انسانی آنکھ ۔۔۔ ناقص ڈیزائن؟

مشہور ملحد سائنس صحافی رچرڈ ڈاکنز نے 1986 میں اپنی The Blind Watchmaker. ” اندھا گھڑی ساز” میں تمام فقاریہ جانوروں بشمول انسان کہ آنکھ کی ساخت کے متلعق لکھا کہ آنکھ کی ساخت کچھ اس طرح سے ہے کہ کوئی بھی انجینئر اس کے ناقص ڈیزائن پر ہنسے بغیر نہیں رہ سکیگا۔ اس سے ڈاکنز نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی یہ انسان سمیت تمام فقاریہ جانوروں کی آنکھ اور اسکے ساتھ تمام جاندار کسی ڈیزائنر یا خالق کی تخلیق نہیں ہیں بلکہ ڈاروینئین ارتقاء (جوکہ ایک بے مقصد اندھا عمل ہے) کا نتیجہ ہے اور اگر کوئی بھی ماہر ڈیزائنر اسکو تشکیل دیتا تو وہ یہ ڈیزائن کبھی منتخب نہ کرتا جو ان جانداروں کی آنکھ میں ہمیں نظر آتا ہے۔

آنکھ کا ارتقاء

“Any engineer would naturally assume that the photocells would point towards the light, with their wires leading backwards towards the brain. He would laugh at any suggestion that the photocells might point away from the light, with their wires departing on the side nearest the light. Yet this is exactly what happens in all vertebrate retinas. Each photocell is, in effect, wired in backwards, with its wire sticking out on the side nearest the light. The wire has to travel over the surface of the retina, to a point where it dives through a hole in the retina (the so-called ‘blind spot’) to join the optic nerve. This means that the light, instead of being granted an unrestricted passage to the photocells, has to pass through a forest of connecting wires, presumably suffering at least some attenuation and distortion (actually probably not much but, still, it is the principle of the thing that would offend any tidy-minded engineer!).” (The Blind Watchmaker by Richard Dawkins)

فقاریہ جانوروں کی آنکھ میں سب سے آخری تہہ ریٹینا میں دو قسم کے فوٹو ریسپٹر یا ضیائی خلیات ہوتے ہیں چھڑی نما (Rods) اور مخروطی (Cons) خلیات۔ روشنی آنکھ کے بیرونی حصوں سے گزر کر لینز سے ریٹینا پر پڑتی ہے۔ نیورونز روشنی میں موجود معلومات کو ان ضیائی خلیات سے حاصل کرکے آپٹک نرو کے ذریعے دماغ تک پہنچاتے ہیں۔ چھڑی نما خلیات مخروطی خلیات کی نسبت روشنی کے حوالے سے زیادہ حساس ہوتے ہیں اور یہ اندھیرے میں بھی فعال ہوتے ہیں لیکن یہ صرف سیاہ و سفید میں دیکھ سکتے ہیں۔ اسکے برعکس مخروطی خلیات تعداد میں کم اور روشنی سے کم حساس ہوتے ہیں اور یہ رنگوں میں دیکھ سکتے ہیں۔

تمام فقاریہ جانوروں میں یہ خلیات ریٹینا کے پچھلی طرف ہوتے ہیں۔ یعنی روشنی کی سمت اور ان خلیات کے درمیان میں نیورونز موجود ہوتے ہیں جوکہ روشنی کی معلومات ان خلیات سے دماغ کو پہنچاتے ہیں۔ اسکے علاوہ یہ نیورونز اکٹھے ہوکر ریٹینا میں ایک جگہ آپٹک نرو سے جڑتے ہیں اس جگہ کو آپٹک ڈسک کہا جاتا ہے اور یہ بھی روشنی کے راستے میں آتی ہے۔ آپٹک ڈسک پر کوئی ضیائی خلیات موجود نہیں ہوتے جسکی وجہ سے بلائنڈ سپاٹ بن جاتا ہے۔ ڈاکنز کے مطابق یہ بلائنڈ سپاٹ اور نیورونز کا روشنی اور ضیائی خلیات کے درمیان میں ہونا دراصل یہ ثابت کرتا ہے کہ دراصل یہ کسی خدا کی تخلیق نہیں بلکہ ارتقاء کے عمل کا نتیجہ ہے جسکی وجہ سے اس میں خامیاں موجود ہیں۔

آنکھ: انجنیئرنگ کا نقص؟

لیکن کیا واقعی ایسا ہے ؟ کیا واقعی آنکھ کہ ساخت میں یہ کوئی انجینئرنگ نقص ہے؟ اسکا جواب نہیں ہے۔ تمام فقاریہ جانوروں کی آنکھ کی موجودہ ساخت اسکے بہترین عمل کرنے کیلئے ضروری ہے۔ دونوں اقسام کے ضیائی خلیات کو بہت زیادہ غذائی اجزاء اور توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ممالیہ جانوروں میں انکا میٹابولک ریٹ باقی تمام ٹشوز سے زیادہ ہے۔ آنکھ کو کی جانے والی تین چوتھائی خون کی سپلائی خاص قسم کی نالیوں کے ذریعے ہوتی ہے جنکو کوریو کیپلریز کہا جاتا ہے۔ یہ کیپلریز ریٹینا کے پیچھے واقع ہوتی ہیں۔ خون سے آکسیجن اور دیگر اہم اجزاء جن میں وٹامن اے بھی شامل ہے ان کیپلریز کے اندر ایک مخصوص درمیانی خلیات کی تہہ کے ذریعے ان ضیائی خلیات کو منتقل ہوتے ہیں۔ خلیات کی اس تہہ کو ریٹینل پگمنٹ ایپیتھیلیم (RPE)کہا جاتا ہے.

آر پی ای سیلز کا تصور

آر پی ای سیلز اسکے علاوہ اور بھی اہم کام سرانجام دیتے ہیں۔ چھڑی نما اور مخروطی ضیائی خلیات کے اندر ڈسکس (Discs) گٹھڑیوں کہ شکل میں موجود ہوتی ہیں جن میں روشنی کو محسوس کرنے والے مالیکولز ہوتے ہیں۔ معمول کے عمل کے دوران کئی زہریلے کیمیکلز بھی پیدا ہوتے ہیں جنکو تلف کرنا ضروری ہوتا ہے ورنہ ضیائی خلیات اپنا کام جاری نہیں رکھ سکتے۔ 1967 کے اندر ایک تحقیق میں دکھایا گیا کہ یہ ضیائی خلیات لگاتار اپنی تجدید کرتے رہتے ہیں اور پرانی ڈسکس کو آر پی ای سیلز والی سائیڈ پر ختم کرتے اور دوسری طرف نئی ڈسکس کو جوڑتے رہتے ہیں۔ آر پی ای سیلز پرانی ڈسکس کو کھاتے ہیں اور زہر کو معتدل کردیتے ہیں۔

اگر ارتقائی حضرات کے دعوے کے مطابق ضیائی خلیات روشنی کہ سمت میں موجود ہوتے تو کوریوکیپلریز اور آر پی ای سیلز ریٹینا کے بالکل سامنے موجود ہوتے۔ اور یہ روشنی کے سامنے بالکل رکاوٹ بن جاتے۔ اسکے برعکس نیورونز بالکل شفاف ہوتے ہیں اور یہ بہت ہی کم روشنی کو روکتے ہیں۔ بہت زیادہ میٹابولک ریٹ اور آر پی ای سیلز کے اپنے آپکو دوبارہ بنانے کی وجہ سے آنکھ کا موجودہ ڈیزائن ڈاکنز اور دیگر ارتقائی حضرات کے بتائے گئے ڈیزائن سے کئی گنا بہتر ہے۔

جہاں تک بلائنڈ سپاٹ کا تعلق ہے تو یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ ایک آنکھ کا بلائنڈ سپاٹ جس جگہ ہوتا ہے دوسری آنکھ کا بلائنڈ سپاٹ اس جگہ موجود نہیں ہوتا۔ اسطرح ہر آنکھ کا بصری میدان دوسری آنکھ کے بصری میدان کا احاطہ کرتا ہے۔

ملز سیلز کا تصور

اسکے علاوہ ایک اور قسم کے خلیات بھی ریٹنا کے اندر موجود ہوتے ہیں جنکو(Müller cell)ملر سیلز کہا جاتا ہے۔ یہ خلیات آپٹک فائبر کی طرز پر کام کرتے ہوئے روشنی کو بہترین انداز میں ریٹینا سے ضیائی خلیات تک پہنچاتے ہیں۔ یہ ایک بہترین نظام ہے جو آنکھ کہ ریزولوشن کو بہترین بناتا ہے۔

رچرڈ ڈاکنز نے جب یہ کتاب لکھی تب ان میں سے اکثر تحقیقات موجود تھیں اور سائنسدان یہ جانتے تھے کہ ضیائی خلیات کی یہ ساخت آنکھ کے ناقص ڈیزائن پر قطعی دلالت نہیں کرتی۔ لیکن اپنے ارتقائی مفروضوں کو تقویت دینے کیلئے یہ کہانی انہیں بہتریں نظر آئی اس لئیے آج تک ایسی کہانیاں آپکو مختلف کتب اور بلاگز و سائنس گروپس میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ کیونکہ یہ ایک اچھی کہانی تھی اور ڈارون پرست حضرات کو اسکو ترک کرنا مشکل لگا۔

نوٹ: یہ مضمون رفاقت حسین کی تصنیف ہے۔

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں