کرونا وائرس پر شاعری : کرونائی شعر و ادب : کرونا کے بارے بہترین اشعار

Read Urdu Poetry on the topic of Corona Virus Urdu Shayari. You can read famous Urdu Poems about Corona Urdu Shayari and Urdu Sher o Shayari Whatsapp Status. Best and popular Urdu Ghazals and Nazms can be shared with friends. Urdu Tiktok Status Poetry and Facebook Share Urdu Poetry available.

کرونا وائرس/ carona virus
کرونا وائرس/ carona virus

کرونا کے متعلق شاعری اور غزلیں

کرونا وائرس کی اس دہائی میں تخلیق ہونے والے اردو ادب اور اردو شعر و شاعری کو کرونائی ادب کہا جاتا ہے۔ اس میں وبا اور وباء سے جہونے والے مسائل اور ماحول پر انسانی جذبات اور احساسات کو خوبصورت پیرائے میں مختلف شعراء نے بیان کیا ہے۔ وبائی زندگی کے خدشات کو شاعروں نے نہایت موثر انداز میں پیش کرنے کے لئے متفرق اشعار اور غزلیں کہی ہیں۔ آئیے ارشد سعید کے اشعار کے ساتھ ساتھ کرونا کے موضوع پر جنید آزر کی غزل پڑھتے ہیں۔

تلاشِ محبت میں گھر بیٹھے رونا
کرونا کرونا کو بس بھی کرو نا
ارشد سعید

شہر کے حالات کو ہلکا نہ لے ۔۔
دیکھ میری بات کو ہلکا نہ لے ۔۔
۔
اب محافظ ہیں سماجی دوریاں
فاصلوں کی گھات کو ہلکا نہ لے
۔
مشورہ سن لے طبیبِ وقت کا
طبی تشریحات کو ہلکا نہ لے

خاک کر دے گی وبائی زندگی
موت کے خدشات کو ہلکا نہ لے
۔
چھوڑ کچھ دن شام کی آوارگی
اپنے معمولات کو ہلکا نہ لے
۔
احتیاطا” دوستوں سے بھی نہ مل
دوستوں کی ذات کو ہلکا نہ لے
۔
ان میں سچے بھی تو ہو سکتے ہیں کچھ
سارے اعلانات کو ہلکا نہ لے
۔
اندر اندر گھل کے رہ جائیں گے ہم
ہجر کے دن رات کو ہلکا نہ لے

دیکھنا ہلکان کر دیں گے ہمیں
عشق کے صدمات کو ہلکا نہ لے
۔
خیر خواہی کے علاوہ بھی ہے کچھ
تو مرے جذبات کو ہلکا نہ لے ۔
۔
رکھ عزیزم! حسن پر گہری نظر
عشق کے شبہات کو ہلکا نہ لے
شاعر: جنید آزر

ذیشان علوی کی غزل

آگ۔پانی۔ہوا ہی کافی ہے
خاک کو اک وبا ہی کافی ہے
تم کو چھو کر مرے رقیب مرا
مجھ کو بس سامنا ہی کافی ہے
دشمنِ جاں کے ہاتھ کون پڑے
اب تو بس چھینکنا ہی کافی ہے
فون پر بات کر لو عاشق سے
آج کل یہ عطا ہی کافی ہے
آج کل نیٹ پہ ہو رہا ہے وصال
اب یہ رسمِ وفا ہی کافی ہے
سینیٹائزر مَلے گی ہر دلہن
اب یہ رسمِ حنا ہی کافی ہے

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں