عید الفطر کی نماز کا طریقہ

عید الفطر کی نماز کا طریقہ
عید الفطر کی نماز کا طریقہ

نماز عید کی دو رکعت کا طریقہ تقریبا وہی ہے ، جو نہاز ِ فجر کا ہے؛ البتہ نماز ِ عید میں نماز ِ عید کی نیت کی جائے گی اور پہلی رکعت میں ثناء کے بعد اور قرات سے پہلے اور دوسری رکعت میں قرات کے بعد اور رکوع سے پہلے تین، تین تکبیرات زوائد کہی جائیں گی۔


اور پورا طریقہ نماز اس طرح ہوگا کہ تکبیر ِ تحریمہ سے پہلے نیت کی جائے جس کے لئے دل میں یہ ارادہ استخار کافی ہے کہ وہ قبلہ کی طرف رخ کر کے امام کی اقتداء میں نماز ِ عید ادا کرنے جا رہا ہے۔ اور اگر امام ہو تو اس کے لئے امامت کی نیت افضل ہے۔ اور اگر کوئی شخص مزید استحضار و پختگی کے لئے نیت کے الفاظ زبان سے بھی کہہ لے تو اس میں کچھ حرج نہیں۔


اس کے بعد تکبیرِ تحریمہ کہہ کر ہاتھ باندھ لیے جائیں، پھر ثناء پڑھی جائے۔ اس کے بعد دونوں ہاتھ کانوں کی لو تک اٹھا کر معمولی فصل کے ساتھ تین زائد تکبیریں کہی جائیں۔ پہلی اور دوسری تکبیر میں ہاتھ اٹھا کر چھوڑ دیئے جائیں اور تیسری تکبیر کہہ کر ہاتھ (ناف کے نیچے) باندھ لیے جائیں۔ اس کے بعد امام قرات کرے گا اور حسبِ معمول رکعت مکمل ہوگی۔ پھر دوسری رکعت میں قرات کے بعد اور رکوع سے پہلے تین زائد تکبیریں کہی جائیں اور ہر تکبیر میں ہاتھ اٹھا کر چھوڑ دیئے جائیں اور چوتھی تکبیر رکوع کے لئے کہی جائے۔ اور دیگر نمازوں کی طرح بقیہ نماز مکمل کی جائے۔ سلام کے بعد دعا ہوگی۔ اس کے بعد امام خطبہ پڑھے گا۔ اس وقت سب حاضرینِ نماز موجود رہیں اور توجہ کے ساتھ خطبہ سنیں۔ اور نمازِ عید کے بعد لوگوں میں جو مصافحہ اور معانقہ کا رواج ہے، وہ صحیح نہیں لہذا اس سے پرہیز کیا جائے۔

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں