ابتدائی دور کے فیشن ڈیزائنر

ڈاکٹر زبیر فاروق
ڈاکٹر زبیر فاروق

مضمون نگار : ڈاکٹر زبیر فاروق

فیشن کی تاریخ انسانی تہذیب کی تاریخ ہے ۔ پچھلی صدی کے جدید ڈیزائنروں نے جس جدید فیشن کی بنیاد رکھی وہی ترقی کرکے آج کی فیشن انڈسٹری بن چکی ہے ۔
پرانے دور میں بھی مرد و خواتین کی پسند کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کپارے تیار کئے جاتے تھے پھر زمانے کے ساتھ ریڈی میڈ لباس کی ضرورت ہوئی تاکہ لباس پہننے کے لئے تیار لباس بازار میں موجود ہو ۔ انہوں نے نئے فیشن اور برانڈس کی بنیاد ڈالی یہ ان افراد کی تخلیقی صلاحیتیں ہیں جن کے سبب فیشن کی دنیا کو ایک نئی بلندی عطا ہوئ ۔ہم آج دنیا کے بڑے اور مشہور ڈیزائنر کا نام بخوبی جانتے ہیں کمپنیوں کے نام ہمیں ازبر ہیں مگر کیا ہم یہ بتا سکتے ہیں ان کے موجد کون تھے ؟ آئیے آج ہم آپکو برانڈنگ کے ابتدائ دور کے کچھ فیشن ڈیزائنر سے متعارف کراتے ہیں ۔

, ابتدائی دور کے فیشن ڈیزائنر

پال پیرائٹ (1879-1944) پال پیرائٹ پیرس کا پارسی لڑکا تھا جو بیسویں صدی کے فیشن کا ہیرو ہے۔ پیرائٹ نے پہلی جنگ عظیم سے پہلے پیرس کو بہترین فیشن ایبل لباس کا تحفہ دیا تھا ۔ پال پیرائٹ کے ڈیزائن کئے گئے لباس کی پورے پیرس میں دھوم تھی ۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا یہ جدید دور کی ڈیمانڈ کے مطابق خود کو ڈھالنے میں ناکام ہوا اور اس کی کمپنی کا خاتمہ ہوا ۔

جین لینن (1867-1946) جین لینن کمپنی کی شروعات ایک چھوٹی سی دوکان سے ہوئی جو آج ملینئر بن چکی ہے ۔اس نے اپنے وقت کے تمام مقابل کمپنیوں پہ سبقت حاصل کی اس نے کلچ ٹوپیاں ، نسائی کپڑے اور خوشبو پر دنیا کا سب سے طویل چلنے والا فیشن ہاؤس تعمیر کیا جو آج تک موجود ہے۔

میڈیلین وائنٹ (1876-1975) میڈیلین وائنٹ نے ٹریڈیشنل ڈریس اور پرانے اسٹائل کو یکسر بدل دیا ۔اس نے کنفرٹ کپڑوں کی ایک سلطنت قائم کی ۔ اپنے عروج کے دور میں وائنٹ کے پاس 26 شورومز تھے اور ایک ہزار عملہ ملازمت کرتا تھا ان کی کمپنی میں ڈیزائنر کے لیے پہلی شرط تھی کہ نئے ڈیزائن کی مکمل رازداری اور ڈیزائنر کے طور پہ خود کو خفیہ رکھنا۔

گیبریل “کوکو” (1883-1973) گیبریل “کوکو” چینل ڈیزائنر ڈوائن جس نے فیشن کے سب سے مشہور ٹرینڈ کی بنیاد رکھی تھی ۔اسے سیاہ لباس کے تخلیق کار کے طور پہ بھی جانا جاتا ہے ۔ جس نے سوگ میں پہنے جانے والے لباس کو فیشن ٹرینڈ میں تبدیل کر دیا تھا ۔

ایلسا شیپارییلی (1890-1973) یہ ایک بیحد مقبول فیشن ڈیزائنر تھی جس کے تیار کردہ لباس بیحد خوبصورت اور دیدہ زیب ہوتے تھے یہ منفرد قسم کے لباس تیار کرتی تھی ۔ ایلسہ شیپارییلی نے پیرس کے معاشرے کے دائیں حلقوں میں گھل مل کر شہرت حاصل کی جس نے اسے ہالی وڈ تک پہنچا دیا جہاں اس نے فیشن کو ایک نئ دنیا میں پہنچا دیا ۔

کرسٹبل بلین سیگا (1895-1972) کرسٹبل بالنسیا نے صرف فیشن ایبل لباس ہی تیار نہیں کئے بلکہ یہ جوتوں سے لے کر زیورات تک بناتا تھا ۔ اس کی کمپنی نے بےانتہا، مقبولیت حاصل کی اور بڑے کاروباریوں میں شمار کیا جانے لگا ۔

کرسچن ڈائر (1905-1957) کرسچن ڈائر وہ ہے جس نے ’نیو لک‘ ایجاد کیا تھا۔ کرسچن ڈائر کو ایک فیشن شو تیار کرنے اور پیش کرنے میں چار دہائیاں لگیں مگر جب یہ فیشن شو پیش ہوا تو اس نے فیشن کی دنیا پہ اپنی فتح کے جھنڈے گاڑ دئے ۔

یویس سینٹ لارینٹ (1936-2008) اسے مارڈن فیشن کی بنیاد تسلیم کیا جاتا ہے ۔ انہیں شروعاتی دور میں مستقبل کا فیشن ڈیزائنر کہا جاتا تھا ۔ اپنے نئے خیال اور ماڈرن ازم کی وجہ سے ایک طویل جدوجہد بھی جھیلنی پڑی مگر پھر ایک بڑی اور طویل کامیابی ہاتھ لگی ۔ پیئر بالمائن (1914-1982) ہم پیئر بالمائن کی بات کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ فیشن کو پیسہ بنانے کی انڈسٹری کے طور پہ دیکھتے ہیں ۔ اور انہوں نے اعلیٰ طبقے سے لے کر نچلے طبقے تک کے لیے لباس ڈیزائن تیار کئے ۔جنہیں کوئ بھی با آسانی خرید سکتا تھا ۔

نینا ریکی (1883-1970) انہوں نے اپنے کاروباری بیٹے کے اصرار پر اپنی کمپنی کا آغاز کیا۔ اس نے اعلی متوسط ​​طبقے کے لئے اعلی فیشن تیار کیا ، اور ان کے تیار کردہ کپڑوں نے لینون اور چینل کو تیسرے نمبر پر پہنچا دیا

شیئر کریں
ڈاکٹر زبیر فاروق متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے معروف شاعر ہیں۔ انہوں نے ڈو میڈیکل کالج کراچی سے تعلیم حاصل کی اور اس دوران اردو زبان سیکھی۔ اب تک ڈاکٹر زبیر فاروق کے چالیس سے زائد شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔

کمنٹ کریں