سعودی عرب کی تاریخ (قسط نمبر چار)

دہشت گرد کا ذہن

وہارا امباکر

, سعودی عرب کی تاریخ (قسط نمبر چار)

قسط چار

نابینا عالم ابنِ باز کا سعودی تاریخ پر گہرا اثر رہا ہے۔ شعلہ بیان عالمِ دین جو عوام میں بہت مقبول تھے۔ اسلامک یونیورسٹی میں ان کو لوگ سننے آیا کرتے تھے۔ تیل کی دولت مل جانے کے بعد سعودی معاشرے میں تبدیلی تیزی سے آ رہی تھی۔ سعودی دوسری دنیا سے چیزیں ملک میں لے کر آ رہے تھے۔ شاپنگ مال، ٹی وی پر انگریزی ڈرامے،۔ یہ بلتا معاشرہ، ان کے لئے یہ ناقابلِ برداشت تھا۔
ابنِ باز شاہی خاندان پر براہِ راست تنقید نہیں کرتے تھے لیکن اپنے الفاظ اور خیالات لگی لپٹی کے بغیر کہا کرتے تھے۔ بادشاہ کی تصاویر سرکاری اداروں میں؟ ان سب کو پھاڑ کر ضائع کر دینا چاہیے۔ یہ شرک کی طرف لے جا سکتا ہے۔ ریاست میں سگریٹ کی اجازت؟ یہ شراب اور سوٗر کے گوشت کی طرح حرام ہے۔ حجامت بنوانے کی دکانیں؟ اسلامی ریاست میں اس کی گنجائش نہیں۔ تالیاں بجانا؟ یہ مغرب کی نقالی ہے۔ اور سب سے سخت تنقید خواتین کے معاشرے میں بڑھتے کردار پر تھی۔ خواتین سکولوں میں لڑکوں کو پڑھائیں گی؟ یہ نہیں ہو سکتا۔
ابنِ باز کی باتیں حکومت نظرانداز کر رہی تھی۔ ابنِ باز نے ایک نئی تحریک شروع کی۔ دعوہ سلفیہ المحتسبہ جو ایک اصلاحی تنظیم تھی۔ اس کا مشن اسلام کی طرف واپسی تھا۔ ان کا ایک طریقہ نوجوان لڑکوں کو ویک اینڈ پر صحرا میں اکٹھا کر کے تبلیغ کرنا تھا۔ اس کے آخر میں بھنی ہوئی بھیڑ، زعفرانی چاول اور کھٹے دہی سے ضیافت دی جاتی تھی اور ساتھ سرد پیپسی کولا ہوتی تھی۔ (کوکا کولا ان کی بلیک لسٹ میں تھی)۔
اس تحریک میں ایک نوجوان نے شمولیت اختیار کی۔ یہ سعودی نیشنل گارڈ سے تعلق رکھتے تھے۔ اپنے فارغ وقت میں ابنِ باز کے لیکچر سننا ان کا شوق تھا۔ گارڈ میں کارپورل کے عہدے سے آگے نہیں جا سکے تھے لیکن ماہر شکاری تھے اور جنگ کا فن اچھی طرح جانتے تھے۔ دعوہ المحسبہ میں اہم عہدیدار بن گئے۔ ان کا مشن اس کے پیغام کو سب تک پہنچانا تھا۔ بگڑتے معاشرے کو سدھارنا تھا۔ یہ نوجوان جھیمان تھے۔ اسلام کے نام پر کی جانے والی دہشت گردی کے پہلے بڑے حملے کے لیڈر۔ اسلام کے مقدس ترین مقام پر ہزاروں لاشیں ان کی وجہ سے گرنی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ابنِ باز ریاض چلے گئے۔ شاہی خاندان میں ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ فلیٹ ارتھ پر یقین رکھنے والے اور چاند پر مشن کو کافروں کا جھوٹ کہنے والے عالم کو سائنسی ریسرچ کے شعبے کی سربراہی مل گئی۔ ان کی پوزیشن کابینہ کے وزیر کی تھی۔ ہر ہفتے ان کی بادشاہ سے امورِ حکومت پر اکیلے میں ملاقات ہوتی۔ ان کی بات کو اہمیت دی جاتی تھی۔
وقت کے ساتھ ساتھ، ایک عجیب اور گہرا تضاد بنتا گیا۔ ایک طرف ابنِ باز اور دوسرے علماء حکومت کے ساتھ تھے۔ شاہی خاندان کو سپورٹ کرتے تھے۔ دوسری طرف ہر قسم کی اصلاح کی خلاف تھے۔ تھیوری اور پریکٹس کو آخر کب تک الگ رکھا جا سکتا ہے۔ ان علماء کے وعظ سننے والے کچھ لوگوں کو یہ تضاد نظر آنے لگا تھا۔
جھیمان کی ذہن سازی دعوہ سلفیہ المحتسبہ کی فکر نے کی تھی۔ جھیمان نے اس تضاد پہچان لیا تھا۔ ایک طرف مدینہ میں اخوان المسلمین کے باغیوں کی آوٗ بھگت ہوا کرتی تھی جو مصری اور شامی حکومتوں کے باغی تھے۔ دوسری طرف سعودی حکومت سے وفاداری کا درس دیا جاتا تھا۔ اگر دوسروں کے لئے بغاوت حلال ہے تو علماء سعودیوں کو اس حق سے کیوں روکتے ہیں؟ ابنِ باز تصویروں کو حرام قرار دیتے ہیں لیکن سعودی ریالوں پر شاہ کی تصویریں منہ چڑا رہی ہیں۔ ابنِ باز جن چیزوں کی مخالفت کرتے ہیں، شاہی خاندان خود اس میں ملوث ہے۔ تنقید میں اس کو استثنیٰ کیوں ہے؟
کسی کی ذہن سازی کرتے وقت اپنی مطلب کے حصوں کو فلٹر نہیں کیا جا سکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ان تضادات پر جھیمان نے علماء سے بحث کرنا شروع کی۔ علماء کو قائل نہیں کر سکے لیکن انہوں نے اپنے جوشیلے نوجوان پیروکار اکٹھے کر لئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ علماء کونسل میں صرف ابنِ باز مخلص عالم ہیں لیکن حکومتی عہدے کے ہاتھوں وہ بھی مجبور ہیں۔ انہوں نے اپنے خیالات کو لکھنا شروع کیا۔
ریال کی پوجا کی جا رہی ہے۔ مقدس زمین میں درآمد شدہ کتابوں اور فلموں سے نئی نسل کے ذہنوں میں زہر انڈیلا جا رہا ہے۔ سعودی عرب کا مغربی ممالک کے ساتھ تعاون شرمناک ہے۔ جب ملک میں مسیحیوں کی خاطر تواضع ہو رہی ہے تو ہم خالص کیسے رہ سکتے ہیں۔ ملک میں شیعہ کو برداشت کیا جا رہا ہے۔ جب ملک بنا تھا، اس وقت کچھ علماء نے فتویٰ دیا تھا کہ ان کو جلاوطن کر دیا جائے اور ان کی مساجد کو نذرِ آتش کر دیا جائے، اس پر عمل نہیں کیا گیا لیکن اب ملک میں ان کو مسلمان تسلیم کیا جا رہا ہے۔ یہ ان کی لکھی کتابوں کے اہم خیالات ہیں۔
مسلمانوں کے لیڈر کے لئے تین شرائط پوری کرنا ضروری ہے۔ مسلمان ہو، قریش ہو اور اسلامی نظام کا نفاذ چاہتا ہو۔ بادشاہ دو شرائط پوری نہیں کرتا۔ اس کی حکومت جائز نہیں ہے۔ دوسرے مسلمان حکمران بھی اسی طرح ناجائز ہیں۔ صدر، امیر، وزیر اور شاہ جو اسلام کا نفاذ نہیں چاہتے۔ حکومت کی ملازمت، پولیس میں کام کرنا، ان کے لئے ٹیکس اکٹھا کرنا اور حکومتی ملازمین کو دوست بنانا سب کچھ حرام ہے۔
جھیمان نے اپنے اخوان پسِ منظر کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا، “اور جو سچ بولے گا اور ان سے اختلاف کرے گا، اس کو خارجی کہہ دیا جائے گا، قتل کر دیا جائے گا”۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


عتیبی قبائلی، نیشنل گارڈ کے افراد اور اسلامی درسگاہوں کے طلباء کے لئے جھیمان کا پیغام پرکشش تھا۔ آئیڈیلسٹ مسلمان، جو جدیدیت سے خائف تھے۔ ان کی تحریک خاموشی سے کام کرتی رہی۔ مدینہ، مکہ اور ریاض میں غیرملکی طالب علم بڑی تعداد میں تھے۔ کویتی، یمنی، مصری، شامی۔ یہ پیغام ان کے ذریعے دوسرے ممالک تک پہنچا۔ ریاض میں واقعہ امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی سخت گیر انتہاپسندوں کا گڑھ تھی، جو اخوان کے دور میں واپسی کی خواہش کرتے تھے۔ یہاں پر ان کی ملاقات محمد عبداللہ سے ہوئی۔ سفید رنگت، شہد کی سی آنکھیں، لمبے سیدھے بال۔ شاعری کرتے تھے اور اپنی چار سالہ ڈگری ختم کرنے کے قریب تھے۔
سعودی ریاست سے نفرت کے لئے عبداللہ کے پاس ایک اور وجہ تھی۔ ان پر چوری کا الزام لگا تھا۔ پولیس کے زیرِ حراست تشدد کیا گیا تھا۔ جب تک اصل چور اتفاقا پکڑا گیا تھا، پولیس اس وقت تک ان کے ناخن بھی کھینچ کر نکال چکی تھی۔ محمد عبداللہ کے لئے اس پیغام سے اختلاف کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ یکم محرم 1400 کو انہوں نے امام مہدی کے طور پر ایک مجمع سے بیعت لینا تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


جھیمان نے اپنی لکھی ہوئی تحریروں کو کتاب کی صورت میں چھپوانے کا ارادہ کیا۔ یہ کام سعودی عرب میں نہیں ہو سکتا تھا۔ کویت میں پبلشر اس کے لئے بھاری رقم مانگ رہے تھے۔ بالآخر ان کو عراقی حمایت یافتہ پارٹی کا ساتھ مل گیا۔ صدام حسین کی سیکولر بعث عرب سوشلسٹ پارٹی اور جھیمان میں واحد مشترک چیز سعود خاندان سے نفرت تھی۔ دار الطالیا نے ان کی کتاب سبع الرسائل چھاپ دی۔ اس کو سمگل کر کے سعودی عرب میں تقسیم کیا جانے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


جھیمان کے لٹریچر سے متاثر ہونے والا ایک اور گروپ مصر کی جماعتِ اسلامی تھی۔ انہوں نے بھی تکفیر کی پریکٹس اپنائی تھی۔ یعنی کافر قرار دے کر کسی کا خون حلال قرار دینا۔ سادات مرتد اور فرعون قرار پائے تھے۔ اس تحریک کے ایک اہم رکن ایمن الظواھری تھے۔ جھیمان کی کتابیں ان کے پاس بھی تقسیم ہوتی رہی تھیں۔ جماعت کے میگزین الدعوہ میں سعودی عرب پر آرٹیکل چھپا۔
“سعودی عرب گناہوں میں لتھڑے مستقبل کی طرف رواں دواں ہے۔ میڈیا پر ناقابلِ بیان چیزیں دکھائی جا رہی ہیں۔ ٹی وی پر ایک خاتون ہیرو کے گال پر بوسہ دیتی ہے۔ ریڈیو پر خاتون اور مرد میں معاشقہ سنایا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ ٹیکسی ڈرائیور بھی ہتھے سے اکھڑ گئے ہیں۔ تمیز بھول گئے ہیں۔ یہ سب مغربی کلچر کا اثر ہے۔ سعودی بچوں کے رول ماڈل اب 6 ملین ڈالر مین اور سُپرمین ہیں۔ اس معاشرے کو اب کون بچائے گا؟”
جھیمان اسی کی اصلاح لئے عملی پلاننگ کر رہے تھے۔ مصر سے انکی لکھی کتاب کو پڑھ کر متاثر ہونے والے محمد الیاس اس حملے کا اہم کردار تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


دنیا یں تبدیلیاں تیزی سے آ رہی تھیں۔ جھیمان اس بات کے قائل تھے کہ دجال کا ظہور مغربی طاقتوں کی صورت میں ہو چکا ہے۔ اب امام مہدی کو بیعت لینی تھی۔ روایات کے مطابق یہ کام حج کے بعد مقامِ ابراہیم پر ہونا تھا۔ چودہ صدیاں ختم ہونے پر آنے والا حج اور رونما ہونے والے واقعات اس طرف واضح اشارہ تھے۔ واحد سوال یہ رہ گیا تھا کہ امام مہدی کون ہے؟ جھیمان نے محمد عبداللہ کے جسم پر سرخ زخم کا نشان دیکھا تھا جو ان کے نزدیک امام مہدی کی نشانی تھا۔ انہوں نے پچیس سالہ محمد عبداللہ سے بات کی۔ انہیں اس کو سنجیدہ خیال کے طور پر سمجھاتے ہوئے وقت لگا۔ دونوں نے طے کیا کہ اس پر استخارہ کر کے فیصلہ کیا جائے۔ استخارہ مثبت آ گیا۔ حیرت انگیز طور پر، دونوں کو بالکل ایک ہی خواب آیا تھا۔ سب شواہد کو سامنے رکھتے ہوئے دونوں کو ہی محمد عبداللہ کے امام مہدی کے ہونے پر یقین ہو گیا۔ اب عمل کا وقت تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


اسلحہ نیشل گارڈ کے وئیر ہاوٗس اور لبنانی خانہ جنگی سے سمگل شدہ اکٹھا کیا گیا۔ جب جھیمان نے اپنے پلان کا اپنے ساتھیوں کو بتایا تو ایک نے سوال کیا، “لیکن کیا مسجد الحرام مقدس نہیں، وہاں پر ہتھیار چلانا منع نہیں؟” جھیمان نے مسکرا کر جواب دیا، “ہاں، لیکن اب وہ وقت آ گیا ہے۔ آخری جنگ کی ابتدا یہیں سے ہونی ہے۔ یہ پہلے ہی لکھ دیا گیا ہے۔ ہم تو صرف اس پیشگوئی کو پورا کرنے والے ہیں۔ جب تک دشمن مکہ نہیں آئے گا، زمین میں نہیں نگلا جائے گا۔ یہ آخری فتح کا پہلا قدم ہے”۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


جھیمان کی کتاب چار سو صفحات کی کتاب تھی۔ وہ جس دور میں تھے، اس وقت انٹرنیٹ نہیں تھا۔ ان کو اپنے خیالات دوسروں تک پہنچانے کیلئے کتابیں اور پمفلٹ خفیہ طور پر چھپوا کر تقسیم کرنا پڑے تھے۔ امام مہدی کے بارے میں تو وہ جلد غلط ثابت ہو گئے تھے، لیکن ان کے کتاب سے اقتباسات اور دعوہ المحتسبہ تحریک سے شروع ہونے والی سوچ، اس وقت بھی دنیا کے کئی حصوں میں لوگوں کی فکری راہنمائی کرتے ہیں۔
زائرین سمیت ہزاروں لوگوں کی زندگیاں ختم کرنے کا باعث بننے والے، صفا اور مرویٰ کے درمیان علاقہ مکمل طور پر تباہ کر دینے والے، مسجد الحرام کو خون، آنسو گیس، کیمیکلز، بارود، انسانی فضلے اور سڑتی لاشوں سے بھر دینے والے۔ آگ اور خون کا کھیل کھیلنے والے یہ چند سو جوشیلے نوجوان دہشت گرد کہلائے۔ (مسجد الحرام پر محاصرہ کرنے والوں کی تعداد تین سو سے چھ سو کے درمیان تھی)۔ جب ان کے سر قلم کئے جا رہے تھے تو ان سے ہمدردی کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ لیکن اپنے نکتہ نظر سے وہ حق پر تھے۔ اور صرف وہ ہی حق پر تھے۔ اپنے تصور کے حساب سے دنیا کو بہتر بنانے کے لئے جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلے تھے۔ ان کو یقین تھا کہ اللہ ان کے ساتھ ہے۔
دہشت گرد کا ذہن سمجھنے کیلئے اس کا پسِ منظر سمجھنا پڑتا ہے
******

اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں
2 کمنٹ

کمنٹ کریں