دودھ پلانے والے جاندار دیوہیکل ڈائناسورس کی طرح بڑے کیوں نہیں؟

تحریر : مال نور ملک

, دودھ پلانے والے جاندار دیوہیکل ڈائناسورس کی طرح بڑے کیوں نہیں؟

ڈانوسارز کی تاریخ پر اگر نظر دوڑای جاے تو ہمیں یہ معلوم پڑتا ہے کہ ان میں کچھ بہت ہی دیوہیکل تھے۔ اب تصور کیجیے کہ اسی سائز کے جانور آپ کے ارد گرد گھوم رہے ہوں۔
ایک دو میٹر کا ممالیہ ہونے کے ناطے میں یہ سوچتا ہوں کہ ایک ایسی دنیا جہاں پر پانچ منزلہ سٹوری کے برابر جانور میرے ارد گرد گھوم رہے ہوں تو ایسا دیکھ کر کیسا لگے گا۔ اور ہاں یہ جاندر Jurassic اور Triassic Period کے درمیان پاے جاتے تھے۔جب دیگر جاندار صرف چوہوں کے سائز کے ہتے تھے۔ اس دور کے تین ڈانوسارز جن میں Spursaurs,Sauropeseidon and Argentinosaurs زمین پر زلزلہ برپا کیے ہوئے تھے۔


ایسی کیا وجہ ہے کہ ممالیہ جاندار کبھی بھی اس سائز تک بڑے نہیں ہو پائے ۔ ہمارے ٓآج کے دور میں بلاشبہ سب سے بڑا جاندار ویل مچھلی ہے۔
اس کی لمبائی لگ بھگ تیس میٹر اور وزن140ٹن تک ہو سکتا ہے۔ یہ ماضی میں پاے جانے والے دنیا کے سب سے بڑے ڈائنوساز سے بھی دو گنا بڑی ہے۔
مگر بائیومیکینک کے اصول پانی میں زمین کے مقابلے میں قدرے مختلف ہیں یہی وجہ ہے کہ پانی میں بہت سے حیرت انگیز عمل دیکھنے میں آتے ہیں،جس کی وجہ سے سمندر میں پائی جانے والی مخلوقات کا سائز کافی بڑا ہو سکتا ہے جو زمین پر ممکن نہیں۔
تاہم جب بات آتی ہے دنیا میں پائے جانے والے بڑے جانوروں کی تو ممالیہ جاندار ڈانوسارز کے مقابلے میں دور دور تک نہیں آتے۔


تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اب تک کا پاے جانے والا سب سے بڑا میمل ایک HORN LESS گینڈا تھا،جی ہاں ایک ایسا گینڈا جس کے سینگ نہیں ہوتے تھے۔ جب یہ کھڑا ہوتا تھا تو اس کا سائز ۵ میٹر تک جا پہنچتا تھا۔اور اس کا وزن ۱۵ تک تھا۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اب اس کی نسل دنیا سے معدوم ہو چکی ہے۔ ایسا کیا ہے جس کی وجہ سے ممالیہ اور ڈانوسارز کے سائز میں اس قدر فرق دیکھنے میں آتا ہے۔ س کا تعلق اس بات سے بھی ہے کہ وہ کیسے ریپروڈیوس کرتے تھے،یعنی اپنی نسل کو کیسے ٓگے بڑھاتے تھے۔
ماضی میں پاے جانے والا دنیا کا سب سے بڑا ممالیہ جس کا نام
PARACERATHERIUM تھا۔ایک


PLACENTAL ممالیہ تھا۔یعنی ایک ایسا جاندار جو اپنے بچوں کو اپنے پیٹ میں جنم دیتے ہیں۔ اگر ماضی کا یہ بڑا جاندار ٓآج بھی زندہ ہوتا تو اس کے بچہ پیدا کرے کے عمل کا دورانیہ بہت طویل ہوتا۔بڑے جاندار جن میں ہاتھی گینڈا اور زرافہ پاے جاتے ہیں عام طور پر ایک وقت میں ایک ہی بچہ پیدا کرتے ہیں۔اور ان کے حمل کا دورانیہ بھی دوسرے جانوروں کے مقابلے میں کافی طویل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک مادہ ہاتھی اپنے بچے کو اپنے پیٹ میں تقریبا دو سال سے زاید عرصے تک رکھ سکتی ہے۔
اب اگر ہم ڈائنوسارز کی بات کرئں تو سب سے پہلی بات تو یہ کہ انہیں اپنے بچوں کو پیٹ میں لے کر نہیں گھومنا پڑتا۔کیوں کہ تمام ڈانیوسارز انڈے دیتے ہیں۔ آپ یقین نہیں کرئیں گے مگر ماضی میں پاے جانے والے سب سے بڑے دائنوسار کے انڈے کا سائز بھی زیادہ سے زیادہ ایک فٹ بال جتنا ہوتا تھا۔


آخر سائز کا اس بات سے کیا تعلق ہے؟
تو ٓآئیے دیکھتے ہیں۔
بڑے ممالیہ جاندار بڑے بچے پیدا کرتے ہیں،جس میں بچہ پیدا کے لیے بہت زیادہ مقدار میں وقت اور نوانائی چاہیے ہوتی ہے۔
مگر ڈانوسارز نے مکمل طور پر اس مسئلے پر قابو پا لیا۔بجاے بڑے بچے پیدا کرنے کے وہ نسبتا چھوٹے انڈے دیتے تھے۔جس میں سے ایک چھوٹے بچے کی پیدایش ہوتی تھی۔ ریپروڈکشن کے ایسا عمل جو کہ ماں کے جسم سے باہر ہوتا تھا اس سائز کی لمٹ کو ختم کر دیا جو ممالیہ جانوروں میں دوران حمل پائی جاتی ہے۔
ڈاموسارز کے پاس ایک اور ارتقایی ایڈوانٹج تھا،وہ یہ کہ ان کے جسم کے ڈانچے میں ایک خاص قسم کا فیچر پایا جاتا تھا جو کہ میملز میں موجود نہیں ہوتا۔
ہوا کی نالی AIR SACS
کا ایک پیچیدہ سسٹم۔ یہ AIR SACS
بہت ہی سافٹ ٹشوز سے مل کر بنے ہوتے تھے اور پھیپڑوں سے منسلق تھے۔ان کو BILOGICAL غبارے بھی کہا جاتا ہے۔
ان میں کچھ SACS جسم کی یعنی CAVIT کِسی ٹھوس جِسم کے اندر کوئی خالی جگہ میں پایا جاتا ہے،عموما گرد،کمر یا کولہوں کے پاس اور کچھ AIR SACS ہڈیوں کے اندر بھی موجود ہوتے تھے۔


ان AIR SACS نے ڈانیوسارز کی ہڈیوں کی ساخت کی تشکل کرنےمیں مدد کی اور اس کی وجہ سے دائنوسارز کی ہڈیوں کا وزن بھی زیادہ نہیں تھا اور انہوں نے اپنی مضبوطی کو بھی نہیں کھویا تھا۔ہم یہ کیسے جانتے ہیں کہ ماضی میں ڈائوساز
AIR SACS رکھتے تھے۔وہ کہ ہمارے ارد گرد موجود دیگر ڈانوسارز جو معدوم نہیں ہوئے ان کے اندر بھی ایسا ہی نظام موجود ہے۔پرندوں کے اندر ھھی ایسا ہی نظام موجود ہے،جس سے ہوا ان کے پھیپڑوں میں داخل ہوتی ہے اور دوسرا یہ کہ ان کی ہڈیوں کا ڈھانچہ بھی وزن میں زیادہ نہیں ہوتا۔
لب لباب یہ کہ اگر ایک ہی سائز کے ڈانوسار اور ممالیہ جاندار کا تقابل کیا جاے تو ایک ڈانوسار وزن میں واضح طور پر کم ہو گا۔اسی وجہ سےک ڈانوسار ایک بڑے جسم کو اپنی چار ٹانگوں کے ساتھ باسانی سمبھال پاتے تھے۔


آج سے 250 ملین سال قبل TRIASSIC دور سے لے کر 65 ملین سال پہلے تک فضا میں موجود کاربن ڈائی ٓآکسائڈ کا لیول آج کے مقابلے میں بہت زیادہ تھا،یعنی دنیا کا عالمی درجہ حرارت ہمیشہ گرم ہی رہتا تھا جس کی وجہ سے ہماری زمین پر کثرت سے پودوں درختوں اور سبزے کی بہتات تھی۔ شاخوں،پتوں وغیرہ چپا کر نہیں کھاتے تھے بلکہ ثالم نگل لیتے تھے،یعنی ایک بہت بڑی مقدار میں خوراک بہت کم وقت میں حاصل کر لیتے تھے۔اس وقت کے ڈائنوسارز درختوں پر چزمین آج کے مقابلے میں بہت گرم تھی۔نظام ارتقا نے اس میں اس میں اپنا بہت بڑا کردار ادا کیسا جیسا کہ بڑے پلانٹ ایٹنگ ڈانوسارز کے مقابلے میں بڑے گوشت خور ڈانو سارز پیدا ہونے لگے۔تاہم اس کا اب تک کوئی واضح جواب موجود نہیں ہے اس بارے میں سائنس دانوں کی ری سیرچ اور ان کے درمیان بحث تاحال جاری ہیں۔

شیئر کریں

کمنٹ کریں