ایک گدھے کی سرگزشت

ایک گدھے کی سرگزشت
ایک گدھے کی سرگزشت

تحریر: بسمل آزاد

کرشن چندر کا شُہرہ آفاق ناول ہے ۔ حرف اوّل سے آخر تک مصنف نے سماجی رویوں ،جنسیاتی تفریق اورذہنی پس ماندگی کو ایک گدھے کی آپ بیتی کے ساتھ جوڑکر ،دلنشین پہرائے میں ، جدلیاتی طرزِاستدلال کے ساتھ اپنامدعا بیان کیا ہے ۔ سماج کی بُنت کے اجزائے ترکیبی ،اگر مروجہ سطحی طرزِمعاشرت کے موافق نہ بھی ہوں ،تو بھی تمدن وجود پذیر ہوجاتا ہے ۔ غلام عباس کا ’’آفسانہ آنندی‘‘کے بعد کرشن چندر کے ناول ’’ایک گدھے کی سرگزشت‘‘ انہیں حدوداربعہ کے گرد گومتی کہانیاں ہیں ۔ جو سماج کی بے ضابطگیوں کے باوجود سماجی مشق ہونے کا اقرار کرتی ہے ۔


برسبیل تذکرہ ۔ ۔ ۔ !خیال یہ کیا جاتا ہے کہ کہانی جھوٹ پر مبنی قلم کاری ہوتی ہے،جس کا’’ سبجیکٹ‘‘ سے موافق تعلق نہیں ہوتا ۔ اس خیال کو کلی طور پر قابل ِقبول نہیں کیا جاسکتا ۔ موضوع ہمیشہ سماج ،سبجیکٹ ہی فراہم کرتا ہے ۔ سماجیات کا طالب علم ،لکھاری کسی جامد چیز کو محرک کا کردار دے کراُن عناصر کو زیرِبحث لانے کی کوشش کر تا ہے ،جو عمومی طور پر نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں ۔


کرشن چندرنے اپنے ناول’’ ایک گدھے کی سرگزشت ‘‘ میں بولتے گدھے کو بطور کردار لیا ہے ۔ یہ اشتراک حیوانیات کے مسائل کے ساتھ ،ان کا انسان کے ساتھ ’’ریلیشن ‘‘سمجھنے میں ممد ثابت ہوتا ہے ۔ جدلیاتی طریقہ ِکار کے تحت ہونے والی برائی پر نشاندہی مطلوب ہے ،جس کی طر ف انسانی ِرجحان کم ہی ہوتا ہے ۔ فلسفیانہ طرز فکرکے ساتھ ’’مقصود‘‘ چیز کو نکھار کر واضح سبجیکٹ بنادینا ،لکھاری کے لیے تو ذہنی مشق ہوسکتی ہے ،لیکن اس ریاضت میں قار ی کے لیے ’’بور پن ‘‘ کا عنصر بھی تلازمہ بن جاتا ہے ۔ کرشن چندر نے کہانی کے سپاٹ میں اس ابہام کو پہلی ہی فرصت میں ختم کر دیا ۔ یعنی ایسا گدھا جو انسانوں کی طرح بولتا ہے ،کتاب بینی کا شوق رکھتا ہے، مختلف سماجی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ساتھ انتہائی فنکاری کے ساتھ اپنے خو(دو لتی )کا استعمال بھی کرتا ہے ۔ برابر تحسین آمیز کلمات کے طور پر ،مدلل گفتگو کے بعد ’’ڈینچوں ڈینچ ‘‘کی صدائیں بلند کرتاہے ۔ بولتا گدھا جب عالیٰ شعوری گفتگو کرتا ہے ،اول ’’وہلے‘‘ میں قاری یہ قدر ہی بھول جاتا ہے کہ وہ ایک انسان کو سن رہا ہے یا گدھے کو ۔ کرشن چندر جلد ہی گدھے کی عادات بیان کردیتے ہیں تاکہ اصل مقصود جسے وہ بیان کر نا چاہتے ہیں ،قاری کے سامنے سے اُجھل نہ ہو ۔


’’بارہ بنکی ‘‘کا گدھا ان الفاط سے مخاطب ہوتا ہے’’ ۔ حضرات! میں نہ کوئی سادھو فقیر ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ نہ شری سوامی گھگھا مانند کاچیلا ہوں ،نہ جڑی بوٹیوں والاصوفی گورمکھ سنگھ ہوں نہ ہی ڈاکٹر ،نہ حکیم ہوں ،نہ کسی ہمالیہ کی چوٹی پر مقیم ہوں ، میں نہ کوئی فلمی سٹار ہوں ،نہ سیاسی لیڈر میں تو بس غلط کاریوں کے باعث اخبار بینی کی مہلک بیماری لاحق ہو گئی تھی ۔ ‘‘ یہ بنیادی چیز جو ایک گدھے کو باقی گدھوں سے ممتا ز کرتی ہے ۔ بارہ بنکی کا گدھا اسی علاقے میں ایک عمارت کی اینٹیں ڈھونے پر معمور ہے ۔ سید کرامت علی جانے مانے بیرسٹر ہیں ۔ جو اس عمارت کی تعمیر کروا رہے ہیں ۔ انہوں نے سب سے پہلے لائبیری بنوائی جہاں وہ سارادن کتاب بینی کے ساتھ مختلف جرائد کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ بولنے والا گدھا انہیں کے کہاں مطالعہ کے شوق سے آشنا ہوجاتا ہے ۔ مطالعہ کرتے ہوئے وہ اپنے مالک کو پورا کام نہیں دیتا، جس کی وجہ سے اس کا مالک کم اجرت پاتا ہے ،باقی گدھو ں کی مانند کم اینٹین اُٹھا نے پر بولنے والے گدھے کو اس کا مالک ڈنڈوں سے خوب پیٹتا ہے ۔ لیکن ایک انسان اور ایک گدھے کا طرز مطالعہ کیسا ہے ;238;انسان اخبارات میں سرمایہ کے اشتہارات اور دولت کمانے کے ذراءع،اپنے مفادات میں استعمال ہونے والے ہتھکنڈو کو اخبارات کی شہ سرخیوں میں تلاشنے کی کوشش کرتے ہیں ،جبکہ اسی اخبار میں ایک جانور لوگوں کا استحصال ،قتل وغارت ،بھوک وننگ جیسی سماجی بے راہ رویوں پر نگاہ رکھے ہے ۔ اسے یہ دیکھ کر دکھ بھی ہوتا ہے کہ جریدے کے ایک ہی صفحے پر انسان کے دلسوز قتل کی خبر لگائی گئی ہے ،وہیں سونا کی مارکیٹ کا مندی کا شکار ہونا شہ سرخی ہے ،لیکن انسان اس مندی پر ہاتھ پیٹتا ہے ،جبکہ ایک گدھا دلسوز قتل کی بنیاد پر پریشان ہے ۔


بولنے والا گدھا اپنے مالک کے عتاب سے تنگ آکر مالک سے چھپ چھپا کر نکل جاتا ہے ۔ بارہ بنکی سے دہلی شہر میں نکل جاتا ہے ۔ راستہ میں وہ کسی مسلمان کی مدد کرتا ہے ۔ ایسا مسلمان جو ہندو مسلم دہنگل میں بچ نکلنے کی راہ تلاش کرتا ہے ۔ گدھا ایک مظلوم انسان کی مد د سے دلی خوشی محسوس کرتا ہے ۔ لیکن مولوی صاحب اسے مال غنیمت سمجھ کر ہتھیا لیتے ہیں ۔ بولنے والا گدھا منت سماجت کرتا ہے کہ اسے چھوڑدیا جائے ۔ بھلائی کا بدلا بھلائی والا مقولہ یہیں چوپٹ ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ وہ انسان کو کتابوں کی فہرست کے تحت دیکھنے کی تمنا کرتا ہے ۔ لیکن جونہی اُسے انسانوں سے واسطہ پڑتا ہے وہ اس تضاد کو ذہنی کوفت سمجھنے لگتا ہے ۔


یہاں سے فرار کے بعد جمنا پاررامودھوبی کے ہاتھ چڑ جاتا ہے ،دن گزرتے جاتے ہیں لیکن وہ یہاں اخبار بینی ،کتابیں نہ پا کر کافی تنگ ہوجاتا ہے ،لیکن انہیں ایام میں جمنا، جو کہ میونسپل کمیٹی کی جگہ ہوتی ہے،لارمودھوبی کو کپڑے دھوتے ہوئے ایک مگرمچھ کھا جاتا ہے ۔ رامودھوبی کی بیوی اور بچے اس وجہ سے نڈھال ہیں کہ ان کی کفالت کون کرئے گا ۔ بولنے والا گدھا انہیں یقین دلاتا ہے کہ وہ ان کے لیے میونسپل کمیٹی سے وظیفہ جاری کروائے گا ۔


بولنے والا گدھے خود کو کسی بھی حوالے سے ممتاذنہیں سمجھتا،دفاتر میں وہ بہت سے لوگوں سے ملتا ہے ،لیکن اسے یہ کہہ کرچلتابنادیتے ہیں کہ یہ مسئلہ ہمارے متعلقہ نہیں ہے ۔ کوئی اس چیز پر اچھنبے کا اظہار کرتا ہے کہ گدھا کیسے بول سکتا ہے ۔ کچھ اسے بہروپیا سمجھ کر’’ ٹریٹ‘‘ کرتے ہیں ۔ انسانیت کی خدمت کے لیے بھی درجات ہوتے ہیں ،یہ وہ بنیادی نکتہ تھا جسے مصنف آشکار کرنا چاہتے ہیں ۔
مختلف حالات سے گزر کر وہ کسی نہ کسی طرح اس وقت کے بڑے سیاست دان جواہر لال نہرو سے ملاقات کرتا ہے ۔ جواہر لال نہرو بولنے والے گدھے کے ساتھ انتہائی دلنواز سلوک کرتے ہیں ،وہ رامودھوبی کا واقعہ انہیں بتاتا ہے ،نہرو صاحب اسے بتاتے ہیں کہ ہمارے پاس اس طرح کا کوئی ڈیپارٹمنٹ نہیں جو اس مسئلہ کو حل کر سکے ۔


اسی اثنا ء مختلف چینلز بولنے والے گدھے سے انٹرویو کرتے ہیں ،جس کے بعدوہ ملک کے اکناف میں شہرت پاتا ہے ۔ وہی لوگ جو اسے رامو دھوبی کی بیوی کی مدد کرنے سے دور بھاگتے تھے ،بولنے والے گدھے سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ نامور سیاست دان بولنے والے گدھے سے وقت لیتے ہیں ۔ اسے مختلف پارٹیز میں انوائیٹ کرتے ہیں ،ایسی محافل جہاں صرف چیدہ چیدہ لوگو ں کو مدعو کیا جاتا ہے ۔ قدآور شحصیات اپنی بیویوں کو بھی بولنے والے گدھے سے ملاقات کرواتے ہیں ۔ اس کی وجہ اس گدھے کا شہرت یافتہ ہونا ہے ۔
سرکردہ لوگوں کا اس سے ملاقات کرنے کی بڑی وجہ ،وہ بھی ٹی وی کی اسکرین کی ذہنیت بنیں گے ،ان کا نام بھی مختلف اخبارات میں آئے گا ۔ انسان کی ذہنی کثافت اس قدر مکدّر ہے کہ ایک جانور کے ساتھ زیبِ داستان بننے میں بھی عار محسوس نہیں کرتا ۔ ملک کی نامور لڑکیوں کو گدھے سے پیار ہوجاتا ہے ۔


کرشن چندر ناول کا اختتام بھی دو لڑکیوں کی لڑائی پر کرتے ہیں ،جو زندگی اس گدھے کے ساتھ گزاناچاہتی ہیں ،جو ملک کا شہرت یافتہ گدھا ہے ۔ گدھے رامو دھوبی کی بیوی وبچوں کی بے بسی کو یاد کرتاہے کہ ان مذّین عورتوں سے رامودھوبی کی بیوی اچھی ہے جو اس سماج میں گھسی پٹی ہے ۔
کرچن چندر رومان کو کسی نے کسی درجہ میں کہانی میں فٹ کر ہی دیتے ہیں ،اگرچہ وہ رومان اس جگہ غیر فطری ہی کیوں نہ ہو ۔
ایک گدھے کی سرگزشت ادبی دنیا میں فن پارہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔

شیئر کریں

کمنٹ کریں