خفیہ تاریک مادہ اور تاریک توانائی

(تحریر: حمیر یوسف، سائنس کی دنیا فورم)

 ڈارک میٹر تاریک مادہ تاریک انرجی

1990 کی دھائی میں اس کائناتی پھیلاؤ کے بارے میں ایک بات واضح تھی، وہ یہ کہ کائنات کے پاس یا تو اتنی توانائی کی کثافت موجود ہے کہ وہ مزید پھیلنا بند کرے اور دوبارہ سے سمٹنے لگے یا پھرپھر اسکے پاس اتنی کم کثافتی توانائی ہو کہ وہ کبھی بھی سمٹ نہ سکے اور لامتناہی پھیل سکے۔ لیکن کشش ثقل گزرتے وقت کے ساتھ اس پھیلاؤ کو یقینی طور پر سست کرسکتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ ،اس کائناتی پھیلاؤ کی سست روی کا مشاہدہ نہیں کیا گیا تھا ، لیکن ، نظریاتی طور پر ، کائنات کو سست ہونا پڑا تھا۔یہ کائنات مادے سے بھری پڑی ہے اور قوت ثقل تمام مادوں کو اپنی جانب کھینچتی ہے۔ پھر سال 1998 آیا جب ہبل خلائی دور بین کے ایک بہت دور کے ہونے سپر نووا کے مشاہدے نے یہ ظاہر کیا کہ کائنات آج کے مقابلے میں کئی ہزار سال پہلے سست رفتاری سے پھیل رہی تھی اور آج اسکا پھیلاؤ تیز سے تیز تر ہوتا چلا جارہا ہے۔ لہذہ یہ بات غلط ثابت ہوگئی کہ کشش ثقل کی وجہ سے پھیلاؤ سست ہورہا ہے ، جبکہ پھیلاؤ میں لمحہ بہ لمحہ تیزی اتی چلی جارہی ہے۔ . کسی کو بھی اس کی توقع نہیں تھی ، کوئی بھی اس کی وضاحت کرنا نہیں جانتا تھا۔ لیکن کچھ اس کا سبب بن رہا تھا۔

آخر کار نظریاتی ماہرین اس دریافت کے سمجھنے کے لیے تین طرح کی وضاحتیں سامنے لائے۔ہوسکتا ہے کہ یہ آئن اسٹائن کے نظریہ کشش ثقل کے ایک طویل عرصے سے ضائع شدہ ورژن کا نتیجہ ہو ، جس میں وہ چیز موجود تھی جس کو “کائناتی مستقل” کہا جاتا تھا۔ہوسکتا ہے کہ کچھ ایسی ہی عجیب قسم کی توانائی کاسیال ہو جس نے تمام خلاء کو بھر دیا ہو۔خلائی نظرییاتی ماہرین ابھی تک نہیں جانتے ہیں کہ صحیح وضاحت کیا ہے ، لیکن انہوں نے اس اشکال کے حل کو ایک نام دیا ہے۔ اسے خفیہ تاریک توانائی Dark Energy کہا جاتا ہے۔

خفیہ تاریک توانائی کیا ہے؟

یہاں معلوم سے زیاہ “نامعلوم” ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ کتنی تاریکی توانائی،خلاء میں موجود ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ کائنات کی توسیع کو کس طرح متاثر کرتا ہے۔اس کے علاوہ ، یہ ایک مکمل معمہ اور سر بستہ راز ہے۔. لیکن یہ ایک اہم معمہ ہے۔ پتہ چلتا ہے کہ کائنات کا تقریبا 74%تاریک خفیہ توانائی ہے۔ تاریک خفیہ مادہ Dark Matter تقریبا 21% بنتا ہے۔باقی زمین پر موجود ہر چیز ، ہر مادے کی خصوصیات کو ہمارے تمام آلات ، ہر عام مادے کے بطور مشاہدہ جانچا جاتا ہے – لیکن یہ مشاہدہ اس کائنات کے 4% سے بھی کم کا ہے۔ آئیے اس کے بارے میں سوچیں ، شاید اس کو بالکل بھی “نارمل” معاملہ نہیں کہا جانا چاہئے ، کیوں کہ یہ کائنات کا اتنا چھوٹا حصہ ہے۔

پوسٹ کے ساتھ منسلک تصویر نمبر 2 ،آج سے 15 ارب سال پہلے کائنات کی پیدائش کے بعد سے توسیع کی شرح میں تبدیلیوں کا انکشاف بتاتی ہے۔ جتنا زیادہ اتھلا خم ہوگا، اتنا ہی زیادہ پھیلاؤ کی شرح تیز ہوگی۔خم میں واضح تبدیلی قریبا 7.5 ارب سال پہلے اسوقت دیکھنے میں آتی ہے ، جب کائنات کی چیزیں تیزترین شرح کے ساتھ ایک دوسرے سے مخالف سمت میں اڑی جارہی تھیں۔ . ماہرین فلکیات کا نظریہ ہے کہ تیزی سے توسیع کی شرح ایک پراسرار ، تاریک قوت کی وجہ سے ہے جو کہکشاؤں کو ایک دوسرے سے دور ایک قوت کے ساتھ کھینچ رہی ہے۔

خفیہ تاریک توانائی کی موجودگی کے بارے میں ایک وضاحت یہ ہوسکتی ہے کہ یہ خلاء کی ایک خاصیت ہے۔ البرٹ آئن سٹائن وہ پہلی شخصیت تھا ، جسکو اسکو محسوس کیا کہ خالی خلاء کامطلب یہ نہیں کہ اسمیں کچھ بھی نہ ہو۔ خلاء کی کچھ بہت دلچسپ و حیرت انگیز خاصیتیں ہوتی ہیں،جنکو اب ہم جاننا شروع کررہے ہیں۔ آئن اسٹائن نے جو پہلی پراپرٹی خلاء کی دریافت کی وہ یہ ہے کہ زیادہ خلاء کا وجود میں آنا ممکن ہے۔پھر آئن اسٹائن کی کشش ثقل تھیوری کا ایک ورژن ، وہ نسخہ جس میں کائناتی مستقل کا وجود ہوتا ہے ، دوسری پیش گوئی کرتا ہے: “خلاء” اپنی خود کی توانائی کی مالک ہوسکتی ہے۔ چونکہ یہ توانائی خود ہی خلا کی ملکیت ہے لہذا خلا کے پھیلنے سے اسے کمزور نہیں کیا جاسکتا، اور کائناتی پھیلاؤ سے یہ کم نہیں پڑسکتی۔ جیسے جیسے مزید خلاء وجود میں آتی ہے، ویسے ویسے یہ ‘خلائی توانائی’ ظاہر ہوتی ہے۔ اور اسکے نتیجے میں کائنات تیز سے تیز ترین پھیلتی جارہی ہے۔ بدقسمتی سے کوئی بھی نہیں اسکو سمجھ پایا کہ کائناتی مستقل پھر وہاں کیسے موجود ہیں ، اور کیوں اسکی درست قیمت ہمیشہ حاصل ہوتی ہے جب کائناتی پھیلاؤ کے اسراع کا مشاہدہ کیا جاتاہے۔

ایک اور وضاحت کہ خلاء کیسے انرجی کو حاصل کرتی ہے اور وہ مادے کے کوانٹم نظریہ سے حاصل ہوتی ہے۔ اس نظریہ میں ، ” خالی خلاء” دراصل عارضی (“ورچوئل”) ذرات سے بھری ہوئی ہے جو وہاں مسلسل بن رہےہوتے ہے اور پھر غائب ہوجاتے ہے۔. لیکن جب طبیعیات دانوں نے یہ حساب لگانے کی کوشش کی کہ اس سے کتنی توانائی حاصل ہوگی تو خلاء حاصل گی ، جواب غلط نکلا – اور ہمیشہ انکی کیلکیولشن غلظ ثابت ہوئی۔ جونمبر انکوحاصل ہوا وہ 10^120 جتنا بڑا نمبر تھا، جوکہ ایک بہت ہی بڑا نمبر ہے۔ یعنی 1 کے بعد 120 زیرو لگادئیے جائیں۔ کسی اور کیلکیولیشن میں اتنا بڑا جواب بہت مشکل سے آتا ہے۔ لہذہ یہ پراسرایت برقرار رہی۔

خفیہ تاریک توانائی کے بارے میں ایک اور وضاحت یہ بھی ہے کہ یہ ایک نئی قسم کا متحرک توانائی کا سیال یا فیلڈ ہے ، جو ایسی تمام جگہوں کو بھرتا ہے لیکن اس فیلڈ یا سیال جسکا کا اثر کائنات کی توسیع پر پڑتا ہے وہ عام مادے اور عام توانائی کے اثر کے برعکس ہے۔. کچھ خلائی نظریہ نگاروں نے اس کا نام یونانی فلسفیوں کے پانچویں عنصر یعنی “Quintessence “کے اوپ رکھا ہے۔لیکن ، اگر Quintessence ہی اسکا جواب ہے ، تو بھی ہم ابھی تک نہیں جانتے کہ یہ کیسا ہے ، خلاء کے ساتھ یہ کیا تعامل کرتا ہے ، یا کیوں موجود ہے۔ تو اسرار جاری ہے۔

خفیہ تاریک مادہ کیا ہے؟

سائنس دانوں نے کائناتی مشاہدات کے مشترکہ مجموعہ پر کائنات کے مرکب کے ایک نظریاتی ماڈل کو فٹ کرنے کے لیے ، اس ترکیب کی تشکیل کی ہے جو ہم نے اوپر بیان کیا ہے ،، 74%تاریک توانائی ، ~ 21%تاریک مادہ ، ~ 4%عام مادہ۔ اب یہ خفیہ تاریک مادہ کیا ہے؟

ہم اب یہ یقین رکھتے ہیں کہ تاریک خفیہ مادہ ، وہ نہیں ہے جس مادے سے ہم واقف ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ کہ یہ خفیہ تاریک ہے، یعنی یہ وہ مادہ نہیں جس سے ستارے اور سیارے بنے ہیں۔ کائناتی مشاہدات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جس 21%مادے سے کائنات کی تشکیل ہوئی ہے ، ان میں نظر آنے والے مادے کی مقدار اس تناسب سے بہت ہی کم ہے جسکا تخمینہ سائنسدان لگاتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ ، یہ عام مادے کے تاریک بادلوں کی شکل میں نہیں ہے ، جو مادے کہ ان ذرات سے مل کر بنا ہےجسکو باریون Baryons کہتے ہیں ۔ ہم اس وجہ سے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کیونکہ جب ہم عام مادے سے ہم ریڈیشن پاس اور جذب کرتے ہیں تو باریونک بادلوں کی موجودگی کا پتہ لگتا ہے۔ تیسری بات یہ کہ خفیہ تاریک مادہ ، ضد مادہ antimatter نہیں ہے۔ کیونکہ ہم وہ مخصوص گاما شعاعیں نہیں دیکھ پاتے ، جو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب مادے، اپنے ضد مادے سے ملکر مکمل طور پر فنا ہوجاتا ہے۔ آخر میں ، ہم کتنی کشش ثقل عدسے کو اس کائنات دیکھتے ہیں اور اس کی بنیاد پر کہکشاں کے سائز سے بڑے بلیک ہولز کے امکانات کو مسترد کرسکتے ہیں۔اس تاریک مادے کے انتہائی ارتکاز کی وجہ سے دور سے آنے والی چیزوں کی روشنی زمین تک آتے ہوئے مڑ جاتی ہے اور ایک کائناتی عدسے کا اثر پیدا ہوتا ہے۔ لیکن ہمیں اس کائناتی عدسے کی وضاحت کےلیے مناسب واقعات نظر نہیں آتے ہیں جس کی تجویز کرنے کے لئے کہ اس طرح کی اشیاء کو مطلوبہ 25٪ تاریک مادے میں شراکت کی ضرورت ہے۔

تاہم ، اس مقام پر ، ابھی بھی کچھ تاریک مادے کے پائے جانے کے امکانات موجود ہیں جو قابل عمل ہیں۔برایونک Baryonic مادہ ابھی بھی تاریک خفیہ مادہ بناسکتا ہےجب بھورے بونے ستاروں کو ایک ساتھ باندھا جائے یا پھر چھوٹے چھوٹے انتہائی کثیف بھاری دھاتوں کے ٹکڑوں کو اکھٹا کیا جائے۔ ان امکانات کو massive compact halo objects یا پھر MACHOs کہتے ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ جو تاریک مادے کے لیے بات سمجھی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ برایونک مادے نہیں ہیں، کیونکہ یہ عام مادے سے گزر جاتے ہیں۔ عام مادہ، ان تاریک مادوں کے لیے ایک شفاف واسطے کا کردار ادا کررہا ہوتا ہے۔ اور یہ تاریک مادہ ، کسی دوسرے اجنبی،انجان مادے سے ملکر بنا ہے جسکو Weakly Interacting massive Particles یا پھر WIMPs کہتے ہیں۔ اور ہنوز اس سلسلے میں بھی پراسراریت برقرار ہے۔

(تحریر: حمیر یوسف، سائنس کی دنیا فورم)

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں