گدھے کی کھال پہ لکھی گئی دنیا کی پراسرار شیطانی کتاب

افسانہ نگار : ڈاکٹر زبیر فاروق

, گدھے کی کھال پہ لکھی گئی دنیا کی پراسرار شیطانی کتاب

ہم سبھی بچپن سے کتابیں پڑھتے ہیں ۔تمام اہم اور مقبول کتابوں کے بارے میں جانتے ہیں ۔ کیا آپ دنیا کی سب سے خطرناک کتاب کے بارے میں جانتے ہیں ؟ کیا کسی ایسی کتاب کا نام سنا ہے جو آج تک پراسرار بنی ہوئی ہے ؟ کیوں یہ کتاب قریب سات سو سال بعد بھی یہ کتاب راز بنی ہوئی ہے ؟

اسے شیطان کی سب سے بڑی کتاب کہا جاتا ہے ۔ یہ کتاب جس کے پاس آئی اسکا دماغی توزن بگڑ گیا ۔ کئی چشم دید نے یہ دعوی کیا کہ جب انہوں نے اس کتاب کو پڑھنا شروع کیا تو اسکے الفاظ شعلوں میں لپٹے ہوئے ہوا میں تیرتے نظر آئے ۔یہ کوئی کہانی نہیں ہے یہ حقیقت ہے کیونکہ یہ کتاب آج بھی ایک ملک کے شہر میں باقاعدہ لائبریری میں رکھی ہوئی ہے ۔یہ کتاب ایک حقیقت ہے ایک سچائی ہے۔ اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ یہ کتاب ایک سچی کہانی ہے ۔

کہتے ہیں کہ یہ کتاب شیطان نے لکھی ہے ۔ اس کتاب کو لکھنے اور اور لکھنے کے پیچھے کی کہانی بہت دلچسپ ہے ۔ بہت ساری باتیں سمجھ میں نہیں آتی کہ حقیقت ہے یا فسانہ ۔کہتے ہیں کہ یہ کتاب ایک رات میں ہی لکھی گئی ہے ۔اور دنیا کے جو زیادہ تر ایکسپرٹ ہیں جنہوں نے اس کتاب پہ ریسرچ کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی ایک شخص ایک ہی رات میں اپنے قلم سے اتنی بڑی کتاب لکھ سکے ۔ان کا کہنا ہے کہ اگر مان بھی لیا جائے کہ یہ کتاب ایک ہی شخص نے لکھی ہے تو اسےوہ روزانہ مسلسل چوبیس گھنٹے بھی لکھے تو کم از کم بیس سے پچیس سال لگیں گے ۔ کچھ کا تو یہ کہنا ہے کہ تیس سے پینتیس سال تک لگ سکتا ہے ۔ یہ کتاب کاغذ پہ تحریر نہیں ہے بلکہ اسے گدھے کے چمڑے پہ لکھا گیا ہے ۔

ہمارے سامنے ایک ہولی بائبل ہے ۔جسے ہم سبھی جانتے ہیں مگر میں جس کتاب کی کہانی سنا رہا ہوں اس کتاب کا نام ڈیولز بائبل (davil’s bible)ہے ۔ یہ کتاب کوڈکس ڈیگاگ کے نام سے بھی دنیا میں مشہور ہے ۔ یہ کتاب ہے کیا ؟ یہ کیوں لکھی گئی ؟ اس کے پیچھے کیا داستان ہے ؟ اس ایک رات کی کہانی کیا ہے ؟ اور جس نے اسے لکھا اس کی کہانی کیا ہے ؟ اور کس طرح سے یہ لکھوائی گئی ؟

اس کتاب میں کل تین سو دس صفحے ہیں ۔یہ تمام صفحے چمڑے کے ہیں ۔کہا جاتا ہے کہ اس کتاب کو لکھنے کے لئے ایک سو ساٹھ گدھے کی جلدوں کا استعمال کیا گیا ہے ۔یہ کتاب ۳۶ انچ لمبی ہے ۔ بیس انچ چوڑی ہے ۔اس کی ضخامت آ ٹھ انچ ہے ۔ وزن ۸۵ کلو ہے ۔اس کتاب کو ایک آدمی اکیلے نہیں اٹھا سکتا اسے کم سے کم دو آدمی مل کر اٹھاتے ہیں ۔ اس پوری کتاب کو ایک ہی روشنائی اور ایک ہی لکھاوٹ میں لکھی گئی ہے ۔

اس کتاب کے بارے میں جو سب سے دلچسپ چیز ہے وہ یہ ہے کہ اس کتاب کو ایک رات میں مکمل کیا گیا ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ تین سو دس صفحے کی کتاب ایک رات کیسے لکھی جا سکتی ہے؟

اس کتاب کو لکھنے کے پیچھے جو کہانی ہے وہ یہ ہے کہ تیرہویں صدی میں ایک مونک یعنی سنیاسی ہوا کرتا تھا اور ایک مٹھ میں رہا کرتے تھے ۔کچھ دنوں کے بعد وہ سنسیاسی اپنے مٹھ اور سنیاس کے اصولوں سے انحراف کرنے لگا ۔یہ بات شہر میں پھیلی اور وہاں کے راجہ کے کانوں تک پہنچی ۔اس زمانے میں مٹھ کے اور سنیاس کے اصولوں سے انحراف کرنا ایک بڑاجرم سمجھا جاتا تھا ۔اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے لیا گیا ۔اس سنیاسی کو اس زمانے کے راجہ کے سامنے پیش کیا گیا ۔

یہ چک ریپبلک کی بات ہے اور چیکو سلاویہ کی کہانی ہے ۔ جب یہ مقدمہ راجہ کے سامنے پیش کیا گیا تو راجہ نے بہت سنجیدگی سے ساری بات سنی ۔اس کے بعدجانچ کمیٹی بنائی گئی اور جانچ میں یہ ثابت ہوا کہ اس سنسیاسی نے سنیاس ، دھرم اور مٹھ کے اصولوں کو توڑا ہے ۔اسکی وجہ سے پورا مٹھ اور سنیاسی طبقہ بدنام ہو رہا ہے ۔ راجہ نے اپنا فیصلہ سنایا ۔ سزا یہ تھی کہ سنیاسی کو دیوار میں چنوا دیا جائے یا ایک تابوت میں زندہ دفن کر دیا جائے ۔سزا کے مطابق سنیاسی کا مرنا طئے تھا ۔

اب سنیاسی نے اپنی جان بچانے کے لئے راجہ کے سامنےایک تجویز رکھی کہ اگر اسکی سزا معاف کر دی جائے تو وہ ایک ایسی بے مثال کتاب لکھے گا جو پوری انسانیت کے لئے بیحد مفید ہوگی ۔ وہ کتاب مٹھ کو پوری دنیا میں مشہور کر دے گی ۔سنیاسی نے راجہ سے ایک موقع مانگا ۔اسے ایک زندگی دی جائے تاکہ وہ اپنی غلطی کو سدھار سکے ۔راجہ نے اسکی بات سنی اور ایک شرط رکھی ۔

کہا ٹھیک ہے میں تمہاری یہ بات ماننے کے لئے ماننے کے لئے تیار ہوں مگر اس کتاب کو لکھنے کے لئے صرف ایک رات کی مہلت دی جائے گی ۔ اگر یہ کتاب ایک رات میں مکمل کر دی تو میں صبح تمہاری سزا کو معاف کر دوں گا ۔اور تمہیں زندہ رہ سکتے ہو ۔سنیاسی راجہ کی اس شرط کو مان گیا ۔
کہا ٹھیک ہے میں ایک رات میں اس کتاب کو مکمل کروں گا ۔

اسے واپس قید خانے میں ڈال دیا گیا ۔ اسے لکھنے کے لئےکاغذ روشنائ اور ضرورت کی تمام چیزیں مہیا کرا دی گئیں ۔ سورج ڈھلتے ہی سنیاسی نے کتاب لکھنی شروع کی ۔ لیکن آدھی رات ہوتے ہوتے چند ایک صفحے ہی لکھے جا سکے ۔ اب سنیاسی کو یہ محسوس ہوا کہ یہ نا ممکن ہے کہ صبح تک وہ اپنی اس کتاب کو مکمل کرے۔ اوہ کتاب مکمل نہیں کر پائے گا ۔اسے محسوس ہوا کہ اس کی موت طئے ہے ۔ اسکے سامنے دو ہی راستے تھے اس صبح کا انتظار کرنا جہاں موت طئے تھی یا پھر کتاب مکمل کرنا ۔ مگر اس نے تیسرا راستہ اختیار کیا ۔

اس نے موجود پہرے داروں کو پکارا اور کہا کہ وہ ایک خاص عبادت کرنا چاہتا ہے اسے پوجا پاٹھ کے لیے کچھ ضروری چیزیں چاہیے ۔ سپاہیوں نے تھوڑی ہی دیر میں اسے تمام ضروری چیزیں دے دیں جس کی اس نے مانگ کی تھی ۔

چونکہ وہ ایک بڑا عامل تھا تو وہ ایک خاص پوجا کرنے لگا ۔اس خاص پوجا کے دوران اس نے شیطان کوبلایا ۔ شیطان کے وارد ہوتے ہی اس کے سامنے ایک تجویز رکھی کہ اگر وہ صبح ہونے سے قبل اسکی یہ کتاب مکمل کرا نے میں مدد کر دے تو وہ اپنی روح شیطان کو سونپ دے گا ۔ کہتے ہیں کہ شیطان نے سنیاسی کی اس بات کو قبول کر لیا ۔کہا کہ ٹھیک ہے یہ کتاب میں صبح ہونے سے قبل پوری کروں گا ۔

اس کے بعد سنیاسی آرام سے سو گیا ۔ صبح ہوتی ہے اور سنیاسی جاگتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اس کے سامنے ایک کتاب رکھی ہوئی ہے لیکن جب سنیاسی کے کتاب کا پہلا صفحہ پلٹا تو پہلے ہی صفحے پر شیطان کی تصویر بنی ہوئ تھی ۔اس کے علاوہ سورج اور چاند ، جنت اور دوزخ کی بھی تصویر بنی ہوئ تھی ۔کل ملا کر اس کتاب میں بھلائی اور برائی کے فرق کو دکھایا گیا تھا ۔لیکن یہ کتاب شیطان کی عبادت کرنے کے لائق کتاب تھی ۔یعنی جو بھی اس کتاب کو پڑھے وہ شیطان کو بہتر اور اچھا تسلیم کرے ۔شرط کے مطابق کتاب مکمل ہو چکی تھی اور سنیاسی نے جیسے ہی کتاب کو دیکھا شیطان نے اسکی روح کو اپنے قبضے میں لے لیا اور اسی وقت سنیاسی کی موت ہو گئی ۔

, گدھے کی کھال پہ لکھی گئی دنیا کی پراسرار شیطانی کتاب

صبح شرط کے مطابق راجہ کے سپاہی پہنچتے ہیں ۔وہ دیکھتے ہیں کہ سنیاسی مرا ہوا ہے اور اسکے قریب ایک کتاب رکھی ہوئی ہے ۔لیکن جیسے ہی ان لوگوں نے کتاب کو کھول کر دیکھا ان کا ذہنی توازن بگڑنا شروع ہو گیا ۔اس کتاب کے چرچے اسی دن سے شروع ہو گیے۔

جن لوگوں نے بھی اس کتاب کو پڑھنے کی کوشش کی انہوں نے بیان دیا کہ اس کے الفاط ہوا میں اڑتے ہیں اور شعلوں میں لپٹے ہوئے نظر آتے ہیں ۔کچھ لوگوں کا ذہنی توازن شیطان کی تصویر دیکھتے ہی بگڑنے لگا ۔اس کتاب کو جو کوئی بھی پڑھتا اسکے ساتھ عجیب و غریب حادثے پیش آتے ۔

دھیرے دھیرے وقت بیتا اور اس کتاب کے متعلق تحقیق شروع ہوئی ۔سوال یہ تھا کہ ایک رات میں اسے لکھنا کیسے ممکن ہے ۔ لیکن جو لکھاوٹ تھی اور جو روشنائی استعمال کی گئی تھی وہ ایک ہی تھی ۔یہ طئے تھا کہ اس کتاب کو ایک ہی آدمی نے ایک ہی ہاتھ سے لکھا ہے ۔

تحقیق سے یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ یہ کوئی معمولی کتاب نہیں ہے اور واقعی یہ شیطان کی کتاب ہے ۔اور اسی کے بعد اس کتاب کا نام ڈیولز با ئبل(devil’s bible) پڑا ۔

اس کتاب میں شیطان کی عظمت کو تسلیم کیا گیا ہے اور بہت ساری ایسی باتیں لکھی ہیں جو شیطان کے ماننے والوں کے لئے کار آمد ہیں ۔

یہ کتاب شیطانی راستوں پہ چلنے کے لئے معاون ثابت ہوتی ہے ۔ آج بھی یہ کتاب چیک ریپبلک چیکو سلوواکیہ کے اسٹاک ہوم کی لائ بریری میں بحفاظت رکھی ہوئ ہے ۔ اس کتاب نے کافی سفر کیا ۔ بے شمار ہاتھوں سے گزری ۔لیکن جن جن لوگوں کے پاس یہ پہنچی جس گھر میں یہ کتاب پہنچی جس ہاتھ میں پہنچی انکا ذہنی توازن بگڑ تا گیا ۔اور کچھ نہ کچھ ان کے ساتھ اپ شگون یا برا ہوا ۔

آج سات سو سال ہونے کے بعد بھی اس کتاب کے اسرار پر سے پردہ نہیں اٹھا ہے ۔ تیرہویں صدی سے لے کر آج اکیسویں صدی تک کوئی بھی یہ نہیں بتا پایا کہ یہ کتاب ایک رات میں کیسے لکھی گئی ۔اس کتاب کو لکھنے کے پیچھے مقصد کیا تھا ؟ یہ کتاب کیوں لکھی گئی ؟اس کتاب سے جڑی کہانیوں میں کتنی سچائی ہے اس بات پہ آج بھی بحث ہوتی ہے ۔بہت سارے لوگوں نے بیس بیس سال تک اس پراسرار کتاب پہ ریسرچ کیا ۔ محققوں نے راجہ کی کہانی ، سنیاسی کی کہانی ، گدھے کی کھال ، لکھاوٹ وغیرہ پہ مسلسل ریسرچ کیا اسکی گہرائی میں گئے لیکن سوائے اس بات کے یہ کتاب ایک حقیقت ہے اس کے علاوہ کچھ نہ جان سکے ۔ اس کتاب کو مکمل آج تک کوئی نہیں پڑھ پایا ہے جس نے بھی یہ کوشش کی اس کے ساتھ عجیب و غریب واقعات ہونے لگے ، ذہنی توازن بگڑنے لگا تو لوگوں نے خوفزدہ ہوکر کتاب چھوڑ دی ۔

رفتہ رفتہ اس کتاب کو لوگ منحوس ،پراسرار ،خوفناک کتاب ماننے لگے اور اس سے دور ہونے لگے یہی وجہ ہے کہ لائبریری کے جس حصے میں یہ کتا ب رکھی ہوئی ہے اس حصے میں لوگ جانے سے کتراتے ہیں اور آج بھی اس کتاب کو کوئی پڑھنا نہیں چاہتا ۔1

شیئر کریں
ڈاکٹر زبیر فاروق متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے معروف شاعر ہیں۔ انہوں نے ڈو میڈیکل کالج کراچی سے تعلیم حاصل کی اور اس دوران اردو زبان سیکھی۔ اب تک ڈاکٹر زبیر فاروق کے چالیس سے زائد شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔

کمنٹ کریں