ڈی این اے ایک کہانی

تحریر:اسماعیل خان
بشکریہ سائنس کی دنیا

, ڈی این اے ایک کہانی

ڈی این اے وہ مالیکیولز ہوتے ہے جو کسی بھی حیاتیاتی جسم کے لئے ہدایات رکھتے ہیں۔کہ حیات کو کیسے جینا ہے،ترقی کرنی ہے،یا اپنی نسل کیسے بنانی ہیں۔یہ ہدایات ہر خلیے میں پائی جاتی ہیں۔اور والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہیں۔


ڈی این اے مالیکیولز سے بنا ہوتا ہے جسے نیوکلیوٹائڈ کہتے ہیں۔ہر نیوکلیوٹائڈ فاسفیٹ گروپ،شوگر گروپ،اور نائٹروجن بیس پر مشتمل ہوتا ہے۔نائٹروجن بیس کی چار قسمیں ہیں،ایڈینن،تھیمین،گوانین،سائٹوسین۔ان بیسز(bases) کی ترتیب ہی ڈی این اے میں ہدایات متعین کرتی ہیں۔انسانی ڈی این اے میں تقریباً تین ارب بیسز ہوتی ہیں۔اور یہ بیسز تقریباً نناوے فیصد ہر انسان میں ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔


جس طرح کئی الفاظ(letters) مل کر ایک لفظ(word) بناتے ہیں۔اسی طرح نائٹروجن بیسز کی ترتیب ڈی این اے میں جینز(genes) بناتے ہیں۔جو خلیے کی زبان میں خلیے کو بتاتے ہے کی پروٹین کیسے بنانا ہیں۔آر این اے جینیاتی معلومات کو ڈی این اے سے پروٹین میں ترجمہ کرتا ہے۔


ڈی این اے کی ساخت چکردار سیڑھی کی طرح ہوتی ہیں۔درست اسے ڈبل ہیلیکس(double helix) کی طرح کہا جائے گا۔اگر آپ ڈبل ہیلیکس کو ایک سیڑھی سمجھے تو فاسفیٹ اور شوگر مالیکیولز اس سیڑھی کی دونوں سائڈ ہوںگے۔جب کے بیسز بیچ والی پٹیاں آپس میں جوڑوں میں بندھے ہوتے ہیں۔ایڈینین تھیمین کے ساتھ،گوانین سائٹوسائن کے ساتھ۔


ڈی این اے کے مالیکیولز اتنے بڑے ہوتے ہے کی یہ خلیوں میں فٹ نہیں آسکتے.ڈی این اے خلیے میں جس ساخت میں مضبوطی سے جڑے ہوتے ہیں انہیں کروموسومز کہا جاتا ہیں۔ہر کروموسوم ڈی این اے کے ایک مالیکیول پر مشتمل ہوتا ہیں۔انسان میں کروموسومز کے 23 جوڑے ہوتے ہیں۔جو خلیے کے نیوکلئیس (nucleus) میں پائے جاتے ہیں۔


ڈی این اے کا پہلا مشاہدہ جرمن سائنسدان فریڈرک میشئیر نے کیا تھا۔لیکن عرصہ دراز تک سائنسدانوں کو اس کی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا۔
1953 میں کئی سائنسدانوں نے مل کر معلوم کیا کہ ڈی این اے حیاتیاتی معلومات رکھتا ہیں۔اور انہیں نوبیل انعام بھی دیا گیا اس کھوج پر۔

شیئر کریں

کمنٹ کریں