کورونا کے بعد کیا امریکہ دنیا کا نمبر وَن رہ پائے گا؟

مضمون نگار : صفدر امام قادری

, کورونا کے بعد کیا امریکہ دنیا کا نمبر وَن رہ پائے گا؟

امریکی انٹلی جنس اداروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُن کی ہر آدمی کے باورچی خانے اور بڈروٗم تک نظر رہتی ہے اور اسی لیے ہر دوسرے کے پھٹے میں ٹانگ اَڑا کر اُنھیں اپنی چودھراہٹ قائم کرنے کی گنجائشیں حاصل ہو جاتی ہیں۔ اس کے باوجود کورونا کے سلسلے سے امریکہ کی پیشین گوئیاں اور سارے اندازے نادرست ثابت ہوئے اور حالت یہ ہے کہ اب سب سے بڑی مشکل میں امریکی قوم ہی ہے۔ ہر چارہ گری اُلٹی ثابت ہو رہی ہے اور ہمارے ملک کی طرح ہی طبّی سہولیات کی کمی کا وہاں بھی شکوہ عام ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی طاقت اور اپنے جوٗتے کی نوک پر سب کو رکھنے والی حکومت کی یہ بے چارگی عالمی سیاست اور آنے والے دَور کے نئے مسائل کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔

کورونا نے یوں تو تمام ملکوں کو ہرایا مگر شرحِ اموات کے اعتبارسے اب امریکہ سرِ فہرست ہے۔ اس نے سب سے زیادہ جانچ بھی کی اور دنیا کے دوسرے ممالک سے زیادہ اس نے اس سلسلے سے خرچ بھی کیے ہیں مگر ابھی تک خاطر خواہ نتائج نہیں مل رہے اور اندیشے زیادہ خطرناک ہیں۔ ساری کوششوں کے باوجود طبّی انتظامات میں امریکہ اب بھی اس مقام تک نہیں پہنچ سکا ہے جہاں سے اطمینان ہو کہ وہ اپنے باشندوں کی طبّی ضرورتوں کے مطابق سارے فرائض انجام دے سکتا ہے۔ وہاں کے مریضوں کے لیے اسپتال کے بستر کم پڑ رہے ہیں، ڈاکٹروں اور نرسنگ اسٹاف کے لیے طبّی سازوسامان پورے نہیں ہیں اور دوائیں تو وہ اب ہندستان سے خریدنے کے لیے مجبور ہیں۔ ان کی داخلی حالت یہ ہے کہ ایک صوٗبے سے دوسرے صوبے میں کھینچ تان شروع ہو گئی ہے۔ نیو یارک کے گورنر توکئی بار برسرِ عام امریکی صدر کو طنز و طعن کا شکار بنا چکے ہیں۔
آخر یہ سوال غور طلب ہے کہ اس دیو قامت کی ہیکڑی کہاں چلی گئی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کے زور میں ابھی روزانہ کمی آتی جائے گی۔ یہ سوال امریکی قوم کے ذہن میں بھی پیدا ہو چکا ہے کہ دنیا جن کے اشاروں پر گھومتی ہوئی معلوم ہوتی تھی، وہی لوگ سب سے زیادہ بے بس اور لاچار کیوں معلوم ہوتے ہیں۔ آخر وہ عام لوگوں یا کمزور ملکوں کے جیسے کیوں ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک وائرس نے انھیں ان کی فضلیت سے گِرا دیا اور وہ پسماندہ اقوام کی زندگی جینے کے لیے مجبور ہو گئے ہیں۔ یہ باتیںاس قوم کو نئی زندگی شروع کرنے کے لیے شاید باعثِ ترغیب ہوں۔


ڈاکٹر رام منوہر لوہیا نے ’دی وھیل آف ہسٹری‘ کتاب کا آغاز جرمنی میں بس سفر کے ایک واقعے سے کیا ہے اور عروج و زوال یا تاریخ کے یوروپی(امریکی) تصوّر کے خلاف اپنی دلیل پیش کی ہے۔ انھوں نے تاریخ کے پہیہّ کے مقابلے کمھار کی چاک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ عروج وزوال کے مقابلے مساوات اور مواقع کی عمومی دستیابی سے دنیا کی نئی تاریخ کو پہچاننا چاہیے۔ مہاتما گاندھی ترقی میں توازن اور فطرت کے ساتھ ایک ہم آہنگی کا تصوّر پیش کرتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ جن ملکوں نے اپنی رفتارِ ترقی میں توازن کو راہ دینے میں کامیابی پائی اور انسان اور فطرت کے بیچ ہم آہنگی کو بڑھانے میں کامیابی پائی، انھیں ان مشکلوں کی گھڑی میں کم پریشانیاں ہیں مگر امریکہ جیسے طاقت ور ملک نے اپنی بے چارگی سے یہ ثابت کر دیا کہ اس کی ترقّی اور طاقت فی الحقیقت نقلی ہیں اور اس سے اس کے عوام کو کوئی فائدہ نہیں۔ مصیبت کے وقت میں وہ دوسروں کی طرح ہی بے بس اور مَر رہے ہیں۔ یہ سلسلہ جاری ہے۔
ریاست ہاے متحدہ امریکہ کی حقیقی ناکامی اس کے ترقیاتی ماڈل کی وجہ سے ہے۔ سرمایہ کارانہ معیشت کے عروج پر پہنچ کر امریکہ کو یہ یاد ہی نہیں رہا کہ دنیا میں جمہوری نظامِ حکومت کا قیام عوامی فلاح کے تصوّر پر قائم ہوا تھا مگر سوویت یونین کے زوال کے ساتھ امریکہ کو یہ سبق یاد دلانے والا بھی کوئی نہیں تھا۔ اسے ملوکیت کا تصوّر زیادہ یاد تھا اور اس نے ’جس کی لاٹھی اُس کی بھینس‘ کے اصول کو زیادہ پسند کیا۔ اس نے تعلیم، صحت، فلاحِ عامّہ کے کاموں کے مقابلے جنگی اسلحوں کو تیّار کرنے اور اس کے سہارے پوری دنیا کے سردار ہونے کا خواب دیکھا۔ امریکہ کا یہ خواب پورا ہوا۔ پس ماندہ ملکوں سے لے کر ترقّی پذیر اور ترقّی یافتہ ممالک امریکہ کے زیرِ اثر رہے۔خلیج کے ملکوں کا تو یہ حال ہے کہ وہاں کی فوج بھی امریکی ہے۔اس کے عِوض میں اُن کی دولت اور پٹرول امریکہ کے قبضے میں ہے۔
اس عروج اور طاقت میں امریکہ کو یہ معلوم ہی نہیں رہا کہ اس کی ترقی حقیقت میں یک رُخی ہو گئی۔ اس نے اپنے قومی بجٹ کا سب سے بڑا حصّہ دفاع پر لگایا۔ جغرافیائی اعتبار سے اس ملک کو دفاع کے پہلو سے بہت ساری سہولیات میسّر ہیں جن کے سبب امریکہ چاہے تو اپنے ملک کی حفاظت میںکم خرچ کرکے بھی کام چلا سکتاہے مگر اُسے اپنی جنگی طاقت اور خوف ناک دفاعی تیّاریوں کی دھونس سے پوری دنیا کو زیر کرنا ہے، اس لیے اس کے پاس بڑی فوج چاہیے اور جدید طرز کے ہتھیاربھی ہوں گے۔ اقوامِ متحدہ کی فوج میں بھی امریکہ کا حصّہ ہی سب سے زیادہ ہے ، اور اسی کے سہارے وہ دنیا کے مختلف ملکوں کو دوست یا دشمن بناتارہتا ہے۔اسی سے اس کی چودھراہٹ قائم رہتی ہے۔


کورونا وائرس کے بارے میں جب چین سے ابتدائی طور پر خبریں آئیں، اس وقت امریکہ نے چین سے اپنی دیرینہ رقابت کے سبب اُس کا مذاق اُڑایا۔ جس طرح وہ دنیا کے ہر ملک کے خلاف متوقّع جنگ کے بارے میں ایک منصوبہ رکھتا ہے اور جب ضرورت پڑتی ہے ، بغیر ایک لمحے کی دیری کے، وہ حملہ آور ہوتاہے مگر فروری کے اواخرمیں تو وہ ہندستان میں وزیرِ اعظم ِ ہند کی دعوت اُڑا رہے تھے۔ خود بھی غافل رہے اور ہندستان جیسے کثیر آبادی کے ملک کو غافل رکھا۔آخر امریکہ کے انٹلی جنس افراد اور تحقیق کاروں کو کیا ہو گیا تھا کہ تین مہینے سے زیادہ دنوں تک اس وبا کے بارے بے خبر رہے یا شُترمرغ کی طرح ریت میں سر ڈالے پڑے رہے کہ دشمن ملک مَر رہا ہے تو اُسے مر جانے دیا جائے۔آخر امریکہ میں اس سلسلے سے کوئی اِلرٹ یا متوازی تیّاری کرنے کی صورت کیوں نہیں پیدا ہوئی؟ ہندستان کو چھوڑیے کیوں کہ اس کے سربراہ بغیر فوری سیاسی فائدے کے کوئی کام کیوں کریں گے؟
کورونا وائرس نے پوری دنیا کو خبر دار کر دیا ہے۔ دنیا کا ہر ملک طاقت اور نفرت کی بنیاد پر خود کو قائم کرنے میں منہمک ہے۔ سب کے پاس ایسے ہتھیار ہیں جن کے ایک ساتھ استعمال سے پوری دنیا ختم ہو سکتی ہے۔ گذشتہ ایک صدی میں دو دو عالمی جنگیں ہوئیں مگر دنیا نے کیا پایا؟ دوسری عالمی جنگ میں اُس وقت کی سب سے بڑی طاقت ور قوم برطانیہ کا زوال ہوا۔ بعض سیاسی مبصرین یہ بات کہتے رہے ہیں کہ تیسری عالمی جنگ حیاتیاتی یا بایولاجیکل ہوگی۔ اس میں نہ کسی ہتھیار کی ضرورت ہوگی اور نہ کسی بلند بانگ دعوے کی۔ نہ کوئی حریف ہو گا نہ کوئی حلیف۔ خاموشی سے سب ہاریں گے اور سب مریں گے۔ سب کے ہاں نفسا نفسی کا عالم ہوگا۔ جو خود مَر رہا ہو، وہ دوسروں کی مدد کیا کرے گا۔ کم از کم کرونا وائرس سے لڑنے کے مرحلے میں امریکی چودھراہٹ تو چکنا چوٗر ہوگئی۔ امریکہ تو اپنے کسی دوست ملک کی مدد بھی نہیں کر پا رہا ہے۔ حد تو تب ہو گئی کہ اُسے ہندستان سے مدد لینے کے لیے دھمکی دینی پڑی اور مدد لینے کے بعد بھرپور شکریہ ادا کرنا پڑا۔


کورونا وبا نے ہمیں آگاہ کر دیا ہے کہ اپنے عوام اور عام لوگوں کی فلاح و بہبود کی قیمت پر کوئی بھی حاصل شدہ ترقّی بے کار ہے۔ اس نے ہماری ترقّی کے داخل میں اُتر کر اس کے کھوکھلے پن کو طشت از بام کر دیا ہے۔ کہاں اسپیس میں تحقیق کا کاروبار فروغ پا رہا ہے مگر سچّائی یہ ہے کہ اپنے عوام کے لیے بیمار پڑنے پر اسپتال نہیں ۔ دوائیں نہیں اور طبّی سہولیات بس چند لوگوں کے لیے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جس انداز سے پوری دنیا کو زیر کرنے کے لیے جنگی ہتھیار جمع کیے تو آخر ساری دنیا کے علاج کے لیے اسپتال اور طبّی سہولیات کیوں نہ کھڑی کیں؟ امریکہ اپنے عوام کو تو بے بس اور لاچار مرنے دے رہا ہے تو دوسروں کی مدد کیا کرے گا؟
کورونا کے بعد جو دنیا بچے گی، اسے یقینا اپنی صحت اور خاص طور سے عوامی صحت کے امور کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ ہتھیاروں کو بنانے اور بیچنے خریدنے کا اتنا سلیقہ مند کاروبار ہماری دنیا میں چلا ہے کہ اس کے آگے اندھیرا ہی ہے۔ ٹرمپ صاحب بار بار کہہ رہے ہیں کہ ہر ایک اندھی سُرنگ میں چل رہے ہیں اور یہ معلوم بھی نہیں کہ آگے سویرا ہے یا نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ آگے مزید اندھیرا ہے۔ معیشت دوسروں کی جتنی تباہ و برباد ہوئی مگر امریکہ اُن میں سب سے زیادہ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ چین سے بر بادی کا آغاز ہوا مگر اس نے اپنی ابتدائی اور فوری تیاریوں کی وجہ سے تین مہینوں میں پَر جھاڑ کر پھر سے کھڑا ہونے کا سلسلہ قائم کر لیا۔ امریکہ ابھی بیچ منجدھار میں ہی ہے۔ بعض افراد اس وائرس کی ایجاد اور اسے پھیلانے کے لیے چین کو موردِ الزام قرار دیتے ہیں مگر اس سچائی کے ثبوت کبھی نہیں مل سکیں گے۔ چین بہت جلد اپنے کو نئے سِرے سے کھڑا کرلے گا اور آنے والے وقت میں مضمحل، نڈھال اور ٹوٗٹے پھوٗٹے امریکہ کی طاقت کو چیلنج کرکے زیر کر ڈالے تو اسے غیر متوقع نہیں کہا جا سکتا۔ تب کورونا کو یقینا تیسری عالمی جنگ کہا جائے گا۔
٭٭٭٭٭
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com


شیئر کریں

کمنٹ کریں