ڈی این اے میوٹیشن

ڈاکٹر سید عامر بخاری

, ڈی این اے میوٹیشن

دنیا میں جتنے بھی صحت مند جاندار ہیں جیسا کہ سنگل سیل والے بیکٹیریا، امیبا، پھول، درخت، مچھلیاں اور انسان سب اپنی نسل کو آگے بڑھاتے ہیں اور اپنی ہی کاپیاں یعنی بچے پیدا کرتے ہیں۔ بچے پیدا کرنے کے دوران اصل میں ہم اپنے ہی ڈی این اے کی کاپیاں کرکے اپنی اگلی نسلوں میں منتقل کر دیتے ہیں۔


ہمارے جسم میں ہر سیل کے اندر ایک زنجیر نما کیمیائی مادہ ہوتا ہے، جسے ڈی این اے کہا جاتا ہے، ہر سیل میں موجود ڈی این اے اسے یعنی سیل کو بتاتا ہے کہ وہ کیسے نشوونما کرے یعنی انسانوں سمیت ہر جاندار کے سیل میں ایک آپریٹر ہوتا ہے جو اسے چلاتا ہے، ڈی این اے کے اندر کوڈ کی شکل میں انفارمیشن یا معلومات ہوتی ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ ایک جاندار یعنی ایک انسان کیسے بنے گا، انسانی جسم میں پائی جانے والے DNA میں موجود انفارمیشن گلاب کے پھول کے ڈی این اے کی انفارمیشن سے مختلف ہوتی ہے، اسی وجہ سے انسان گلاب کے پھول سے مختلف نظر آتا ہے اور مختلف انداز میں کام کرتا ہے۔


سنگل سیل والے سادہ جاندار اپنے خول کے اندر ہی اپنے ڈی این اے کی کاپی کرتے ہیں، جیسے ہی دو ڈی این اے بنتے ہیں، وہ خول دو حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے، یوں دو نئے جاندار بن جاتے ہیں، اصولاً دونوں کو ایک دوسرے کی کاپی ہونا چاہئے تھا، مگر فطرت ایسے کام نہیں کرتی، جب ڈی این اے کی کاپی ہوتی ہے، تو زنجیر نما کوڈ میں معلومات کی کاپی کے دوران غلطیاں رونما ہو جاتی ہیں، یعنی کچھ کوڈ والی معلومات آگے پیچھے ہو جاتی ہیں، جسے بیالوجی میں ڈی این اے میوٹیشن کہا جاتا ہے، یہ ڈی این اے میوٹیشن حادثاتی طور پر ہوتی ہے اور بے ترتیب ہوتی ہے، ڈی این اے میں اسی بے ترتیب حادثاتی غلطیوں کی وجہ سے جو نیا ڈی این اے بنتا ہے، وہ اپنے پہلے والے ڈی این اے سے ذرا مختلف ہوتا ہے، اس لئے نیا بننے والا جاندار اپنے بنانے والے جاندار سے تھوڑا مختلف نکلتا ہے، مگر مشابہ ضرور ہوتا ہے یعنی اگر کاپی کرنے سے پہلے والا سیل گول ہے، تو میوٹیشن کاپی کے بعد نیا بننے والا ڈی این اے سیل گول تو ہوگا، مگر ساتھ تھوڑا سا چپٹا ہوگا، یوں ڈی این اے میں ذرا سی تبدیلی نئے بننے والے جاندار کی ساخت میں نیا پن لاتی ہے۔


جانوروں، مچھلیوں اور انسانوں میں نئی نسلیں بنانے کا کام سنگل سیل والے جاندار سے کچھ مختلف ہوتا ہے، ہم لوگوں کو نئی نسل پیدا کرنے کے لئے ایک پارٹنر ڈھونڈنا ہوتا ہے، مثال کے طور پر اگر ایک بلی اور بلے نے ایک دوسرے کو پسند کر لیا، تو وہ نئے بچے پیدا کرنے کے لئے ملاپ کرتے ہیں، ملاپ کے دوران بلا اپنے ڈی این اے کا آدھا حصہ بلی کو اسپرم کی شکل میں منتقل کر دیتا ہے، ڈی این اے کا بقیہ آدھا حصہ بلی اپنی اسپرم سے پورا کرتی ہے، یوں بلی اور بلا اپنے ڈی این اے کو مکس کرکے اپنا اپنا ڈی این اے نئے آنے والے بچے کو منتقل کر دیتے ہیں، یوں بلی کے بچوں میں اپنی ماں اور باپ دونوں کی خصوصیات شامل ہو جاتی ہیں، یہی کام انسانوں میں بھی ہوتا ہے، اسی لئے انسانی بچوں کے نین نقش اپنے ماں باپ سے ملتے ہیں اور مختلف بھی ہوتے ہیں، یعنی ماں اور باپ اپنی خصوصیات اپنے بچوں میں منتقل کرتے ہیں، جس میں بیماریاں بھی ہوتی ہیں اور لمبے قد، نیلی آنکھیں، سنہرے بال وغیرہ وغیرہ جیسی صفات بھی پائی جاتی ہیں ۔


ڈی این اے میوٹیشن کی وجہ سے نیا پیدا ہونے والا بچہ بہت ساری نئی خصوصیات اپنے طور پر بھی لاتا ہے، جو ان کے والدین میں موجود نہیں ہوتیں یوں اس وراثت پذیر خصلتوں کو نئی نسلوں میں تبدیلی کے عمل کو ارتقا کہا جاتا ہے، جو کہ ہر روز ہمارے آس پاس ہوتا ہے، اگر ہم آج کے دور سے کچھ ہزار سال پیچھے چلے جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ موجودہ نسل کے مختلف اقسام کے خوبصورت کتے اصل میں بھیڑیوں کی نسل سے ہیں، جنہیں انسانوں نے افزائش نسل کے لئے چن چن کر آگے بڑھایا پرانے لوگوں نے حفاظت کے لئے بھیڑیوں کو پالا ان کے ہونے والے بچوں کو اپنی ضروریات کے حساب سے تقسیم کیا اور ان کی نسل مختلف ہوتی گئی، یوں انسانی مداخلت سے بھیڑیوں کے ارتقا سے کتوں کا وجود رونما ہوا ۔


آج ہم کتوں کی مختلف اقسام دیکھتے ہیں جیسے چھوٹے کتے، موٹے کتے، لمبے کتے، تیز دوڑنے والے کتے، بالوں والے کتے،کم بالوں والے کتے درحقیقت یہ تمام کتے ماضی میں بھیڑیوں کی ایک ہی قسم سے افزائش کئے گئے ہیں، مگر اس میں کس نسل کو آگے بڑھانا ہے اور کسے نہیں بڑھانا یہ کام انسانوں نے خود کیا اسی طرح ایک خاص قسم کی گھاس کو مختلف عوامل سے گزار کر مکئی کو پیدا کیا گیا، بالکل اسی طرح کیلے کو پیدا کیا گیا سندھ کے آم کے پھل کو انسانی مداخلت نے ایک نیا روپ دے دیا، جسے ہم قلمی یا سندھڑی آم کہتے ہیں۔
جینیٹکس، جیالوجی، بیالوجی اور میتھیمیٹکس سمیت تمام جدید سائنس نے یہ دریافت کیا کہ جس طرح تمام کتے اصل میں بھیڑیوں کی ایک خاص نسل سے ہیں، اس طرح تمام جاندار بشمول انسان، جانور، مچھلیاں، پرندے پھول اور درخت وغیرہ بھی اصل میں ایک ہی نسل سے نکلے ہیں، اس دنیا میں جو بھی جاندار چیز ہے، اس کی اصل شروعات ایک ہی جگہ سے ہوئی کروڑوں کھربوں سال کے ارتقا اور ڈی این اے میوٹیشن کی وجہ سے نئی نسلیں اور نئے اقسام بنتے گئے، ہمیں ابھی تک یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ اس زمین پر زندگی کا پہلا بیج کس طرح آیا، مگر اتنا پتہ تو چل چکا کہ جیسے ہی زندگی وجود میں آئی باقی سب اس سے وجود میں آ گیا یعنی انسان ہو یا جانور،چرند پرند ہو یا نباتات سب شروع میں ایک ہی جاندار سے نکلے ہیں۔


یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کتوں کی مختلف اقسام کو پیدا کرنے میں انسانی ہاتھ ہے، جو ارتقا کو کنٹرول کر رہا تھا تو کیا خود انسان یا دیگر جانوروں کی افزائش کو کنٹرول کرنے والا بھی کوئی تھا؟
یعنی ایک خوفناک بھیڑیئے کو ایک خوبصورت پپی میں بدلنے والا اور ارتقائی عمل کی نگہبانی کرنے والا انسان تھا، تو خود ایک جاندار سے انسان کو وجود میں لانے والا کون تھا؟
“ارتقا بذات خود ایک بے ترتیب اور خودکار عمل ہے، انیسویں صدی میں چارلس ڈارون اور الفریڈ رسل والس نے جداگانہ طور پر سب سے پہلے یہ بات دریافت کی کہ ارتقا کے عمل کو کسی نگہبان کی ضرورت نہیں ہوتی، مگر ایک اور طاقتور فطری عمل موجود ہے جو ارتقا کو کنٹرول کرتا ہے، اس طاقتور خود مختار فطری عمل کو نیچرل سلیکشن کہتے ہیں۔ چارلس ڈارون نے اصل میں اسی نیچرل سلیکشن کے عمل کو دریافت کیا تھا۔”

ڈی این اے میوٹیشن DNA Mutation کے بارے مزید جاننے کے لیے کلک کریں۔

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں