چکن، ایک زندہ ڈائنو سار

مضمون نگار : قدیر قریشی
lafznamaweb@gmail.com

, چکن، ایک زندہ ڈائنو سار

“چکن ،ڈائنوسارزہی ہیں”، کچھ عرصہ پہلے تقریبا تمام ہی ارتقائی سائنسدانوں /حیاتیات دانوں اور ماہر قدیم رکازیات paleontologist اس بات پر بہت عرصہ تک متفق تھے کہ تمام پرندے (چکن ، مرغیاں پرندے ہی ہیں) ڈائنو سارز سے ارتقاء پذیر ہوئے۔ لیکن اب سائنسدان اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ “پرندے، ڈائنو سارز سے ارتقاء پذیر نہیں ہوئے، بلکہ یہ اصلی ڈائنو سارز ہیں”۔
قریبا 6 کڑوڑ 60 لاکھ سال پہلے ایک بہت عظیم تباہی ہوئی جس نے پوری دنیا کو متاثر کیا تھا۔ وہ کس چیز کی تباہی ہوئی تھی، اس بارے میں سائنسدان اب یقین سے کہتے ہیں کہ ایک قریبا دس میل لمبا شہاب ثاقب یا سیارچہ اس وقت زمین سے ٹکرا گیا تھا ۔ یہ حادثہ میکسیکو کی خلیج کے قریب ہوا تھا جہاں ابھی بھی ایک بہت گہرا گڑھا زیر آب موجود ہے، جو کہ شہاب ثاقب کے ٹکرانے کی شہادت دیتا ہے۔

اس ٹکراؤ کے نتیجے میں ایک نسبتا وقت کے محدود عرصے میں (اس ٹکراؤ کو سائنسدان آج کرے ٹیشی اس –پلاگوین معدومیت Cretaceous–Paleogene extinction کے نام سے جانتے ہیں۔) ایک محتاط اندازے کے مطابق اسکے ساتھ ہی زمین پر بسنے والی قریبا تین چوتھائی انواع جن میں، بہت ساری مچھلیاں، میملز، کیڑے ، حشرات، پودے، درخت اور چھکلیاں کا یک دم خاتمہ ہوگیا تھا اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس صفحہ ہستی سے مٹ گئے تھے۔ ان جانوروں میں ٹی ریکس اور دوسرےبڑے چھوٹے ڈائنو سارز بھی شامل تھے۔ لیکن کچھ جنوبی خظے میں رہنے والے تھیرا پوڈ ٹائپ کے ڈائنو سار پھر بھی بچ گئے، کیونکہ یہ عظیم ٹکراؤ شمالی خظے میں ہوا تھا۔ یہی تھیرا پوڈ Thera pod بعد میں ارتقائی عمل سے پرندوں میں تبدیل ہوگئے۔ پھر اسکے بھی کچھ عرصے کے بعد جو باقی رہ جانے پرندے تھے، اور باقی بچ جانے والے جانور تھے انہوں نے ارتقاء پاکر تمام دنیا کی ماحولیاتی جگہوں کو آباد کرنا شروع کردیا اور اس حالت میں ارتقاء پاگئے، جس سے آج ہم واقف ہیں۔

ایک پرندہ جو ایشیا کے اس خطے میں موجود تھا جہاں شہاب ثاقب گرنے کے اثرات کم پہنچے، جو کہ بنیادی طور پرایک ڈائنو سار ہی تھا،وہ ایک سرخ رنگ کا جنگلی مرغ نما پرندہ تھا، جس کو انسان نے پالتو بنا کر اس کی نسل میں بڑھوتری دی۔ اسی جنگلی مرغ نما پرندے کو آج ہم چکن یا مرغی کہتے ہیں۔ اور یہ بات بھی پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ چکن (مرغیوں) کو پالتو سب سے پہلے ایشیائی خطے (خصوصا چین اور مشرق بعید کے خطوں) میں ہوا تھا، بعد میں جہاں جہاں انسانی آبادی پھیلتی گئی، مرغیوں کو بھی وہ اپنے ساتھ لیتے گئے اور انکی آج بہت ساری نسلیں اسطرح ہمیں ملتی ہیں۔

شیئر کریں
قدیر قریشی بطور سائنس رائٹر سائنسی ادبی حلقوں میں مقبولیت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مشہور اردو سائنسی فورم "سائنس کی دنیا" کے سرپرست اعلی بھی ہیں۔

کمنٹ کریں