شمس الرحمن فاروقی صاحب ایک عہد کا مرقع

مضمون نگار : علی اکبر ناطق

قسط 4

, شمس الرحمن فاروقی صاحب ایک عہد کا مرقع

دوسرے دن مکرر گئے ۔ ایک نوجوان شاعر بھی ہمارے ساتھ تھا ، ہم نے فاروقی صاحب سے عرض کیا ،اچھے مصرعے کہہ لیتا ہے ، اُنھوں نے راہِ مروت اُس سے کچھ شعر سُنے ، پھر باتیں ہونے لگیں ۔ بہت کچھ شاعروں کے متعلق اُنھوں نے کہا ،خاص ایک جملہ فراق کے بارے میں بہت سخت تھا ، کہ فراق تو غالب کی دربانی کے بھی لائق نہیں ۔ یہ ملاقات بھی بہت کچھ اچھی رہی ۔ فاروقی صاحب دراصل اپنے مطالعے اور شعر فہمی کے معاملے میں بہت کچھ جمالیاتی اور کیفیاتی رعایتوں کو سمجھے ہوئے ہیں جو بڑے بڑے نقادوں اور سخن فہموں سے پوشیدہ ہیں ، اُن کے ہاں میرجیسی سخت کسوٹی موجود ہے، جس میں ایسا ویسا شاعر جگہ پا ہی نہیں سکتا ۔


یہ ہماری فاروقی صاحب سے پہلی ملاقات تھی ، دوسری ملاقات دلی میں ۲۰۱۵ میں ہوئی ۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ ہمارے افسانوں کی ایک کتاب قائم دین جسے اردو میں پاکستان میں آکسفورڈ پریس والوں نے چھاپا تھا ۔ ہمارے دوست علی مدیح ہاشمی نے اُس کا انگریزی میں ترجمہ کر دیا۔ علی ہاشمی فیض صاحب کے نواسے ہیں اور منیزہ ہاشمی کے بیٹے ہیں ۔ خود بہت عالم فاضل ہیں ۔ اُن کا ترجمہ پینگوئن والوں کو بہت بھایا ۔ پینگوئن انڈیا والوں نے وہ کتاب اپنے ادارے سے دہلی میں چھاپ دی ۔ اب اُنھوں نے اُس کی تقریب کا اہتمام کیا اور ہمیں مراسلہ بھیجا کہ میاں دہلی چلے آو ۔ ہم یعنی مَیں اور علی مدیح ہاشمی دہلی چلے گئے ۔ اُنھی دِنوں ریختہ والوں کا جشن چل رہا تھا اور فاروقی صاحب الہٰ آباد کی بجائے دہلی میں رُکے ہوئے تھے ۔ وہیں ہمارے دوست محمود فاروقی صاحب کہ سگے بھتیجے فاروقی صاحب کے ہیں ، ہماری نگہبانی کو موجود تھے اور ہمیں کراچی میں بھُگت چکے تھے ۔ ہم ۲۰۱۳ میں محمود فاروقی اور دارین شاہدی (دونوں اول درجے کے داستان گو ہیں ) کو اسامہ صدیق کےہمراہ اوکاڑا اپنے گھر بھی لا چکے تھے اور ساگ کے ساتھ پاکستانی بھینس کے پایوں کا شوربا پلا پلا کر اُن سے گائے کُشی کا بدلہ لے چکے تھے۔ اوکاڑا اپنے گائوں کے کھیتوں میں پھرا چکے تھے اور درختوں کی چھائوں میں بٹھا چکے تھے ۔ وہ جانتے تھے کہ ناطق چھاوں والا آدمی ہے، اِسے دہلی میں دھوپ نہ لگنے دی جائے ، چنانچہ وہ محبت کی چھتری لیے ساتھ ساتھ رہے ۔


ریختہ کے جشن میں جیسے ہی فاروقی صاحب کا سامنا ہوا ، اُنھوں نے میں ایسی محبت سے گلے لگا کر بھینچا کہ اللہ میاں والی ستر مائیں یاد آ گئیں ۔ کہنے لگے ناطق بھئی آپ آخر دہلی آ ہی گئے ۔ اب وہ تمام ارد گرد کھڑے لوگوں سے کہنے لگے میاں ا،س لڑکے کو دیکھ کو ، آئندہ کا اردو ادب کا بادشاہ یہی ہے ، سالا شاعری اور افسانہ ، دونوں میں میدان مار گیا ۔ ایک آدمی کیمرہ لیے وہاں موجود تھا ، اُنھیں بولے ، لائو میاں ہماری ایک اچھی سی تصویر کھینچ دیو ۔ اور اُس طرح بغل میں لیے لیے اُنھوں نے تصویر کھنچوا دی ۔ اب اللہ جانے وہ تصویر کہاں ہو گی ۔ اگر باران صاحبہ کے پاس ہو تو ہمیں ضرور بھجوا دیں ۔ شکریہ پکاریں گے ۔ پھر تو اُس دن ہم نے فاروقی صاحب کا پلہ نہ چھوڑا ۔ اُن کے دو لکچر میر صاحب پر اور انعام اللہ یقین پر وہاں تھے ، وہ سُنے اور دل میں قینچی کی طرح کھب گئے ۔ ابھی تک اُن کا وہ انداز اور جملے یاد ہیں ۔ لکچر سے فارغ ہوئے تو ہمیں کھانے پر ساتھ بٹھا لیا ۔ یہ وہ عنائتیں تھیں جنھیں دہلی والے دیکھ رہے تھے اور بعض رشک سے اور بعض حسد سے ہماری بلائیں لے رہے تھے ۔


لیجیے بھیا پھر اگلے ہی دن ہماری کتابکی تقریب تھی ۔ تقریب جامعہ ملیہ یونیورسٹی دہلی میں انگریزی ڈیپارٹمنٹ کے تحت رکھی گئی جہاں فاروقی صاحب کی بیٹی باراں فاروقی تھیں پڑھاتی تھیں ۔ تقریب کی صدارت فاروقی صاحب نے کی اور ایسی محبت سے کی کہ بھائی کیا کہیے ۔ غرض اس تقریب میں شاندار طریقے سے اہتمام کیا گیا ۔ ایک بڑے ہال میں لگ بھگ دو سو آدمی براجمان تھے ۔ امریکہ سے نعیم صاحب آئے ہوئے تھے ، وہ بھی وہیں تھے


محمود فاروقی نے نظامت کے فرائض بلکہ شدائد ادا کیے ۔ ہم دونوں کی ایک دوسرے کے ساتھ بہت جگتیں چلا کیں اور پورا ہال زعفران بنا کیا ۔ محمود فاروقی نے ازراہِ مزاح پوچھا ناطق ، ذرا یہ بتاو اِس وقت اردو ادب میں یعنی شاعری اور فکشن میں آپ سے بڑا تو کوئی اور نہیں ہو گا ۔ ہم نے انتہائی سنجیدگی سے جواب دیا جی ہاں ، مَیں آپ سے اتفاق کرتا ہوں ۔ اِس پر ہال میں ایک زبردست قہقہ بلند ہوا ۔ علی ہاشمی وہاں موجود تھے اور اب تک ہمیں اِسی جملے پر چھیڑتے ہیں ۔ خیر تقریب کھنچ کر ڈیڑھ گھنٹہ پر چلی گئی ۔ کچھ دوست یعنی تصنیف حیدر اور اُن کے ساتھ چار پانچ لڑکے مزید تھے ، وہ ہمارے ساتھ تقریب میں گئے مگر فاروقی صاحب کے ساتھ اُن کی کوئی رنجش تھی اس وجہ سے اُنھیں دیکھتے ہی وآپس ہو گئے ۔ اِس بات کا مجھے بہت افسوس ہوا ۔ در اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا نوجوان ادیب سوشل میڈیا کے سبب جتنی جلدی سیانا ہوا ہے ،اتنا ہی زیادہ حاسد اور سطحی ہو گیا ہے اور بد تمیز بھی ہو گیا ہے ۔ مجھے تصنیف حدر سے یہ توقع نہیں تھی کہ وہ علمی سطح کے کسی اختلاف کو ذاتی بنائیں گے ، مگر اُنھوں نے برملا مجھ سے کہا کہ وہ بہرحال فاروقی صاحب کی وجہ سے اِس تقریب میں نہیں بیٹھ سکتے اور وآپس لوٹ گئے ۔ تصنیف حیدر کو آج بھی مَیں چاہتا ہوں مگر اُن کا رویہ بعض اوقات عجیب ہو جاتا ہے ۔ یہ بات اِس لیے لکھ دی ہے کہ ضروری تھی ۔


خیر باراں فاروقی صاحبہ نے بھی بہت عمدہ تبصرہ کیا اور ہم سے کہا ناطق آپ اپنے افسانے کے کرداروں کو اتنی بے رحمی کے ساتھ بے نیاز ہو کر کیسے پیش کر دیتے ہیں ؟ کہ ذرا بھی اُن پر ترس نہیں کھاتے ۔ مَیں نے جواب دیا کہ جب عام زندگی میں وہ کردار تنہا و لاچار ہوتے ہیں تو فکشن میں کیسے اُنھیں دردمندی سے سہارا دے دیں ۔


پھر ایک ہی دم صدارت کی گفتگو شروع ہوئی اور صدارت ظاہر ہے فاروقی صاحب کی تھی ۔اب جو اُنھوں نے ہماری شان میں بولنا شروع کیا تو کچھ نہ پوچھیے ، ہمیں نہ صرف موجودہ نسل بلکہ دَور کا سب سے بڑا نظم کا شاعر اور افسانہ نگار قرار دے دیا اور اپنی گفتگو میں اِس پر اصرار بھی کیا ۔ فاروقی صاحب کی گفتگو میں دلچسپی ایسی تھی کہ صرف اُن کی باتیں کھنچ کر ایک گھنٹے تک چلیں گئیں مگر مجال ہے کہیں ایک متنفس بھی اِدھر سے اُدھر ہلا ہو ۔ ہماری ایک ایک نظم پر بات کی ایک ایک افسانے کو زیرِ بحث لائے ، اور ایسی ایسی گرہیں کھولیں کہ ہمیں لگا شاید فاروقی صاحب صرف ہمیں ہی پڑھتے رہے ہیں ، اے نقادوں اب آپ کو پتا چلا کہ ہم فاروقی صاحب کی عزت کیوں کرتے ہیں اور آپ کی دُم پر پاوں کیوں رکھتے ہیں ، برا آدمی وہ نہیں ہوتا جو اپنے جونیر کے ساتھ مقابلہ باندھ لے، کتاب بالکل نہ پڑھے اور حسد کی چھینٹیں اُڑاتا پھرے بڑے آدمی وہیں ہوتے ہیں جن کا کردار عدل اور علم کے محاسبے میں ڈھلا ہو ۔ فاروقی صاحب بلاشبہ کتاب پڑھتے تھے اور پڑھ کر عادلانہ داد دیتے تھے ، آپ کی طرح بغض اور احساسِ کمتری کے مارے نہیں تھے ۔ خدا کی قسم وہ نہ ہوتے تو آپ مجھے کچا چبا جاتے ۔


خیراب یہاں ایک دلچسپ قصہ سُنیے۔ تقریب میں نہ صرف دہلی بلکہ ہندوستان بھر سے اردو ادب کے کئی سرخیل جمع تھے۔ اُن میں ایک ایسا افسانہ نگار بھی تھا، جسے زعم تھا کہ وہ دنیا کا سب سے بڑا اورکوئی فلسفی قسم کا افسانہ نگار ہے،اور مارکیز دراصل وہی ہے ۔ اُس کے افسانوں اور ناول کی کتابیں پاکستان میں آصف فرخی نے اپنے ادارے شہر زاد سے بھی چھاپ رکھی تھیں ۔ جب کراچی آئے تو اُن سے اچھی ملاقات رہی تھی اور وہاں دہلی میں بھی ہم سے بہت مروت سے مل رہے تھے ۔ اب ہوا یہ کہ جیسے ہی اُن صاحب نے فاروقی صاحب کی باتیں سُنیں ، آگ بگولا ہو گئے ۔ گفتگو کے دوران مسلسل زیرِ لب بِڑبڑاتے رہے اور ایسے بے چین، جیسے اُن کی کُرسی کے نیچے انگاروں کی انگیٹھی پڑی ہو اور اُس پر اُنھیں زبردستی بٹھا دیا ہو ۔ آخر ایک ہی دم اُٹھے اور کھٹاک سے باہر نکل گئے اور ایسے نکلے کہ پھر ہم نے اپنے دہلی کے بیس روزہ قیام تک اُن کا چہرہ نہ دیکھا ۔ ہمیں اُن کی پریشانی کا اندازہ تو تھا مگر پریشانی پیٹھ جلانے والی ہو گی ،یہ خبر نہ تھی ۔ اُسی یونیورسٹی میں اردو پڑھاتے بھی تھے ۔ ہم نے ایک دن تصنیف حیدرکے ہاتھ پیغام بھیجا کہ بھائی ایسا بھی کیا دل پر لیے بیٹھے ہو ۔ ایک بار مل کے چائے تو پی لیجیے مگر وہ نہ آئے بلکہ اول فول باتیں کیں ، کہنے لگے ، یہ فاروقی صاحب اپنے کو سمجھتے کیا ہیں ؟ ناطق کو بانس پر چڑھا دیا ۔ اُنھیں ہمارا افسانہ نظر ہی نہیں آیا اب ۔ بات بات پہ اِسے اُچھالے جاتے ہیں ، کبھی کہتے ہیں، اِس سے اچھی نظم کہنے والا اِس وقت نہیں، کبھی اِسے افسانے کا طرم خاں بنائے جاتے ہیں ۔ اردو دنیا میں اِس وقت اِس سے اچھا لکھنے والا موجود نہیں ، یعنی ہم افسانہ نہیں لکھتے، گھانس کاٹتے ہیں ؟ لیجیے صاحب وہ تو اُس دن کے بعد ہمارے لیے فوت ہو گئے ۔ آج تک نہیں کھٹکے۔ ہم نے ایک دن فاروقی صاحب سے عرض کیا ، حضور آپ کے ہمارے بارے میں جو بیانات ہیں ،اُن کی وجہ سے اکثریت دین سے پھِر گئی ہے ۔ ہم تو ایک طرف خود آپ کی تنقیدی پیغمبری بھی چلی گئی ۔ ہنس کر بولے، ابے جانے دے سالوں کو ، کنویں کے مینڈک ہیں ،وہیں ٹراتے رہتے ہیں ۔ اَب اِن کے ڈر سے رائے بدل دوں ؟

قسط 5

, شمس الرحمن فاروقی صاحب ایک عہد کا مرقع

اُس سے اگلے دِن ہمیں حکم ہوا شام کا کھانا اُن کی بیٹی باران کے گھر اُن کے ساتھ کھایا جائے اور محمود فاروقی کو پابند کیا کہ ناطق کو گیارہ بجے دو پہر لے آؤ۔ دوسرے دن محمود فاروقی ہمیں لے کر چل دیے ، دارین شاہدی اور فضل بھی ساتھ تھے ، یہ دونوں صاحب محمود فاروقی صاحب کے منکر نکیر ہیں ، دارین شاہدی داستان گو ہونے کے علاوہ اینکر ہیں اور فضل شریف آدمی ہیں ۔فضل کا ذکر آ گیا تو ایک قصہ اُن کا بھی سُن لیو ۔ ایک دن دارین شاہدی ہمیں مہرولی کے آموں کے باغ اور کھنڈرات دکھانے گئے جہآں ایبک اور التتمش وغیرہ حکومت کیا کرتے تھے اور مندروں کے پتھر توڑ کر مسجدیں بنایا کرتے تھے ۔ پھر اُن کا نام مسجد قوت الالسلام رکھتے تھے ۔اور بعد میں ہمارے قومی شاعر ولی اللہ اقبال اُن پر نظمیں لکھتا تھا ۔ مہرولی اُس قصبے کا نشان ہے جو ہزار سال پرانی اصل دہلی تھی ۔ یہاں اب سوائے کھنڈرات کے اللہ کا نام ہے ، یا پھر چوہڑوں نے یہاں سوئروں کے اِجڑ پال رکھے ہیں جن کا گوشت دہلی کے بڑے ہوٹلوں کی نذر ہوتا ہے اور پہاڑی کیکروں کا جنگل ہے ، پتا چلا طاقت کے نام پر پھیلایا ہوا مذہب سوئروں کے باڑوں میں بدل جاتا ہے ۔ اِسی لیے ہم کہتے ہیں اذان وہ ہے جو علی اکبرؑ ابنِ حسینؑ کربلا میں دے گئے جو آج تک دلوں میں گونج رہی ہے ۔ نہ کہ وہ جو تلواروں کے بل بوتے پر مندروں اور کلیساوں میں دی اور آج وہ ہمیں پر اُلٹ پڑ گئی ہے ۔


خیر یہاں مہرولی میں ایک شمسی تالاب بھی ہے ۔ اِسی جگہ ایک بہادر شاہ کا محل بھی ہے جس کے صحن میں اُس کے باپ دادا کی قبریں ہیں اور اُنھیں میں ایک قبر کی جگہ اُس غریب نے اپنے لیے رکھی ہوئی تھی مگر اُسے وہاں دفن ہونا نصیب نہ ہوا ، قبر کی چاہ میں رنگون جا پہنچا ۔ پاس ہی ایک شمسی تالاب ہے ۔ باغوں کی نشانیاں ابھی چار پانچ کوس آگے تھیں جہاں پیدل جانا تھا ۔ فضل نے کہا بھائی میں تو اِسی تالاب کے کنارے بیٹھا ہوں ۔ آگے نہ چلا جائے گا ۔ ہم نے بہتیرا سمجھایا کہ میاں کچھ نہیں ہوتا مگر وہ چوکڑی مار کے بیٹھ گئے ۔ بولے تب تک نہ آو گے ہم یہیں بیٹھیں گے ۔ خیر جی داریں اور مَیں آ گے گئے اور کوئی تین گھنٹے بعد پھرے تو فضل اُسی جگہ بیٹھے تھے ۔ تو بھئی یہ وہی ٹھنڈے آدمی ہیں بڑے آدمی ہیں اور بہت بھلے آدمی ہیں ۔


قصہ مختصر بھیا جب ہم فاروقی صاحب کے گھر پہنچے فاروقی صاحب چوکی پر بیٹھے ایک کتاب میں حسن شوقی کے بارے میں مطالعہ فرما رہے تھے ۔ ہمیں دیکھ کر کتاب ٹھپ دی اور بولے آو میاں آپ ہی کے انتظار میں بیٹھا تھا ۔ وہ ایک تخت پوش پر تکیہ لگا کر بیٹھے تھے ۔ سامنے تپائی تھی ۔ اُس پر چائے کا سب سامان تھا اور کچھ کباب دھرے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی بولے آ گیا بدمعاش ، ہم تو کہتے ہیں ، پاکستان واکستان چھوڑ یہیں دہلی میں بسیرا رکھ لے ، وہاں کی ادبی اشرافیہ آپ کو مان کے نہیں دے گی ۔ سالے چھابے کے بچھو ہیں ، ڈنک مار مار کے مار دیں گے ۔ ابھی کل ہی کشور کہہ رہی تھی ناطق کو آخر آپ نے کیوں سر پہ چڑھا رکھا ہے؟ ۔ ہم نے کہا فاروقی صاحب ہم تو یہی چاہیں گے کہ دہلی میں بسرام کر لیں مگر آپ کب تک ہماری داد رسی کریں گے ۔ آپ کے بعد یہاں بھی وہی ابوالکلام قاسمی بھرے پڑے ہیں ۔ وہ ایک دم قہقہ لگا کر ہنس دیے ، فاروقی صاحب کا قہقہ شرارت اور جمالیات کا ملا جُلا احساس ہوتا تھا جو مخاطب کے دل میں اُتر جاتا تھا ۔ آپ جانو اُن کے قہقہے کی ایک مکمل تصویر بن جاتی تھی ۔ دیر تک ہنسنے کے بعد بولے بڑے حرامی ہو، صلیب پر لٹک کے رہو گے لیکن ایسا کوئی ضرور چاہیے جو روز نہیں تو کبھی کبھی سچ ضرور بولے ۔ یہ سالے کتاب نہیں پڑھتے۔ یونیورسٹیوں میں بیٹھے تمام دن دماغ میں اُگی گھاس کو پانی دیتے ہیں ۔
فاروقی صاحب کا ایک سادہ قصہ یہ ہے کہ تکلفات کو ایسے برطرف کرتے کہ ہم جیسا مبتدی بھی سوال و جواب کی جرات پر اُتر آئے ۔ یہاں بھی اُن کا باتیں کرنا گویا ایسی ادب آموزی تھی جس میں نورِ علم کے تریڑے برستے تھے مگر نشاط انگیزی کے ساتھ ، نہ کہ بیزار کر دینے والی تقریریں جو اکثر اصطلاحات بھرے نقادوں کا سرمایہ ہوتی ہیں ۔ مَیں نے بہت سے سوالات کیے جن کے اُن کے پاس بہت مدلل جوابات تھے ۔ مَیں نے شعر ِ شور انگیز پر اُن سے مفصل گفتگو کی ۔ بہت سے میر صاحب کے شعروں پر اُن کی شرح کے حوالے سے اپنی رائے ظاہر کی ۔ پھر سوار اور دوسری کہانیوں پر بات ہوئی ۔ پھر مَیں نے کہا فاروقی صاحب ، کل مَیں نواب شمس الدین کے پھانسی گھاٹ پر اکیلا پھرتا رہا ہوں صرف آپ کے ناول سے پڑھا تھا اور وہاں جا پہنچا ۔ یہ سُن کر تو بہت ہی خوش ہوئے ۔ مجھے کہنے لگے میاں حیرت ہے تم دہلی سے اُدھر دُور پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاوں میں بیٹھے میری کتابیں اور خاص کر شعرِ شر انگیز پڑھ رہے تھے اور اِدھر سالے نارنگ تک نے نہیں پڑھی بلکہ کسی نام نہاد چوتیے پروفیسر نے نہیں پڑھی ( ایک بات یاد رکھیے فاروقی صاحب جیسے خیالات کے کھرے تھے گالی دینے میں بھی ویسے ہی کھرے تھے اور مَیں سمجھتا ہوں کوئی بھی آرٹسٹ بہت زیادہ نستعلیقیت کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ کہنے لگے کوئی چوتیا ایک صفحہ پڑھ کے ہمیں مشورہ دینے نکل آتا ہے کوئی صرف سونگھ کر ہی اُس پر لمبا مضمون کھینچ دیتا ہے۔ ناول کی بھی یہی حالت ہے ۔ آپ کے پاکستان سے بہت اچھی خبریں آتی ہیں ۔ مَیں نے کہا حضت وہاں بھی پڑھائی کی توقع پروفیسروں سے نہ کیجیے ۔ اُدھر کا بھی عام قاری ہی آپ کو پڑھتا ہے ۔ ا،س طرح گفتگو بہت لمبی کھنچ گئی ۔ اِسی دوران ہم نے تین بار چائے پی ، درجنوں کباب کھا گئے ۔ باران بار بار کباب تل رہی تھیں ۔ ایک بار کھانا کھایا اور کئی بار قہوہ چُسکایا ۔ وقت ایسے نکلتا گیا جیسے جبریل اُڑ کے نکل جائے ۔ وہیں بیٹھے بیٹھے شام ہو گئی۔ محمود فاروقی نے چونکہ اگلے دن داستان گوئی بھی کرنا تھی اس لیے بیچ بیچ میں وہ طلسم ہوشربا پر اپنی اصلاحیں لیے جاتے تھے۔ اُس دن ہم رات دس بجے وہاں سے نکلے اور کیا بتائیں کیسے شاد نکلے ۔ وہاں کھانے پر اور گفتگو کے دوران بہت تصویریں لی گئیں ۔دارین نے ہمیں آج تک ایک تصویر نہیں بھیجی۔ اے اللہ کے بندے کوئی دو چار تو بھیج دے ۔ اِس ملاقات کے بعد فاروقی صاحب تو اِلہٰ آباد چلے گئے اور ہم کچھ دِن مرزا فرحت کی بیان کردہ مہرولی اورجُگ جُگ جینے والی شاہجہان آباد کی گلیوں میں پھیرے لگا کر اسلام آباد لوٹ آئے ۔


یہ ۲۰۱۶کا سال تھا اور پاکستان میں میں فاروقی صاحب سے ہماری تیسری ملاقات تھی ۔ فیض فیسٹول لاہور میں آئے اور اِس بار بھی لمزیونیورسٹی میں ٹھہرے تھے ۔ کچھ پروگرام لمز میں بھی تھے ۔ یہاں ایک دو واقعا ت ایسے ہوئے کہ آپ فاروقی صاحب کے مزاج سے خوب واقف ہو جائیں گے ۔ لمز میں داستان گوئی پراُن کا لیکچر تھا۔ ہم نے اپنے ساتھ ارسلان احمد راٹھور کو لیا اور لمز جا پہنچے ارسلان نوجوان ہے ، جی سی یونیورسٹی لاہور میں لیکچرر ہے، شعرو نثر کو بہت کچھ سمجھتا ہے اور فاروقی صاحب کے تمام کام کوحفظ کیے بیٹھا ہے۔ سچ کہوں تو آئندہ زمانے میں ادبی تنقید کی باگ اِسی کے ہاتھ میں ہو گی ۔ یہ ہمارا کہنا لکھ رکھو ۔ خیر جب ہم وہاں پہنچے تو دیکھا پاکستان بھرکا اردو ادب سامنے دوزانوتشریف فرما تھا ۔ اورینٹل کالج کے ایک اُستاد نے فاروقی صاحب کو لکچر کے لیے بلایا اور ستم یہ ہوا کہ اُس نے دعوت دینے کے لیے فراق کا شعر پڑھ ڈالا،،،آنے والی نسلیں تم پر رشک کریں گی ہم عصرو ،،،اور ابھی دوسرا مصرع پڑھنے ہی والا تھا کہ فاروقی صاحب نے وہیں ٹوک دیا ،،اور کہا ،بس بس رہنے دو اور اپنی جگہ سے اُٹھ کر لکچر کی کرسی پر آگئے ۔صاف لگ رہا تھا ، فراق کا شعر پڑھ کر دعوت دینے پرفاروقی صاحب کا موڈ آف ہو گیا ہے ۔ حیرت ہے اُس اُستاد صاحب کو دعویٰ تھا کہ اُس نے فاروقی صاحب کے تمام کام کو پڑھ رکھا ہے اور اُن کے خیالات و نظریات سے تمام وکمال آگاہ ہے مگر یہاں اُسے چھوٹی سی بات کا پتہ نہ چلا کہ فاروقی صاحب کو فراق کے نام ہی سے چڑ ہے اور اُسی کا شعر پڑھ کر دعوت دینے لگا اور شعر بھی نہایت بے کار قسم کا ۔ اب آگے کی سُنیے لکچر شروع ہوا توایک صاحب جن کی عادت ہے کہ ہمیشہ کسی تقریب یا لکچر میں کھڑے ہو کر صاحبِ لکچرکے ساتھ تمسخرانہ گفتگو کر کے اپنی توجہ چاہتے ہیں اور پڑھے وڑھے خاک نہیں ۔ یہاں بھی اُنھیں بار بار اُلٹے سیدھے سوال کر کے توجہ اپنی طرف مبذول کرانے کی سوجھی ۔ جب ایک دو بار فاروقی صاحب کی جاری گفتگو کو ٹوک کر اپنا سوال کیا ،پھر سوال کو خود ہی جواب بنا کراِدھر اُدھر کے جملے لڑھکانے لگے تو فاروقی صاحب ایک دم بھڑک ہی تو گئے ، کہنے لگے، ابے گھاگھس یہ کیا فضول بکے جاتا ہے ۔ آخر تیرا مدعا کیا ہے ؟ اور تو کون ہے، چُپ ہو کے نہیں بیٹھ جاتا ۔ وہ صاحب بولے مَیں پی ایچ ڈی ڈاکڑ ہوں اور پروفیسر ہوں ۔ اب فاروقی صاحب کا غصہ دو چند ہو گیا ، کہا ، او نالائق یہاں کئی ڈاکٹر لڑھکتے پھرتے ہیں ۔ یہ سب جو سامنے بیٹھے ہیں ،یہ بھی ڈاکٹر اور پروفیسر ہیں ۔ چُپ بیٹھ رہو اور اُس کے بعد وہ صاحب ٹھنڈے ہو کر بیٹھ گئے ۔پھر داستان پر ایسا لکچر دیا کہ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی ۔ ہماری آنکھیں کھول دیں ۔ ایسی پُر تاثیر اور مغز بھری گفتگو آج تک نہ سُنی تھی مگر اُس پی ایچ ڈی صاحب کا مغز آج بھی خالی ہے ، سچ ہے جس کا جیسا ظرف ہوتا ہے ،ویسا ہی رزق اُٹھاتا ہے۔
اُنھی دِنوں اِسی سے ملتا جلتا واقعہ ظفر اقبال کے گھر پیش آیا لیکن اِس واقعہ سے پہلے ایک مزے کی تفصیل بتا دوں ۔ ہوا یہ کہ کچھ عرصہ قبل یعنی ۲۰۰۵ کے قریب ہمیں اوکاڑا میں کسی نے بتایا کہ ظفر اقبال صاحب فرماتے ہیں کہ اُنھیں فاروقی صاحب نے غالب سے بڑا شاعر قرار دیا ہے ۔ ہم اُن دنوں ادبا و شعرا کے ہاں محض نامعلوم تھے ۔ کسی سے کچھ واقفیت نہ تھی مگر فاروقی صاحب کی کتابیں اور ظفر اقبال کی شاعری تو پڑھے ہی بیٹھے تھے اور حیران تھے کہ فاروقی صا حب نے یہ کیا کہا ہے ، اور کیوں کہا ہے ؟ اگرچہ شعرِ شور انگیز میں اُنھوں نے جابجا ظفر اقبال کے اشعار کے حوالے دے کر اُن کی عظمت کو تسلیم کیا تھا مگر وہ اِنھیں غالب سے بڑا شاعر قرار دیں گے ، اِس کی ہمیں خبر نہ تھی ۔ خیر وقت نکلتا چلا گیا ۔ پھر ایک دن ایسا آیا کہ افتخار عارف صاحب نے ہمیں اسلام آباد لا بٹھایا ۔ شاعروں سے ملنا جلنا ٹھہر گیا۔ وہیں ایک دن یہ ذکر چل نکلا اور ہم نے کہہ دیا ، ظفر اقبال صاحب کا دعویٰ ہے کہ فاروقی صاحب نے اُنھیں غالب سے بڑا شاعر کہا ہے ۔ اختر عثمان نے اُسی وقت ظفر اقبال کو فون کر دیا کہ ناطق کے اِس بیان کی کیا حقیقت ہے ؟ اللہ جانے اُنھوں نے اُس وقت کیا جواب دیا البتہ دنیا زاد کے اگلے شمارے میں اِسی سے متعلق ایک مضمون کھینچ دیا ۔ مضمون کا چھپنا تھا کہ چاروں اور ڈھول پٹ گئے ۔ اُدھرفاروقی صاحب نے اِس بات کی سختی سے تردید کردی ۔ جب ہماری دہلی میں فاروقی صاحب سے ملاقات ہوئی، تب بھی اُنھوں نے اِس کی تردید کی اور کہا ظفر اقبال اپنے اُسلوب کا عہد ساز شاعر ضرور ہے مگر غالب سے اِس کا کوئی جوڑ نہیں ۔ ہم جب لاہور آئے اور ظفر اقبال سے ملاقات ہوئی تو اُن کے پوچھنے پر ہم نے فاروقی صاحب کی تمام بات مِن عن بیان کر دی ۔ تب تو ظفر اقبال نے اخباروں اور رسالوں میں کالم پہ کالم چڑھانا شروع کیے اور سخت ناراضی ہو گئی۔فاروقی صاحب کو بیان سے پھِر جانے والا اور پتا نہیں کیا کچھ کہہ بیٹھے ۔ اُدھر فاروقی صاحب بھی بگڑ گئے۔ اُنھوں نے اِس مسئلے میں ظفر اقبال کے بیان کو مکمل وضعی قرار دے کر بات ختم کر دی ۔ سچ پوچھیں تو اِس معاملے میں ظفر اقبال زیادتی کر گزرے تھے ۔ پھر جب فاروقی صاحب ۲۰۱۶ میں لاہور آئے تو اُنھوں نے کہا ، میاں ناطق ظفر اقبال کے ہاں چلنا ہے۔ ظفر اقبال صاحب اُن دنوں لاہور میں اپنے بیٹے آفتاب اقبال کے فارم ہاوس پر تھے اور کچھ صحت کی درستی سے نہیں تھے مگر ملنے کو بے چین تھے ۔اُنھوں نے گاڑی بھیج دی اور ہم بیٹھ کر فارم ہاوس پہنچ گئے ۔ اِس بار بھی مہر افشاں فاروقی صاحبہ ساتھ تھیں ۔ غرض دونوں طرف سے دل صاف ہو گئے ۔ شکرنجیاں شیرینیوں میں بدل گئیں ۔ بہت کچھ مہرو محبت کی باتیں ہوئیں اور گِلے شکوئے کی ایک بھی نہ کہی ۔ اب یہاں ایک اور مزے کا قصہ سُنیے ، فاروقی صاحب نے پہلے بھی کئی دفعہ فراق کو بُرا شاعر کہا اور لکھا ہے اور یہاں مختلف باتوں میں جب اُس کی بات ہوئی تو بھی اُنھوں نے اُس بچارے کو روند کے رکھ دیا اور کہا ،سالا پھکڑ تھا ،شاعر کہاں تھا۔ وہیں ظفر اقبال صاحب کا بیٹاآفتاب اقبال بیٹھا تھا ، اُس کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ روز فرہنگِ آصفیہ سے ایک لفظ دیکھ کر آ تا تھا اور ٹی وی پر اُس کے معنی بتا کر عوام الناس پر علمی و ادبی دھاک بٹھاتا تھا اور داد پاتا تھا ۔


ہوا یہ کہ فاروقی صاحب کسی لفظ کے استعمال کی بابت بات کر رہے تھے ،کہ فراق نے کتنے بُرے طریقے سے استعمال کیا ہے اور ہم سب چُپ بیٹھے سُن رہے تھے مگر آفتاب اقبال نے تو فرہنگ ِ آصفیہ پڑھ رکھی تھی ، بحث پر اُترنے لگے اور مزے کی بات کہ اُسے اُس لفظ کی نفسیاتی ،جمالیاتی اور معنوی اُپج تو ایک طرف ،تلفظ تک کا نہیں پتا تھا ۔ فاروقی صاحب نے ایک دفعہ کہا، میاں فرہنگ سے زبان نہیں آتی ، یہ تیرے ابا خوب جانتے ہیں مگر اُس نے بحث جاری رکھی ۔ مَیں نے روکا اور اُسے خاموش رہنے کا کہا مگر وہ تو جیو ٹی وی کے علامہ تھے ،میری کب سُنتے تھے ۔ نہ چپ ہوئے اورپھردرمیان سے بول پڑے ۔ اب فاروقی صاحب کا فشار ِ خون تھرما میٹر کے حکم سے باہر ہو گیا ۔ ایک دم اُس کی طرف مڑ کر بولے ، او بے جاہل مطلقِ ! کیا ٹیں ٹیں کیے جا رہا ہے ، گیدی کہیں کا ۔ یہ تمھارا باپ جو بڑا شاعر ہے ،یہ چُپ بیٹھا ہے ، یہ ناطق جو بڑا شاعر بننے جا رہا ہے ،یہ بھی خاموش بیٹھا ہے اور تُو بولے چلا جاتا ہے، چُپ ہو کے کیوں نہیں بیٹھتا ۔ پھر جو فاروقی صاحب نے اُس کی درگت بنائی ،کچھ نہ پوچھیے ، تب تو صاحب وہ علامہ صاحب کچھ ہی دیر میں کان لپیٹ کے نکل لیے اور ہم جی میں بہت خوش ہوئے کہ صاحب آج اچھا پکڑا ، مگر اگلے ہی پروگرام میں پھر فرہنگِ آصفیہ کھولے بیٹھے تھے ۔ اب ٹی وی کے بھانڈ دیکھنے والوں کو کیا خبر، حضرت کتنے پانی میں ہیں ۔ وہیں بیٹھے ہوئے ایک اور بھی درفتنی ہوئی ، وہ کل بتائیں گے ۔

آخری قسط

, شمس الرحمن فاروقی صاحب ایک عہد کا مرقع

ظفر اقبال کے گھر وہیں تحسین فراقی صاحب بھی موجود تھے۔ سب کو کھلا معلوم ہے کہ فراقی صاحب جماعت اسلامی سے تعلق رکھتے ہیں اور جیسا کہ معدودے چند کو چھوڑے کر جماعتیوں کی عادت ہے اپنی طرح کے مذہب کو سامنے رکھ کر ہر اُس آدمی سے بغض رکھتے ہیں جس کے ماتھے پر علم و ادب کی تھوڑی سی روشنائی بھی جھلکتی ہو ۔ اِن کو مذہب کا بانس ایسا چڑھا ہوا ہے کہ نکلنے کا نام ہی نہیں لیتا ۔ وہاں بھی یہی ہوا ، فراقی صاحب نے اِدھر اُدھر کی باتوں سے کہیں جوش صاحب کا نام لے کر اُسے مطعون کرنا شروع کر دیا ۔

پہلے اُس کی شراب نوشی کو بیچ لایا اور اِدھر اُدھر کی ہانکنے لگا ۔ اِدھر مجھے شدید غصہ آ گیا لیکن بڑوں میں بولنا مناسب نہ سمجھا ۔ فراقی صاحب جانتے تھے کہ فاروقی صاحب کو جوش کی شاعری کچھ پسند نہیں ہے اِس لیے کچھ زیادہ لبرٹی لے گئے مگر میری طبیعت بہت منغض ہونے لگی ۔ ظفر اقبال بھی چپ بیٹھے سنا کیے ۔ لیکن حد تب ہوئی جب فراقی نے اِسی گفتگو میں اقبال کی بات چھیڑ دی اور کہا کہ جوش اِس قدر احسان فراموش تھا کہ اقبال نے حیدر آباد دکن کے وزیراعظم کو خط لکھ کر جوش کو وہاں نوکری دلوائی اور وہی جوش اقبال کو گالیاں دیتا رہا ۔ فاروقی صاحب نے فوراً اِس بات کی تردید کی مگر مجھے لگا کہ صرف تردید ہی حل نہیں ہے ۔ اب مجھ سے نہ رہا گیا ، مَیں نے کہا کہ فراقی صاحب ،اقبال کے وہ خطوط جن میں اقبال خود سر اکبر حیدری اور نواب ذوالفقار سے دکن میں اپنی ملازمت کی منتیں کرتا رہا ہے ، ابھی تک محفوظ ہیں ۔ اُنھوں نے خود اِسے وہاں ملازمت نہیں دلوائی اور کہا یہ شاعر بندہ ہے اِسے کام نہیں آتا ۔ اور جج کے عہدے پر تو ہرگز نہیں لگایا جا سکتا ۔ حتیٰ کہ اقبال دونوں صاحبان سے ناخوش ہو گئے حالانکہ سر اکبر حدیدری نے ۵۰۰ ماہانہ اقبال کا وظیفہ بھی لگا رکھا تھا ۔ جسے خود وہاں نوکری نہ ملی وہ جوش کو کیسے ایک خط پر ملازمت دلوا گیا ۔ اب مَیں چونکہ زیادہ تپ گیا تھا اور چلتے چلتے یہ بھی کہہ دیا ، کہ مولوی محمد حسین آزاد ۱۹۱۰ تک زندہ رہے ، اور اقبال اُن کے گھر کے قریب ہی رہتا تھا مگر مجال ہے زندگی میں اقبال نے کبھی مولانا محمد حسین آزاد سے ملنے کا ارادہ کیا ہو یا اُن کے بارے میں کوئی خیر کے کلمات ہی ادا کیے ہوں ، ایک جملہ تک اُس کی تعریف نہیں کہا ۔ ہاں مگر حالی ، شبلی اور سر سید کے قصیدے کہتا رہا ۔اپنی نظموں میں اُن کا زکر کرنا نہ بھولا ۔ معاملہ در اصل یہ تھا ۔ اقبال کو معلوم تھا آزاد تو مجذوب ہو گیا ہے ، اِس سے مجھے کیا ملے گا؟ ، البتہ حالی ، شبلی اور سر سید حتیٰ کہ حسن نظامی کچھ نہ کچھ نجی فائدے میں کام آ سکتے ہیں لہذا اُن کا جا بجا ذکر کرتے تھے ۔ جو آدمی اپنے ذاتی مفاد اور شہرت کے لیے اتنا باریکی سے سوچے وہ جوش کو کس آلو پر رکھے گا ۔ اقبال بلا شبہ عظیم شاعر تھا مگر معزرت کے ساتھ عظیم انسان بالکل نہیں ۔ میری اِس بات پر حضرت صاحب بِھنا ہی تو گئے۔ اب مجھے کیا ، مَیں نے کون سا اِن لوگوں کی ڈگڈگی پر ناچنا ہے کہ یہ باتیں نہ کہوں ۔ ایک اور بات کہتا جاوں ، احباب کہیں گے میاں کچھ خیال کرو فراقی صاحب بزرگ آدمی ہیں۔ تو اُن سے عرض ہے خود جوش صاحب جنھیں وہ گالیاں دے رہے ،وہ اُن سے بھی زیادہ بزرگ آدمی تھے ۔


خیر جی آدھی رات وہیں ہو گئی ، تب پرتلکف کھانا کھایا اور نکل آئے ۔ البتہ ظفر اقبال صاحب اور فاروقی صاحب کے دلوں کا مَیل ہمیشہ کے لیے جاتا رہا۔ اُس کے بعد فاروقی صاحب بھارت چلے گئے لیکن مَیں گاہے گاہے ظفر اقبال کی طرف جا کر اُن کی فاروقی صاحب سے فون پر بات کراتا رہا ۔ اور قسمت سے مَیں تب لاہور چلا گیا تھا ۔


اب ایک بات آپ دوستوں کے گوش گزار کر دوں ۔ ۲۰۱۸ میں مَیں نے ایک پروگرام بنایا کہ جیسے مولانا محمد حسین آزاد نے آبِ حیات لکھی ہے اور داغ سے پہلے شاعروں کا اُس میں تذکرہ ہے، ایک آبِ حیات مَیں بھی لکھوں اور اُسی طرز پر لکھوں مگر اُس کتاب کا نام بابِ حیات رکھوں۔ اُس میں داغ دہلوی سے لے کر اب تک کے پچاس شاعروں کا تذکرہ لکھوں ۔ زبان بھی ویسی ہی ہو ’’جیسی فقیر بستی میں تھا ‘‘ کی زبان ہے ۔ فاروقی صاحب سے مَیں نے اپنے اِس ارادے کا ذکر کیا ۔ اور مفصل اُن سے گفتگو ہونے لگی ۔ وہ میری اِس بات پر بہت خوش ہوئے اور مجھے چالیس نام چُن کر دیے کہ اِن کو اُس کتاب میں شامل کرنا اور باقی دس نام اپنی مرضی کے رکھ لینا ۔ اِس سارے معاملے کو ارسلان احمد راٹھور بھی جانتا ہے ۔ یہ چالیس نام میرے پاس محفوظ ہیں ۔اِسی طرح کچھ نثر کے دیوتاوں پر بھی لکھوں گا ۔ ۲۰۱۸ میں فاروقی صاحب نے مجھے ایک انوی ٹیشن لیٹر بھجوایا کہ میاں ایک بار مل لیجیو تاکہ اُس پراجیکٹ پر بیٹھ کر تسلی سے پروگرامنگ کر لیں ۔ یہ لیٹر سُمت بترا کے ذریعے بھجوایا جو ہندوستان کا ایک بڑا بزنس مین ہےاور ہمارا بھی دوست ہے ۔ اور ویزے کی بہت کوشش کی مگر مودی کی برکت سے ویزہ نہ لگا جس کا فاروقی صاحب کو اور خود مجھے بہت قلق ہوا ۔ البتہ اُن سے گاہے گاہے فون پر باتیں ہوتی رہیں ۔


پچھلے دِنوں وہ عکس پبلی کیشن والوں سے کافی بگڑ گئے اور مجھے کہنے لگے میاں ناطق دیکھو اُنھوں نے میرے ساتھ کیا کیا ، مَیں نے کہا فاروقی صاحب آپ ہمارے لیے اُنھیں معاف کر دیجیے کہ وہ ہمارے ساتھ بھی یہی کچھ کر رہے ہیں ۔ ایک دن کہنے لگے ناطق میرا ارادہ ہے کہ آپ کے تمام کام پر ایک مفصل مضمون لکھ دوں مگر تھکاوٹ بہت ہو جاتی ہے۔ مَیں نے عرض کیا حضور آپ اب لکھنے وکھنے کا کام چھوڑیے اور آرام کیجیے ، آپ نے جو کچھ جملے لکھے ہیں وہی سند ہیں ۔


اور پھر فاروقی صاحب کو کرونا ہو گیا ۔ ایک دن جہلم بک کارنر پر بیٹھ کر مَیں نے اور امرشاہد نے بہت دیر اُن سے باتیں کیں ۔ کہہ رہے تھے اب ٹھیک ہو رہا ہوں مگر اُنھیں بہت سانس بھر آتی تھی اور مجھے یہی اندیشہ تھا اور وہ اندیشہ سچ ہوا ۔ اُس کے تیسرے ہی روز چل دیے ۔ اور عالم تمام سیاہ پوش ہو گیا ۔ حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا
فاروقی صاحب کی تنقید اور تخلیق کے بارے میں ہم کیا رائے دیں گے۔ ہم نے کہیں لکھا تھا کہ فاروقی صاحب ہمارے دیوتا ہیں اور دیوتاؤں کو پوجا جاتا ہے ،اُن پر تبصرے نہیں کیے جاتے۔ پھر بھی مناسب ہے کہ یہاں اُن کی تخلیقی اور تنقیدی بصیرت کی اُپج کا کچھ بیان ہو جائے ۔ فکشن کے حوالے سے تو یہ ہے کہ جس قدر مغل سماج اور معاشرت کی زندگی کے عوامل ہیں ،وہ اُن کی کہانیوں اور ناول میں ایسے ڈرامائی طور سے سامنے آتے ہیں کہ قاری اُس ماضی کو پڑھنے کی بجائے دیکھتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں فاروقی صاحب کا قاری ،قاری نہیں ہوتا ،ناظر ہوتا ہے اور وہ نظارہ بیں بھی ایسا کہ فاروقی صاحب کے پیدا کردہ زمانوں کے فرد کا خود روپ دھا رلیتا ہے اور زندگی گزارتا ہے اُنھیں زمانوں میں ، اُنھیں افسانوں میں ، اُنھی مکانوں میں۔ بلکہ یوں کہہ لیں فاروقی صاحب کا ناظر صدیوں کے اوراق تہہ کر کے دہلی کے قہوہ خانوں میں قہوہ نوشی کرتا ہے ، حویلیوں میں مجلسیں جماتا ہے ، کٹڑوں میںہمسائگی رکھتا ہے ،چوکیوں اور چوباروں پر بیٹھکیں کرتا ہے اور اِن سب میں اُس کی تمام محسوسات سے لے کر کیفیات تک فطرت کا حصہ بن جاتی ہیں۔ مجھے یاد ہے ، جب فاروقی صاحب نے کئی چاند تھے سرِ آسماں میں تراب علی خاں کو ٹھگوں سے مروایا ، مجھے اول تو کئی دن تک خواب میں تراب علی خاں کاہاتھی گھوڑوں کے بیوپاری کی حیثیت سے سفر کرنا ،پھر سفر کے دوران شہروں اور بیابانوں کی منظر کشی اورآخر کار ٹھگوں کا اُس کو مارنا دکھائی دیتا رہا ، پھر اِس بات پر کئی مہینے غصے میں رہا ،آخر تراب علی کو ضرورت کیا تھی ٹھگوں پر کاعتماد کرنے کی اور جو نواب شمس الدین کی پھانسی کا واقعہ تھا اُس کے تو ہم ایسے ناظر بن گئے کہ انگریزوں کے پانچ سو گُھڑ سوار سپاہی ، پھانسی کا جھولا اور نواب کی پھانسی گھاٹ پر آمد ابھی تک آنکھوں میں اَٹکی ہوئی ہے ۔ اِسی طرح سوار اور دوسری کہانیاں اور قبضِ زماں کے زمانے اور اُن کی تصویریں ، مرزا فرحت اور مولوی آزاد کے بنائے ہوئے مرقعوں سے یکسرمختلف ہونے کے باوجود اُن سے ایسے متصل ہیں کہ قاری کے ذہن پر نقش ہو کر رہ جاتے ہیں ۔ فاروقی صاحب کا ایک ایک افسانہ ایسا متحرک مرقع ہے جس میں زمانوں کی شبیہوں کے رنگ آبِ حیات میں گُندھ کر صفحہءہستی میں بکھیرے گئے ہیں ۔ کوئی شک نہیں ، اُن کی تحریریں ایک طرف آنکھوں کو دوربین عینکیں بخشتی ہیں تو دوسری طرف زبان کی گرہیں کھولتی ہیں ۔ ہم نے تو بھائی دہلی اور اُس کے مضافات کی جو سیر کی ہے اُس میں ستر فی صد فاروقی صاحب کی تحریروں کا کمال ہے ۔ ہم نے بس اتنا کیا ، اُنھیں پڑھ گئے ۔ اِس قبضِ زماں ہی کو لیجیے ۔ مشکل ایک سو صفحات کا ناولٹ ہے مگر جیسی پرانی دہلی کو اُس میں مصور کیا گیا ہے ،اُنھیں کا کام تھا ۔


فاروقی صاحب کے تنقیدی کام کو آپ تخلیق کی جمالیاتی پرتوں کے تہہ در تہہ مطالعے کا نام دے سکتے ہیں ۔ فاروقی صاحب تنقید میں فن پارے کو سمجھانے کی بجائے خود سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اِن دونوں یعنی قاری کو سمجھانے اور خود سمجھنے کے نقطہ ہائے نظر میں فرق یہ ہے کہ جب کوئی نقاد سمجھانے کی کوشش کرے تو سمجھیں نقاد تخلیق کار پر اپنی نظریاتی اساسوں کا حکم لگا رہا ہے ۔اِس عمل میں وہ فن پارے کو نہ صرف اپنے دماغ کے محدود اور سطحی دائرے میں لے آتا ہے بلکہ اپنے قاری کو بھی اُسی محدود اور سطحی بیانیے اور جمالیات میں بند کر دیتا ہے ۔ یہ ایک ایسی غلطی ہے جو قاری تو ایک طرف نقاد کے سیکھنے کی اہلیت کو بھی کھا جاتی ہے ۔ پچھلے دنوں ایک نقاد صاحب جو آجکل ایک ادارے کے انچارج بھی ہیں، کی اِسی سوچ کی غماز ایک کتاب منظر پر آئی ہے ،، نظم کیسے پڑھیں ،،۔ اول تو اِس کتاب کا نام ہی ایڈورڈ ہائرچ کی کتاب ،ہاؤ ٹو ریڈ پوئم ،،سے چرایا ہوا ہے ۔ اگرچہ موجودہ پاکستانی نقاد کی اِس کتاب کو اُس سے کچھ علاقہ نہیں مگر آپ نے دیکھا کتاب کا عنوان ہی پکار پکار کر نقالی ،تنگ نظری اور محدود رویے کا اعلان کر رہا ہے ۔ یعنی اگر آپ نے یا کسی نے بھی آئندہ اِس کتاب کو پڑھے بغیر کوئی نظم پڑھی تو آپ کا یہ قدم غلط ہو گا کیونکہ بقول نقاد اُس نے طے کر دیا ہے کہ جو فارمولا اُس نے نظم پڑھنے کا پیش کیا ہے ،وہ حتمی اور بے نقص ہے اور اُس سے آگے نہیں جایا جا سکتا ،نہ اُس سے زیادہ سیکھا جا سکتا ہے ۔بر عکس اِس کے فاروقی صاحب کا کمال یہ ہے کہ وہ قاری کو ساتھ بٹھا لیتے ہیں اور اُسے امکانات دیتے ہیں۔ وہ امکانات لفظ کی لغت کی بجائے ، سماج ، تاریخ ،محاورے اور روز مرہ کی مختلف شکلوں اور رعایتوں سے کشید ہوتے ہیں ۔ اُن امکانات کی روشنی میں قاری کو فن پارے کے سمجھنے میں اور اپنی طرف سے نئی منزلیں تلاش کرنے میں معاونت ملتی ہے ۔ فاروقی صاحب کے یہ امکانات تعقل کے ساتھ ساتھ جمالیاتی ہوتے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ ادب میں تنہا تعقل ہمیشہ راہ کو محدود کر دیتا ہے اور جمالیاتی تعقل سے مزید راہ پیدا ہوتی ہے ۔ آپ فاروقی صاحب کی کوئی تنقیدی کتاب اُٹھا لیں ، شاعری پر ہو یا فکشن پر ۔ اُن کی تنقیدی بصیرت اشیا کی ٹائپیکل حالت کو رد کرتی ہے اور اُس جمالیاتی استعارے کی تلاش میں رہتی ہے، جسے شاعر کی اختراع ساز طبیعت اپنے اندرون سے اُٹھاتی ہے ۔ اُن کے ہاں ادب میں نیا استعارہ سب سے اہم ہے اور وہ اساطیری وجود کا حامل ہوتا ہے ، نہ کہ جدید و مابعد جدید ادبی تھیوریاں ۔اِس معاملے میں اُن کی کتاب، شعر ،غیر شعر اور نثر پڑھنے کے لائق ہیں ۔ ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے فا روقی صاحب نے شعر شور انگیز میں میر کے اکثر اشعار میں خود معنی ڈالنے کی کوشش کی ہے ۔ اُن صاحب کی بات کا جواب یہ ہے کہ اُنھوں نے لفظوں کو لغت سے پہچاننے کی کوشش کی ہے ،جبکہ میر جیسے شاعر کو پڑھنے اور سمجھنے کے لیے جب تک فاروقی صاحب کی تنقید سے شعور حاصل نہ کیا جائے گا لفظ اپنی اصلی پہچان نہیں دیں گے ۔ وہ شعور یہ ہے کہ شعر کو سمجھنے کے لیے لفظ کو رعایت سے پہچانا جائے اورایک لفظ کی جتنی رعایتیں دریافت ہو سکتی ہیں ،اُن سب کا احاطہ کیا جائے ۔ اِس سے فائدہ یہ ہو گا کہ کوئی نہ کوئی رعایت ایسی نکلے گی جس سے شعر کے اندرموجود بالکل نئے معنی دریافت ہوں گے اور وہی معنی شاعر کی عظمت کی دلیل ثابت ہو سکتے ہیں ۔ اگر شعر کو بنیادی اور بیان کردہ بوسیدہ تھیوریوں سے سمجھنے کی کوشش کی جائے گی تو نئی رعایت کی دریافت تو ایک طرف ،بڑے شاعر کے شعر کو سمجھنا ہی محال ہو جائے گا ۔ جس آدمی نے شعر شور انگیز اور تفہیم غالب کا مطالعہ کر رکھا ہے، اُس کے لیے یہ بات بالکل عجیب نہیں کہ وہ شعر کی تفہیم کرنے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ لفظ کے تاریخی ،سماجی ،معاشرتی اور ارتقائی مرحلوں سے اُس کی مختلف رعایتوں کا مطالعہ کرتا معنی کی اُس تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے جہاںشاعر نے نئے معنی پیدا کرنے کے لیے غوطہ زنی کی ہے اور نئے استعارے کی شکل وضع کی ہے ۔ ظاہر ہے اگر نئے استعارہ کی پیدائش آسان نہیں تو اُس کو سمجھنے کی تربیت بھی کچھ آسان کام نہیں ۔ یہ بات تو ہم سب جانتے ہیں کہ شعر کی لغتی شرح کسی بھی شعر کے لیے زہر ہے لیکن قاری کو لغتی شرح سے دُور کرنے کا کام سوائے شمس الرحمان فاروقی کے آج تک کسی نے نہیں کیا ۔

شیئر کریں

کمنٹ کریں