ڈُگڈُگی

افسانہ نگار : غضنفر

, ڈُگڈُگی

ڈُگڈُگی
شہرکے نکڑ پرڈُگڈُگی بج رہی تھی۔لوگ ایک ایک کرکے ڈُگڈُگی بجانے والے کے ارد گرد جمع ہوتے جارہے تھے۔
ڈُگڈُگی بجانے والا سرسے پیرتک ایک مخصوص قسم کے لباس میں ملبوس ایک لحیم شحیم آدمی تھا ۔اس کے سراورداڑھی کے بال تماشائیوں کے بال سے مختلف تھے۔رنگ برنگ کے گول گول پتھروں سے بنی ایک لمبی مالا اس کے گلے میں لٹک رہی تھی۔تقریباً سبھی اُنگلیوں میں رنگین پتھروں کے نگ کی انگوٹھیاں تھیں۔ایک ہاتھ میںایک پرکشش ڈُگڈُگی تھی جومسلسل رقص کررہی تھی اور دوسرے ہاتھ میں چمچاتی ہوئی بانسری جس کے منھ والے سوراخ کے ذرانیچے سرخ رنگ کے پھندنے لٹک رہے تھے ۔
ڈُگڈُگی والے نے ایک جھٹکے کے ساتھ ڈُگڈُگی بندکردی۔ ’’ہاں توقدردان!آپ نے سانپ اور نیولے کی لڑائی کے بارے میں بہت کچھ سناہوگا۔آج ہم آپ کوآنکھوں سے دِکھائے گا کہ سانپ اور نیولے کی لڑائی کیسی ہوتی ہے؟نیولا کس طرح سانپ کو ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہے؟—اورپھراُن ٹکڑوں کوایک جڑی کی مدد سے کس طرح جوڑدیتا ہے؟——قدردان یہ انوکھی لڑائی ہم آپ کو دِکھائے گا اور ضرور دِکھائے گا۔
لڑائی دِکھانے سے پہلے ہم ہندوبھائی سے پرارتھنا کرتاہے کہ وہ ایک بارپریم سے بولیں——شنکر بھگوان کی جے—— جے۔ اے،ے،ے،ے،ے…………’’جے‘‘کی آوازاآس پاس کے ماحول میں گونج گئی۔
’’اوراپنے مسلمان بھائی سے ہماری درخواست ہے کہ وہ ایک بار دل سے نعرہ لگائیں——نعرۂ تکبیر——اللہ ہواکبر…… …اللہ ہواکبر کی صدائیں بلندہوکرچاروںطرف پھیل گئیں۔
لوگوں کی بھیڑدُگنی ہوگئی۔


ڈُگڈُگی والے نے بانسری کومنھ سے لگالیا اورڈُگڈُگی والے ہاتھ کوزور سے جھٹکا دے کر آہستہ آہستہ ہلانے لگا۔
ڈُگ ،ڈُگ،ڈُگ،ڈُگ—ڈُگ—ڈُگ
اُس کے ساتھ بانسری بھی ڈُگڈُگی کی سنگت کرنے میں مصروف ہوگئی۔
ڈُگڈُگی والابانس کی کھپچیوں سے بنی ہوئی ایک پٹاری کا پھیرا لگانے لگاجس میں ٰسانپ بند تھا ۔چندپھیروں کے بعد بانسری کی آوازبندہوگئی۔ڈُگڈُگی بجتی رہی۔پھرڈُگڈُگی کھنک کھنک کر خاموش ہوگئی۔
’’دیکھیے قدردان !ہوشیارہوجائیے۔اَب ہم سانپ کونکالے گا۔‘‘
ڈُگڈُگی والاپٹاری کے پاس جاکربیٹھ گیا۔لوگوںکے بے تاب نگاہیں پٹاری پر مرکوز ہوگئیں۔
چندلمحے بعد اس نے پٹاری کاڈھکن ذراسااُوپر اُٹھادیا۔
مجمع سے کئی گردنیں آگے کوجھُک گئیں۔
’’ہاں،توقدردان !یہ سانپ وہ نہیں جسے آپ دیکھتے رہتے ہیں۔یہ سانپ سائیبر یا کے جنگل میں رہتاہے۔یہ ایک وی چتر سانپ ہے۔اس کے کئی منھ اورکئی سرہیں۔اس کے ایک سر پر ایک خوبصورت ساتاج بھی ہے——اچھّا تولیجیے اب ہم ڈھکن کواُٹھاتاہے۔
اُس نے ڈھکن کوذرااوراُوپراُٹھاکراپنی آنکھیں پٹاری کے اندرڈال دیں۔لوگوں کی گردنیں آگے کو جھُک گئیں۔
’’کیا؟——ابھی نہیں؟‘‘
’’قدردان ناگ راج کاکہنا ہے کہ وہ ابھی موڈ میں نہیں ہیں۔‘‘
اوراُس نے ڈھکن کوگرادیا۔
’’بچّہ لوگ ذرازور سے تالی بجاؤ تاکہ ناگ راج مست ہوکر موڈ میں آجائیں۔‘‘
تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے آسمان دہلنے لگا۔
تالی بجانے والوں میں کچھ لوگوں کے علاوہ چھوٹے بڑے سبھی لوگوں کے ہاتھ رُکے تو ڈُگڈُگی والے نے سرہلاتے ہوئے کہا۔
’’نہیں،کچھ زیادہ مزہ اُنھیں نہی آیا۔ذرااورزور سے بجائیے۔‘‘
اِس بارپہلے سے زیادہ زورکی گڑگڑاہٹ ہوئی
بھیڑاوربڑھ گئی


بانسری بجاتا ہواڈُگڈُگی والاایک تھیلے کے پاس جاکررُک گیا۔بانسری کوروک کر اُس نے ڈُگڈُگی والے ہاتھ کو تین بارمخصوص اندازسے جھٹکادیا۔اور تینوںبارایک خاص طرح کی آواز نکال کر ڈُگڈُگی خاموش ہوگئی۔اس نے ڈُگڈُگی زمین پر رکھ دی۔اورتھیلے کامنھ سرکاکراپناایک ہاتھ اس میں ڈال دیا۔
لوگوںکی نظریں تھیلے میں داخل ہونے کی کوشش میں مصروف ہوگئیں۔چندلمحے بعد ڈُگڈُگی والے کا ہاتھ تھیلے سے جب باہرآیاتو مٹھی بند تھی۔اُس نے مٹھی کو آسمان کی طرف لے جاکر کھول دیا۔رنگین پتھروں کے کئی چوکور ٹکڑے اُچھل کر زمین پر آگرے۔
زمین سے ایک پتھراُٹھا کرڈُگڈُگی والے نے ہتھیلی پررکھ لیا۔
’’قدردان!آپ اِسے دیکھ رہے ہیں؟——یہ آپ کو پتھر معلوم ہورہاہوگا۔
لیکن قدردان!یہ پتھر نہیں، یہ ایک بہومولیہ وستو ہے۔ایک بیش بہاچیزہے۔اس میں اَن گنت گنڑ چھپے ہوئے ہیں۔اس کے بہت سارے فائدے ہیں۔
آپ جانناچاہیں گے یہ کیاچیزہے اوراس میں کیاکیا گن ہیں؟توقدردان!ہم آپ کوبتائے گا اوراس کا فائدہ بھی دِکھائے گا لیکن ابھی نہیں پہلے ہم آپ کو سرپرتاج والے سانپ اورنیولے کی لڑائی دِکھائے گا۔‘‘
اس نے ڈُگڈُگی کوپھراسی مخصوص اندازسے جھٹکادیااورآہستہ آہستہ ہاتھ ہلاتاہوا نیولے کی طرف بڑھ گیا۔
’’ہاں،توبھائی نیولے راجہ!لڑائی شروع ہوجائے۔‘‘
ڈُگڈُگی والانیولے سے مخاطب ہوا۔
کیا——؟نہیں؟لیجیے صاحب یہ ابھی منع کررہے ہیں۔
’’کیوں؟کیادودھ پئیں گے؟‘‘
’’قدردان !یہ پہلے دودھ پیناچاہتے ہیں۔‘‘
اچھی بات ہے ۔ہم آپ کو پہلے دودھ پلائے گا۔
اس نے تھیلے کے پاس رکھی ہوئی دودھ کی پیالی کواُٹھاکرنیولے کے پاس رکھ دیا۔
’’قدردان! گھبرائیے نہیں،بس چند ہی منٹ بعد ہم آپ کو لڑائی دِکھائے گا۔‘‘
اُس نے بانسری منھ سے لگالی۔
سپیرابین بجا———بین بجا————ناچوںگی………کی مدھردھن بانسری سے نکلنے لگی۔
’’جی ہاں !اِس پتھر کے بارے میں بھی بتائے گا اور اِس کا فائدہ بھی دِکھائے گا۔‘‘
مجمع میںکھڑے ایک شخص کی طرف اُس نے اپنی توجہ مبذول کردی۔
’’ہاں،ہاں، ابھی بتائے گا۔‘‘
اُس نے ایک پتھر خلامیں اچھال کرہتھیلی پرروک لیا۔
’’قدردان!ہم نے بتایاتھاکہ یہ پتھّر نہیںہے۔ ایک بہومولیہ وستو ہے ،ایک بیش بہاچیز ہے۔ اس میں اَن گنت گنڑ چھپے ہوئے ہیں——لیجیے ہم آپ کو اِس کاگنڑ بتاتاہے۔
گنڑ نمبرایک——اگر کسی کو زہریلاسے زہریلا سانپ نے کاٹ لیا ہو——یہ پتھّر تریاق کاکام کرے گا۔ جس جگہ سانپ نے کاٹاہواُس پتھرکوپانی میں ڈبو کروہاں رکھ دیجیے۔ یہ چپک جائے گا۔اوراس وقت تک چپکارہے گا جب تک شریرمیں زہرہوگا۔جب یہ پتھر اس جگہ کو چھوڑ دے تو سمجھنا شریر سے زہر نکل چکا ہے۔
گنڑ نمبر دو——کسی آدمی کوبچھونے ڈنک ماردیاہواوروہ آدمی زمین پر دھاڑے مار مارکر لوٹ رہاہوآپ اسے پتھرپر رگڑکر چپکادیں،سارازہرمنٹوںمیں غائب اور لوٹ پوٹ آن کے آن میں ختم ——
گنڑنمبر تین——


مجمع سے ایکے دُکّے لوگ نکل کر جانے لگے——
قدردان!جائیے نہیں——ابھی کھیل دِکھائے گا——آپ کھیل دیکھ کر جائیے گا۔آپ کو بہت مزاآئے گا ۔لیجیے ہم ابھی دِکھاتا ہے——
ڈُگڈُگی بجاتا ہواوہ نیولے کے پاس پہنچ گیا۔اس نے نیولے کی رسی ڈھیلی کردی۔ نیولا پٹاری کے قریب پہنچ کر چکرکاٹنے میں مصروف ہوگیا۔ڈُگڈُگی والا پٹاری کے پاس آکربیٹھ گیا۔ڈُگڈُگی جھٹکے کے ساتھ کھنکی اورخاموش ہوگئی۔
اُس نے پٹاری کا ڈھکن اُٹھاکر اس میں اپنا ہاتھ ڈال دیا۔لوگوں کی گردنیں ایک بار پھرآگے کی طرف جھُک گئیں۔
کچھ توقف کے بعد ادھ کھلی پٹاری سے اس نے جب اپنا ہاتھ باہرنکالاتو اس میں کتھئی رنگ کے سانپ کی بل کھاتی ہوئی ایک دُم تھی۔
قدردان!یہ سانپ بہت خطرناک ہے۔اس کے کاٹے ہوئے آدمی کو صرف ایک چیز بچاسکتی ہے۔اوروہ ہے یہ فقیری دوا۔
اس نے پتھر کے چوکورٹکڑوں کی طرف اشارہ کیا۔
جس بھائی کو شبہ ہواوروہ آزماناچاہتے ہوںوہ ہمارے پاس آجائیں۔ہم اس سانپ سے اُن کو کٹوائے گا اوراس فقیری دواکی مدد سے زہر کومنٹوں میں زائل کردے گا۔
ہے کوئی ہمت والا!ہے کوئی جواں مرد!ہے کوئی بہادر نوجوان تو نکل کر سامنے آئے اور اس فقیری دواکوآزماکردیکھے۔
کوئی نہیں ہے۔خیرکوئی بات نہیں۔ہم ابھی آپ کو اس کا ایک نمونہ دِکھاتاہے۔
سانپ کے دم کوچھوڑ کر وہ تھیلے کے پاس آگیا۔اورتھیلے سے اس نے ایک سرخ رنگ کی ٹکیہ نکال لی۔
’’قدردان! اس ٹکیہ کو ہم اس گلاس میں ڈالتاہے۔اس نے پانی سے بھرے ہوئے گلاس میں ٹکیہ ڈال دی۔
’’قدردان!دیکھیے یہ پانی خون ہوگیا۔اس کا رنگ خون کی طرح بالکل سرخ ہے۔ اب اس گلاس کو ہم اس پٹاری میں رکھے گا اور سانپ اس میں اپنا منھ ڈالے گا اورپھر آپ دیکھیںگے کہ اس کا رنگ کیسا ہوجاتا ہے؟‘‘
اس نے گلاس کو پٹاری کے اندر رکھ دیا۔تھوڑی دیر کے بعد جب اس نے پٹاری سے گلاس کوباہرنکالا توخون کا رنگ کالاہوچکا تھا۔
’’قدردان! جس شخص کویہ سانپ کاٹ لیتا ہے اسی طرح اس کا خون کالاہوجاتا ہے۔ اب ہم آپ کو اس فقیری دواکاکمال دِکھاتاہے۔‘‘
اُس نے ایک پتھر کا ٹکڑااُٹھا کرگلاس میں ڈال دیا۔دیکھتے ہی دیکھتے گلاس کے پانی کا رنگ پھرخون میں تبدیل ہوگیا۔


’’قدردان!دیکھا آپ نے اس فقیری دواکاکمال ۔یہ تواس کا صرف ایک کمال ہے۔ ایک گنڑہے۔ایسے ایسے تو اس میں بیسیوں گنڑ چھپے ہوئے ہیں۔اس کے چنداورفائدے ہم آپ کو بتاتا ہے———
کسی کو مرگی کا دورہ پڑگیا ہو۔آپ اس ٹکیہ کو اس آدمی کی ناک کے پاس لے جائیں فوراً ہوش میں آجائے گااور اگر مرگی کا مریض اسے اپنے پاس رکھے تو اسے کبھی دورہ نہیں پڑے گا۔
اِسی طرح کسی کو پرانا سے پرانابواسیر ہو،اورلاعلاج بن چکاہو۔آپ اس دواسے صرف ایک ہفتہ سیکائی کریں مسّہ گل کرراکھ ہوجائے گا۔
قدردان! اس کے اور بہت سے فائدے ہیں جن کا ذکراس پمفلٹ میں تفصیل سے چھپاہواہے۔‘‘
اُس نے پمفلٹ اُٹھاکرایک ایک کے ہاتھ میں تھمادیا۔
’’قدردان! اتنے سارے گنڑ اس فقیری دوامیں موجود ہیں۔آپ سوچتے ہوں گے کہ اس کی قیمت بہت زیادہ ہوگی،لیکن نہیں———قیمت کچھ بھی نہیں ہے۔بالکل مفت ہے۔ فقیرکی دی ہوئی چیزہے۔ اس کا دام کچھ بھی نہیں ہے۔ہاں فقیرکے نیازکے لیے ایک معمولی سی رقم بطور چندہ ضروری لی جاتی ہے۔اور وہ معمولی سی رقم ہے———ایک روپیہ ———صرف ایک روپیہ— ——ایک روپیہ ———ایک روپیہ———ایک روپیہ———جس کسی بھائی کو ضرورت ہوآواز دے کرمانگ سکتے ہیں۔’’ایک ٹکیہ مجھے، ایک ٹکیہ مجھے،دومجھے، ایک… ……
’’ابھی دیا۔ابھی دیتاہے قدردان!ابھی آیاسرکار۔آپ کو بھی دیا……‘‘
کچھ دیر بعد ڈگڈُگی والا روپے گننے میں مصروف تھا۔
تقریباً آدھے سے زیادہ لوگ جاچکے تھے۔ شایدوہ اس سے پہلے بھی ڈُگڈُگی کی آواز پر جمع ہوچکے تھے اور کچھ لوگ اس انتظار میں ابھی ٹھہرے ہوئے تھے کہ ڈُگڈُگی والااپنا وعدہ پورا کرے گا یعنی تاج والے سانپ اور نیولے کی لڑائی ضرور دِکھائے گا۔غالباً یہ لوگ ڈُگڈُگی کی آوازپر پہلی بارجمع ہوئے تھے۔————
……

شیئر کریں

کمنٹ کریں