دیدہء بینا

مضمون نگار : ثمینہ سید

, دیدہء بینا

زندگی اک سفر ہے سہانا” ان لفظوں میں سفر سے متعلق تجسس,دلچسپی اور تادیر اثرات انہی ذہنوں پہ مرتب ہوتے ہیں جو “سفر “کو تسخیر کرنا چاہتے ہیں اور اس سے حظ اٹھانا جانتے ہیں.ایک ایسا ہی جانا پہچانا نام ہے “سلمی’ اعوان” محبت بھرا دل رکھنے والی بہت ہی سادہ لیکن پرتجسس عورت .جو دنیا کے بحروبر کھوج ڈالنا چاہتی ہے.بلا کی سادہ شخصیت ہیں لیکن ہر منظر میں اترنے اور اسکا حصہ بننے کا فن جانتی ہیں.ایک روشن دوپہر چند ادیب دوستوں کی محفل اپنے پیارے سے گھر میں سجاڈالی .بہت سی علم وفن کی ,معرفت کی باتیں ہوئیں.خوب تر خاطر تواضح کے بعد ہمیں نعیم فاطمہ علوی کی کتاب تھماتے ہوئے تاکید کی کہ اسے رکھ کے بھولنا نہیں .پڑھنا ہے.


کتاب پڑھ لیں تو ذمہ داری بن جاتی ہے کہ اس کے متعلق اپنی رائے بنائیں اور اظہار کریں .کوئی کتنی بھی تاکید کے ساتھ کتاب پیش کرے.کتاب تب ہی پڑھی جاسکتی ہے جب وہ حرفِ آغاز سے ہی آپکا ہاتھ پکڑ کر بٹھا لے.اوردلچسپی بن جائے .کتاب سفرنامہ ہو اور صاحبِ کتاب قاری کو ساتھ لیے دنیا گھومانے کی صلاحیت رکھتا ہو.گرفت ہو تبھی پڑھی جا سکتی ہے.


“حیرت کو تصویر کریں” نام ہی متاثر کن ہے اپنے اندر ایک پورا جہان لیے کھینچتا ہے کہ آؤ میرے ساتھ .میری آنکھ کی پتلیوں نے جو منظر دیکھے تم بھی میری آنکھوں سے دیکھو.کتنے منظر ہیں جو لفظوں کے سانچے میں ڈھلے ہیں ,تصویر بنے ہیں.
پیش لفظ اس قدرمرصح نثر سے مزین ہے کہ مجھے بےشمار لائنیں کوڈ کرنی پڑیں.
اشفاق احمد نے کہا” کتاب پڑھتے ہوئے جن الفاظ کو تم پنسل سے نشان لگاتے ہو وہ لفظ تمہارے ہوجاتے ہیں” بالکل سچ ہے.وہ لفظ ذہن پر نقش ہوجاتے ہیں.
نعیم فاطمہ علوی اپنی کتاب کے بارے میں لکھتی ہیں.
“میں نے بھی وقت ,تجربے,مشاہدے اوراپنے قلبی احساس کو تخلیقی عمل اور قلم کی شراکت کے ساتھ صفحہ ءقرطاس پر بکھیرنے کی کوشش کی ہے.بالکل اسی طرح جس طرح ساز,آواز,تصویر,گیت,پھول ,خوشبو,مدوجزر,قوس وقزح,پرندوں کا چہکنا,ہوا کے ساتھ پتوں کا سرگوشیاں کرنا,ٹھنڈے شفاف پانیوں کا آبشاروں کی صورت گرنا,سمندر میں لہروں کی موج مستی,جنگلوں میں ہرن کا کلاوے بھرنا حسن ہے.اسی طرح کسی تخلیقی عمل کو سپردِقلم کرنا بھی حسن ہے.”
کیا عمدہ انداز محبت ہے.فاطمہ جی کیسی شائستگی سے اپنا مدعا کہنے کو فطرت کے ہم قدم چل رہی ہیں.


لکھتی ہیں.
“فاصلے بڑھنے لگتے ہیں.پہلے ذہنی فاصلے بڑھتے ہیں.اور پھر زمینی فاصلے”
“میرے خیال میں اپنے تجربات و مشاہدات کو قلم بند کرکے دوسروں کے لیے فرحت وشادمانی کے ساتھ ساتھ آسانیاں پیدا کرنا بھی عبادت ہے.”
سلمی’ اعوان نعیم فاطمہ کی کتاب کے بارے اپنی معتبر رائے دیتے ہوئے لکھتی ہیں.
“اس کی کہانیاں عوامی ہیں.معاشرے میں رچے بسے تعصب,جھوٹ,منافقت,انسانی استحصال اور جہالت کو موضوعات کے ساتھ ساتھ وہ زندگی کی خوبصورت قدروَ کی دلکشی اور دلربائی کی نمائندگی کرتی بھی نظر آتی ہیں.”


“تہذیبوں کے درمیان فاصلے” کے باب میں لکھتی ہیں.
جو بیڈروم ہمارے لیے مختص کیاگیا اسکی چھت میں شیشہ لگاہوا تھا.نرم گرم بستر میں لیٹے ہوئے شیشے میں سے طلوعِ صبح کا منظر میں کبھی نہیں بھول سکتی.بیدار ہوتے ہی پہلی نظر میں آسمان نظر آئے تو طبیعت میں سرشاری کی عجیب کیفیت پیدا ہوجاتی ہے.”
یہ کیفیت ہمیں ہماری تہذیب کی دین ہے جب کھلے دالانوں میں منقش چارپائیاں بچھا کر آسمان کے نیچے سوتے تھے اور صبح پرندوں کے شور سے آنکھ کھلتی تھی تو کچھ پل نیلے شفاف آسمان کو دیکھتے گزرتے تھے.ہم نے خود کو اس شفاف آسمان سے چھپا لیا کمروں میں اے سی لگا کے کیفیت اور تہذیب دونوں بدل دئیے.


“اولڈ ہوم “کے باب میں لکھتی ہیں.
“نسلِ انسانی کی بقاء,ضرورتوں کی پوجا اور زندگی کے گزرے ہوئے لمحوں کا زیاں کیسا لگا.سوچئے”
“یورپ نے انسان کے آرام و سکون اور انسانی سہولیات کی ہر چیز ایجاد کرلی ہے.ییاں انسان اور انسانیت دونوں آزاد ہیں.خاندانی نظام بھی شاید انسانی آزادی کی راہ میں حائل ہوتاتھا.لہذا اس کو بھی توڑ پھوڑ دیا گیا.”
“اولڈ ہوم ہر قسم کی سہولیات کے باوجود مجھے زندوں کے قبرستان لگے”
“پورایورپ ٹشو پیپر کی رام کہانی ہے” یہ مختصر سی بات کتنی بڑی اور وسیع المنظر ہے کہ عقل دنگ رہ جائے.ایک جہان کو فقرے میں سمو ڈالا.کمال مہارت اور نثری سمجھ بوجھ کا ثبوت ہے.یورپ کے بارے میں مزید لکھتی ہیں.
” یہاں زندگی اس پھول کی طرح ہے جو رنگ و روپ میں ڈوبی ہوئی ہے لیکن خوشبو سے عاری ہے.”
“سفر اندر کا ہو یا باہر کا .انسان کی صلاحیتوں کو بڑھاتا ہے.”
“ضمیر کی خلش سے بےچین ہوکر تنقید کی لوری سنانا آسان ہے”
“مادام تسّادمیوزیم کے اندر داخل ہوتے تو میں واقعی کچھ دیر کے لیے مبہوت رہ گئی.انسانی ہاتھوں کے بنے ہوئے مجسمے دیکھ کر عقل دنگ ری جاتی ہے.انسان کچھ دیر تو سانس لینا بھول جاتا ہے.”
“جب انسان نے پہلا مجسمہ تراشا ہوگا تو وہ خود بھی حیران رہ گیا ہوگا اور یقینا”اسی حیرت کے کسی پہلو میں اس مجسمے کو خدا بنا بیٹھا ہوگا”
“ہم دریائے ٹیمز کے کنارے پیدل چلتے ہوئےسوغات کی بیشمار دکانوں کے قریب سے گزرے.میں ان مناظر کو چشمِ تصور میں محفوظ کرلینا چاہتی تھی. مگر بھی یہ سنبھالے نہیں سنبھلتا تھا.ناپائیدار انسان یہ پائیدار حسن تخلیق کرکے امر ہوگئے .”
لندن کی سیر کرتے ہوئے نعیم فاطمہ جی نے ہمیں بھی پورا لندن گھما ڈالا.پھر برمنگھم چل پڑیں.
“تنہا واپس جانے کا فیصلہ تو میرا ہی تھا مجھے اس سفر کی خوشی بھی تھی,خوف بھی ,حیرت بھی اور نئے حالات کو کھوجنے کی جستجو بھی”
سفر کی داستان کے ساتھ چھوٹی چھوٹی کہانیاں بھی سناتی جاتی ہیں.جیسے کہ میرپور کی لڑکی جو جہاز میں ملی تھی .نکاح کے بندھن کو نبھانے اپنے جیون ساتھی کے پیچھے باہر تک آگئی لیکن یورپ کی بےلگام آزادی اسکے ارمان اور امید کھا گئی وہ مایوس واپس جارہی تھی.


رنگین تصاویر نے سفر نامے کے مزہ کو دوبالا کردیا.
اپنے بچوں سے دوری اور مامتا کی بےتابی نے کئی بار آنکھیں نم کردیں.
“میرا بڑا بیٹا فہد مانچسٹر سے لندن آیا .سات سال بعد ملاقات ہورہی تھی.اور صرف تین دن کی چھٹی لےکر آیا.اسے دیکھ کر میرا دل چاہا کی اسے اپنے محفوظ آنچل میں چھپا لوں.کہیں نہ جانے دوں.”
“وہ میری ماں بن گیا اور میں اس کا بیٹا….وی مجھے سکھاتا رہا,پڑھاتا رہا…دو تہذیبوں کے دو کناروں پر کھڑے مسافر,منزل کے عبوری راستے ,راستوں کی کٹھن گنجلک مسافتیں اور ان مسافتوں کو نئی ٹیکنالوجی سے آسان بنانے کے گر”
تارا لنگاہ بیچ کی سیر بھی کرادی.اور ڈاکٹر مبشر سے ملاقات بھی خوب رہی.ایڈیلیڈ سے مییلبرن واپسی ہوئی وہیں عید منائی. فلپ آئی لینڈ بھی گھما ڈالا..دوحہ میں طویل قیام کیا دوستوں کی رہنمائی سے نگر نگر گھومتی نعیم فاطمہ علوی نے میرا ہاتھ بھی تھامے رکھا.میری آنکھیں اب ان نظاروں کی چکا چوند سے روشن ہیں.
سلمی’ آپا کا بہت شکریہ جن کی وجہ سے نعیم فاطمہ علوی کا یہ بہترین سفر نامہ پڑھنے کو ملا.مزید کامیابیوں کے لیے دعاگو.

شیئر کریں

کمنٹ کریں