فرخندہ خندہ: شعر و نثر کا بِھنڈا

, فرخندہ خندہ: شعر و نثر کا بِھنڈا

از حافظ صفوان صاحب

۔
جس کے ہاتھ میں قلم ہو وہ تنہا نہیں ہوتا۔ اور جس کا قلم نظم و نثر دونوں میں رواں ہوجائے وہ نہ صرف اظہارِ ذات کرسکتا ہے بلکہ روحِ عصر کے تاروں سے حسبِ دلخواہ موسیقی بھی کشید کرسکتا ہے۔ ایسے لوگوں پر لکھنا اِس لیے مشکل ہوتا ہے کہ یہ جانچنا آسان نہیں ہوتا کہ اُن کا نظم کا پلڑا جھکتا ہے یا نثر کا۔ لیکن جس طرح مجرم نشان چھوڑ جاتا ہے اُسی طرح کبھی کبھی اِن لوگوں سے بھی کوئی ایسی تحریر “سرزد” ہوجاتی ہے جو اِن کی پکڑائی دے دیتی ہے۔

بہت دن سے فرخندہ خندہ پر لکھنے کا سوچ رہا ہوں لیکن کوئی نہ کوئی مصروفیت اڑے آ جاتی ہے اور فرخندہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ یقینًا کوئی لیا دیا کام آ جاتا ہے۔ لیکن تابکے؟ اب چند منٹ ملے تو سوچا کہ محترمہ (کی تخلیقات) پہ ہاتھ صاف کر دوں۔ لیجیے اعترافات شروع۔

فرخندہ کی شاعری جستہ جستہ دیکھنے کو ملتی ہے جس میں چار چیزیں بالکل سامنے کی ہیں۔ پہلی چیز اُن کے موضوعات۔ یہ موضوعات روایتی شاعری والے ہیں۔ روایتی سے میری مراد روح عصر سے مربوط ہونا ہے نہ کہ کلاسیکی روایت۔ چنانچہ وہ نظم کم ہی کہتی ہیں لیکن اُن کی غزلیں موضوعاتی ہوتی ہیں۔ غزل میں یہ چلن آج سے نہیں بلکہ دلّی کے اجڑنے کے بعد ہونے والی غزلیہ شاعری سے متواتر چلتا آ رہا ہے۔ فرخندہ اِس روایت کی شاعرہ ہیں۔ چنانچہ اُن کی شاری کے موضوعات بھی وہی ہیں جو آج کے سماج سے براہِ راست مربوط ہیں: اقدار، انسانیت، برابری، وغیرہ۔ تاہم اُن کو جو چیز معاصر خواتین شعرا میں ممتاز کرتی ہے وہ اُن کے ہاں تانیثیت اور فیمینزم کی سستی دکانداری نہ ہونا ہے۔ شاعرات میں عام طور سے اِتنا ضبط نہیں ہوتا کہ وہ فن پر اِس قسم کے صحافیانہ اثرات کو لاگو ہونے سے روکیں ورنہ بیشتر شاعرات کا کلام صرف اِسی وجہ سے تکرار محسوس ہوتا ہے۔ فرخندہ میں ضبط کا یہ گن پایا جاتا ہے اور اُن کی شاعری کسی بھی پاپولر نعرے کے پیچھے چلتی نظر نہیں آتی۔

دوسری چیز اُن کی شاعری میں ہیئت کے تجربات نہ ہونا ہیں۔ ہیئت کے تجربے شوق میں یا کسی خاص کیفیت و ضرورت کے تحت کیے جاتے ہیں۔ فرخندہ کو غالبًا ایسی کسی کیفیت کا سامنا نہیں ہوا۔ مغرب میں رہنے کے باوجود سانیٹ یا ہائیکو قسم کی چیز اُن کے ہاں نہیں ہے۔ وہ شعر کے مروجہ سانچے پر بالکل مطمئن ہیں۔

فرخندہ کی شاعری کی تیسری ممتاز چیز اُن کے ہاں لفظوں کا قرار واقعی معنی میں استعمال ہونا ہے۔ اُن کے ہاں شاعری پائی جاتی ہے نہ کہ کلامِ مصنوع۔ چنانچہ لفظوں سے کھیلنے، محاوروں کی پنسیریاں لڑھکانے اور مگس کو باغ میں جانے نہ دیجو قسم کی ابہام بھری استعاراتی زبان اُن کے ہاں بالکل نہیں ہے۔

چوتھی چیز وہ ہے جو فرخندہ کی شاعری میں تلاش کرنے کی ہر کوشش ناکام ہوتی ہے، میرا مطلب ہے کہ کسی شاعر کی لفظیات یا رنگ۔ جہاں شاعرات سے تفننًا یہ پوچھا جاتا ہو کہ آپ کا پہلا مجموعہ کس شاعر پر گیا ہے اور دوسرا اور تیسرا کس پر گیا ہے اور چوتھا کس پر جائے گا، وہاں ایک شاعرہ ایسی ہے جس کی شاعری کا دورانیہ دو عشروں پر محیط ہے لیکن اُس پر نہ پروین شاکر کی چھوٹ پڑتی دِکھتی ہے نہ فہمیدہ ریاض کی او رنہ کسی مرد شاعر کی- تو ایسی شاعرہ کو ٹھہر کر پڑھنا پڑتا ہے۔ یہ دعویٰ بڑی ذمہ داری کا ہے، اور میں پورے اطمینان کے بعد یہ دعویٰ کر رہا ہوں۔

آخر میں ذکر اُس دوسری چیز کا جو فرخندہ کی شاعری میں تلاش کرنے میں ناکامی ہوتی ہے، اور وہ ہے بھاشن دِہی اور سستی جذباتیت۔ فرخندہ کی شاعری میں نہ تو کوئی ناصح ملتا ہے جو پند نامے سنا رہا ہو اور نہ عورتوں والے رونے یا پھپھڑ دلالے۔ ایک ایسے دور میں شاعری کرنا کہ خدانخواستہ کوئی جنسی جرم ہوجائے تو اس کی غلاظت ہر شاعرہ کی وال پر انڈلتی بھبھکتی نظر آتی ہے اور یہی معیار ٹھہرتا ہے کہ زیادہ بدبودار لفظ کس نے جمع کیے وہاں فن کو گندی نالی میں لے جاکر گرانے سے بچانا بہت بڑی بات ہے۔ فرخندہ کی شاعری میں اِس قسم کی چیزیں موجود نہیں ہیں۔

یہ تو ہوگیا بیان فرخندہ خندہ کی شاعری کا۔ اب لیجیے اُن کے طنز و مزاح سے ایک نثر پارہ پڑھ کر خود کو آئینے میں دیکھیے۔ اِس کا نام ہے لازوال عشق۔

“غالب نے کہا تھا عشق ہے خلل دماغ کا۔ اللہ جانے کہاں تک سچ ہے انھیں یہ مرض لاحق ہوا یا نہیں مگر سوچنے والی بات ہے جو دِل عشق سے خالی ہوا وہ بھی بھلا کوئی دِل ہوا۔
ہمیں تو جوان لوگوں کی داستان سے ہٹ کر ایک خاص عمر رسیدہ بوڑھے بزرگ شاعر کا بھی یاد ہے۔ بیوی کو مرے کچھ عرصہ ہی گزرا تھا۔ ویسے بیوی کو بھی یہی شکوہ رہا کہ آدھی رات بستر پر اور آدھی قلم کاغد کے ساتھ برآمدہ میں گزار دیتے ہیں۔ وہ موصوف صبح صبح سفید سفید کپڑے پہنتے اور چھڑی کا سہارا لیے گلی کی نکڑ پر رکھے بنچ پر آ بیٹھتے۔ گزرے گزرتے کسی کی نگاہیں ٹکرا جاتیں تو ہاتھ ماتھے پر لے جا کر سلام کرتے اور بغیر دانتوں والے پوپلے منہ سے زبردستی مسکرانے کی کوشش کرتے۔ بس جب کبھی ان کے کانوں میں بھنک سی پڑ جائے کہ کہیں مشاعرہ ہو رہا ہے، فوراً وہاں پہنچ جاتے اور کوشش کرتے کسی شاعرہ کے ساتھ بیٹھنے کا موقع مل جائے۔ جہاں دو شاعرائیں براجمان ہوتیں ان کے قریب براجمان ہونے میں دیر نہ لگاتے اور بے وجہ ان کی شاعری میں نقص نکالتے اور پھر اصلاح کا مشورہ دیتے دیتے دوستی کرلیتے۔
ایسی ہی ایک شاعرہ سے اُن کی دوستی ہوگئی۔ پھر شاعرہ بھی خوش شکل شاعرہ تھی۔
چند دنوں بعد اِسی شاعرہ کی شاعری کا پوسٹمارٹم کرنے کے بعد انہی کاغذی نسخوں میں ایک محبت نامہ رکھ ڈالا۔ پھر آہستہ آہستہ ایک دن ایسا آیا کہ شاعرہ پر ہی غزلیں لکھنے لگے۔
میرا خیال تھا بزرگ استاد نوجوان استاد سے کم عاشق مزاج ہوتے ہیں مگر میرا تجربہ غلط نکلا۔ وہ بزرگ تو نوجوانوں سے بھی زیادہ عاشق مزاج نکلے۔ شاعرہ کو اصلاح بھی دی اور ساری زندگی تیار شدہ غزلیں دینے کا وعدہ بھی کرلیا۔ پہلی بیوی کا ایسا رونا روتے رہے کہ ایک دن شاعرہ کو ترس آ ہی گیا۔
بے چاری شاگرد کی اپنی غزلیں وہیں کی وہیں رہ گئیں، استاد کی عشقیہ غزلیں پڑھتے پڑھتے ایسی مشہور ہوئیں کہ ادبی دنیا پر ستارہ بن کر چمکنے لگیں۔
اصلاح کا انعام نکاح کی صورت ملا۔
اب وہ شاعرہ اُسی بزرگ استاد کی دو غزلیں اور ایک نظم کی پرورش کرنے لگی۔ بے چاری شاعرہ کا دیوان مکمل ہی نہ پایا کہ سابقہ استاد مجازی خدا اگلے جہاں سدھار گئے۔
ایک دن سرِ راہ ملاقات ہوگئی۔ ہم پوچھ بیٹھے: ارے ڈیئر، یہ غزل اور نظم اُسی شاعرکی ہے؟
شاعرہ کچھ شرمائی اور بولی:
آخر تک وہ بھی یہی سمجھتے رہے۔۔۔ ویسے یہ کلام کسی اور کا ہے۔۔۔
۔۔۔

القصہ فرخندہ ایک فنکارہ ہیں اور اُن کا فن شعر و نثر دونوں میں مشرقیت اور اقدار کی آبرو ہے۔ اں کا کوئی شعر یا کوئی نثر پارہ ایسا نہیں ہے جو اُن کے متعلقین میں سے کسی کو خفیف کرے۔ سلامت باشید۔

شیئر کریں

کمنٹ کریں