ایک ناقد کی موت

شاعر : خلیل مامون

, ایک ناقد کی موت

خدا مرگیا ہے
فرشتے
مصروف ہیں
حمد و ثنا میں
مناجات میں
اگر وہ خدا تھا
تو کیسے مرا وہ
موت اگر اسکو آی تو کیسے
سارے الفاظ چپ
ساری کتب
بند الماریوں میں پڑی ہیں
ایسے جیسے
کچھ ہوا ہی نہ ہو
نئی باتِیں
پرانی
داستانیں
کسی بوڑھے پیپل کے نیچے
سوئی پڑی ہیں
بیچ کر اسپ تازی
سرِ آسماں تھے کئ چاند
مگر وہ
دھول میں لپٹے
زمیں پر پڑے
ٹوٹے تاروں کو چمکا نہ پائے
چاند اور آسماں سب اسی کے لیے تھے
خدا اپنی خود غرضیوں کے
طیارہ میی اڑرہا تھآ آکیلا
اپنی انا کی
کہکشاوں میں روپوش تھا
زمانے میں
اسکے علاوہ
کسی.کا بھی
طوطی بولتا ہی نہ تھا
کسی دوسرے کو
بولنے کی اجازت نہیں تھی
اسکے مرنے کے بعد
کسی کو خلافت ودیعت نہیں تھی
اس نے
کسی کو بھی
اپنا پیمبر بنایا نہیں تھا
اب آگے
یہ معصوم بندے
کہاں جائیں گے
کس کی باتں سنیں گے
رٹ لگایں گے کس کی
اب وہ ڈھونڈیں گے کیسے
منزل کسی کام کی
شفاعت کسی نام کی
نیستی کی طرف
بڑھتا ہوا
پھٹا میلا علم
اب اٹھائے گا کون
تہذیب کے
منہدم کھنڈرات میں
جھوٹ سے نکلتے مدھم دھوئیں
کے دیے
اب جلائے گا کون
کون اب
ترقی پسندی کے
نعرہ زن بھوت کو
بھگائے گا
کون اب
جدت کے بے روح عفرت کو
سچ کی زنجیر سے
آزاد کر پائے گا
مغرب کے اللہ کو
اب نیا بت بنا نا پڑےگا
اب
نئ تہذیب کی
سرقہ آمیز
مانگے کا نور
بانٹنے کے لئے
کون
بھولے بھالے ادیبوں کو
ورغلاے گا
شعر کا
بے مایہ بے اسحلہ لشکر بنائے گا کون
جنگ کے واسطے
جس میں
کوئی حملہ آور
کوئی عدو بھی نہیں ہے,
مرنے والے تو مر جاتے ہیں
قبر کے اندھے کنویں میں
جاکے سوجاتے ہیں
مگر ان کے خیالات
لفظ و افکار کے
ننھے کیڑے
ہر جگہ پھیل جاتے ہیں
صفحہ ارض پر
نور امروز پھیلانے کے واسطے
تیز اجالے میں
ساری نظرِیں
ٹیڑھی ہوجاتی ہیں
ہر طرف
کبر وریا کے
گندے بادل چھآ جاتے ہیں.

, ایک ناقد کی موت
شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں