ڈی این اے ایک حیرت کدہ

تحریر : سہیل افضل

, ڈی این اے ایک حیرت کدہ

آپکا جینوم یعنی کروموسوم اس دنیا پر موجود تقریبا”
۔99% لوگوں سے ملتا ھے۔


ہمارا انسانی ڈی،این، اے سارے ورلڈ کا ڈیٹا ایک کمرے میں سٹور کر سکتا ھے۔


آپکا ایک گرام ڈی،این،اے 21 کروڑ 5 لاکھ گیگا بائٹ ڈیٹا سٹور کرنے کی صلاحیت رکھتا ھے۔


آپکا ڈی، این، اے اتنا لمبا ھے کے 600 بار زمین سے سورج تک کا سفر تہہ کر سکتا ھے۔


ہمارا جسم آپنی پوری زندگی میں تقریبا” ایک نوری سال کے سفر تک کی لمبائی کا ڈی،این، اے بنا سکتا ھے۔ یہ برابر ھے 5۔9 ٹریلن کلومیٹر سفر کے۔


ہمارا انسانی ڈی،این،اے 5۔2 بلین کروموسوم ڈی،این،اے کے جوڑوں سے سے مل کر بنتا ھے۔ انسان کے سارے جینوم کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کے لئیے آپکو 3 گیگا بائٹ سٹوریج ڈیٹا کا کمپیوٹر چاہیے۔۔


ہمارے انسانی جسم کے 23000 جینز صرف 2 سے 3 فیصد جینوم بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں
ہمارا آدھے سے زیادہ جینوم جمپ کرنے والے جینز سے مل کر بنتا ھے یہ جینوم ہمارے جسم میں آگے پیچھے ہوتا رہتا ھے مختلف مقامات پر۔ ان میں سے دو فیصد صرف ایسا ہوتا ھے جو کے پروٹین بنانے کے قابل ہوتا ھے باقی سب بیکار ہوتا ھے۔


نوے فیصد لوگ یہ نہیں جانتے کہ ہمارے جسم میں ایک سیل کو آپنی ڈی این اے کاپی بنانے کے لئے 8 گھنٹے چاہیے ہوتے ہیں۔


ہم لوگ ابھی تک صرف آپنے 20% ڈی این اے کے بارے میں جانتے ہیں باقی 80% کے بارے میں ہمیں کچھ پتہ نہیں اس معاملے میں ابھی ہم مکمل آندھیرے میں ہیں۔


ہمارا تقرئبا 8 فیصد ڈی این اے وائرسز سے ہمیں ملتا ھے


ہمارا چیپمنزی سے یہ ڈی،این،اے 98% فیصد ملتا ھے جبکہ چوہوں سے 95% فیصد ملتا ھے۔
ہمارے انسانی جسم میں 37,000,000,000,000 ٹریلن سیلز ہوتے ہیں اور ان کی 200 قسمیں ہیں ان میں مختلف آن یا آف ہوتے رہتے ہیں ہمارے جسم میں۔


ہمارا ڈی این اے ہمارے بہن بھائیوں سے 50%ملتا ھے جبکہ جڑواں بہن بھائیوں کا یہ 100% ملتا ھے ایک دوسرے سے۔


وہ لوگ جن کی آنکھیں نیلی ہوتی ہیں ان کے بارے میں بھی ریسرچرز نے اس ڈی، این، اے کوڈ کو دریافت کر لیا ھے جو آج سے 10000 سال پہلے میوٹیٹ ہوا تھا ایک ہمارے مشترکہ انسسٹر کے اندر جس میوٹیشن کی وجہ سے اب کچھ لوگوں کی آنکھیں نیلی ہوتی ہیں

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں