دربار پر شاعری

Read Urdu Poetry on the topic of Darbaar Par Urdu Shayari (Dargah Mazaar Pe Sher o Shayari). You can read famous Urdu Poems about Shrine Urdu Poetry (Darbaar Poetry in Urdu language) and Urdu Sher o Shayari Whatsapp Status. Best and popular Urdu Ghazals and Nazms can be shared with friends. Urdu Tiktok Status Poetry and Facebook Share Urdu Poetry available.

دربار مزار پر شاعری

دربار کے موضوعات پر عمدہ شعر و شاعری پڑھنے کے لئے مندرجہ ذیل اشعار دیکھیے۔


دربار میں اب سطوت شاہی کی علامت
درباں کا عصا ہے کہ مصنف کا قلم ہے
فیض احمد فیض

سر دربار خاموشی تہہ دربار خوشیاں ہیں
در و دیوار کی باتیں در و دیوار خوشیاں ہیں
حسان احمد اعوان

سر جھکا کر شاہ کے دربار میں
چھید ہم نے سو کیے دستار میں
نبیل احمد نبیل

ہر ایک پہ کھل جائے بلا فرق مراتب
ایسا ہو تو دہلیز پہ دربار نہیں ہے
انجم خلیق

پندار شب غم کا دربار سلامت ہے
پر شمع فروزاں کا انکار سلامت ہے
عاطف توقیر

دربار پر شاعری

زمانے کے دربار میں دست بستہ ہوا ہے
یہ دل اس پہ مائل مگر رفتہ رفتہ ہوا ہے
خالد اقبال یاسر

کہیں جنگل کہیں دربار سے جا ملتا ہے
سلسلہ وقت کا تلوار سے جا ملتا ہے
رام ریاض

میرا سر کب کسی دربار میں خم ہوتا ہے
کوچۂ یار میں لیکن یہ قدم ہوتا ہے
کمال احمد صدیقی

قصیدے لے کے سارے شوکت دربار تک آئے
ہمیں دو چار تھے جو حلقۂ انکار تک آئے
زبیر رضوی

شوق دربار میں ملتے رہے دربانوں سے
ہم نے آنکھوں سے نہ دیکھا جو سنا کانوں سے
صفی اورنگ آبادی

دربار پر شاعری

دے آیا اپنی جان بھی دربار عشق میں
پھر بھی نہ بن سکا خبر اخبار‌ عشق میں
اشرف شاد

دربار میں جب عرض ہنر اور طرح کی
سلطاں نے مرے فن کی قدر اور طرح کی
خالد اقبال یاسر

ایک تھی جرأت انکار کہ ایسی ویسی
ایک دربار تھا دربار بھی ایسا ویسا
جاوید صبا

اس طرح کبھی راندۂ‌ دربار نہیں تھے
رسوا تھے مگر یوں سر بازار نہیں تھے
منظر ایوبی

اس دربار میں لازم تھا اپنے سر کو خم کرتے
ورنہ کم از کم اپنی آواز ہی مدھم کرتے
حیدر قریشی

دربار پر شاعری

حرف حق کون کہے اب سر دربار میاں
سر جھکائے ہیں کھڑے سب ترے سردار میاں
نامعلوم

جن کی ساری زندگی دربار داری میں کٹی
ان کو رسوا بر سر دربار ہونا تھا ہوئے
محسن احسان

دامن دل بھر کے لے جاتے ہیں ارباب نظر
بے نوا درویش کا دربار ہے دربار دیکھ
ماہر عبدالحی

تقدیر کے دربار میں القاب پڑے تھے
ہم لوگ مگر خواب میں بے خواب پڑے تھے
خالد ملک ساحل

بلا سے مرتبے اونچے نہ رکھنا
کسی دربار سے رشتے نہ رکھنا
تابش مہدی

شیئر کریں
صدف اقبال بہار، انڈیا سے تعلق رکھنے والی معروف شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔

کمنٹ کریں