نظریہ ارتقاء، ڈارون اور خدا کا وجود

ڈارون نظریہ ارتقاء اور خدا کا وجود

2014 کی بات ہے، ہمارے یہاں کمیونسٹ حضرات کا پروگرام منعقد ہوا تھا اور مجھے بھی دعوت ملی، وہاں ایک ملحد خطیب نظریہ ارتقاء (Theory of Evolution) پر تقریر کر رہا تھا، جو کہ خود کسی کالیج میں فزکس کا استاد تھا۔ نظریہ ارتقاء کو وہ ایسے پیش کر رہے تھے جیسے یہ نظریہ دنیا کی آخری حقیقت ہے اور انہوں نے زندگی کی ابتداء سے انسان کی موجودہ صورت تک ارتقاء کا خود اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہو ۔ خیر جب جناب نے تقریر ختم کی تو میں نے سوال پوچھا:

“حضرت ! کیا نظریہ ارتقاء سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا موجود نہیں؟”تھوڑی دیر سوچ کر جواب دیا کہ:”نہیں!”

اس کا یہ جواب بلکل درست تھا کہ نظریہ ارتقاء سے بھی خدا کے نہ ہونے کو ثابت نہیں کیا جاسکتا، بلکہ یہ نظریہ بھی خدا ہی کہ وجود کو ثابت کرتا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ نظریہ ارتقاء (Darwinian Theory of Evolution) ایک سائنسی حقیقت (Scientific Fact) نہیں ایک نظریہ ہے اور سائنسی نظریات حتمی نہیں ہوتے ان میں تبدیلی کی گنجائش ہوتی ہے نئے مشاہدات ان نظریات کو یکسر تبدیل کرسکتے ہیں۔

اس نظریہ پر بہت سارے سائنسدانوں نے اعتراضات بھی کئے ہیں، لیکن اگر فرض کریں کہ یہ سچ ہے تو بھی یہ خدا کے وجود کی دلیل ہے۔

اس نظریہ کے مطابق تمام جاندار ایک ارتقائی مرحلے سے گذر کر موجود صورت پر پہنچے ہیں۔ یعنی فطرت کے پاس دو ہی انتخابات (Options) تھے۔ ایک یہ کہ یا تو وہ غلط انتخاب کرکے تباہ ہوجائے، یا پھر صحیح انتخاب کرکے ارتقاء کے سلسلے کو آگے بڑھائے۔ لیکن یہاں فطرت ہمیشہ صحیح انتخاب ہی کرتی ہے۔ سب سے پہلا مسئلہ زندگی کا بننا ہے، ایسے کیسے مادی اجزاء مل کر زندگی بن گئے؟ وہ محض بے جان مادہ بھی رہ سکتے تھے لیکن یہاں فطرت کے صحیح انتخاب کے نتیجے میں زندگی کو وجود دیا گیا۔ پھر یک خلوی (Unicellular) اور اس سے کثیر الخلوی (Multi-Cellular) جانداروں کا وجود ہوا، اگر پہلا خلیہ غلط انتخاب کرتا تو شاید دوسرے جاندار نہ بنتے لیکن یہاں بھی صحیح انتخاب کرکے خلیہ تقسیم ہوا اور کثیر الخلوی جاندار وجود میں آئے، پھر ان جانداروں کی جن جن چیزوں کی ضرورت تھی مثلا آنکھ، کان، ناک، دماغ وغیرہ وہ انہوں نے حاصل کئے۔ ایسا بھی ہوسکتا تھا کہ جانداروں کے کان کی جگہ ناک ہو، ناک کی جگہ انگلیاں ہوں، دانت کی جگہ آنکھیں ہوں، وغیرہ لیکن جانداروں کی فطرت نے یہ غلط انتخابات نہیں کئے۔ جو چیزی جہاں ہونی چاہیے وہیں پر ہے، ہر جاندار اپنے Final Model پر ہے۔

تو ہر بار یہ ارتقاء صحیح سمت میں کیوں جاتا ہے؟ کون اسے ایسے انتخابات کی ہدایت دیتا ہے جو جانداروں کے لئے ضروری ہے؟ کس نے جانداروں کو یہ قوت دی کہ وہ اپنے ارتقاء میں صحیح آپشن کا انتخاب کریں؟

ارتقاء کا صحیح انداز میں ہونا اس بات ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے ایک شعور کارفرماں ہے جو فطرت کو صحیح سمت میں چلنے کی ہدایت دیتا ہے۔ اور ہم جانتے ہیں مادہ خود بے شعور ہے اس میں تدبیر کرنے کی قوت موجود نہیں اس لئے کوئی باشعور مدبر قوت اس کی ضرورت ہے جو ارتقائی عمل کے سلسلے کو سیدھے رستے کی ہدایت دے۔

اس لئے نظریہ ارتقاء کے بانی چارلس ڈارون (Charls Dawrin) نے ارتقاء کے لئے ایک خدا کی ضرورت کو محسوس کیا کہ یہ ارتقاء بھی بغیر ایک خالق کے نہیں ہوسکتا، خدا ہی نے جانداروں میں یہ قوت ڈالی ہے کہ وہ ارتقاء پذیر ہوسکیں، وہ کہتا ہے:

“There is grandeur in this view of life, with its several powers, having been originally breathed by the Creator into a few forms or into one; and that, whilst this planet has gone cycling on according to the fixed law of gravity, from so simple a beginning endless forms most beautiful and most wonderful have been, and are being evolved.”

(The Origin of Species, Page#429)

’’زندگی کے بارے میں یہ (ارتقاء کا) تصور کتنا عظمت والا ہے جس کے مطابق زندگی کے آغاز میں خالق نے کئی قسم کی قوتیں کچھ جانوروں یا کسی ایک جاندار کو عطا کی۔ اور قوانینِ کشش ثقل کےتحت ،جیسے جیسے یہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی رہتی ہے، انتہائی سادہ صورت میں شروع ہونے والی مخلوقات وجود میں آتی ہے جو کہ بہت خوبصورت اور حیرت میں ڈالنے والی واقع ہوئی ہیں، اور مزید ترقی کرتی جاتی ہیں۔”

ڈارون اس کائنات اور انسان کے وجود کو کسی اتفاق یا محض ارتقائی عمل کے نتیجے میں نہیں مانتا، بلکہ اس کائنات کے پیچھے ایک ذہین سبب موجود ہے جس نے اس کائنات اور انسان کو وجود بخشا، وہ کہتا ہے:

“Another source of conviction in the existence of God, connected with the reason and not with the feelings, impresses me as having much more weight. This follows from the extreme difficulty or rather impossibility of conceiving this immense and wonderful universe, including man with his capacity of looking far backwards and far into futurity, as the result of blind chance or necessity. When thus reflecting, I feel compelled to look to a First Cause having an intelligent mind in some degree analogous to that of man; and I deserve to be called a Theist.”

(Life & Letters of Charls Darwin, V#1 Page#282)

“خدا کے وجود پر یقین رکھنے کی ایک اور دلیل جو عقل و منطق(Reason) کی بنیاد پر ہے نا کہ احساسات و عقیدے کی بنیاد پر، اس دلیل نے مجھے بہت متاثر کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس خوبصورت کائنات اور مستقبل کی تدبیر کرنے والا انسان کے وجود کو کسی اندھے اتفاق یا (مادی) ضرورت کی وجہ سےماننا انتہائی مشکل بلکہ ناممکن ہے۔ میں اسی انسانی ذہانت کے مطابق ایک پہلے ذہین مسبب(First Intelligent Cause) کو ماننے پر مجبور ہوں، اور میں اس بات کا ہوں کہ مجھے خدا پر ایمان رکھنے والا کہا جائے۔”

ڈارون موجودہ بائبل کو الہامی کتاب نہیں مانتا تھا تو لوگوں نے اسے ملحد کہنا شروع کردیا، لیکن اس نے وضاحت کی کہ میں اس معنی میں ملحد نہیں ہوں کہ میں خدا کے وجود کو نہیں مانتا، اس نے اپنے ایک خط میں کہا کہ:

“ I have never been an atheist in the sense of denying the existence of a God.”

“میں کبھی بھی خدا کے وجود سے انکار کرنے کے معنی میں ملحد نہیں رہا ہوں۔”

(Letter 12041 – Darwin, C. R. to Fordyce, John, 7 May 1879″. Darwin Correspondence Project. Retrieved 24 January 2011.)

اسی طرح اور بھی کچھ سائنسدانوں کی طرف الحاد کی نسبت کی جاتی ہے لیکن وہ کسی مذہب کے انکاری تو ہوتے ہیں خدا کے وجود کے انکاری نہیں ہوتے۔ وہ اس کائنات کو کسی اتفاق کا نتیجہ قرار نہیں دیتے بلکہ وہ مانتے ہیں کہ اس کائنات کے پیچھے ایک ذہانت (Intelligence) موجو د ہے۔

اس سب کے باوجود بھی بعض لوگ ارتقاء کو خدا کے وجود کے انکار کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں، یہ ان کی جہالت اور بیوقوفی ہی ہے، بانی ارتقاء خود خدا کا انکار نہیں کرتا لیکن ملحدین کے کیا کہنے۔ اسے کہتے ہیں: “مدعی سست—گواہ چشت”

نوٹ: یہ تحریر سجاد عثمانی کی تصنیف ہے۔

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں