس نے ہاتھ میں پکڑا دودھ کا جگ واپس میز پر رکھا اور زمین سے ایک پتھر اٹھا کر ان کی طرف اچھال دیا۔ پیش قدمی رک گئی لیکن ارادہ نہیں ٹوٹ سکا۔ اب دونوں اندھا دھند بھونکنے لگے جبکہ دنیا و مافیہا سے بے خبر کتیا نے بوٹیوں پر ہلہ بول رکھاتھا۔ پِلوں کی چپڑ چپڑ بھی تھمنے کا نام نہیں لیتی تھی۔ آشنا نے ایک مرتبہ پھر اپنے یار کے ساتھ قدم بڑھائے تو وہ ایک بڑا سا پتھر جس کا نصف زمین میں دھنسا ہوا تھا بمشکل نکال کر اٹھ کھڑا ہوا اور پوری قوت سے ان پر پھینک دیا۔جوڑے نے بھاگ کر دیوار کے پاس پناہ لی مگراسی شد و مد کے ساتھ بھونکنا جاری رکھا ۔وہ آپے سے کیوں باہر ہو رہا ہے؟ اس وقت خود بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔ اس کی سانسیں بے ترتیب ، دونوں ہاتھوں میں لرزش ،دماغ کی نس زور زور سے پھڑکتی اور بدن پسینہ سے شرابورتھا ۔ سماعت میں بھونکنے کی آوازوں کے علاوہ تمام
صدائیں ساکن تھیں۔ اب اس کا بے طرح دھڑکتا دل ایک بے وفا آوارہ بد نسل جانور کو قتل کرنے کے لیے مچلتاتھا ۔یکایک اس کی آنکھوں میں خون اتر آیااوردہن سے غلیظ گالیاں گرنے لگیں۔ اس نے ایک نظر کتیا اور اس کے پِلوں پر ڈال کر پتھر اٹھایا اوربھونکتے ہوئے جوڑے کے پیچھے دیوانہ وار بھاگ کھڑا ہوا ۔جب وہاں موجود لوگوں نے سوٹ بوٹ میں ملبوس حواس باختہ آدمی کو یوںکتوں کے پیچھے بھاگتے، گالیاں بکتے اور پتھر اچھالتے دیکھا تو چند گھڑیاں ششدر رہنے کے بعد اس دلچسپ منظر سے محظوظ ہونے لگے۔ان کی دبی دبی ہنسی کی آوازیں بتدریج بلند ہوتی چلی گئیں۔
اس اچانک تماشے سے سبھی لوگ بے خبر تھے مگر۔۔
پندرھویں کے چاند کو خبر تھی۔

شیئر کریں

کمنٹ کریں