اکیسویں صدی میں پنجاب کے اہم اُردو افسانہ نگار: ارشد منیم

مضون نگار: رخسانہ

, اکیسویں صدی میں پنجاب کے اہم اُردو افسانہ نگار: ارشد منیم

اردو افسانے کا آغاز انیسویں صدی کے آخر میں ہوا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستانی زندگی کا ہر شعبہ درہم برہم ہو چُکا تھا اور بہت ساری مذہبی و اصلاحی تحریکیں سر گرم تھیں۔ انھیں تحریکات کا اثر ادب پر بھی پڑنا لازمی تھا چنانچہ اردو افسانہ اپنے عہد کا عکاس اور زندگی کی حقیقتوں کاترجمان بن کر نمودار ہوا۔ بیسویں صدی کے طلوع ہوتے ہی مختصر اردو افسانے نے اپنی پہچان بنانی شروع کر دی تھی اور بہت سے افسانہ نگاروں نے اپنی قلم کے جوہر دکھانا شروع کر دیئے ۔ ان افسانہ نگاروں نے زندگی کے ہر پہلو پر اپنی قلم آزمائی کی۔

1950ء؁ کے بعد اردو افسانے میں جو رجحان آیا اس میں فرد کی ذات، اس کی ذہنی اور جذباتی کیفیت کا تجزیہ ہے۔ اس دور کے تخلیق کاروں نے کردار نگاری کے ساتھ ساتھ دلاوری بیان کی اور تکنیک کے نئے پن پر خاص دھیان دیا۔ ڈاکٹر ناشر نقوی افسانے کے نئے پن کیلئے یوں رقم طراز ہیں۔
’’انسان کے اندر اور باہر کا سفر جاری ہے جو نئی کہانیوں میں ڈھل رہا ہے۔ آج کا انسان ٹوٹتے اور بکھرتے سماجی رشتوں کے چوراہ پر ہر طرف سے کٹاہوا تنہا کھڑا ہے۔‘‘
(ادبی جائزے،ص:80)


اردو ادب کے دورِ حاضر میں بھی افسانہ نگاری کا سفر جاری ہے۔ نئے نئے تجربے ہو رہے ہیں۔ افسانہ نگاروں نے زمانے کے مسائل کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ہے۔ آزادی کے بعد اردو چند مراکز تک محدود رہ گئی اور ان مراکز میں سے اردو افسانے کا ایک اہم مرکز پنجاب ہے۔ خطۂ پنجاب شروع ہی سے اردو ادب کا گہوارہ رہا ہے یہی وہ جگہ ہے جہاں اردو ادب کے بڑے بڑے ادیب اور شعراء پیدا ہوئے جن میں محمود شیرانی، اقبال، ساحر لدھیانوی، امرتاپریتم، کرشن چندر، منٹو اور راجندر سنگھ بیدی وغیرہ وغیرہ ہیں۔ پنجاب اردو ادب میں افسانے کا اہم مرکز ہے جس میں موجودہ دور میں افسانے لکھنے والے افسانہ نگار ہیں۔ ڈاکٹر نریش، کیول دھیر، سلطان انجم، رینو بہل، بشیر مالیر کوٹلوی اور ارشد منیم۔ جنھوں نے اپنی افسانوی تخلیقات سے پنجاب اور اردو ادب کو ایک نیا مقام دیا ہے اور یہ افسانہ نگار اکیسویں صدی میں اردو افسنہ کو نئی راہ دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پنجاب میں اردو افسانے کا ایک اہم مرکز مالیر کوٹلہ ہے۔ مالیر کوٹلہ کو اردو ادب کا گہوارہ کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہوگا۔
اردو افسانے کے حوالے سے مالیر کوٹلہ کی خدمات کافی نمایاں ہیں اور قابلِ قدر بھی ۔ ادبی سرگرمیوں کے باعث یہ شہر سرخیوں میں رہا ہے۔ اس شہر کے معتبر افسانہ نگار بشیر مالیر کوٹلوی نے اپنے شہر مالیر کوٹلہ میں 2000ء؁ میں ایک افسانہ کلب کی بنیاد ڈالی اور اسی افسانہ کلب میں نئی نسل کے افسانہ نگاروں کی آبیاری ہوتی رہی۔ انہیں میں ایک نئی نسل کے افسانہ نگار ارشد منیم ہیں۔جنھوں نے بشیر مالیر کوٹلوی کو اپنا استاد تسلیم کیا اور انھیں کی رہنمائی میں افسانہ لکھنے کی شروعات کی۔ بشیر مالیر کوٹلوی افسانہ نگار کے بارے میں لکھتے ہیں:


’’ارشد ایک احتجاج پسند افسانہ نگار کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ ارشد جب تک اپنا مشاہدہ پختہ نہ کر لیں ، افسانہ تخلیق نہیں کرتے۔‘‘ (خون کا رنگ، ص 10)
ارشد منیم کا پورا نامحمد ارشد ہے ان کی پیدائش 26اکتوبر 1978ء؁ میں مالیر کوٹلہ میں ہوئی۔ ان کے والد محترم چودھری علم دین اور والدہ ماجدہ رمضانن ہیں۔ افسانہ نگار نے بارہویں جماعت تک کی تعلیم اپنے شہر کے اسکول سے ہی حاصل کی۔ ان کا پہلا افسانہ ’’قربانی‘‘ روزانہ ہندسماچار میں 22 نومبر 2000 کو شائع ہوا۔ افسانہ نگار کی تصانیف مختلف رسائل و اخبارات میں شائع ہوتی رہی ہیں۔ افسانہ نگار کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’ خواب خواب زندگی‘‘ 2015ء؁ میں شائع ہوا۔ اس افسانوی مجموعہ میں 17 افسانے اور 8 افسانچے ہیں۔ افسانہ نگار نے مختصر افسانہ لکھنے کے ساتھ ساتھ افسانچے بھی لکھے ہیں۔ اس مجموعہ کی کہانیاں ہماری روز مرہ کی زندگی سے وابستہ ہیں۔
افسانہ نگار کا دوسرا افسانوی مجموعہ ’’خون کا رنگ‘‘ اسی سال شائع ہوکر منظرِ عام پر آچکا ہے۔ اس مجموعہ میں 12 افسانے اور 9 افسانچے ہیں۔ ارشد منیم کو مختلف تنظیموں کی طرف سے اعزازات سے نوازہ گیا ہے۔ ارشد منیم پہلے افسانہ کلب کے خازن کے طور پر کام کر رہے تھے موجودہ دور میں وہ افسانہ کلب کے صدر ہیں۔
ارشد منیم ایک حسّاس افسانہ نگار ہیں جو اپنے معاشرے کے دکھ درد اور اُن کی تکلیفوں کو محسوس کرتے ہیں۔ اسی لیے ان لوگوں کے بیچ رہ کر افسانہ نگار نے ایسے افسانے لکھے ہیں جن میں احتجاج اور نفسیاتی پہلو صاف نظر آتا ہے۔ نورالحسنین نے ارشد منیم کے افسانوں کے بارے میں لکھا ہے۔
’’ارشد منیم بیانیہ کے ہنر سے واقف ہیں۔ افسانے کے پلاٹ اور کرداروں کی تشکیل کا سلیقہ بھی وہ جانتے ہیں۔ ان کے افسانوں کا اسلوب اگرچہ سیدھا سادہ ہے پھر بھی ان کے افسانوں میں ایک تجسّس ہے جو قاری سے پوری کہانی پڑھوانے کا دم خم رکھتا ہے۔‘‘ (خواب خواب زندگی، ص 10)
افسانہ نگار نے اپنے دور کے دکھ، درد ، پریشانیوں، جہالت اور توہم پرستی وغیرہ کو براہِ راست اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ہے۔ افسانہ نگار کے پہلے افسانوی مجموعہ کا افسانہ ’’خواب خواب زندگی‘‘ ہے۔ اس افسانے میں ایک غریب آدمی کے سپنوں کو چکنا چور ہوتے ہوئے دکھایا ہے کہ کیسے وہ ایک امیر آدمی یا سیاسی لیڈر سے اپنی امیدیں لگاتا ہے اور آخر میں اس کی امیدیں ٹوٹ کر بکھر جاتی ہیں اور اسکو ایک دھکا سا لگتا ہے۔


ایک طرف ارشد منیم نے اپنے افسانوں میں مرد کی نفسیاتی زندگی کا ذکر کیا ہے تو دوسری طرف عورت کی مجبوریوں کو بھی اجاگر کیا ہے۔ افسانہ ’’قبول ہے ‘‘ میں انہوں نے ایک عورت کے اپنے بچّے کو بچانے اور اس کا اپریشن کرانے کیلئے اپنا جسم بیچتے ہوئے دکھایا ہے اور دوسری طرف اسی افسانے میں مرد کو عورت کے جسم کا خریدار بھی دکھایا ہے۔
افسانہ گروہ میں ایک نوجوان لڑکے کو اپنی غریبی سے جلدی چھٹکارا پانے کے لیے اور امیر بننے کی خواہش کو اجاگر کیا ہے کہ کیسے وہ اپنے بوڑھے ماں باپ کو اکیلا چھوڑ کر ممبئی جیسے شہر کی چکا چوند میں پہنچتا ہے اور وہاں پر مرد ویشہا کے گروہ میں شامل ہو جاتا ہے اور یہ دھندہ کرتے ہوئے ایک دن پولیس کے ہاتھ پکڑا جاتا ہے۔ جسکا پتہ چلنے پر اس کے بوڑھے باپ کو بہت گہرا صدمہ لگتا ہے۔
ارشد منیم کا دوسرا افسانوی مجموعہ ’’خون کا رنگ‘‘ ہے جس کا پہلا افسانہ ’خون کا رنگ‘ ہے جس میں افسانہ نگار نے طوائفوں کے کوٹھے کی منظر کشی کی ہے اور ان عورتوں کی زندگیوں کے اہم پہلوئوں کو اجاگر کیا ہے جو ویشیائوں کی زندگی گزارتی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں جو مرد اپنی زندگی میں اکتاہٹ محسوس کرتے ہیں وہ اپنا دل بہلانے کیلئے ان عورتوں کے پاس جاتے ہیں اور یہ عورتیں بھی اپنی زندگی گزارنے اور سماج میں زندہ رہنے کے لیے اپنا جسم بیچتی ہیں۔
افسانہ نگار کا دوسرا افسانہ ’بکائو‘ ہے جس میں امیری اور غریبی کی زندگی کا ذکر ہے اور دکھایا گیا ہے کہ امیری اور پیسے سے دنیا کی ہر چیز خریدی جا سکتی ہے یہاں تک کہ سکون بھی۔ کیونکہ دنیا میں ہر چیز بکائو ہے۔ لیکن شاید انسان اپنی امیری کے نشے میں یہ بھول جاتا ہے کہ انسان کی موت بکائو نہیں ہے۔


تیسرا افسانہ ’سوال کی صلیب‘ ہے جس میں افسانہ نگار نے ایک لڑکی کے جذبات اور اس کے سپنوں کو بیان کیا ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایک لڑکی کو پرایا دھن بتاکر اس کے سپنوں کو پورا نہیں کیا جاتا اور جب وہ شادی کرکے دوسرے گھر یعنی اپنے پتی کے گھر جاتی ہے تو وہاں پر بھی اپنی ساس اور پتی کے ذریعے دُکھی کرکے گھر سے نکال دی جاتی ہے یہ بول کر کہ ’’نکل جا میرے گھر سے یہ تیرا گھر نہیںہے۔ ‘‘ لڑکی کا گھر نہ تو مائیکا ہے اور نہ ہی سسرال ، پھر لڑکی کا گھر کونسا ہے۔ یہ سوچ کر لڑکی سوال کی صلیب پر لٹک جاتی ہے۔ اس طرح سے ہمارے سماج میں ایک لڑکی کے جذبات کے ساتھ کھیلا جاتا ہے اور اسے دربدر کی ٹھوکریں کھانے کے لیے مجبور کر دیا جاتا ہے۔
ارشد منم کے افسانوں میں درد اور آہ کی چنگاریاں بڑھکتی ہوئی ملتی ہیں۔ افسانہ نگار کے افسانوں کے بارے میں پروفیسر اسلم جمشید پوری لکھتے ہیں:
’’ان کے افسانے چونکا دیتے ہیں۔ پڑھتے پڑھتے قاری اختتام پر چونک جاتا ہے ۔ وہ اپنے آس پاس کے مسائل کو زبان عطا کرتے ہیں۔ ان کے کردار بھی سادہ اور درمیانہ طبقے کے ہیں۔ زندگی کے متعدد چہرے ہوتے ہیں۔ سماج میں ایسے چہرے والے بے شمار لوگ ہیں۔ ارشد منیم کے یہاں چہروں کی پرتیں کھلتی ہیں۔ شریف انسان کی بدمعاشی اور بدمعاش انسان کی شرافت قاری کو چونکا دیتی ہے۔‘‘ (خواب خواب زندگی، ص 13

)
الغرض ہم کہہ سکتے ہیں کہ ارشد منیم نے معاشرے کی تمام برائیوں، کریتیوں، ناہمواریوں، دکھاوے کی زندگی، اپنے فرض سے پیچھے ہٹنا، امیری غریبی کا فرق، جسم فروشی، جنسی نفسیات، بے حسی اور درد کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ہے۔
ارشد منیم کا اپنا ایک نقطۂ نظر یا فلسفۂ حیات ہے جس کے ذریعے انہوں نے زندگی کو دیکھا اور دکھایا ہے۔ ان کے افسانے سادہ اور سلیس ہیں۔ روز مرّہ کی زبان کا استعمال کیا ہے۔ ان کا کوئی بھی افسانہ طویل نہیں ہے جس سے قاری کو اکتاہٹ محسوس ہو۔ افسانوں کے الفاظ گنے چنے ہیں۔ کرداروں کا تعلق درمیانہ طبقے سے ہے۔ افسانے پُر احتجاج اور نفسیاتی پہلو سے بھرپور ہیں۔ ہر افسانہ معاشرے کی کسی نہ کسی بُرائی کو بے نقاب کرتا ہے۔ انھوں نے سارے افسانے اور افسانچے بامقصد لکھے ہیں۔
ارشد منیم اکیسویں صدی کے ایک اُبھرتے ہوئے افسانہ نگار ہیں اور ایک زندہ دل انسان ہیں جو کہ اپنی زندگی کی مشکلوں سے ڈرتے یا گھبراتے نہیں بلکہ ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔ افسانہ نگار اپنے افسانوں کے ذریعے ہم تک وہ زندہ دلی پہنچاتے ہیں اور پہنچاتے رہیں گے
****
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں

کمنٹ کریں