ڈوبنے پر شاعری

ڈوبنے پر شاعری

عشق کی گہرائیوں میں، یا کسی کی آنکھوں کے سمندر میں ڈوبنے کے متعلق بہترین اردو شاعری پڑھیے۔

جانے کتنے ڈوبنے والے ساحل پر بھی ڈوب گئے
پیارے! طوفانوں میں رہ کر اتنا بھی گھبرانا کیا
خلیق صدیقی

اس کی آنکھیں ہیں کہ اک ڈوبنے والا انساں
دوسرے ڈوبنے والے کو پکارے جیسے
عرفان صدیقی

تماشا دیکھ رہے تھے جو ڈوبنے کا مرے
مری تلاش میں نکلے ہیں کشتیاں لے کر
نامعلوم

جہاں تک ڈوبنے کا ڈر ہے تم کو
چلو ہم ساتھ چلتے ہیں وہاں تک
عین عرفان

ساحل کے تماشائی ہر ڈوبنے والے پر
افسوس تو کرتے ہیں امداد نہیں کرتے
فنا نظامی کانپوری


ڈوبنے والے کو ساحل سے صدائیں مت دو
وہ تو ڈوبے گا مگر ڈوبنا مشکل ہوگا
اصغر مہدی ہوش

بڑے سکون سے ڈوبے تھے ڈوبنے والے
جو ساحلوں پہ کھڑے تھے بہت پکارے بھی
امجد اسلام امجد

ناخدا ڈوبنے والوں کی طرف مڑ کے نہ دیکھ
نہ کریں گے نہ کناروں کی تمنا کی ہے
سالک لکھنوی

افق پر ڈوبنے والا ستارا
کئی امکان روشن کر گیا ہے
خاور اعجاز

خدا کو نہ تکلیف دے ڈوبنے میں
کسی ناخدا کے سہارے چلا چل
حفیظ جالندھری


ڈوبنے والے موج طوفاں سے
جانے کیا بات کرتے جاتے ہیں
مہیش چندر نقش

پکارتا رہا کس کس کو ڈوبنے والا
خدا تھے اتنے مگر کوئی آڑے آ نہ گیا
یگانہ چنگیزی

ڈوبنے کی نہ تیرنے کی خبر
عشق دریا میں بس اتر دیکھوں
عاصمہ طاہر

ہمارے ڈوبنے کے بعد ابھریں گے نئے تارے
جبین دہر پر چھٹکے گی افشاں ہم نہیں ہوں گے
عبد المجید سالک

جانے کتنے ڈوبنے والے ساحل پر بھی ڈوب گئے
پیارے! طوفانوں میں رہ کر اتنا بھی گھبرانا کیا
خلیق صدیقی


ڈوبنے والا تھا دن شام تھی ہونے والی
یوں لگا مری کوئی چیز تھی کھونے والی
جاوید شاہین

لگتا ہے اتنا وقت مرے ڈوبنے میں کیوں
اندازہ مجھ کو خواب کی گہرائی سے ہوا
ظفر اقبال

ڈبو رہا ہے مجھے ڈوبنے کا خوف اب تک
بھنور کے بیچ ہوں دریا کے پار ہوتے ہوئے
افضل خان

تلاطم کا احسان کیوں ہم اٹھائیں
ہمیں ڈوبنے کو کنارا بہت ہے
ساحر بھوپالی

یہ جب ہے کہ اک خواب سے رشتہ ہے ہمارا
دن ڈھلتے ہی دل ڈوبنے لگتا ہے ہمارا
شہریار

وہ بستی ناخداؤں کی تھی لیکن
ملے کچھ ڈوبنے والے وہاں بھی
شارق کیفی


شیئر کریں
صدف اقبال بہار، انڈیا سے تعلق رکھنے والی معروف شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔

کمنٹ کریں