دودھ کی قیمت

افسانہ نگار : محمد قمر سلیم

, دودھ کی قیمت

آج ان کے فاقے کا تیسرا دن تھا۔رگھو صبح اٹھا تو ناشتے میں صرف پانی تھا۔ پانی بھی کئی روز کا جمع کیا ہوا۔ اس نے پیٹ بھر کے پانی پیا اور آج پھر اپنی قسمت آزمانے نکل پڑا۔وہ جھگی سے نکل ہی رہا تھا کہ اس کی عورت دلاری اپنی دو مہینے کی بیٹی چُنیا کو لیے اس کے پیچھے پیچھے آئی۔چُنیا اس کے سینے کو زور زور سے چوس رہی تھی شایددودھ کا خزانہ بھی ختم ہو چکا تھا۔ دلاری نے حسرت بھری نگاہ سے ایک بارچُنیا کو دیکھا پھر آنکھوں میں آنسو لیے رگھو کو دیکھنے لگی اور مانو کہہ رہی ہو، ـ’ دیکھو آج کھالی ہاتھ مت آنا، آج ٹُنیا کو بھی ڈاکٹر صاحب کے پاس لیکر جانا ہے۔ تین دن سے بکھار نہیں اترا ہے‘۔ ٹُنیا ان کی ڈیڑھ سال کی بیٹی کا نام تھا۔رگھو کی نظریں بھی دلاری سے ملیں لیکن وہ اس سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا، ملا تا بھی کیسے تقریباً تین مہینے سے تو بیکا ر ہی بیٹھا تھا۔جب سے نوٹ بندی ہوئی تھی اس کے کھانے پینے کے لالے پڑ گئے تھے۔کام ملنا بند ہو گیا تھا ۔ اگر کبھی کہیں کام ملنے کی امید بھی ہوتی تو پہلے سوال کیا جاتا بینک کھاتا ہے۔ اب غریب آدمی کھاتا کھولنے کے لیے پیسے لائے یا ان سے اپنے گھر کا چولہا چوکا چلائے۔کبھی کبھی ہفتہ دس دن میں کوئی مزدوری مل جاتی توگھر کا کھانا بن جاتا۔ دلاری بھی گھر گھر جھاڑو پونچھا اور برتن مانجھنے کا کام کرتی تھی ۔نوٹ بندی سے پہلے دونوں کام کرتے تھے تو گذارا ہو جاتاتھا۔کیوں کہ دلاری امید سے تھی ڈاکٹر نے اسے کام کرنے سے منع کر دیا تھا ۔ وہ بھی تین مہینے سے کام پر نہیں جا رہی تھی۔ ان لوگو ں نے جو کچھ بھی پیسہ جمع کیا تھا وہ چُنیا کی ولادت میں ختم ہو گیا تھا، جو کچھ بچا تھا اس سے گھر چل رہا تھا لیکن ادھر تین دن سے تو گھر میں چولہا بھی نہیں جلاتھا۔کل رات ایک باسی روٹی بچی تھی، دلاری نے وہ اپنے مرد کو کھلا دی تھی۔ جب رگھو نے اس سے کھانے کو کہا تو اس نے کہا وہ کھا چکی ہے۔ٹُنیا کے منھ میں تو ایک دانا بھی نہیں جا رہا تھا۔ ادھر چُنیا تھی کہ اپنی ماں کے سینے سے لگی ہوئی تھی، اس کے سینے کو اتنے زور زور سے چوس رہی تھی کہ دلاری درد کی شدت سے چیخ پڑتی تھی۔


رگھو کام پر نکل گیا تھا۔ چند قدم ہی آگے بڑھا ہوگا کہ کچھ یاد آیا اور لوٹ پڑا ۔اس نے اپنی عورت کو آواز دی۔دلاری باہر آئی تو اس نے کہا، ’ ارے سن! مَجِد سے پانی لیکر ایّو، اور ہاں، ٹُنیا کو جرور پلیّو‘ تھو ڑا رک کر وہ پھر بولا ، ’ایسا کریو ، اس کا منھ بھی مَجِد کے پانی سے پوچھیو۔ارے بلکہ تو ایسا کریو ، کپڑن کو گیلو کرکے اس کے پورے سَریر کو پونچھیو۔ مَجِد کے پانی سے اس کا تاپ اتر جائے گا۔‘ دلاری خاموش کھڑی سنتی رہی اور جواب میں صرف ’ ہَو ‘ کہا۔سوچنے لگی ٹُنیا کا پپّا بھی ٹُنیاکے لیے کتنا پریشان ہے ۔وہ اندر آئی اور فرش پر بیٹھ گئی۔ ٹکٹکی باندھے ٹُنیا کو دیکھے جارہی تھی۔ کب ٹُنیا کی آنکھ لگے اور وہ مسجد جائے اور سبیل سے پانی لیکر آئے۔ اس نے اپنا ہاتھ ٹُنیا کے ماتھے پر رکھا۔اس کا ماتھا جل رہا تھا۔دلاری نے چُنیا کو زمین پے ڈالا اور کپڑے کو بھگو کر لائی اور ٹُنیا کے ماتھے پر رکھ دیا۔تھوڑی دیر میں ٹُنیا کی آنکھ لگ گئی۔دلاری نے ایک پھٹی ہوئی چادر کو اپنے کندھے سے گھما کر گلے میں باندھ لی اور اس میں چُنیا کو ڈال دیا اور دو بوتلیں لیکر پانی لینے مسجد چلی گئی ۔مسجد جاکر اس نے سبیل سے بوتلیں بھریں۔مسجد سے نمازی نکل رہے تھے وہ چُنیا کو مسجد کے دروازے پر لیکر گئی اور چُنیا کو آگے بڑھا دیا، نمازی نکلتے رہے اور اس کے اوپر پھونکتے ہوئے جاتے رہے۔ دلاری نے ایک آہ بھری اور دل ہی دل میں اپنے آپ کو کوستی رہی کہ وہ ٹُنیا کو کاہے نہیں لائی اس پے بھی پھونک پڑ جاتی پھر خود ہی اپنے آپ کو تسلی دینے لگی ، ارے مَجِد کا پانی لیکر جا تو رہی ہوں۔ وہ پانی لیکر کچھ آگے بڑھی تو دیکھا بہت سے فقیر کھڑے ہیں اور ہاتھ بڑھا بڑھا کر بھیک مانگ رہے ہیں۔اس نے سوچا پیسے تو میرے پاس بھی نہیں ہیں، پھر پتہ نہیں اس کے مرد کو آج بھی کام ملے گا یا نہیں۔ ٹُنیا کو بھی ڈاکٹر کو دکھانا ہے تو میں بھی کچھ بھیک مانگ لوں


لیکن اس کی غیرت نے یہ گوارا نہیں کیا کیوں کہ اب تک تو اس نے اور اس کے مرد نے محنت کرکے ہی اپنا پیٹ پالا ہے۔ نہیں وہ ایسا کام نہیں کرے گی۔ اس کا آدمی تو لجّا کے مارے مر جائے گا۔ نہیں وہ وشواس گھات نہیں کرے گی اور وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتی ہوئی اپنی جھگی پر آگئی۔


ادھر رگھو آج جلدی ہی چوک پر آگیا اور خوب دعائیں مانگ رہا تھا، ’ ہے بھگوان میری بٹیا کی کھاتر مجھے کام
دے دے۔‘ تبھی ایک آواز اس کے کان میں گونجی، ارے تم کام کروگے۔ اس نے کہا ہاں صاب ہاں صاب! ‘ ’مگر میں تمہیں ڈیڑھ سو روپے دوں گا‘ دراصل کم سے کم مزدوری ڈھائی سو روپے تھی ۔رگھو کو وہ آدمی آج اگر پچاس روپے بھی دیتا تو رگھو منع نہیں کرتا اسے تو ہر حال میں پیسے چاہیے تھے۔وہ اس آدمی کے سا تھ کام پر چلا گیا۔ حالانکہ اس کی حالت بہت خراب تھی پیٹ میں ایک دانا نہیں گیا تھا ۔ بھوکا پیاسا وہ کام کرتا رہا اس دھن میں کہ اسے ٹُنیاکو ڈاکٹر کو دکھانا ہے۔ پانچ بج چکے تھے۔اس کا کام ختم ہو چکا تھا۔ مالک نے اسے
ڈیڑھ سو روپے دیے۔وہ ان روپوں کو ایسے دیکھ رہا تھا جیسے اس نے آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھے ہوں۔اس نے وہ روپے اپنی قمیص کی جیب میں رکھ لیے۔آج وہ بہت خوش تھا۔ آج بہت دن بعد اسے پیسے دیکھنے کو ملے تھے۔اس کا بھوک سے بھی برا حال ہو رہا تھا اور چکّر بھی آ رہے تھے۔ اس نے سوچا کچھ کھا لوں گھر پہنچتے پہنچتے تو بہت دیر ہو جائے گی۔ سڑک کنارے ایک وڑا پائو والا تھا۔ اس نے دو وڑا پائو کھائے اور دو دلاری کے لیے بھی لے لیے۔اس کے پاس اب ایک سو چالیس روپے تھے اس نے بہت سنبھال کر ان روپوں کو جیب میں رکھا اور تیزی سے گھر کی طرف بڑھنے لگا۔تبھی ایک کار اس کے پاس سے گذری اور آگے جاکر ایک ۹ـ۔۱۰ سال کے بچے کو مارتی ہوئی نکل گئی۔بچہ زمین پر گر پڑا، لوگ اس کی طرف بھاگے اور چے مہ گوئیاں شروع ہوگئیں ۔ بھگوان کا شکر بچہ بچ گیا۔ اچھا ہوا زیادہ چوٹ نہیں لگی۔ ہائے ہائے نہ جانے کس کا بچہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ ہر کوئی آتا اور بچے کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتا۔ رگھو بھی بھاگ کر ادھر آیا، اس کو بھی بہت دکھ ہوا ۔ تھوڑی دیر بعد وہ بھی آگے بڑھ گیا لیکن نہ جانے کیوں وہ واپس اس بچے کے پاس لوٹ آیا۔ اس نے بچے سے کچھ پوچھا اور اندر گلی میں کلینک میں لے گیا۔ ڈاکٹر نے اس سے کہا ، ’ زیادہ چوٹ نہیں آئی ہے، میں نے پٹی کر دی ہے اور انجکشن بھی دے دیا ہے، تم باہر سے دوائی لے لو، بچہ دو دن میں ٹھیک ہو جائے گا۔‘ رگھو نے کمپونڈر سے دوائی لی اور بچے کو دینے لگا اتنے میں کمپونڈر نے رگھو سے دوائی کے سو روپے مانگے۔ رگھو کے پیروں تلے زمین نکل گئی ۔ وہ دل ہی دل میںکہنے لگا، ’ ہے بھگوان ! سو روپے کہاں سے دوں، ابھی تو ٹنیا کو دکھانا ہے، پتہ نہیں اس کا کیا حال ہوگا۔ ‘وہ سوچ کرکانپ گیا۔ اس نے کمپونڈر سے کہا ، ’ کمپونڈر بابو ، یہ میرا بٹوا نہیں ہے۔ ‘ اس نے ایک سانس میں ساری روداد سنا دی۔ کمپونڈر نے کہا ، ’اے اے چل پیسے نکال۔ سب ایسے ہی کہتے ہیں۔ ‘ رگھو کہتا رہا میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ کمپونڈر نے اس کو پکڑ لیا اور وہ اس سے اپنے آپ کو چھڑانے کی جدو جہد کرنے لگا۔جب ہنگامہ زیادہ بڑھا تو ڈاکٹر نے اندر سے آواز دی، ’کیا ہوا!‘ کمپونڈر نے پوری بات ڈاکٹر کو بتا دی۔ ڈاکٹر نے کہا، ’ارے یہ کوئی خیراتی اسپتال تھوڑی ہے۔ کہاں کہاں سے چلے آتے ہیں۔او بھائی پیسہ دے دے۔‘ رگھو بار بار اپنی قمیص کی جیب کو جکڑے جا رہا تھا۔ جب کچھ نہیں بن پڑا تو کمپونڈر نے اس کی قمیص کی جیب سے سو کا نوٹ نکال لیا۔رگھو کی تو جان نکل گئی ، وہ ڈاکٹر کے پیروں پرگر پڑا ، بہت گڑ گڑایا مگر سب بے سود۔


ادھر دلاری نے مسجد سے آتے ہی چُنیا کو زمین پے ڈالا اور مسجد کے پانی سے ٹُنیا کا چہرہ صاف کرنے لگی۔ٹُنیا کا بدن بالکل ٹھنڈا پڑا تھا۔اب وہ کٹوری میں پانی لیکر ٹُنیا کو پلانے لگی۔ٹُنیا نے پانی منھ سے نکال دیا۔ اس نے پھر کوشش کی لیکن اس بار بھی اس نے پانی نہیں پیا بلکہ اس کے منھ سے جھاگ نکل رہے تھے۔ دلاری نے اسے تھپتھپایا اور چلّانے لگی، ’ ٹُنیا او ٹُنیا! میرے لال اٹھ ۔لے پانی پی لے میرے بٹوا۔‘ لیکن ٹُنیا کو نہ اٹھنا تھا اور نہ ہی وہ اٹھی۔دلاری دہاڑے مار مار کر رونے لگی۔اس کی آواز سن کر گلی کے سب لوگ اکٹھے ہو گئے۔ اب وہ رگھو کا انتظار کر رہے تھے۔


رگھو نےچالیس روپوں کو بہت بری طرح دبوچ رکھا تھا۔روہانسو ہوکر دھیمے دھیمے گھر کی طرف بڑھنے لگا۔اب وہ ٹُنیا کی دوائی کیسے لائے گا۔کھانا کیسے بنے گا۔سوچتا ہوا گلی میں پہنچا۔ اس نے دیکھا اس کی جھگی کے آگے لوگ جمع ہیں۔اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ وہ جلدی سے اپنی جھگی میں گھسا ۔ اندر گھستے ہی اس کے ہاتھ سے وڑا پائو کا وہ پیکٹ گر گیا جو وہ دلاری کے لیے لیکر آیا تھا۔ دلاری ٹُنیا کو اپنی گود میں لیے بت بنی بیٹھی ہوئی تھی اور چُنیا اس کے سینے سے چمٹی ہوئی تھی ۔وہ ٹُنیا کو دیوانہ وار چومنے لگا ۔اس نے اسے اٹھا کر اپنے گلے سے لگا لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔اس کے پڑوسی نے ٹُنیا کو اس کی گودسے لے لیا۔


دلاری نے رگھو کو ایک پرانی پھٹی ہوئی چادر دی۔رگھو نے ٹُنیا کو اس میں لپیٹا اور گلی کے کچھ لوگوں کے ساتھ اسے شمشان گھاٹ لیکر چلا گیا۔ وہاں اس نے ٹُنیا کو دفنا دیا ۔ گھر آکر وہ سر پکڑ کر زمین پر بیٹھ گیا۔ تبھی گلی میں شور مچنے لگا ۔اپنے
کارپوریٹر صاحب نے رگھو کی بٹیا کے مرنے پر کھانا بھیجا ہے۔کارپوریٹر کے لوگ دو بڑے بڑے پتیلوں میں کھچڑی لیکر آئے تھے اور رگھو کی جھگی کے سامنے دونوں پتیلے رکھ دیے۔انھوں نے گلی کے سب لوگوں کو بلایا ۔ ’ آئو بھئی سب لوگ کھانا کھا لو۔‘ پھر انھوں نے اندر آکر رگھو سے کہا، ’ رگھو ! تو کھانا کھانے لے اور اپنی عورت کو بھی کھلا دے۔‘ رگھو اور دلاری بڑی مشکل سے کھانا کھانے کے لیے تیار ہوئے لیکن جب کھانے بیٹھے تو ایسے جیسے برسوں کے فاقہ زدہ ہوں۔وہ ایک بار کھانا کھانے جو بیٹھے تو کھانا ختم کر کے ہی سر اوپر اٹھایا دونوں پسینے میں شرابور تھے۔ اتنے میں محلے کے کارپوریٹر صاحب بھی رگھو کی جھوپڑی میں گھسے۔رگھو انھیں دیکھ کرسکتے میں آگیا ۔ ارے یہ تو وہی ڈاکٹر صاحب ہیں جنھوں نے اس سے آج ہی علاج کے سو روپے لیے تھے۔ وہ سہم کر کھڑا ہو گیا اور ہاتھ جوڑ لیے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا ، ’ ارے بھئی رگھو، تونے ہمیں نہیں بتایا کہ تیری بٹیا اتنی بیمار ہے۔ ہم تو تم لوگوں کی سیوا کے لیے ہی بیٹھے ہیں۔ یہ تو تونے بہت غلط کیا، ہم تو تیری بچی کا مفت علاج کرتے تو اسے لیکر تو آتا۔‘ دلاری وہیں کھڑی تھی۔اس نے ایک نظر دلاری کو دیکھا اور رگھو سے پوچھا، ’ یہ تیری لگائی ہے۔‘ رگھو نے اثبات میں سر ہلایا۔ ڈاکٹر نے جیب سے پانچ سو روپے نکال کر دلاری کو دیے ۔ ’لے رکھ لے کام آئیں گے اور اگر کوئی بھی ضرورت پڑے توڈریو مت، کلینک آ جانا۔‘
کارپوریٹر صاحب چلے گئے ۔آہستہ آہستہ سب لوگ چلے گئے۔رگھو اور دلاری زمین پر بیٹھے تھے۔ رگھو سوچ رہا تھا چلو ٹُنیا بٹیا تو چلی گئی مگر کچھ دن کے کھانے کا انتظام تو کر گئی۔ادھر چُنیا بڑے مزے میں دلاری کے سینے سے لپٹی دودھ کی چسکیاں لے رہی تھی۔ دلاری سوچ رہی تھی میرے جگر کا ٹکڑا چلا گیا مگر اپنی بہن کے دودھ کا انتظام کر گئی ۔اب چُنیا کو کچھ دن تک تو پانی جیسا دودھ نہیں پینا پڑے گا۔ بہت بڑ ی قیمت چکائی ہے اس نے دودھ کی۔

شیئر کریں

کمنٹ کریں