احمد صغیر کے افسانوں میں دلت ڈسکورس

مضمون نگار : شہاب ظفر اعظمی

, احمد صغیر کے افسانوں میں دلت ڈسکورس

ہندی لغت میں دلت لفظ کے معنی پامال شدہ ، تاراج، کچلا ہوا، دبایا ہوا روندا ہوا اوربرباد شدہ وغیرہ کے ہیں۔ اس لفظ کا پہلی بار استعمال مہاتماجیوتیباپھولے نے اپنی جدوجہد کے دوران کیاتھا۔ بعد میں ڈاکٹر بھیم رائو امبیڈ کر نے بھی اچھوتوں کے لئے دلت لفظ کے استعمال پرزوردیا۔ یہ لفظ آج ہر شعبے میں اچھوتوں کے لئے قابل قبول ہوگیا ہے۔ انگریزوں نے اپنی سہولت کے لئے اس طبقے کو آئوٹ کاسٹ(Out caste) ایکسٹریرکاسٹ(Exterior Caste) اورڈپر یسڈ(Depressed) کانام دیاتھا۔ہمارے آئین نے انہیں شیڈولڈ کاسٹ کے زمرے میں شامل کیا ۔


’’دلت بیداری‘‘ جدید ہندوستان کی ایک قابل ذکر حصول یابی ہے۔ اس میں دلت سماج کی ثقافتی مذہبی، اقتصادی اورسیاسی آزادی بشمول انسانی آزادی کی ابتدا ئی حالت سے لے کر آخر ی آزادی کے حصول تک کی ساری باتیں موجودہیں۔ اس میں دلتوں کی نجات اور انسانی آزادی کا کوئی بھی ایسا حصہ نہیں ہے جو اچھوتارہ گیا ہو۔ جدید ہندستان کی دلت بیداری اور پسماندہ طبقات کی نجات اور آزادی کو صحیح معنوںمیں انقلابی تحریک کہاجاسکتاہے۔ دلت بیداری دراصل دلتوں کی نجات ، ذات پات کے نظام کے خاتمے، اچھوت پن کے خاتمے، چارورنی نظام کے خاتمے اور اعلیٰ ذاتوں کی برتری کے خاتمے کی تحریک ہے۔یہ وہ تحریک ہے جو ہندوستان کے ان لوگوں کو خواب غفلت سے بیدار کرتی ہے اوران میں خودداری کاجذبہ جگاتی ہے، جو صدیوں سے سماجی، مذہبی، تہذیبی ، ثقافتی اوراقتصادی اعتبار سے پس ماندہ اورپچھڑے رہے ہیں اور جنہیں اعلیٰ ذاتوں اور برتر طبقوں کے ذریعہ استحصال کاشکارہوناپڑاہے۔


کسی بھی زبان کا ادب اپنے عہد، ماحول اور سماجی و سیاسی تبدیلیوں کا عکاس ہوتاہے۔ دلت تحریک چونکہ ہندوستان کی تاریخ میں بہت اہم اورنمایاں تبدیلی کا سبب بنی ہے اس لئے یہاں کی مختلف زبانوں میں اس کاعکس واضح طور پرنظر آتاہے۔ مراٹھی، تمل، کنڑ، تیلگو، ملیالم، گجراتی ، پنجابی، اڑیہ زبان و ادب ہو یا ہندی اور اردو زبان و ادب ، ہر جگہ شاعری اور نثردونوں شکلوںمیں دلت آواز موجود ہے۔ چونکہ ہندومذہب کے ماننے والے ہر جگہ ہیں اس لئے منووادی نظا م اور اس کے تحت شودروں، دلتوں کا استحصال ہر جگہ ہوتارہاہے ۔ لسانی یا علاقائی تبدیلی کے باوجود دلتو ںکی حالت اور استحصال کی صورت تقریباً ہر جگہ یکساں ہے۔ لہٰذا ہر ادب میں اس کاعکس ناگزیر طورپر موجود ہوگا۔


ہندی اور اردومیں بھی دلت مسائل کی عکاسی شروع سے ہوتی رہی ہے۔ بالخصوص افسانوں اورکہانیوںمیں یہ عکس ہم بڑی آسانی سے دیکھ سکتے ہیں۔ مثلاً پریم چند جو اردو ہندی افسانے کے بنیاد گزار مانے جاتے ہیں، ان کے یہاں جہاں غریب کسان کی محنت، فاقہ کشی اور جدوجہد سے دوچار زندگی کی سچی تصویر نظر آتی ہے بیوہ کی شادی کی حمایت، بال وواہ اور بے جوڑ شادی کی مخالفت اور ستی جیسے قبیح فعل سے نفرت نظر آتی ہے، وہیں چھواچھوت کی لعنت، ذات پات کی تفریق اورہندوستانی سماج کے اونچ نیچ کے نفرت انگیز تصورات کے خلاف احتجاج کی آواز بھی ملتی ہے۔ انہوں نے اپنے افسانوںمیں کھل کر ہریجنوں یا دلت طبقوں کی مظلومیت اور اس کی بے کسی و بے بسی کو موضوع بنایا۔


عام طور پر اردوطبقے میں یہ مفروضہ قائم ہے کہ چونکہ دلتوں کا تعلق مسلم سماج سے نہیں ہے اس لئے اردومیں ’’دلت ادب‘‘ کا وجود ہی نہیں ہے، اسی لئے اب تک اردو میں دلت ادب کے موضوع پر کوئی اہم اور قابل قدر کام نہیں ہوا ہے۔اردوطبقے کا یہ مفروضہ مجھے کبھی قابل قبول نہیں لگا کیونکہ اردو جو سیکولر ، روادار اور فرقہ وارانہ یکجہتی کی نمائندہ زبان ہے اس نے بلاتفریق مذہب وملت ہمیشہ پورے سماج کی آئینہ داری کی ہے، آخر ایسا کیوںکر ہوسکتاہے کہ وہ سماج کے اتنے سنگین مسئلے سے روگردانی کرے۔ اوراپنے سماج، اپنی زندگی اوراپنے آس پاس کے اتنے بڑے مظلو م و ستم رسیدہ طبقے کے مسائل کو نظرانداز کردے۔ پریم چند کے بعد بھی اردو افسانوں کی ایک قابل ذکر تعداد ایسی ہے جس میں نہ صرف دلت کردار موجود ہیں بلکہ دلتوں کے مختلف مسائل پیش کرکے ان پر ہونے والے ظلم، استحصال اور نفرت انگیز تصورات کے خلاف احتجاج کی آواز بھی بلند کی گئی ہے۔ہم عصر فکشن میں احمد صغیر کا افسانوی مجموعہ ’’کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے‘‘ مکمل طور پر دلت مسائل پر لکھے گئے افسانوں کا واحدمجموعہ ہے جو نہ صرف دلت ڈسکورس کو آگے بڑھاتاہے بلکہ دلت افسانوں کے ذخیرے میں بیش بہا اضافہ ثابت ہوتاہے۔


احمد صغیر کو عام طور پر احتجاج اور طبقاتی کشمکش پر آواز اٹھانے والا افسانہ نگار سمجھا جاتاہے۔یہ بہت حد تک درست بھی ہے کہ ان کے افسانوں کا بنیادی وصف ظلم،جبر اور ناانصافی کے خلاف صدائے احتجاج ہے۔وہ اپنی کہانیوں میں عصری آگہی اورحسیت کا احساس دلاتے ہیں ۔مگر ’’کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے‘‘کے افسانوں کا بغور مطالعہ کیاجائے تو احساس ہوتاہے کہ دلت موضوع پر لکھی گئی ان کہانیوں میں صدائے احتجاج کے بجائے مسائل سے واقف کرانے کا رجحان زیادہ نمایاں ہے۔وہ دلت طبقے کے غم و غصے اور انتقامی جذبے کی عکاسی سے زیادہ ان کے مسائل ،پریشانیاں اور زوال پذیر معاشرت پر نگاہ ڈالتے ہیں ۔وہ دلت معاشرہ میں استحصال،دہشت،تشدد،خوف اور ضعیف الاعتقادی کے شاکی ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کی زندگی میں تبدیلی آئے۔اس کے لیے وہ احتجاج اور انتقام کے بجائے تبدیلی کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔وہ اچانک تبدیلی بھی نہیں چاہتے کیونکہ جانتے ہیں ہزاروں سال سے ایک خاص ڈھرے پر جی جانے والی زندگی اچانک تبدیل نہیں ہو سکتی ،اس لیے وہ دھیرے دھیرے تبدیلی کے حق میں ہیں او ردھیرے دھیرے ہی اس معاشرے کو مین اسٹریم میں شامل کرنے کی راہ دکھاتے ہیں ۔مثال کے طور پرافسانہــــ’’تعفن‘‘ کو دیکھئے۔یہاں یہ نکتہ بہت لطیف انداز میں پیش کیاگیاہے کہ دلت طبقہ جس طرز کی زندگی بسر کررہاہے اس میں اس کی حس لطیف مٹ گئی ہے۔اگر اچانک کوئی تبدیلی آئے تو اس کی حس اسے قبول نہیں کرپاتی اور کردار ناگفتہ بہ حالات کا شکار ہو جاتاہے۔ضرورت ہے کہ اس کے احساسات میں آہستہ آہستہ تبدیلی پیدا کی جائے۔


اس افسانے کا مرکزی کردار منوا ایک بچہ ہے جو کوڑا چنتاہے۔کہانی منوا کے کوڑا چننے کے عمل سے شروع ہو کر خوشبوئوں سے بے ہو ش ہونے پر ختم ہو جاتی ہے۔کوڑا چننے کے عمل سے منوا کے بے ہوش ہونے تک کہانی بہت دلچسپ بھی ہے اور حیرت انگیز بھی۔منوا جیسے دلت اور پسماندہ بچوں کا کام کوڑے کے ڈھیر سے اپنے لیے رزق تلاش کرناہے ۔وہ دن رات یہ کام صرف کوڑوں کے ڈھیر کے درمیان ہی کرتے ہیں اس لیے سڑاند بھری بدبو کے وہ اس طور عادی ہو جاتے ہیں کہ وہ اس بو کے علاوہ کوئی اور بو محسوس ہی نہیں کرسکتے۔جس کوڑے کے ڈھیر سے منوا اپنے لیے سامان زندگی تلاش کرتاہے اسی ڈھیر کے سامنے والے بنگلے میں مسز ملکانی رہتی ہیں جو بے اولاد ہیں۔مسز ملکانی منوا کو روز دیکھتی ہیں اور دھیرے دھیرے ان کی ممتا کا جذبہ منوا کو ان سے قریب کر دیتاہے۔وہ اسے کھانا کھلاتی ہیں ،پہلے اخبار میں لپیٹ کر،پھر پلیٹ میں اور آخر میں منوا کا داخلہ گھر میںہو جاتاہے۔مسز ملکانی اسے دیکھ کر،اسے کھلا کر ،اور اپنے پاس بلا کر اپنے ممتا کے جذبے کو تسکین پہنچاتی ہیں۔وہ چاہتی ہیں کہ منوا ان کے گھر میں رہ جائے تو وہ اس کے لیے اچھے اچھے کپڑے سلوائیں اورکسی اچھے اسکول میں داخلہ بھی کروادیں۔اس نیت سے وہ ایک دن منوا کو بلاتی ہیں ۔اسے غسل خانے میں لے جاکر شاور کھول دیتی ہیں۔نہانے کے بعد نیا کپڑا دیتی ہیں،بال سنوارتی ہیں،پرفیوم لگاتی ہیں،اور کھانے کے ٹیبل پر اس کے لیے طرح طرح کے پکوان پیش کرتی ہیں۔منوا جو کچرے کے علاوہ کسی اور طرح کی بو کا عادی نہیں تھا۔اسے ہر طرف طرح طرح کی خوشبوملتی ہے تو چکرا جاتاہے۔اسے عجیب سی گھٹن کا احساس ہوتاہے اور بالآخر جیسے ہی مسز ملکانی نے اپنے ہاتھوں سے اسے کھانا کھلانا چاہا وہ چکرا کر کرسی سے نیچے گر گیا اور بے ہوش ہوگیا۔
افسانہ نگار کہنا چاہتاہے کہ تعفن منوا کی زندگی کا حصہ بن گیاہے اور وہ اسی میں رہنا پسند کرتاہے۔وہ اچانک تبدیلی قبول نہیں کرسکتا۔اس لیے ایسے طبقات میںتبدیلی رفتہ رفتہ آنی چاہیے ۔مثلاً پہلے ان کے اندر تعلیم کی شمع روشن کی جائے اورپھر انہیں طرز معاشرت سکھائی جائے تاکہ وہ خود اپنی زندگی کو خوشبو دار اور بہتر بنانے کے لیے آگے بڑھیں گے۔


’’انا کو آنے دو‘‘ احمد صغیر کی افسانہ نگاری کا سنگ میل ہے جس کے بغیر شاید افسانے کی تاریخ مکمل نہ ہو۔اس افسانے کی زیریں سطروں میں بھی دلت بیداری اور دلت سماج میں تبدیلی کی بے چینی کو بہ آسانی محسوس کیا جاسکتاہے۔اس میں جو کردار پیش کیے گئے ہیں وہ سب دلت سماج سے تعلق رکھتے ہیں،جیسے اناّ،پھلمتیا،کارو مستری ،لکھیا وغیرہ۔فسادات میں بہت سارے کرداروں کے مارے جانے کے بعد بچتی ہے پھلمتیا۔اکیلی۔انا کا کردار فلیش بیک میں کہانی کو لیے آگے بڑھتاہے۔مزاحمت و احتجاج،آسمان کی سرخی،سرمئی اندھیرا۔استعاراتی انداز میں یہ سب دلت بیداری اور دلت استحصال کے مختلف عکس پیش کرتے ہیں۔انا امید کی کرن ہے مگر اس کے سامنے بھی گہرا اور لامتناہی اندھیرا ہے۔’’کیا اکیلا انا اس نظام کو بدل دے گا؟‘‘ پھلمتیا کو ہر ظلم سہتے ہوئے انا یاد آتاہے۔انا کو آنے دو،انا کو آنے دو۔یعنی انا ایک کردارنہیں احتجاج کا علامیہ ہے۔


افسانہ انا کو آنے دو مختصر ہے مگر اپنے اندر ایک جہان معنی چھپائے ہوئے ہے۔انا کا کردار نکسلی تحریک کا نمائندہ بن کر ابھر تاہے اور لوگ اس تحریک سے ایک یقین کے ساتھ جڑتے ہیں کہ جو انصاف انہیں سماج نہیں دے سکا وہ اس تحریک سے جڑنے پر ضرور ملے گا۔اور بغیر وقت گنوائے ،بغیر کوئی پیسہ خرچ کئے انہیں ملتا بھی ہے۔لیکن مصنف کا سوال یہ ہے کہ آخر اس تحریک کا انجام کیا ہوگا؟ کیا اکیلا انا اس تحریک کو سماجی انقلاب کا مرکز بنا سکے گا؟۔اس افسانے میں احمد صغیر نے پریم چند کی دھنیا اور الیاس احمد گدی کی ختونیا کی طرح ایک بڑا کردا پھلمتیا کی شکل میں پیش کیاہے جو ان پڑھ،معمولی اور گھریلودلت عورت ہے مگر انا اور اس کی تحریک سے وابستگی اس کے تیور اور طورطریقوں میں نمایاں تبدیلی پیدا کردیتی ہے۔تحریک سے جڑ کر نہ صرف وہ بے باک،نڈر اور مضبوط بنتی ہے بلکہ اس کی سوچ بدل جاتی ہے ،سماج کو دیکھنے کا اس کا نظریہ بدل جاتاہے۔اور افسانہ کے آخر میں جو وہ چیلنج کرتی ہے وہ چیلنج یا للکارقاری کو ایک عورت کی نہیں دلت تحریک اور دلت سماج کی للکار کی صورت میں سنائی دیتی ہے۔


احمد صغیر کے افسانوں میں ’’پیاسی ہے زمیں پیاسا آسماں‘‘ دلت فکر ،احتجاجی لئے اور سماجی ضعیف الاعتقادی کی عکاسی کے علاوہ فنی ٹریٹمنٹ کے لحاظ سے بھی الگ شناخت رکھتاہے۔گھریلو نوکر کو مرکزی کردار کے روپ میں پریم چند سے منٹو تک بہت سارے افسانہ نگاروں نے پیش کیاہے اور ان کی مظلومیت اور استحصال کی صورتوں سے ہمیں آشنا کرایاہے۔مگر احمد صغیر کے اس افسانے میں نوکر کی مظلومیت بہت معنی نہیں رکھتی ۔اصل کہانی عقیدے کا جبر،انسانیت کا گرتا معیار اور خودساختہ نظام کے خلاف دلت طبقے کا احتجاج ہے۔منکی نام کی ایک دلت اور غریب عورت نشی نام کی ایک خوش حال خاتون کے گھر میں ملازمہ ہے۔وہ اپنے آوارہ اور شرابی شوہر کی مارپیٹ سہتے ہوئے اس نوکری کے ذریعہ اپنے بچوں کا پیٹ پالتی ہے۔ایک دن بچے کو دودھ نہیں مل پایا اس لیے وہ لگاتار روتا رہا۔کسی طرح چپ ہونے کا نام ہی نہیں لیتاتھا۔منکی نے اپنی مالکن کو مجبوری بتائی او ر تھوڑا سا دودھ بچے کے لیے مانگا مگر وہ بہانہ بنا کر ٹال گئی۔بچے کے لیے ان کے یہاں دودھ نہیں تھا مگردوسرے دن گنیش جی کی پیاس بجھانے کے لیے وہ منکی کو پورا گلاس بھر کر دودھ دے دیتی ہے۔


’’جا جلدی جا،کہیں گنیش جی کا پیٹ نہ بھر جائے اور دودھ پینا بند نہ کردیں‘‘ نشی منکی کو گلاس
تھماتے ہوئے بولی۔
منکی بھی گلاس لے کر تیزی سے باہر نکل پڑی ۔اس کے تیز قدم مندر کی طرف اٹھ رہے تھے مگر
دھیان اپنے بچے کی طرف تھا اگر آج بھی دودھ والا نہیں آیا تو پھر میرا بچہ۔۔۔۔؟
گنیش جی پلانے کے لیے مالکن کے بھی کچن میں دودھ نکل آتاہے مگر میرے بچے کے لیے؟
منکی رک گئی۔اس نے ایک نظر مندر کی طرف جاتی ہوئی بھیڑ کو دیکھا ،کچھ سوچا اور پھر دھیرے
سے اپنے گھر کی طر ف مڑ گئی۔۔۔۔۔۔۔!‘‘
افسانہ خوش حال طبقہ کی کھوکھلی اوردردمندی سے عاری دکھاوے والی مذہبیت کا پردو تو فاش کرتاہی ہے ،سماج کی اس ذہنیت کو بھی پیش کرتاہے جو طبقاتی آویزش کا سبب ہے۔منکی اس ذہنیت اور طبقاتی آویزش کے خلاف احتجاج کی علامت ہے جو گنیش جی کی پجارن ہونے کو باوجود دودھ انہیںپلانے کے بجائے اپنے بچے کے لیے گھر لے کر چلی جاتی ہے۔یہ احتجاجی اور باغیانہ رویہ ہی اس افسانے کی جان ہے۔


افسانہ ’’شدھی کرن‘‘ بھی دلت طبقے کے ساتھ ہونے والے بھید بھائو اواشرافیہ طبقات کے ذریعہ ان کے ساتھ سوتیلے سلوک کا مظہر ہے۔دلت طبقات کومین اسٹریم میں لانے کے لیے ہمارے قانون نے بہت سارے مواقع عطا کیے ہیں ،جن کی وجہ سے آج دلت کردار بھی سماج کے اہم اور اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو رہے ہیں۔مگر نام نہاداونچی ذات کی ذہنیت بدلنے میں یہ قانون بہت حد تک ناکام ثابت ہوئے ہیں۔چنانچہ ہم اکثر خبروں میں یہ سنتے ہیں کہ کسی دلت افسر کے مندر میں جانے کے بعد مندر کی دھلائی کی گئی۔یا کسی افسر کے ٹرانسفر کے بعد اسی کرسی کو گنگا جل سے دھویا گیا وغیرہ وغیرہ۔ایسا ہی معاملہ پیش آتاہے کرشنا چودھری کے ساتھ۔وہ اپنے بیٹے کو مکھیا ہریندر سنگھ کے پاس آشیرواد کے لیے لے کر آتاہے تاکہ اس کے آشیرواد سے بیٹا اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکے ۔مگر ہریندرکہتا ہے کہ پڑھ لکھ کر کیا کرے گا اسے کام پر لگادو۔کرشنا چودھر ی اسکول ٹیچر ہے مگر اسکول میں اسے جھنڈا پھہرانے کا حق بھی نہیں ۔وہ آگے بڑھتا ہے تو مکھیا اسے ڈانٹ کر بھگا دیتا ہے کہ ہماری برادری کا ایک بچہ تو جھنڈا پھہرا سکتا ہے مگر تم نہیں۔


کرشنا چودھری اپنے بیٹے کو پڑھا لکھا کر ایس ۔پی بنا دیتاہے ۔گائوں کے نو تعمیر شدہ مندرکے افتتاح کے لیے اس کے بیٹے یعینی ایس۔پی۔وکاس کو بلایا جاتاہے۔ہریندر سنگھ اپنا کام نکالنے کے لیے نہ صرف اس کی آئو بھگت کرتا ہے بلکہ اپنے گھر میں بٹھا کر ناشتہ بھی کرواتاہے۔مگر جب وکاس وہاں سے چلا جاتاہے تو نہ صرف سارے برتنوں کو پھنکوادیتاہے بلکہ شدھی کرن کے نام پر مندر کو دھونے کا حکم دیتا ہے ۔اس افسانے سے صاف ظاہر ہے کہ قانون کے سہارے اختیارات تو دیے جاسکتے ہیں سماجی کی ذہنیت میں تبدیلی نہیں لائی جاسکتی۔کل جو نفرت کا جذبہ کھل کر کام کرتا تھا وہ آج پس پردہ ہے ۔اس لیے سماجی زندگی کے احترام کے لیے پیوندکاری نہیں قلمکاری کی ضرورت ہے۔


میں نے پہلے کہا ہے کہ احمد صغیر دلت مسائل پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اورکوشش کرتے ہیںکہ مسائل سے احتجاج کے شعلے بھڑکیں۔افسانہ’’میں دامنی نہیں ہوں‘‘ بھی اسی نقطۂ نظر کا غماز ہے جس میں دہلی گینگ ریپ کے مشہور واقعے کو موضوع بنا کر دلت امتیازکی جانب متوجہ کر نے کی کوشش کی گئی ہے۔دلی میں میڈیکل کی طالبہ،ایک معصوم لڑکی کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ انسانیت کے نام پر سیاہ داغ ہے۔اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ایسا ہی ایک واقعہ دلت لڑکی سگنیا کے ساتھ پیش آتاہے ،جب ایک سیاہ رات کو چار رئیس زادے اپنی گاڑی میں آوارہ گردی کرتے ہوئے بھیک مانگنے والی سگنیا کو اٹھالیتے ہیں ۔اور پھر گاڑی میں ہی اس کے ساتھ منہ کالاکرکے سڑک کنارے پھینک دیتے ہیں۔اس کی ماں رات بھر سڑک پر ماری ماری پھرتی ہے اور پولس انسپکٹر ،میڈیا،یا لیڈر کے پاس باری باری جاتی ہے مگرکوئی اس کی فریاد نہیں سنتا۔کیونکہ اس کی بچی نہ تو سفیدپوش گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اور نہ میڈیکل کی طالبہ تھی۔وہ تو ریڈلائٹ پر بھیک مانگنے والی ایک غریب لڑکی تھی جس کی سماج میںکو ئی اہمیت نہیں۔


لیڈرکہتاہے’’ تمہارے اِشو پر ہم کوئی تحریک نہیں چلا سکتے‘‘
میڈیا والا کہتاہے’’ تمہاری رپورٹ سے میرے چینل کا ٹی۔آر۔پی نہیں بڑھے گا‘‘
پولس انسپکٹر کہتاہے’’ اب تم لوگوں کے لیے بھی پولس حرکت میں آئی تو ان شریف لڑکیوں کی رپورٹ کون لکھے گا جو ہر روز لٹ رہی ہیں۔‘‘
افسانہ نگار کہنا چاہتا ہے کہ جب ایک میڈیکل طالبہ کے ساتھ گینگ ریپ ہو تاہے تو پورا ہندستان احتجا ج کے لیے کھڑا ہو جاتاہے۔مگر اسی ہندستان میں آئے دن غریب اور دلت لڑکیوں کے ساتھ ایسے واقعات ہو رہے ہیں جو تھانے میں رپورٹ کا حصہ بھی نہیں بن پاتے ۔آخر ایسا کیوں ہے؟


احمد صغیر پسماندہ اور دلت طبقات کے دوست ہیں۔وہ ان کے ہمدرد ہیں اس لیے ان کے مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں۔وہ اپنی کہانیوں کے ذریعہ دلتوںکے آج کے مسائل کو بیان کرنا چاہتے ہیں۔وہ مسائل جن سے دلت آج بھی نبرد آزماہیں۔ان کے ساتھ ہونے والی تفریق کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔وہ آنر کلنگ کے نام پر ہونے والی موتوں سے بھی واقف ہیں اور دلت گائوں اور ان کے جلسوں پر ہونے والے حملوں کی خبریں بھی پڑھ رہے ہیں۔اس لیے ان کے یہاں ’’فصیل شب میں جاگتاہے کوئی ‘‘کا کارو مانجھی ہو یا اس کی بیوی بدھنی،’’ڈوبتا ابھر تا ساحل ‘‘ کی داتون بیچنے والی سگنی ہو یا ’’پناہ گاہ ‘‘ کی لکھمنیا،’’اوورٹائم‘‘کی گلبیا ہو یا ’’ سفر ابھی ختم نہیں ہو ا ‘‘ کا مسافر نوجوان،یہ سب کردار آ ج کے زندہ کردار ہیں جو ہمارے ہی سماج کے کریہ چہروں سے پردہ اٹھا تے ہیں۔یہ سب انتظامیہ کی بے رخی اور جبر کی علامت ہیں ۔احمد صغیر معاشرہ میں دانستہ اور غیر دانستہ رائج دلتوں کے استحصال ،دہشت ،تشدد،فرقہ واریت ،خوف ،طبقاتی تصادم اور ضعیف الاعتقادی کے شاکی ہیں ۔مگر وہ حالات سے ناامید بھی نہیں ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ ’’سفر ابھی ختم نہیں ہوا‘‘ لیکن ’’آگ ابھی باقی ہے‘‘۔کنتی اور منکی جیسے کرداروں کا رد عمل ظاہر کرتاہے کہ اب احتجاج کی شمع روشن ہو چکی ہے۔یہ شمع دلت طبقے کی تاریکی کو دور کرنے کے لیے کوشاں ہے۔احمد صغیر کو یقین ہے کہ یہ شمع بہت جلد انقلاب کی مشعل میں تبدیل ہو گی اوردلت طبقات بھی نہ صرف ہمارے سماج کے میں اسٹریم میں داخل ہوںگے بلکہ اپنے معاشرے کو روشن و منور کر سکیں گے۔


احمد صغیر احتجاج اور انقلاب کے افسانہ نگار کہے جاتے ہیں۔بہت حد تک یہ غلط بھی نہیں۔مگر احتجاج کی آواز بہت لائوڈ ہو جائے تو فن مجروح ہو جاتاہے۔میرا خیال ہے کہ فن کار کا وژن او ر نظریہ باطنی سطح پر کہانی کی زیریں لہروں سے پھوٹنا چاہئے جبکہ احمد صغیر کے یہاں ان کا وژن خارجی سطح پر زیادہ دکھائی دیتاہے۔ایسا شاید اس لیے ہے کہ ان کا اسلوب سادہ حقیقت نگاری کا اسلوب ہے۔وہ جو اور جیسا دیکھتے ہیں ویسا ہی قارئین کے سامنے پیش کردینا چاہتے ہیں۔وہ ملمع سازی کے قائل نہیں اور نہ ہی علامات و استعارات یا تشبہیی بیانیہ سے کام لیتے ہیں۔حالانکہ وہ اس پر قدرت رکھتے ہیں اور اس کا اظہار وہ ’’انا کو آنے دو‘‘ ’’فصیل شب میں جاگتا ہے کوئی ‘‘اور ’’منڈیر پر بیٹھا پرندہ‘‘ جیسے افسانوں میں کر بھی چکے ہیں۔مگر شاید ان کے موضوعات اور زمینی حقائق انہیں تشبیہی و علامتی بیانیہ کے بجائے سادہ اورمجرد حقیقت نگاری کی طرف زیادہ راغب رکھتے ہیں۔اس زبان کی بھی اپنی خوبصورتی ہے ۔یہ مبہم ،پرپیچ اور گنجلک عبارت سے دو ر ہے اور شعری تلازمات میں قاری کو گم نہیں کرتی۔احمد صغیر کے جملے مختصر اور فطری ہوتے ہیں جو نہ صرف ترسیل میںمعاون ہیں بلکہ قاری سے براہ راست مکالمہ قائم کرتے ہیں۔اچھے مکالمات کی خصوصیت بتائی گئی ہے کہ وہ مختصر ہوں ،فطری ہو ں اور ضروری ہوں۔احمد صغیر کے مکالمے اس تعریف پر پورے اترتے ہیں اس لیے بور نہیں کرتے بلکہ قاری کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں رکھتے ہیں۔دلت طبقات کی غیر رنگین زندگی اور کریہ سماجی صورت حال کے لیے شاید ایسے ہی سادہ ،مجرد اور سلیس زبان کی ضرورت تھی ۔اس زبان میں دلت طبقے کا درد پوشید ہ ہے ۔پروفیسر علی احمد فاطمی نے صحیح لکھا ہے کہ
’’دلت اور غریب طبقہ سے وابستہ یہ کہانیاں فن اور تہذیب کے اعتبار سے جس معیار کی سمجھی جائیں لیکن فنکارکی صداقت اور زندگی کی حقیقت سے الگ کرکے دیکھ پانا مشکل ضرور ہے۔ کہانیوں میں انسانیت بالائی سطح پر تیرتی نظر آتی ہے اور انسانیت سے بڑی کوئی شئے نہیں۔اس کا اپنا جمال ہوتاہے اور جلال بھی‘‘(کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ص ۱۴۵


پریم چند کے بعداحمد صغیر اردو کے غالباً واحد افسانہ نگار ہیں جنہوںنے دلت موضوعات پر اتنی بڑی تعدا میں افسانے لکھے ہیں کہ ایک مکمل مجموعہ سامنے آ گیا۔یہ اپنے آپ میں ایک بڑی بات ہے کیونکہ دلت مسائل کا بلا واسطہ ،سیدھا تعلق اس طبقے سے نہیں ہے جس سے احمد صغیر تعلق رکھتے ہیں۔مگر موصوف کا مشاہدہ گہرا ہے اور وہ سماج کے ہر طبقے کو اپنی نگاہ میں رکھتے ہیں اس لئے انہوں نے اپنے آس پاس جو مسائل اور دکھ درد دیکھے انہیں بڑی ہنر مندی سے اپنے اظہار کا حصہ بنایا۔ان کہانیوں میں ایک خاص علاقے کی جھلک اور ایک خاص طبقے کی مہک آپ محسوس کرسکتے ہیں ۔یہ مقامی تشخص اور علاقائی تناظر کہانیوں کے حسن اور معنویت میں کہیں رکاوٹ نہیں بنتا بلکہ اسے وسعت اور آفاقیت سے ہمکنار کر دیتا ہے۔یعنی احمد صغیر پرسنل کو امپرسنل اور علاقائی کو آفاقی بنا نے کا ہنر جانتے ہیں اور یہ ہنر ہی فنکاری کہلاتی ہے۔


دلتوں کو آج اگرچہ سرکاری، و غیر سرکاری مراعات حاصل ہیںاورانہیںدلت بیداری کی وجہ سے پہلے کی طرح کے حالات اورمسائل کا سامنا نہیں کرناپڑرہاہے مگر پھر بھی ذات پات کے نام پر تفریق اورکج فہمی کی بہتیری مثالیں ہمیں شب و روز دیکھنے کوملتی ہیں۔بالخصوص شادی بیاہ اور عشق ومحبت کے معاملات میںیہ آج بھی قتل و غارت گری کا سبب ہے۔ موجودہ دورمیں’’آنر کلنگ‘‘ کی اصطلاح اسی سے وجود میںآئی ہے اور ہزاروں مقدمات اسی تفریق کی بناپر عدالت میں درج ہوچکے ہیں۔مختلف ریاستوں میںایک بار پھر دلت تحریک نے زور پکڑ لیاہے۔ احمد صغیر نے اپنی کہانیوں سے اردو میں اس بحث کو بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ان کہانیوں میں موجود انحرافی و احتجاجی کیفیت شاید اس تحریک کو قوت بخشنے اور سماجی انقلاب پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو ۔اس کوشش کے لیے احمد صغیر کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ایک ایسی ہی کوشش اور جسارت کی امید میں احمد صغیر سے ناول کے میدان میں بھی کر رہاہوں ۔چونکہ احمد صغیر اچھے ناول نگار بھی ہیں اس لیے مجھے ان سے دلت موضوع پر ایک بڑے اور اچھے ناول کی امید ہے ،کیا عجب کہ میری یہ امید بہت جلد بر آئے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شیئر کریں
ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی بھارت میں اردو فکشن کی تنقید کا ایک سنجیدہ اور معتبر نام ہے۔ان کی پیدائش یکم اپریل ۱۹۷۲ء کو گیا (بہار) میں ایک عالم دین مولانا عبدالبر اعظمی کے گھر میں ہوئی۔انہوں نے ابتدائی تعلیم والد گرامی سے ہی حاصل کی ،اس کے بعد مگدھ یونیورسٹی ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔جون ۲۰۰۳ء میں ان کا تقرر شعبٔہ اردو ،پٹنہ یونیورسٹی میں ہوا،جہاں ابھی وہ بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسرتدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ان کے مضامین ملک و بیرون ملک کے موقر رسائل و جرائد میں شایع ہوتے رہے ہیں اور ادب کے سنجیدہ قارئین کے درمیان توجہ اور انہماک سے پڑھے جاتے رہے ہیں۔ان کی اب تک چھ کتابیں (۱)ضیائے اشرفیہ،۱۹۹۰ء(۲)اسلام کا معاشرتی نظام،۱۹۹۲ء(اردو کے نثری اسالیب،۱۹۹۹ء(۴)فرات،مطالعہ ومحاسبہ،۲۰۰۴ء(۵)اردو ناول کے اسالیب،۲۰۰۶ء(۶)اور جہان فکشن،۲۰۰۸ء شایع ہو چکی ہیں۔ان میں اردو ناول کے اسالیب اور جہان فکشن کو خاصی مقبولیت حاصل ہوئی ،بالخصوص اردو ناول کے اسالیب کو اترپردیش اردو اکادمی اور بہار اردو اکادمی سے اول انعامات سے او ر جہان فکشن کو بہار اردو اکادمی کے اول انعام سے نوازا گیا۔پروفیسر وہاب اشرفی نے ’’تاریخ ادب اردو‘‘ میں اول الذکر کتاب کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے یہاں تک لکھا کہ ’’کم ازکم میری نگاہ سے ایسا تحقیقی اور تنقیدی کام نہیں گذرا۔یہ تحقیقی و تنقیدی اعتبار سے نئے جہات سے مملوہے‘‘۔ڈاکٹر اعظمی اردو کی قومی اور بین الاقوامی مجلسوں ،سیمیناروں اور جلسوں میں شرکت کرکے بھی اپنی شناخت قائم کر چکے ہیں۔

کمنٹ کریں