اردو شاعری کے دبستان

دبستانِ دہلی

فتح دکن کے سلسلہ میں اورنگ زیب عالم گیر اور اس کی فوجوں کا ای عرصے تک دکنی علاقے میں قیام رہا ۔شعرائے دکن پہلے ہی سے اردو شاعری کی جانب متوجہ تھے ۔ باہمی رابطے کے سبب یہ شوق ان لوگوں میں بھی سرایت کر گیا جو دکن فتح کرنے کی ٖغرض سے شمالی ہند سے وہاں پہے تھے ۔ بہادر شاہ اول کی تخت نشینی کے بعد دہلی کو پھر مرکزی حیثیت حاصل ہوئی اور یہاں فارسی شاعروں اور باکمالوں کا مجمع ہو گیا ۔ انھوں نے محض تفریح کے طور پر اردو شاعری کی طرف توجہ کی ۔ اس طرح یہا اردو شاعری کا جو نقش قائم ہوا اس پر فارسی کا گہرا عکس تھا ۔
ان شراء میں آبرو ، حات، خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ اس زمانے کی فارسی شاعری پر فیضی ، عرفی ،طالب آملی ،مرزا بیدل ،اور غنی کاشمیری کا بڑا اثر تھا اور ان کے کلام کی خصوصیت مضمون آفرینی اور خیال آرائی تھی ۔ اور فطری طور پر ان خصوصیات کا اردو شاعری پر اثر ہونا چاہئے تھا ۔سلطنت کی بنیادیں ہل چکی تھیں ۔ذہنوں پر بے حسی اور بے چینی اور مستقبل سے مایوسی طاری تھی ۔ دنیا کی بے ثباتی کا نقشہ آنکھوں کے سامنے تھا ۔ اس لئے دل میں درد ،طبیعت میں سادگی اور بےریائی ، ہمدردی اور سوز و گداز پیدا ہو گیا بلکہ معاشرت کی یہ حالت غدر کے بہت بعد تک رہی ۔اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ دہلی اسکول کی شاعری میں مندرجہ ذیل خصوصیات پیدا ہو گئیں ۔

طرز بیاں میں سادگی و سلاست

سینہ و دل حسرتون سے چھا یا
بس ہجوم یاس جی گھبرا گیا
درد

معاملات و واقعات صحیع و اصلی

عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیاخوب راتیں
دو چار گھڑی رونا دو چار گھڑی باتیں
سودا

جذبات حقیقی اور واقعی

زبان پہ بارے خدا یا یہ کس کا نام آیا
کہ میرے نطق نے بوسے مری زناں کے لئے
غالب

اخلاق و تصوف

آرام طلب ہوں کرم عام کے طالب
یوں مفت میں لٹتی نہیں بیداد کسی کی
داغ

سوز و گداز


گل کو ہے ثبات نہ ہم کو ہے اعتبار
کس بات پر چمن ہوس رنگ و بو کریں
درد

لطیف استعارے

گدا سمجھ کے وہ چپ تھا مری جو شامت آئی
اٹھا اور اٹھ کے قدم میں نے پاسباں کے لئے
غالب

عمدہ تشبیہات

لطف و خرام ساقی و ذوق و صدائے چنگ
یہ جنت نگاہ وہ فردوس گوش ہے

جدید معنیٰ خیز ترکیبیں

اوپر جو اشعار دئے گئے ہیں وہ دہلی اسکول کی شاعری کی خصوصیات کا مظہر ہیں ۔ متوسطین میں نصیر اور متاخرین میں داغ نے ان خصوصیات کو برقرار نہ رکھا اور روحانیت اور حسن و عشق کی پاگیزگی کو ضائع کر دیا۔

دبستان لکھنؤ

دہلی اجڑ رہی تھی ۔عیش و نشاط کی مجلسیں برہم ہو رہی تھیں ۔بے امنی اور بے چینی کا دور تھا ۔دوسری طرف لکھنؤ شاہی کےزمانہ میں عیش و نشاط ، امن و راحت ، تکلی اور تصنع کا گہوارہ بنا ہوا تھا ۔
دہلی کے شعراء سودا ، میر ، سوز ،مصحفی وغیرہ جو لکھنؤ گئے انھوں نے شاعری کو اصلی شان پر رکھا لیکن اٹھارہویں صدی کے آکر مین جو شاعری شروع ہوئی اس ر وہاں کی سلطنت ، معاشرت ،عیش کوشی اور زندگی میں جو تصنع پیدا ہو گیا تھا اس کا پورا پورا اثر پڑا ۔
ناسخ ، آتش اور ان کے شاگردوں نے شاعری کو صوری اور معنوی اعتبار سے بالکل بدل اور اس طرح شاعری کا ایک نیا دبستان ایک نیا اسکول قائم ہوا جس کی خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں :

1۔ بے لطف مضمون آفرینی اس “شاعرانہ پہلوانی ” سےلکھنؤ کا کوئی شاعر نہیں بچا

مرا سینہ ہے مشرق آفتاب داغ ہجراں کا
طلوع صبح محشر چاک ہے میرے گریباں کا
ناسخ

2۔ایسی رعایت لفظی کو شعری لطاف کے منافی ہو اور اسکی لطافت کو ختم کر دے

میٹھی میٹھی نظروں سے وہ دیکھے
کہوں آنکھوں کو میں بادام شیریں

3۔ ایسا تخیل جو متانت سے گرا ہو

آتشِ رخ سے آنکھ سینکتے ہیں
کیا زمستاں میں کام منقل کا

4۔ بازاری اور سوقیانہ جذبات

لگے منہ بھی چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب
زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجئے دہن بگڑا
آتش

5۔نانی زبان اور محاورات ان شعراء کے کلام میں بھی پائے جاتے ہیں جو ریختی گو نہ تھے ۔ مثلاََ استاد ناسخ ،آتش،امانت اور رشک وغیرہ ۔ اس کا سبب یہ تھا کہ لکھنؤ کی معاشرت میں عام طور پر نسائیت آ گئی تھی ،یہ نتیجہ تھا عیش کوشی کا اور اس کا اثر ان کی شاعری پر بھی پڑا ۔
ذرا گھر کو رگیں کے تحقیق کر لو
یہاں سے ہے پیسے کی ڈولی کہارو

لکھنؤ اسکول اپنی خصصیات یا معائب کی بدولت الگ سے پہچانا جاتا ہے لیکن ان عیوب کے باوجود لکھنؤ اسکول کا ایک ایسا کارنامہ بھی ہے جس کو اردو زبان اور شاعری کبھی فراموش نہیں کر سکتی ۔اور وہ ہے اصلاحِ زبان ۔ اس سے انکار نہیں کہ میر و سودا کے زمانہ تک زبان میں بہت حد تک اصلاح ہو کی تھی پھر بھی سینکڑوں نامانوس اور غیر فصیح الفاظ کا استعمال اور زبان و شعر کے قواعد سے بے پرواہی باقی تھی ۔ ان سب کی اصلاح کا سہرا ناسخ کے سر ہے ۔ انھوں نے صرف و نحواور عروض کے قاعدے مقرر کئے ۔ شعرائے دہلی کے زمانہ تک متروکات کا استعمال کرتے رہے لیکن لکھنؤ کئ اعروں نے اپنی زبان اور شاعری کو ان غلطیوں سے پاک و صاف کر لیا ۔
دکنی اردو میں ولی کے زمانہ تک جو الفاظ رائج تھے مثلاِِ درپن (آئینہ ) ساجن (معشوق) تجنا (چھوڑنا) ان کو میر و سودا نے ترک کر دیا تھا ۔ اس کے باوجود بہت سارے محاورات اور الفاظ میر و سودا کے زمانے تک استعمال ہوتے رہے ۔ مثلاََ ٹک، جوں ،بن،پرے،نپٹ،نمط،لگے ہے وغیرہ
لیکن قابل غور امر یہ ہے کہ ان دونون اصلاحوں میں بڑا فرق ہے ۔ وہ یہ کہ میر ، سودا،مصحفی نے اپنی صلاحیت پر نہ خود سختی سے عمل کیا اور نہ اپنے شاگردوں سے کرایا ۔اور قدیم اور جدید دونوں لفظوں اور محاوروں کو استعمال کرتے رہے ۔ اس کے بالکل برخلاف ناسخ نے نہ صرف خود ان متروکات کا استعمال ترک کر دیا بلکہ اپنے شاگردوں کو بھی استعمال نہ کرنے دیا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لکھنؤ کی زبان بالکل صاف اور شستہ ہو ئی ۔ حالانکہ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے ان میں بہت سارے متروکات دہلی میں الب کے زمانہ تک استعمال ہوتے رہے ۔
کہوں گر غیرت سے مت مل تو کہوے طعن سے رک
یہ کیوں کس واسطے ہم تیرے ایسے ہو گئے بس میں
مومن

قسمت ہی سے لاچار ہوں اے وق وگرنہ
سب فن میں ہوں طاق مجھے کیا نہیں آتا
ذوق

ہو کے عاشق وہ پری رو اور نازک بن گیا
رنگ کھلتا جائے ہے جتنا کہ اڑتا جائے ہے
غالب

صرف یہی نہیں بلکہ داغ نے بھی ایسے محاورات استعمال کئے ہیں جو لکھنؤ میں ناسخ کے زمانے میں ہی ترک ہو چکے تھے
کچھ صبر کئے سے بن نہیں آتا
یوں بھی تو بہت دنوں بسر کی
داغ

اس کے علاوہ ناسخ نے صحت تلفظ کا بھی خیال رکھا اور اسکو رائج کیا
کشتہءعشق ہیں پیہم ہے کفارہ اپنا
(کفارہ یر مشدد نظم ہوا ہے جو غلط ہے)

اس طرح بعض لفظوں کو اس طرح نظم کیا جاتا ہے جس طرح عوام انہیں استمال کرتے ہیں مژلاََ:
مرگِ جنوں سے عقل گم ہے میر
کیا دوا نے موت پائی ہے

عربی فارسی الفاظ کے سلسلہ میں اہتمام کیا جاتا تھا کہ کوئی لفظ تقطیع سے گر نہیں پائے:
غافل جہاں کی دید کو صفتِ نظر سمجھ
پگر دیکھنا نہیں ہے اس عالم کو خواب میں

اس شعر میں “عالم ” کا “عین”تقطیع سے گرتا ہے جو جائز نہیں اصول قافیہ کی پابندی کی جائے اور غلط قافیوں کے استعمال سے گریز کیا جائے ۔ قائم نے ہوس ،برس کے ساتھ “ہنس ” کا بھی قافیہ باندھا ہے
بہار عمر ہے قائم کوئی دن
اسے جو گل پیارے کاٹ ہنس کر

ہندی الفاظ کے استعمال می بھی قید لگائی گئی کہ خاص خاص محاورات اور صرف وہ الفاظ جو اردو می گھپ سکتے ہیں استعمال کئے جائی مثلاََ آپ بیتی ،جگ ہنسائی ، سانچ کو آنچ،بندش چست ہو اور تعقید نہ ہو
نگاہ ناز نے کی دیر ورنہ میں تیار
ہوں کب سے بیٹھا ہوا مرگِ نا کہاں کے لئے

مندرجہ بالا تفصیل سے یہ معلوم ہو گیا کہ باوجود لکھنؤ اسکول کی شاعرانہ خامیوں اور عیبوں کے اصلاح زبان اور قواعد شعری کا تعین ایسا کارنامہ ہے جس کو اردو زبان و شاعری کبھی فراموش نہیں کر سکتی ۔
لکھنؤ ریختی کی صنعت ایجاد ہوئی جس کا سہرا رنگین کےسر ہے اور انشاء نے اسکو ترقی دی ۔ ر یختی میں عورتوں کی زبان میں اشعار کہے جاتے ہیں جو عموماََ فحش اور عامیانہ ہوتے ہیں۔
ذرا گھر کو رنگیں تحقیقی کر لو
یہاں سے ہے کے پیسے کی ڈولی کہاروں
رنگینں

اس کے علاوہ ہزل گوئی کا رواج بی لکھنؤ کی عیش و عشرت کا ایک کارنامہ ہے ۔ اس صنف میں فحشیات اور عریانیت انتہا کو پہنچ گئی ۔ طنز و مزاح تو شاید شعر کی نزاکت قبول کر لیتی لیکن عریانی اور فحاشی نے اسکو مرتبہ شعری سے گرا دیا ۔چرکین لکھنؤ کے مشہور ہزل گو شعرا میں سے تھے

دبستانِ عظیم آباد

شمال مشرقی ہند کا مشہور شہر عظیم باد ہمیشہ سے علماء کا مسکن اور علم ع ادب کا گہوارہ رہا ہے لیکن اٹھارہویں صدی کے وسط میں اسے شعر و ادب کا ایک اہم مرکز ہونے کا شرف بھی حاصل ہو گیا ۔ اس دبستان ادب کی تشکیل می جوشش، فقیہہ،درد مند،اور راسخ کی کوششوں کو بڑا دخل ہے اور شاد عظیم آبادی نے تو اپنی شاعری سے اسکا سکہ منوا لیا ۔ انھوں نے ایک شعر میں دبستان عظیم آباد کی خصوصیات شاعری یوں بیان کی ہے
نمک ہے فارسی کا درد ہندی شاعری کا ہے
یہ اردوئے معنیٰ نکتہ سنجانِ عجم دیکھیں

کہا جا سکتا ہے کہ اس عظیم آباد میں لکھنؤ اور دہلی دونوں دبستانوں کی خصوصیات شیر وشکر ہو گئی تھیں ۔لیکن پلہ بھاری دہلی کے رنگ کا تھا ۔ پروفیسر اختر اورنوی نے درست ہی لکھا ہے کہ اس کا سبب دہلی کی پیروی نہیں بلکہ یہ ہے کہ اہلی اور عظیم آباد دونوں کے حالات اور ادبی ماحول میں بڑی حد تک یکسانیت تھی ۔بہرحال دہلی اور لکھنؤ کے بعد یہ تیسرا اہم شعری مرکز تھا ۔

رام پور اسکول

دلی کے اجڑنے کے بعد لکھنؤ اردو شاعری کا مرکز بنا اور شاہانِ اودھ کی قدر دانی اور سرپرستی نے اردو کو نئی زندگی دی ۔یہ البتہ درست ہے کہ لکھنؤ کی اس زمانے کی شاعری بےراہ روی کی نذر ہو گئی ۔دہلی کے آخری تاجدار سلطنت مغلیہ بہادر شاہ ظفر بھی شاعر تھے ۔ وہ جلا طن کئے گئے لکھنؤ کے آخری بادشاہ واجد علی شاہ اختر بھی شاعر تھے اور وہ بھی لکھنؤ نہ رہ سکے ۔لیکن دونوں تاجداروں نے شعراء کی سرپرستی کی اور زبان و شاعری کی جو خدمت دہلی اور لکھنؤ کے اساتذہ نے کی وہ ابھیں کے فیاضانہ نوازشوں کا نتیجہ تھی ۔
غدر کے بعد دہلی کا دربار تباہ اور اطمینان کی فضا ختم ہوئی تو لکھنؤ کی وزارت نےشعراء کے لئے آغوش سرپرستی وا کر دیا ۔ لیکن اودھ کی سلطنت ختم ہونے کے بعد شعراء منتشر ہو گئے اور ان کی سرپرستی کے لئے صرف چھوٹی چھوٹی ریاستیں رہ گئیں ۔
ان ریاستوں میں رام پور کو باوجود ایک چھوٹی سی سلطنت ہونے کے اپنے حکمرانوں کی علم دوستی اور سرپرستی کی بنا پر ممتاز مقام حاصل ہے ۔ دہلی اور لکھنؤ کی بربادی کے بعد شعراء نے رام پور کی آغوش میں پناہ لی ۔ وہاں کے نواب یوسف علی خان ناظم خود شاعر تھے او مومن اور غالب کی اصلاحوں نے ان کے کلام میں گہرائی اور پختگی پیدا کر دی تھی ۔ ان کی یہ مشہور اور مسلسل غزل آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے ۔

میں نے کہا تھا دعویٰ لافت مگر غلط
کہنے لگے وہاں غلط اور کس قدر غلط

مٹھی میں کیا دھری تھی جو چپکے سے سونپ دی
جان عزیز پیش کش نامہ بر غلط

ان کے دربار میں لکھنؤ اور دہلی کے اساتذہ یک جا ہوئے اور ان کے سنگم سے ایک نئے اسکول کی بنیاد پڑی ۔ان کے جاں نشیں نواب کلب علی خاں نواب بھی صاحب دیوان شاعر تھے ۔ ان کی سرپرستی نے اس اسکول نے ترقی کی ۔
دہلی اسکول کے نمائندے داغ اور تسلیم تھے ۔اور لکھنؤ کے بحر ، جلال اور امیر تھے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک نئے طرز اسکول کی بنیاد پڑی ۔ جس میں دونوں اسکولوں کی خوبیاں جمع ہو گئیں ۔ شعرائے لکھنؤ نے رعایت لفظی اور محض قافیہ پیمائی کو ترک کر دیا اور دہلی کی سادگی اور معنیٰ آفرینی کی جانب توجہ کی ۔یوں عامیانہ پن اور ابتزال کا خاتمہ ہوا
اس اسکول کے مقتدر اور ممتاز نمائندے داگ دہلوی ، امیر مینائی تھے ۔ان کے مندرجہ ذیل اشعار سے اندازہ ہوگا کہ رام پور اسکول نے رنگ تغزل کس طرح نکھارا

آرام طلب ہوں کرم عام کے طالب
یوں مفت میں لٹتی نہیں بیداد کسی کی
داغ

انگور میں تھی یہ مئے پانی کی چار بوندیں
جب سے یہ کھنچ گئی ہے تلوار ہو گئی ہے
امیر

جدید اسکول

غدر کے ہنگامہ نے ہندوستانی معاشرہ میں زبردست انقلاب برپا کر دیا ار اس انقلاب کا اثر نہ صرف سیاست ،معاشرت اور ماحول پر بھی ہوا ۔ بلکہ ادبی دنیا میں تبدیلی بھی آئی ۔ درباری سرپرستی اور معاشی بے فکری نے شعراء کے ذہنوں کو عشق و عاشقی کا شیدا بنا دیا تھا ۔اور شاعری اسی تنگ دائرے میں محدود ہو کر رہ گئی تھی ۔ انقلاب نے اس سنہری حصار کو پاش پاش کر دیا ۔
دوسری طرف انگریزی کی تلیم اوراس کے ادب کی روشنی نے شعراء کے سامنے شعر و ادب کی ایک نئی دنیا لا کھڑی کر دی ۔جس میں نہ تصنع تھا ، نہ فرضی ہجر و وصال کے قصے تھے ،نہ لفظی کاریگری اور نہ ایہام ۔ باوجود اس کے کہ “جدید شاعری” کے قائدین خود انگریزی زبان سے زیادہ واقف نہ تھے ۔ اردو سے دلچسپی رکھنے والے انگریزوں کی صحبت نے عام مذاق کی تبدیلی میں نہ صرف مدد کی بلکہ ایک نئی راہ بھی دکھائی ۔ اردو عدالتی زبان بن چکی تھی ۔ انگریزوں نے اردو زبان سیکھنی شروع کر دی تھی ۔ اور اردو نظم و نثر نے ان کی سرپرستی میں ایک نئے دور میں قدم رکھا 1857ء میں کرنل ہالرائڈ ڈائرکٹر تعلیم کی پنجاب کی سرپرستی میں ایک بزم شعر قائم ہوئی اور مولانا محمد حسین آزاد اور مولانا لطاف حسین حالی نے اس بزم کے مشاعرو ں میں مختلف عنوانات پر نیچرل اور اخلاقی نظمیں لکھیں ۔یہ سچ ہے کہ اس سے قبل نظیر اکبر آبادی نے نیچرل شاعری شروع کر دی تھی لیکن اس زمانہ کے اساتذہ نے ان کو حقیقی شاعر تسلیم نہیں کیا ۔ باوجود اس کے حقیقیت یہی ہے کہ صحیع معنوں میں نیچرل اور سماجی شاعری کے آغاز کا سہرا نظیر ہی کے سر ہے اور اس دور کے وہ واحد عوامی شاعر ہیں جنھوں نے اس زمانے کے رسم و رواج ، میلوں اور تیوہاروں ست متعلق نظمیں کہ کر گویا اس دور کے سماج کی تاریخ مرتب کی ۔
1800ء میں کلکتہ میں فورٹ ولیم کالج کا افتتاح ہوا ۔ اس میں تدریس کے علاوہ تصنیف و تالیف کا شعبہ بھی تھا جس میں نہ صرف نثر میں کئی اہم کتابیں لکھی گئیں بلکہ بہت سارے ترجمے بھی ہوئے ۔کوئی بیس سال کے عرصہ میں پچاس کتابیں تصنیف اور ترجمہ ہوئیں ۔چنانچہ نثر میں سلاست ،روانیا ور دلکشی اس کالج کا عطیہ ہے ۔
1857ء کی شورش کے بعد کو شاعر سر سید کے زیر اثر براہ راست یا بالواسطہ طور پر قومی مسائل کی جانب متوجہ ہوئے ان میں مولانا شبلی ،اسمٰعیل میرٹھی ، اکبر الیہ آبادی اور علامہ اقبال کے نام قابل ذکر ہیں ۔

شیئر کریں

کمنٹ کریں