دہلویت

lafznamaweb@gmail.com

دہلویت نام ہے ایک نقطہ ء نظر ، ایک افتادِ ذہنی، ایک مزاج ِ شعری کا، جسے سمجھنے کے لیے لکھنویت سے قدم قدم پر مقابلہ کرنا ہوگا۔ یہ اختلاف دراصل آصف الدولہ کے زمانے سے شروع ہوتا ہے جبکہ دہلی بگڑ چکی تھی اور دیگر فن کاروں کی طرح شعراء بھی اپنا ملجا و ماوا دوسرے مقامات میں تلاش کر رہے تھے۔ ان دوسرے مقامات میں سب سے زیادہ پرامن اور مستحکم مقام لکھنئو تھا۔ اس لیے دہلی سے جو اٹھا وہ لکھنئو آ رہا۔ شعرائے دلی کی آمد سے پہلے فیض آباد یا لکھنئو شاعری یا ادب کا مرکز نہ تھا بلکہ شجاع الدولہ کے بلا بھیجنے پر سودا کا انکار اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ جب تک دہلی کے حالات استعار رہے کسی نے وہاں سے جنبش کا خیال بھی نہ کیا اور اس کی خراب سے خراب حالت میں بھی دہلی کے چٹخاروں اور مزوں میں مگن رہے لیکن جب وہاں بادشاہوں میں قوت باقی نہ رہی اور امراء بھی زمانے کاحال دیکھ کر گوشہ نشین ہوگئے تو مجبوراََ شاعروں کو قوتِ لایموت کے لیے دوسرے آستانے تلاش کرنا پڑے۔ خود سوداؔ شجا الدولہ کے آخری زمانے میں فیض آباد پہنچے۔

اس کے بعد یہ سلسلہ شروع ہوگیا اور میر ، میر حسنؔ، انشاءؔ، مصحفیؔ کے ساتھ ساتھ دیگر اوسط درجے کے شاعر، ادیب اور فنکار پہلے فیض آباد ، اور آصف الدولہ کے زمانے میں لکھنئو آتے رہے۔ انہی بزرگوں اور ان کے اخلاف اور شاگردوں کی بدولت لکھنئو میں شعرو شاعری کا چرچا ہوا اور اتنا ہوا کہ پھر وہاں کے لوگوں میں بھی اس کی صلاحیت پیدا ہوگئی اور ان لوگوں نے پھر اپنے طرز کو خاص اپنا مذاق ہی قرار دے کر دہلی سے اسے ممتاز قرار دے دیا۔ حالانکہ دہلی کے اخلاف ہمیشہ دہلی کو مستند قرار دیتے رہے لیکن اہل ِ لکھنئو نے اپنا مرکز ہی مستند مانا اور منوایا۔

دراصل لکھنویت دہلویت کے مقابلے میں شعرو شاعری کا ایک دوسرا رخ ہے۔ دہلی کے وہ شعراء جو لکھنئو آگئے تھے یہاں کے تمدن اور خوش حالی سے متاثر ہوئے اور ان کے کلام میں دہلی سے علاحدہ بعض چیزیں پائی جانے لگیں جنہیں بعد میں بعض لکھنوی شعراء نے اپنایا اور چمکایا۔ مثلاََ جہاں تک مشکل گوئی کا تعلق ہے سوداؔ اور میرؔ کی کئی غزلیں مشکل زمینوں میں ہیں۔ انشاؔ اور مصحفیؔ کے معرکوں نے مشکل زمینوں میں دو غزلے اور سہ غزلے کہنا قادرالکلامی کی سند ہی قرار دے دیا۔ یہی لے تھی جو آگے چل کر ناسخ او آتشؔ اور ان کے شاگردوں میں بڑح کرا پنی انتہا پر پہنچ کر لکھنوی خارجی شاعری کی ایک خصوصیت قرار پائی۔

بعض اساتذہ اور نقاد لکھنئو کی خارجیت کو اردو شاعری کے ارتقاء میں کوئی الگ چیز قرار نہیں دیتے اور چند الفاظ یا محاوروں کے اخلتاف یا تذکیر و تانیث کے فرق کو کوئی ایسی مابہ الامتیاز شے نہیں مانتے جس سے لکھنویت یا دہلویت کے الگ مراکز یا اسکول قائم کیے جا سکیں لیکن میری رائے میں یہ فرق قطعی ہی اگر مرکز ِ شاعری لکھنو میں نہ منتقل ہوتا تو وہ خارجیت اوردو شاعری میں اس قدر جلد پیدا نہ ہوتی جو لکھنو اور اس کے اثر سے بعد میں ہر جگہ یہاں تک کہ دہلی میں پھیل گئی۔ رہا زبان کا مسئلہ تو اختلافات اور مباحثے اسی سے شروع ہوئے۔

یہ تحریر ڈاکٹر نورالحسن ہاشمی کی کتاب “دلی کا دبستانِ شاعری” سے لیا گیا ہے۔ دہلویت کے متعلق مزید پڑھنے کے لیے ویکیپیڈیا پر کلک کریں۔

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں