دفن پہ شاعری

کئی لاشیں ہیں مجھ میں دفن یعنی
میں قبرستان ہوں شروعات ہی سے
تری پراری

وا ہے سخت مشکل دفن ہونا تیرے وحشی کا
جہاں پر قبر کھودی جاتی ہے پتھر نکلتے ہیں
رشید لکھنوی

یہاں تو رسم ہے زندوں کو دفن کرنے کی
کسی بھی قبر سے مردہ کہاں نکلتا ہے
خورشید اکبر

سات صندوقوں میں بھر کر دفن کر دو نفرتیں
آج انساں کو محبت کی ضرورت ہے بہت
بشیر بدر

یہیں پر دفن کر دو اس گلی سے اب کہاں جاؤں
کہ میرے پاس جو کچھ تھا یہیں آ کر لٹایا ہے
خلیل الرحمن اعظمی

دفن کر سکتا ہوں سینے میں تمہارے راز کو
اور تم چاہو تو افسانہ بنا سکتا ہوں میں
اسرار الحق مجاز

مٹھیوں میں خاک لے کر دوست آئے وقت دفن
زندگی بھر کی محبت کا صلا دینے لگے
ثاقب لکھنوی

اپنی گلی میں مجھ کو نہ کر دفن بعد قتل
میرے پتے سے خلق کو کیوں تیرا گھر ملے
مرزا غالب

کتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
بہادر شاہ ظفر

مر کے خود میں دفن ہو جاؤں گی میں بھی ایک دن
سب مجھے ڈھونڈیں گے جب میں راستہ ہو جاؤں گی
عزیز بانو داراب وفا

دفن ہم ہو چکے تو کہتے ہیں
اس گنہ گار کا خدا حافظ
سخی لکھنوی

کر کے دفن اپنے پرائے چل دیے
بیکسی کا قبر پر ماتم رہا
احسن مارہروی

ایک موسم کی کسک ہے دل میں دفن
میٹھا میٹھا درد سا ہے مستقل
افتخار راغب

چراغ سجدہ جلا کے دیکھو ہے بت کدہ دفن زیر کعبہ
حدود اسلام ہی کے اندر یہ سرحد کافری ملے گی
سراج لکھنوی

ارماں تمام عمر کے سینے میں دفن ہیں
ہم چلتے پھرتے لوگ مزاروں سے کم نہیں
نامعلوم


تیرے ماضی کے ساتھ دفن کہیں
میرا اک واقعہ نہیں میں ہوں
عرفان ستار

میں اپنے جسم کے اندر نہ دفن ہو جاؤں
مجھے وجود کے گرتے ہوئے مکاں سے نکال
جیم جاذل

یوں میرے ساتھ دفن دل بے قرار ہو
چھوٹا سا اک مزار کے اندر مزار ہو
داغ دہلوی

اک سانحہ سا دفن ہوں لیکن کبھی کبھی
صدیوں کی قبر سے بھی اٹھایا گیا ہوں میں
نعمان امام

ہماری لاش گلستاں میں دفن کر صیاد
چمن سے دور کوئی نوحہ خواں رہے نہ رہے
ابو محمد واصل بہرائچی


شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں