دیار ہندی میں فیض

مضمون نگار : شہاب ظفر اعظمی

, دیار ہندی میں فیض

فیض احمد فیض بنیادی طور پر ایک ترقی پسند شاعر تھے لیکن انہیں جو عالمی مقبولیت حاصل ہے اس کی بنیادیں ادبی اور تہذیبی عناصر پر مشتمل ہیں۔ فیض کی شاعری میں موجود انسانی اقدار، درد مندی اور احتجاج کی تہہ نشیں لہروں کو کسی بھی خطے کا انسان یا کسی زبان کا نقاد نظرانداز نہیں کرسکتا۔ ان کی شاعری میں انسانیت اور دردمندی کا نظریہ ہے تو جمالیاتی سطح پر ادبیت اور خلوص بھی۔مگر ظاہر ہے کہ صرف خلوص یا نظریے سے کوئی شاعر بڑا نہیں ہوسکتا۔ جو بات فیضؔ کو مقبول خاص و عام بناتی ہے وہ ان کی تخلیقی بصیرت ہے جو اجتماعی شعور اور فکری ترجیحات سے جلاپاتی ہے۔ شعر و ادب کے طالب علموں سے یہ بات پوشیدہ نہیں کہ فیض اپنی تحریروں میں اجتماعی تجربے کو بڑی اہمیت دیتے ہیں اور یہ اجتماعی تجربے بڑی خوبصورتی سے فیض کی شاعری میں تہذیب اور کلچر کا استعارہ بن جاتے ہیں۔


فیضؔ کے اجتماعی شعور اور تہذیبی بصیرت نے ان کی شاعری کو اردو، ہندی اور پنجابی ہی نہیں انگریزی اور روسی زبانوں میں بھی یکساں مقبول بنایا ہے۔ فیض کی شاعری جتنی اردو میں شائع ہوئی ہے اتنی ہی یا شاید اس سے زیادہ ہندی اور پنجابی میں چھپی ہے جس سے ظاہر ہے کہ فیض کے ہندی یا پنجابی قاری نے بھی ان کے کلام کے ساتھ مکمل مکالمہ برقرار رکھا ہے۔ ہندی ادب کے مقبول ادیب اصغر وجاہت کہتے ہیں کہ:
’’ہندی کی بھری پری دنیا فیض احمد فیض کو اپنا اور بالکل اپنا شاعر مانتی ہے۔ یہ صرف اتفاق نہیں کہا جائے گا کہ فیض کی کتابیں جیسے جیسے پاکستان میں آتی رہیں ویسے ویسے وہ ہندوستان میں بھی چھپتی رہیں۔‘‘


ہندی کے معروف ادارے راج کمل پرکاشن نے فیضؔ کے کئی شعری مجموعے شائع کئے، ہندی کے ایک بڑے شاعر شمشیر بہادر سنگھ نے فیض کا انتخاب ترتیب دیا اور 1987ء میں راج کمل پرکاشن نے ہی عبدل بسم اللہ کی ادارت میں ایک کتاب ’’سارے سخن ہمارے‘‘ کے عنوان سے شائع کی جس کے ٹائٹل پیج پر معروف مصور ایم ایف حسین نے فیض کا اسکیچ بنایا تھا۔ یہ کتاب بے حد مقبول ہوئی اور 1987سے اب تک لگاتار شائع ہوتی رہی ہے۔ بقول اصغر وجاہت راج کمل گروپ کے چیئرمین اشوک مہیشوری کا کہنا ہے کہ :
’’فیض ہندی کے پڑھنے والوں میں اس طرح مقبول ہیں جیسے کوئی دوسرا ہندی کوی۔ ان کے پڑھنے والوں کی تعداد لگاتار بڑھ رہی ہے۔‘‘


ان بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ فیض صرف اردو والوں کے ہی نہیں ہندی والوں کے بھی چہیتے شاعر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی وفات کے بعد سے آج تک ہندی کے رسائل و جرائد میں اُن کا گن گان کیا جاتا رہا۔ 1985 میں ہندی کے ایک رسالے ’’اتر گاتھا‘‘ نے فیضؔ پر خاص نمبر نکالا تھا جس کے ایڈیٹر سَوے ساچی تھے۔ یہ شاید فیض پر کسی ہندی رسالے کا پہلا خاص نمبر تھا۔ آج فیض کی صد سالہ سالگرہ کے موقع پر جہاں اردو والے انہیں خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں، ہندی رسائل کے بھی گوشے یا خصوصی شمارے شائع ہورہے ہیں۔ نیاپتھ،آج کل ہندی، انبھے سانچا جیسے معیاری رسائل نے فیض پر خصوصی جنم شتی نمبر چھاپے ہیں۔ ’’نیاپتھ‘‘ کا خاص نمبر چار سو صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں فیض کی شخصیت اور شاعری پر متنوع اور فکرانگیز مضامین کو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے ایڈیٹر مرلی منوہر سنگھ پرساد اور چنچل چوہان نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ:


’’فیض ظلم اور خلق کے بیچ چل رہی ناختم ہونے والی جدوجہد کی سمجھ رکھنے والے بہت بڑے شاعر ہیں‘‘
اسی طرح پٹنہ سے شائع ہونے والے معروف اخبار ’’پربھات خبر‘‘ نے اپنے ایک خاص نمبر میں فیض پر ایک پورا سیکشن شائع کیا جس میں نہ صرف اُنہیں شعری و نثری طور پر خراج عقیدت پیش کیا گیا بلکہ فیض کے منتخب کلام سے بھی قارئین کو محظوظ کرایا گیا۔
’’آج کل ‘‘ہندی کے رسائل میں اپنی انفرادی شناخت کے سبب مقبول و معروف ہے۔ اس کا بھی ایک بلند پایہ اور خوب صورت فیض نمبر شائع ہوچکا ہے۔ اس کی مدیرہ سیما اوجھا قابل ستائش ہیں جنہوں نے اس نمبر کے لئے نہ صرف اہم اور بڑے لکھنے والوں سے مضامین حاصل کئے بلکہ خود بھی فیض پر ایک اچھا مضمون قلمبند کیا۔ ’’فیض۔تجھ کو چاہا تو اور چاہ نہ کر‘‘ عنوان کے تحت اپنے مضمون میں اپنے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے فیض کے بارے میں انہوں نے لکھا کہ:


’‘’فیض کی شاعری ایک ایسا دلکش نغمہ ہے جو بظاہر رومانی لگتا ہے مگر اصلاً اجتہادی ہے۔ اپنے رومانی تیور میں بھی اس میں انقلابی شعور ہے۔ وہ اس وقت ڈٹے رہے جب انگریزی سامراجیت اپنا ہاتھ ہندوستان سے کھینچنے کے لئے تیار نہیں تھی اور ہر طرح کے دمن کو جائز سمجھتی تھی۔ اُسی سامراجی سیاست نے ہمارے عظیم سینے کے دوٹکڑے کردیئے تھے اور آج بھی ہم الگ الگ تڑپ رہے ہیں، لیکن فیض نے اس لکیر کو اپنے دل پر کبھی حاوی نہیں ہونے دیا۔ وہ مرتے دم تک انسانیت کے نقیب رہے۔ تیسری دنیا کی آواز ان کی اپنی آواز تھی۔ افریقہ کے جیالے ان کے اپنے تھے، پھر ہندوستان تو ان کی محبوبہ ہی بنارہا۔‘‘
دوارکا پرساد چارومتر کے ’’انبھے ساچا‘‘ کا فیض جنم شتی نمبر بھی دیدہ زیب اور وقیع ہے۔ اپنے اداریے میں دورکا پرساد چارومتر نے فیض کو اورفیض کے وسیلے سے اردو شاعری کی روشن خیالی کی اس روایت کو بھی جو کلاسیکی عہد سے ہی انسانیت، رواداری اور محبت کا پیغام دیتی آئی ہے، بجا طور پر سراہا ہے، لکھتے ہیں:


’’فیض نے (اُردو کی) انسانیت نواز روایات کو اپنے ترقی پسند خیالات اور انقلابی جذبے کے ذریعہ پروان چڑھایا ہے۔ انسانیت کے حمایتی فیض ناانصافی و استحصال کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے ہیں۔ یہ آواز شاعر کی آواز تو ہے ہی، شاعری کی بھی آواز ہے اور یہی آواز جب سفر پر نکلتی ہے تو عوام کی آواز ہوجاتی ہے۔‘‘
گذشتہ دنوں محترم ظہور صدیقی نے بھی ایک اہم اور قابل قدر کارنامہ انجام دیا کہ فیض پر لکھے گئے ہندی مضامین کا ایک مجموعہ نیشنل بُک ٹرسٹ سے ’’بادنوبہار‘‘ کے عنوان سے شائع کرایا۔ ظہور صدیقی خود ہندی کے معیاری رسالوں میں فیض کے بارے میں لکھتے رہے ہیں اور ہمیشہ مذہبی رواداری، ہند وپاک دوستی اور جمہوری قدروں کے فروغ کے لئے کوشاں رہے ہیں۔ فیض پر مذکورہ کتاب کی ترتیب سے بھی وہ ہندی اور اردو قارئین کے درمیان قربت اور محبت کا رشتہ مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ہندی کے مشہور نقادوں اور تخلیق کاروں مثلاً ارون کمل، اصغر وجاہت، دوارکا پرساد، چنچل چوہان،سیما اوجھا، اسد زیدی، کانتی موہن، منموہن اور سہیل ہاشمی کے مضامین کا نہ صرف خوبصورت ترجمہ پیش کیا ہے بلکہ خود بھی فیض پر متعدد مضامین اور انٹرویو تحریر کرکے اس کتاب کو خاصا وقیع اور یادگار بنادیا ہے۔ ان مضامین میں فیض سے ہندی والوں کی جذباتی وابستگی، ذہنی قربت اور قدرشناسی کا بہ آسانی اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔ بیشتر ہندی ادیبوں نے فیض کے اشتراکی خیالات کا تجزیہ کیا ہے، جس میں شاعر کی انسان دوستی ابھر کر نظرآئی ہے وار استحصالی نظام سے اس کی نفرت بھی۔ پروفیسر ارون کمل لکھتے ہیں:


’’فیض کی کویتا ایک طرف تو زندگی میں ہمارے وشواس کو پختہ کرتی ہے اور دوسری طرف اپنے اصولوں کے لئے آدمی کی پوری عزت کے لئے ہمیں جان کو ہتھیلی پر لے کر چلنے کی نیک صلاح بھی دیتی ہے’’جان دیتے رہے زندگی کے لئے‘‘۔ فیض انسان کے جدوجہد سے بھرپور، کبھی نہ جھکنے والے روپ کے شاعر ہیں۔‘‘
نیا پتھ کے مدیر اور انگریزی کے استاد چنچل چوہان نے ’’نرواسن (دربدری) کا احساس‘‘ کے عنوان سے فیضؔ پر بہت عمدہ اور مدلل مضمون تحریر کیا ہے۔ دستِ صبا، زنداں نامہ، دست تہہ سنگ اور سروادئ سینا کے علاوہ شام سحر یاراں، مرے دل مرے مسافر اور غبار ایام وغیرہ کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد دربدری یا قید سے متعلق تشبیہات واستعارات کا نہ صرف انہوں نے تجزیہ کیا ہے بلکہ اشعار سے ثبوت بھی فراہم کیا ہے۔ اس مضمون کے آخر میں وہ لکھتے ہیں:


’’فیض کی شاعری کی یہی تو خوبی ہے کہ وہ عشق، وطن سے محبت، اپنے انقلابی نظریے اور دنیا کے محنت کشوں، محروموں و مظلوموں کے ساتھ ہمدردی اور اپنے نرواسن (دربدری) کے درد کو اس طرح اپنی شاعری میں گھلاملا دیتے ہیں کہ اس میں حقیقت کی بہت ساری پرتیں فنکاری کی نئی جھلک دیتی ہیں۔‘‘
’’نیا پتھ‘‘ کے دوسرے مدیر مرلی منوہر پرساد سنگھ بھی ہندی کے معتبر ادیب ہیں۔ انہوں نے اپنے مضمون ’’تنہاکبھی نہیں لوٹی
آواز‘‘ میں فیض کے تعلق سے لکھا ہے کہ:


’’فیضؔ کی شاعری آشا اور نراشا، حقیقت اور خواب، جنگ اور امن، تخیل اور احساس کے فطری رنگوں میں بار بار نمایاں ہوتی ہے۔ وراثت اور حقیقت، ان دونوں سے روبرو فیض کی شاعری عوام کی روح میں بس جاتی ہے، اس کے جدوجہد سے بھرپور وجود کا اٹوٹ حصہ بن جاتی ہے۔‘‘
ایم ڈی یونیورسٹی روہتک میں شعبہ ہندی کے استاد منموہن نے اپنے مضمون ’’غرور عشق کا بانکپن‘‘ میں فیض کا انوکھے انداز میں مطالعہ کیا ہے وہ میر و غالب کی شاعری سے متاثر ہیں اور فیض کی شاعری کو انہیں کی اگلی کڑی کے روپ میں دیکھتے ہیں اور پھر نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:


’’میر وغالب کے بعد اُردو زبان میں شاید فیض ہماری یاد میں سب سے برتر اور گہرا شعور رکھنے والے شاعروں میں سے ایک ہیں۔ پچھلی تین صدیوں میں دوسری ہندوستانی زبانوں کی شاعری میں بھی ان تینوں جیسی پختگی کتنے شاعروں میں ملے گی، کہنا مشکل ہے۔۔۔۔ یہ تینوں اپنے اپنے انداز میں شدید اخلاقی گراوٹ، بے عزتی اور سنگدل حالات میں انسان کی عظمت کو قائم رکھتے ہیں۔ شدید اندرونی تکلیف وکڑھن سے گذر کر اس کی پوری قیمت چکاتے ہیں لیکن اس کا پورا دعویٰ رکھتے ہیں۔ اس طرح تینوں ہی شخصیتیں ذلیل کرنے والے اور کچلنے والے حالات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں، یہی ان کی مزاحمت ہے۔‘‘
اسد زیدی، سہیل ہاشمی، کانتی موہن، ایم اے جاوید اور ظہور صدیقی کے مضامین میں بھی فیض کی شخصیت اور شاعری کی متنوع جہتوں کو ہندی قارئین کے سامنے سادہ اور ترسیلی اسلوب میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ فیض کی شاعری کو ان کی زندگی میں بھی مختلف زبانوں نے اپنے ادب میں جگہ دی تھی۔ موجودہ عہد میں بھی مختلف زبانیں بالخصوص ہندی زبان فیض کی شاعری کی نہ صرف قدر کرتی ہے بلکہ اس کا تنقیدی و فنی محاسبہ کرکے اپنے قارئین کو اس کی قدر و قیمت سے آشکار کرارہی ہے۔ ان کی ولادت کی سالگرہ مناتے ہوئے اردو کے ساتھ ساتھ ہندی کے ادیب و دانشور بھی اس باشعور شاعر کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں بلکہ یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ وہ فیض شناسی میں اُردو ادیبوں کے شانہ بہ شانہ کھڑے نظرآرہے ہیں۔ اس کا سبب پروفیسر ہربنس مکھیا یہ بتاتے ہیں کہ:


’’دراصل فیض ہمارے یُگ کے لئے جو کئی معنوں میں بہت بدلا بدلا نظرآتا ہے Relevantہیں۔ وہ ماضی کے درد کی یاد دلاتے ہوئے بھی اکیسویں صدی میں زندہ ہیں۔ کچھ ایسے اقدار ہوتے ہیں جن کی ہمیں ضرورت رہتی ہے۔ انسان کو معلوم نہیں کتنی صدیوں تک رہنا پڑے اور ظاہر ہے کہ کسی کے لئے وہی چیز ہمیشہ موثر رہے گی جو اس کے انسانی جذبات کو طاقت دیتی رہے اور اس کے لئے ایک اچھے صحت مند ماحول
بنائے رکھنے میں مددگار ثابت ہو۔ فیض کی شاعری میں اسی طرح کی چیز ہے۔‘‘
ہندوستانی زبان میں فیض کی مقبولیت اور ان کی شاعری کے چاہنے والوں کی تعداد میں لگاتار اضافہ ہوتا رہا ہے۔ فیض کی شاعری میں سماج کی بنیادی سچائیوں کی عکاسی اور مقبول سنگیت کاروں اور گلوکاروں کا اس شاعر کو ہاتھوں ہاتھ لینا وہ بنیادی وجوہات ہیں جنہوں نے مل کر فیض کو بیسویں صدی میں عوام کے سب سے محبوب شاعروں اور ادیبوں کی پہلی صف میں کھڑا کردیا ہے۔ وہ اپنی زندگی میں ہی ایک دیومالائی کردار بن گئے تھے۔ لوگوں کو یاد ہوگا کہ 1980 میں جب ’’جشن فیض‘‘ منایا گیا تھا تونئی دہلی کے فکی ہال میں فیض کو دیکھنے اور سننے والوں کی ایسی بھیڑ اُمڈی کہ پانچ دنوں تک ہال میں تل دھرنے کی جگہ نہ رہی۔ اس کے بعد فیض ہندوستان میں جہاں بھی گئے اُن کے عاشقوں کی بھیڑ سیلاب کی صورت میں نظرآئی۔اسی طرح ایمرجنسی کے بعد جب فیض JNUکیمپس میں گئے تو ان کا جانا جشن برپا کرگیا۔ کیدارناتھ سنگھ نے اپنے مضمون ’’میں نے فیض کو دیکھا تھا‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’بھیڑ کا یہ عالم تھا کہ اس بڑے سے پنڈال میں سب سے آخر میں سب سے لمبا جو آدمی کھڑا تھا اس کا نام ہے مقبول فداحسین‘‘ اور آج بھی فیض ہمارے ہوش و حواس پر بغیر کسی تفریق کے ویسے ہی قبضہ کئے ہوئے ہیں۔ چنانچہ ہمارے جلسے جلوسوں، تقریروں میں، کارخانوں میں استحصال کے خلاف اٹھنے والی آوازوں میں، انسان دوستی کے نعروں میں اور ہندوستان کے جمہوری سیکولرجدوجہد کی جنگوں میں فیضؔ کی شاعری ہتھیاروں کی طرح استعمال ہوتی ہے۔ نکڑ ناٹکوں، ڈراموں اور JNUجیسے اداروں کی سرگرم راتوں میں فیض کا کلام لہوبن کر دوڑتا ہے۔


میرا خیال ہے کہ جرمنی کے برتولت بریخت، ترکی کے ناظم حکمت اور ہمارے فیض احمد فیض ایسے شاعر ہیں جو نہ صرف اپنے عہد میں بلکہ ہمیشہ نوجوانوں کے لئے مشعل راہ رہیں گے۔ انہیں زبان یا ملک کی سرحدوں میں تقسیم نہیں کیاجاسکتا۔ ایسے میں فیض ہندی دنیا کو اپنے بالکل اپنے شاعر لگتے ہیں تو کوئی تعجب نہیں۔ اصغر وجاہت نے بالکل صحیح لکھا ہے کہ:
ہندی نے فیض کو اپنالیا ہے کیونکہ کسی بڑے شاعر کو کسی ایک زبان یا ملک سے باندھا نہیں جاسکتا۔ وہ تو ہر دل کو گرماتا رہتا ہے۔‘‘

شیئر کریں
ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی بھارت میں اردو فکشن کی تنقید کا ایک سنجیدہ اور معتبر نام ہے۔ان کی پیدائش یکم اپریل ۱۹۷۲ء کو گیا (بہار) میں ایک عالم دین مولانا عبدالبر اعظمی کے گھر میں ہوئی۔انہوں نے ابتدائی تعلیم والد گرامی سے ہی حاصل کی ،اس کے بعد مگدھ یونیورسٹی ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔جون ۲۰۰۳ء میں ان کا تقرر شعبٔہ اردو ،پٹنہ یونیورسٹی میں ہوا،جہاں ابھی وہ بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسرتدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ان کے مضامین ملک و بیرون ملک کے موقر رسائل و جرائد میں شایع ہوتے رہے ہیں اور ادب کے سنجیدہ قارئین کے درمیان توجہ اور انہماک سے پڑھے جاتے رہے ہیں۔ان کی اب تک چھ کتابیں (۱)ضیائے اشرفیہ،۱۹۹۰ء(۲)اسلام کا معاشرتی نظام،۱۹۹۲ء(اردو کے نثری اسالیب،۱۹۹۹ء(۴)فرات،مطالعہ ومحاسبہ،۲۰۰۴ء(۵)اردو ناول کے اسالیب،۲۰۰۶ء(۶)اور جہان فکشن،۲۰۰۸ء شایع ہو چکی ہیں۔ان میں اردو ناول کے اسالیب اور جہان فکشن کو خاصی مقبولیت حاصل ہوئی ،بالخصوص اردو ناول کے اسالیب کو اترپردیش اردو اکادمی اور بہار اردو اکادمی سے اول انعامات سے او ر جہان فکشن کو بہار اردو اکادمی کے اول انعام سے نوازا گیا۔پروفیسر وہاب اشرفی نے ’’تاریخ ادب اردو‘‘ میں اول الذکر کتاب کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے یہاں تک لکھا کہ ’’کم ازکم میری نگاہ سے ایسا تحقیقی اور تنقیدی کام نہیں گذرا۔یہ تحقیقی و تنقیدی اعتبار سے نئے جہات سے مملوہے‘‘۔ڈاکٹر اعظمی اردو کی قومی اور بین الاقوامی مجلسوں ،سیمیناروں اور جلسوں میں شرکت کرکے بھی اپنی شناخت قائم کر چکے ہیں۔

کمنٹ کریں