زراعت اور ہندوستانی معاشیت

مضمون نگار : علی نثار

, زراعت اور ہندوستانی معاشیت

کھیتی ہندوستانی معشیت کی ریڑھ سمجھی جاتی ہے ۔ کہیں نہ کہیں یہ بات سرکار بھی سمجھتی ہے کہ کھیتی کے مسائل کو دور کرکے ہی ملک کی ترقی کو رفتار دیا جا سکتا ہے ۔ ہندوستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ کھیتی پہ منحصر ہے ۔ اور ان کے روزگار کا دارومدار کھیتی پہ ہے ۔ مگر کیا وجہ ہے کہ پچھلی صدی میں معاشیت کی ترقی کے ساتھ کھیتی میں گراوٹ درج کی گئی ہے ۔ 1950 میں کھیتی کے میدان میں جی ڈی پی پچاس فیصد درج کی گئی تھی وہیں آج یہ گھٹ کر 15فیصد ہی رہ گیا ہے ۔

پہلے جو زرعی پالیدیاں تھیں وہ پیداوار اور کسان کو توجہ میں رکھ کر بنائی جاتی تھیں ۔ اسی وجہ سے ہندوستان کو کھیتی کے میدان میں بڑی کامیابی ملی تھی ۔ مگر پچھلی صدی سے سرکار کادھیان کسان اور کھیتی پہ نہ رہنے کی وجہ سے کسان اچھے بازار کے لیے ترس رہا ہے اور مسلسل کھیتی میں نقصان اٹھانے کی وجہ سے کھیتی سے بھی دور ہو رہا ہے ۔بازار کی کمی کی وجہ سے کسانوں کو بھاری خسارہ ہو رہا ہے ۔ بازار کی کمی اور کسان کی بے بسی کا فائدہ بچولئے اٹھا رہے ہیں ۔ وہ کم داموں پہ ان سے اناج اور سبزی خرید کر زیادہ منافع کما رہے ہیں ۔

اچھی کھیتی کے لئے سب سے زیادہ ضروری ہے سینچائی میں سدھار لانے کی ۔ زراعت کے لیے سینچائی کا بہترین انتظام ہونا بہت لازمی ہے ۔ اس لئے سرکار کو سینچائی کے سدھار سے ہی کام کی شروعات کرنی چاہئے
اب سوال یہ ہے کہ کیا کمزور معشیت کو اچھی کھیتی سے سہارا دیا جا سکتا ہے ۔ معشیت کا ڈھانچہ چرمرانے سے بھی کھیتی میں گراوٹ آئی یے کیونکہ اس سے مانگ اور کھپت کے درمیان کا تال میل غیر متوازن ہو چکا ہے ۔

بھارتی ریزرو بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 2011-2012 اور 2018-2019 کے درمیان زراعت میں مجموعی گھریلو مصنوعات میں پبلک سیکٹر کی سرمایہ کاری 0.4فیصد ہی رہی ہے یہ دیکھتے ہوئے کہ ملک کی آدھی آبادی زراعت پہ منحصر ہے یہ حالت بتاتی ہے کہ ہمارے ملک میں زراعت کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا ہے ۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو جب ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ غور کرنا چاہئے کہ وہاں کھیتی کی صورت حال کیسی ہے ۔ امریکا، کناڈا، آسٹریلیا جیسے ملکوں میں بڑے بڑے فارمز ہیں جہاں مارڈن تکنیک سے بہترین کھیتی کی جا رہی ہے ۔ ہمارا ملک ترقی کی دوڑ میں تو ضرور شامل ہے مگر کھیتی کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے اس دوڑ میں دھیرے دھیرے پچھڑنے لگا ہے

شیئر کریں
علی نثار
مصنف: علی نثار
علی نثار صاحب کا تعلق حیدرآناد انڈیا سے ہے ۔ یہ کینڈا میں مقیم ہیں۔ بہترین افسانہ نگار ، ناقی اور مضمون نگار ہیں ۔ ان کے افسانے اردو کے تمام اہم رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں ۔ عالمی سطح پہ ان کی تحریروں کو مقبولیت حاصل ہے ۔ پیشے سے بزنس مین ہیں ۔

کمنٹ کریں