شہاب ظفر اعظمی اور فکشن کی تنقید

مضمون نگار : شمیم قاسمی

, شہاب ظفر اعظمی اور فکشن کی تنقید

کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس میں شک بھی نہیں کہ غالب ؔکے اسی ’’انداز بیان‘‘نے غالب کو غالب بنایا۔یہ تو غالب کے ڈکشن کا کمال رہاہے کہ اس کے زیر سایہ ہر لفظ گنجینئہ معنی کا طلسم بن جاتاہے ۔اسلوبی اور لسانی سطح پر بھی کلام غالب میں جو ایک طرح کی تازہ کاری اور حکمت عملی دیکھنے کو ملتی ہے ،اس نے غالب کی شعری کائنات کو نہ صرف سر سبز بلکہ معنی خیز بھی بنا دیا ہے۔زبان کے فطری اور خلاقانہ استعمال اور ایک اچھوتے پیرایئہ اظہار نے ہی غالب کو ہر عہد میں معتبر و منفرد مقام عطا کیا ۔متعین لسانی امتیازات کے تابع رہتے ہوئے بھی غالب ؔنے اپنا ایک الگ ہی اسلوب خلق کیا یعنی اس نے اپنے شعری سفر میں جو انداز بیان اختیار کیا وہی اس کی شخصیت کا مظہر بھی ہے ۔


آخر یہ ’’انداز بیان ‘‘کیا ہے؟۔۔۔۔۔اصل میں یہی اسلوب ہے یعنی something with a difference یوں تو اظہار کے تمام وسائل اپنا یک اسلوب رکھتے ہیں ،لیکن بات جب تخلیقی ۱ادبی نثر یا فکشن رائٹنگ کی ہو تو پھر ہمیں شعری اسلوب کی پہچان کے متعینہ دائرے سے ایک ذرا چھلانگ لگانے کی یقینا ضرورت ہوگی ،اس لئے بھی کہ شاعری کے کچھ اپنے لسانی امتیازات ہیں ۔یوں معلوم ہونا چاہئے کہ ناول یا تخلیقی نثر کا اسلوب وضاحت طلب ہوتاہے ۔یہاں انسانی جذبوں ،معاملات روزمرہ اور واردات قلب کا موثر اور واضح اظہار ہی اسلوب ہے ،یوں اس میں جامعیت کے ساتھ معنوی ربط و تسلسل اور موضوع وفکر کی ہم آہنگی بھی لازمی ٹھہری۔سچ ہے کہ شاعری میں جو ذہنی و فکری انتشار کی فضا قائم رہتی ہے ۔اس سے تخلیقی نثر کا بعد ہے اور بقول عہد ساز ناقد شمس الرحمٰن فاروقی ’’تخلیقی نثر میں اجمال اور موزونیت کو چھوڑ کر شعر کے دوسرے خواص موجود ہوتے ہیں لیکن اجمال کی عدم موجودگی استعارے ،پیکر اور تشبیہ کو پوری طرح پھیلنے نہیں دیتی اور اگر ان عناصر کے ساتھ نثر نگار انہیں عبارت میں over look کرے تو ان میل ،بے جوڑ ہونے کی کیفیت نمایاں ہونے لگتی ہے۔یہ یقینا ممکن ہے کہ کسی نسبتاً طویل تخلیقی نثر میں جگہ جگہ اجمال کا بھی دخل ہو(جیسا کہ جدید افسانے میں ہو تاہے)اور نثر پارے کے وہ ٹکڑے شعر کے قریب آجائیں لیکن ان کے آس پاس پر محیط عدم اجمال اور ناموزونیت انہیں پوری طرح شاعری نہیں بننے دییتیں ۔‘‘اس اقتباس سے واضح ہو جاتاہے کہ فکشن رائٹنگ تخلیقی نثر کے زمرے میں شامل اور شاعری سے ایک زرا فاصلہ پر اور ہاتھ باندھے کھڑی ہے۔زیر مطالعہ تحریر میں ذکر اسلوب قطعی غیرارادی نہیں ،دراصل میرے پیش نظر عصری اردو فکشن کے بیحد فعال اور تازہ کار ناقد ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی کی تنقیدی کاوش ’’اردو ناول کے اسالیب‘‘ہے جس کے نتیجہ خیز مطالعہ کی سیرابی نے مجھے کچھ یوں انسپائر کیا کہ میں نے کاغذ قلم سنبھال لیا۔


’’اردو ناول کے اسالیب‘‘(۲۰۰۶ء)بلا شبہ عصری فکشن کی تنقید میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے اورمیں اس کا بغیر کسی لاگ لپیٹ کے ابتدامیں ہی اعتراف کر نا چاہوں گاکہ موضوعی اور فکری سطح پر اتنا جامع اور افادیت سے بھر پور پروجکٹ میری نظر سے کم ہی گزراہے ۔مجھے اس کا بھی احساس ہوا کہ میدان تحقیق و تنقید میں دوڑبھاگ بڑی صبر آزما ہوتی ہے۔یہاں جس ذہنی یکسوئی اور استقلال کی ضرورت ہوتی ہے اس پر اکثر احباب کھرے نہیں اترتے ،شاید یہی وجہ ہے کہ سندی تحٖقیق کی طلب نے بے شمار ایک جیسے ماڈل کو بازار ادب میں ’’لے دہی‘‘کی جلی سرخیوں کے ساتھ عجلت پسند اور سستی شہرت کے خواہشمند محققین (ڈاکٹروں)کے سروں پر رکھی ٹوکریوں کا وزن بڑھا دیاہے اور ان کی گردنیں ٹیڑھی ہونے لگی ہیں لیکن افسوس صد افسوس کہ Discount saleکا بورڈ لگانے پر بھی کوئی خریدار(قاری)نظر نہیں آتا۔


شہاب ظفر اعظمی نے سب سے پہلے’’ اردو کے نثری اسالیب‘‘(۱۹۹۹ ء) اور’’فرات مطالعہ و محاسبہ ‘‘ (۲۰۰۴ء)لکھ کراپنے تنقیدی سفر کی شروعات کی پھر دھیرے دھیرے فکشن کی تنقید میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی اور اب انہوں نے اپنے تحقیقی پروجکٹ کو اپنے تنقیدی سفر کا پڑائو بناتے ہوئے اردو ناول کے اسالیب کے تناظر میں ناول کے اسالیب کے تشکیلی پہلوئوںپر بھی گہری نظر رکھنے کے اچھوتے انداز کی وجہ کر فکشن کی تنقید میں اپنی مکمل موجودگی درج کرائی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔یہاں انہوں نے اردو ناول کے ایک مجموعی اسلوب کی تشکیل پر خاصہ زور دیا ہے۔میرا تو ایسا مانناہے کہ زبان کے کلی تصور یا پھر اس کے پیٹرن کے بغیر ناول کے تشکیلی پہلوئوں پر بھر پور فوکس نہیں ڈالا جا سکتا۔معلوم ہونا چاہئے کہ اسلوبیات کا مطالعہ صرف ادب ہی نہیں زبان بھی ہے ۔اسلوب کی بحث اب یوں سمجھئے تو بہت آسان ہے اور اگر دماغ خرچ کیجئے تو بڑی مشکل ہے ۔یوں کہا جا سکتاہے کہ کسی فن پارہ کا اسلوبیاتی مطالعہ بنیادی طور پر تصور اسلوب ہی ہے ۔ زبان ،ہیئت ،اصناف وغیرہ یہ سارے مباحث تو اسلوب کے دائرے کا ہی طواف کرتے نظر آتے ہیں ۔اعظمی بتاتے ہیں کہ ایک منفرد شخصیت کی تعمیر میں جو عناصر کار فر ما ہوتے ہیں وہی مخصوص اسلوب کی تشکیل بھی کر تے ہیں گویا مصنف کی شخصی انفرادیت اور اس کے اسلوب میں گہری معنویت اور ربط ہے۔یہ مثل مشہور ہے کہ تحریر میںلکھنے والے کی صورت جھلکتی ہے یعنی بھانپ ہی لیتے ہیں ہم مضموں لفافہ دیکھ کر۔’’اردو ناول کے اسالیب ‘‘کے ابتدائی صفحات پر اعظمی نے اپنا تنقیدی نقطئہ نظر واضح کر تے ہوئے یہ اعتراف کر لیا ہے کہ’’اسلوب اور معنی کی بحث کو الگ کرنا ممکن ہی نہیں اس لئے اسلوبیات وہی ہے جو قاری کے کلی عمل کا احاطہ کر تی ہے ۔اس طریقئہ کار کے مطابق اسلوبیاتی مطالعہ کا نفاذ بسیط فن پاروں مثلاًناول پر بھی ہو سکتاہے ،کیونکہ یہاں مصنف کی مکمل تخلیق کا تجزیہ اس کے تخلیقی ذہن و عمل کے آئینہ میں کیا جا سکتاہے۔ناول کو مصنف کی تخلیقی شخصیت ،لسانی امتیازات ،عہداور ماحول سے جوڑ کر پرکھنا مشکل ضرور ہے مگر صحیح اسلوبیاتی مطالعہ کے لئے اتنی محنت ضروری بھی ہے کیونکہ یہی جامع ادبی اسلوبیات ہے۔‘‘


جدید شعرو ادب یا نئی تنقید کے کچھ اپنے تقاضے ہیں ۔فی زمانہ کسی تخلیق یا ادبی اظہار کے اسلوب کاتجزیاتی مطالعہ بہت ہی scientificڈھنگ سے کیا جا رہا ہے ۔یہاں پر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ لسانی اظہار کااپنا ایک پیٹرن ہے اور یہ بھی کہ اسلوبیات کے علم نے ہی ہماری اردو تنقید کو وسعت نظری دی ہے ۔سچ ہے کہ کسی ناول اتخلیقی نثر کے متنی جائزے کے تحت ہی اس کی نئی معنویت ،تخلیقی پر اسراریت اور ایک اچھوتے جہان معنی کا ادراک و انکشاف کیا جا سکتاہے ۔ہمارے عہد کے عالمی شہرت یافتہ بزرگ ناقد پرو فیسر وہاب اشرفی کا مندرجہ ذیل اقتباس یقینا توجہ طلب ہے اور جوبلا شبہ عصری اردو فکشن کی تنقید کو ایک نیا ڈائمنشن اور ایک نئی جہت و سمت سے رو شناس کراتاہے ۔
’’ہم گھسی پٹی راہ پر دوڑنے سے تھکتے نہیں ۔یہی سبب ہے کہ ہماری تنقید یکسری اور غیر حقیقی بن جاتی ہے۔کیا ابھی تک ایسا ہوا کہ ہم صرف اور صرف زبان کے حوالے سے فکشن کے نت نئے گوشوں کو روشن کر سکیں ۔‘‘(اردوفکشن اور تیسری آنکھ)


ہر ناول یا فکشن اپنے عہد کا ترجمان ہو تاہے۔اس میں استعمال شدہ زبان کے حوالے سے ہم فکشن کی تنقید کو بلا شبہ ایک نئی معنویت اور نیا زاویئہ نظر دے سکتے ہیں ۔موصوف نے غالباً اس طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ ناول یا فکشن کی شعریات پرمختلف جہتوں اور بطورخاص جدید تنقیدی نقطئہ نظر سے ابھی ڈھیر سارے کام ہونے باقی ہیں ۔زبان کے حوالے سے فکشن کے نت نئے گوشوں کو اجاگر کرنا در اصل زبان کے امتیازات و خصائص پر گہری نظر رکھتے ہوئے یعنی لسانی آہنگ کے زیر اثر ’’جڑوں کی تلاش‘‘کے ساتھ نئی تنقید کے ایک اچھوتے ذائقہ پر stressدیناہے۔یہ بھی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ مروجہ زبان و بیان اور فکر ونظر کی یکسانیت سے ایک ذرا انحراف کرتے ہوئے یہاں وسیع الاطراف اور ہمہ گیر اظہار یہ پہ بھی یوں فوکس ڈالا جائے کہ ہر اک منظر پس منظر برہنہ نظر آئے اور یہ کام تو اسلوبیات کے علم کے بغیر ممکن نہیں کیونکہ اسلوبیات کا مطالعہ ہمیں بتاتاہے کہ ہمیں باب تنقید میں زبان کے تمام پہلوئوں کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔یہ کوئی بھید کی بات بھی نہیں کہ الفاظ کا لغوی معنی سے ہٹ کر بھی ایک انفرادی وجود نمو پاتا رہتاہے ۔کسی تخلیق اتحریر کا انفرادی وجود اسلوب بیان یا styleکے بغیر اپنی شناخت قائم نہیں رکھ سکتا اور بقول جون مڈلٹن ؛۔۔
”style is the quality of language which communicate
pricely emotions or thought peculiar to the others


معاصر اردو زبان وادب میںمطالعئہ اسلوبیات نے کئی زاویوں سے ہمارے اذہان کو روشن کیاہے ۔یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ اسلوبیات کا بنیادی تصور ہی اسلوب ہے اور بقول عہد ساز ناقد ،ماہر اسلوبیات و ساختیات پروفیسر گوپی چند نارنگ ’’اسلوب کوئی نیا لفظ نہیں ۔تنقید میں یہ لفظ صدیوں سے رائج ہے ۔اردو میں اسلوب کا تصور نسبتاًنیا ہے ۔تاہم زبان و بیان ،انداز بیان ،طرز تحریر ،لہجہ ،رنگ،رنگ سخن وغیرہ اصطلاحیں اسلوب یا اس سے ملتے جلتے معنی میں استعمال کی جاتی رہی ہیں یعنی کسی بھی شاعر یا مصنف کے اندازبیان کے خصائص کیا ہیں یا کسی صنف یا ہیئت میں کس طرح زبان استعمال ہوئی ہے یا کسی عہد میں زبان کیسی تھی اور اس کے خصائص کیا تھے وغیرہ۔۔۔یہ سب اسلوب کے مباحث ہیں ۔ادب کی کوئی پہچان اسلوب کے بغیر ممکن نہیں ۔‘‘اس تمہید کے بعد فکشن کی تنقید کے تازہ کار ناقد ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی کی نئی تنقید ی کتاب ’’اردو ناول کے اسالیب‘‘کا مطالعہ اردو کے چند اہم نئے پرانے اور جدید تر ناولوں کے اسلوبیاتی مطالعہ کے حوالے سے باذوق قارئین کے اذہان کو سیراب کرنے کا جواز فراہم کرنے میں بہت حد تک سود مند ثابت ہواہے۔
زیر مطالعہ کتاب بنیادی طور پر چار ابواب پر مشتمل ہے ،پانچواں محاکمہ کے طور پر قلم بند ہوا ہے،جو ظاہر ہے کہ Result oriented ہے ۔بہر حال پہلے باب میں اسلوب کے ترکیبی عناصر اور چند اہم اردو ناولوں پر مدلل بحث کی گئی ہے۔تحقیقی و تنقیدی نقطئہ نظر سے اس باب پر بھر پور مواد اکٹھا کیا گیا ہے۔دوسرا باب ترقی پسند تحریک سے قبل لکھے گئے مانوس اور غیر مانوس ناولوں کے مطالعہ کا نچوڑ پیش کر تاہے۔اس باب میں نذیر احمد ،رتن ناتھ سرشار،شرر،مرزا ہادی رسوا،قاضی عبدالغفار،علی عباس حسینی،شاد عظیم آبادی اور راشدالخیری وغیرہ کے ناول اور اسالیب پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔اور ایک طرح سے Historical Stylistic method کے زیر اثر عہد بہ عہد لکھے گئے ناولوں کے اسالیب کا جائزہ لیا گیاہے۔ساتھ ہی ناول کے مختلف اور بنیادی اسلوب پر محققانہ انداز اختیار کرتے ہوئے اعظمی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ’’ میر امن کا سادہ اور جمہوری اسلوب جدید ناول تک پہنچا اور ناول کے لئے بنیاد قرار دیا گیا۔چنانچہ بعد کے تمام اہم ناول نگاروں نے اس کا اعتراف کیا کہ دراصل میرامن سے پریم چند تک پہنچنے والا یہی طرز اور یہی اسلوب بنیادی اسلوب ہے جس کے سانچے میںناول کو ڈھالا جا سکتا ہے اور جس سے اردو ناول کے مختلف اسالیب جنم لے سکتے ہیں‘‘(ص ۔۱۱۸) اعظمی کا ایسا بھی مانناہے کہ امرائوجان ادا اردو کا پہلا ایسا ناول ہے جو مختصر ترین ہونے کے باوجود ناول کے بنیادی اور لطیف منصب پر کھر ا اترتا ہے ۔امرائو جان ادا میں زندگی اور اسلوب ایک دوسرے کی بانہوں میں سمائے ہوئے سوئے منزل رواں دواں ہیں ،گویا ایک کے بغیر دوسرا نامکمل ہے۔یہاں زندگی اسلوب کے لیے مشعل راہ ہے تو اسلوب زندگی کو اس کی حدود میں رکھ کر وہ بلندی عطا کرتا ہے کہ جہاں تک عمومی نظر نہیں پہنچ سکتی۔


تیسرا باب ترقی پسند اردو ناول کے اسالیب سے متعلق ہے اس میں سجاد ظہیر ،عزیز احمد ،کرشن چندراور عصمت چغتائی کے فکر وفن کے حوالے سے اسلوبیات پر پرمغز گفتگو کی گئی ہے۔چوتھا باب جو ترقی پسند تحریک کے بعد لکھے گئے ناولوں کا بھرپور بلکہ یوں کہیے کہ uptodateاحاطہ کرتا محسوس ہوتاہے۔بطور خاص اس باب میں اظہار وبیان کی سطح پر بدلتے ہوئے ناولوں کے مختلف اسالیب کے اسباب و عوامل پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔اس باب میں رخصت ہوتی ہوئی صدی سے فوراً اکیسویں صدی میں داخل ہونے والے تقریباً تما م اردوکے اہم ناول نگار وں کے ان ناولوں پر دلجمعی سے روشنی ڈالی گئی ہے جو کسی نہ کسی سطح پر حوالوں میں رہے ہیں،اور ان کے اسالیب پر بھرپور فوکس ڈالتے ہوئے معاصر اردو ناول نگاری کی اسلوبیاتی خوابناکی کو ایک واضح خدوخال دینے کی اعظمی نے ہر ممکن کوشش کی ہے۔اس باب میں چند ایسے ناول بھی بطور خاص زیر بحث آئے ہیں جن کے بغیر معاصر اردو ناول نگاری کاتاریخی تسلسل اور اسلوبیاتی مطالعہ ناقابل قبول ہوگا۔یہاں عزیز احمد سے لے کر شاہد اختر تک کے ناولوں کو موضوع بحث بنایا گیاہے،لیکن یہ سوال ہنوز تشنہ طلب رہا کہ کیا واقعی کسی ناو ل کا موضوع خود اپنا اسلوب طے کر لیتا ہے یا کہ عملاً مصنف کی شخصیت میں ہی اس کا اسلوب چھپا رہتا ہے؟شاید یہی وجہ ہے کہ اعظمی نے بھی بیچ کا راستہ نکالتے ہوئے اسلوبیات کے مطالعہ کو اس کتاب میں مرکزی حیثیت دے رکھی ہے اور بقول اسلوبیاتی نقاد ماہر لسانیات پروفیسر گوپی چند نارنگ ’’ اسلوبیات کی رو سے اسلوب کی حیثیت ادبی اظہار میں اضافی نہیں بلکہ اصلی ہے یعنی اسلوب لازم ہے یا ادبی اظہار کا ناگزیر حصہ ہے یا اس تخلیقی عمل کا ناگزیر حصہ ہے جس کے ذریعہ زبان ادبی اظہار کا درجہ حاصل کرتی ہے۔‘‘ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ معاصر شعروادب کی دنیا میں مخصوص ادبی نظریوں کی بالا دستی ان دنوں اپنے شباب پر رہی ہے ۔اب ایسے میں ہماری نسل پر یہ عیاں ہو چکا ہے کہ بُتوں سے دلوں کو پاک کرنے کی گھڑی اب ایا ہی چاہتی ہے۔پاکستان کے معتبر فکشن ناقد ناصر حسین نیرکے بقول فکشن معاصر صداقتوں کو پورے اعتماد اور استناد کے ساتھ پیش کرنے پر قادر ہے۔لہذا کسی ناول کے اچھے یا برے ہونے کا معیار یہ سمجھا گیا ہے کہ وہ کس حد تک ہمعصر زندگی کا بیانیہ ہے اور یہ سوچنے کی کم زحمت کی گئی ہے کہ فکشن کو زندگی کا بیانیہ بننے کے لیے اولاً و آخراً زبان پرہی انحصار کرنا پڑتاہے۔‘‘یہ سچ ہے کہ ہمارے بیشتر ناول نگار آج ناول کی تخلیق کے مرحلے میں زبان کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے جبکہ ناول میں زبان کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔


جن نئے پرانے ناولوں کے اسالیب کو موضوع بحث بناتے ہوئے اعظمی نے اپنے تحقیقی مطالعہ کو زرخیز بنایاہے اُن میں لندن کی ایک رات (سجاد ظہیر)گریز(عزیز احمد)میرے بھی صنم خانے(قرۃالعین حیدر)ایک چادر میلی سی(راجندر سنگھ بیدی)حسرت تعمیر(اختر اورینوی)ٹیڑھی لکیر (عصمت چغتائی)علی پور کا ایلی(ممتاز مفتی)نادید (جوگندرپال)فائرایریا(الیاس احمدگدی )دوگززمین(عبدالصمد)مکان (پیغام آفاقی)فرات(حسین الحق)ندی(شموئل احمد)وغیرہ شامل ہیں ۔متذکرہ بالا ناولوں کے اچھوتے اسالیب و امتیازات اور زبان و بیان پر خصوصی فوکس ڈالتے ہوئے ان ناولوں کی ارضی جہت و معنویت اور اسلوب کی بدلتی ہوئی صورتوں پر موثر ڈھنگ سے روشنی ڈالی گئی ہے۔اعظمی نے کسی بھی طرح کے ادبی نظریوں اور ازم سے بالا تر ہوکر اپنا تنقیدی نقطئہ نظر پیش کیاہے۔دھنک رنگ اسلوب کے حامل چند ناولوں پر مصنف کے کچھ تاثرات ملاحظہ فرمائیں:
لندن کی ایک رات : ’’پہلا ترقی پسند ناول ہے ،اور اپنے ڈھنگ کا خالص ادبی و نظریاتی ناول ہے۔اس ناول میں نئی ناول نگاری کا اسلوب بھی پہلی مرتبہ نئے مسالے کے ساتھ نئے ڈھنگ سے پیش ہوا‘‘ گریز : ’’سجاد ظہیر کے بعدناول کی دنیا کا اہم نام عزیز احمد ہے ۔گریز میں خطوط بھی ملتے ہیں اور ڈائری بھی اور تاثراتی اسلوب بھی۔انہوں نے مختلف تکنیکوں اور اسالیب کا استعمال کرکے اپنے مواد کا مکمل ترین اظہار کیا ہے‘‘ میرے بھی صنم خانے : ’’یہ ناول سماجی حقیقت نگاری کے خلاف ردعمل اور پیوستہ رویوں کی ضد کا نتیجہ ہے۔اگر صر ف اس کے اسلوب پر نگاہ ڈالی جائے تو یہ پتہ چلتاہے کہ اس کا اسلوب اتنا خوبصورت رواں دواں اورشائستہ ہے کہ قاری خود بخود متاثرہوکراس کے ساتھ بندھا چلا جاتاہے‘‘ ایک چادر میلی سی : ’’بیدی نے اپنے اسلوب کو تخلیقی حقیقت نگاری سے مزین کرنے کے لیے اساطیری اور دیومالائی عناصر سے خوب فائدہ اٹھایاہے۔ان کے اسلوب کی جڑیں ہندستان کی قدیم تہذیب اور مذہبی رسومات میں پیوست ہیں‘‘ حسرت تعمیر : ’’اس کا پس منظر چھوٹا ناگپور کا سرسبز و شاداب حصہ ہے۔حسرت تعمیر کی واحد خوبی جو اسے معاصر ناولوں میں ممتاز ٹھہراتی ہے وہ مصنف کی منظر نگاری ،ماحول نگاری اور ٹوپو گرافی ہے‘‘ ٹیڑھی لکیر: ’’اردو کے افسانوی ادب میں غالباً عصمت چغتائی واحد شخصیت ہیں جنہیں ان کے موضوعات اور افکار سے زیادہ اسلوب او ر طرز بیان کی وجہ سے یاد کیا جاتاہے۔عصمت کا بے ساختہ محاوراتی اسلوب خصوصاً عورتوں کی گفتگو کے درمیان قلانچے بھرتاہے‘‘ علی پور کا ایلی : ’’یہ ایک نفسیاتی ناول ہے۔ناول نگار نے شدید جنسی و نفسیاتی ماحول میں بھی اپنے سلوب نثر کو فحاشی اور کھلے پن سے محفوظ رکھاہے۔ممتاز مفتی کے یہاں زبان سہل اور روزمرہ کے تعلق سے سامنے آتی ہے مگر جنسی اور نفسیاتی صورت ہائے احوال کے لیے وہ رمز ،اشاروں اور کنایوں سے بھی کام لیتے ہیں‘‘ نادید: ’’نادید میں جوگندرپال کا اسلوب سادگی سے متصف ہے اور مخاطبانہ طرز اظہار کی مثال ہے۔اس اسلوب کے عناصر ترکیبی بڑے نازک ہیں جن کی تقلید نہیں کی جاسکتی۔‘‘


فائر ایریا: ’’اس ناول کے ذریعہ الیاس احمد گدی نے فنی اور فکری لوازم کے ساتھ اردو میں علاقائی ناول نگاری کی بنیادڈالی۔ناول نگار نے زبان کو بہت سہل اور عام بول چال کے قریب رکھاہے۔۔۔صاف ظاہر ہوتاہے کہ فائر ایریا کی تخلیق وہ شخص کر رہا ہے جو بہار کی جغرافیائی حدود،زبان،ماحول اور کلچر سے بخوبی واقف ہے ۔اپنے اسلوب کو عوامی اور جمہوری رنگ دینے کے لیے ناول نگار نے زیاد ہ سے زیادہ عوامیت اختیار کی ہے۔‘‘ دوگز زمین: ’’دوگز زمین کا اسلوب شاعرانہ کیف وکم سے خالی اور سادہ و سلیس ہے،کیونکہ عبدالصمد بناوٹی اور سجی سجائی یا شعری زبان کو فکشن کے لئے سم قاتل سمجھتے ہیں‘‘۔
مکان: ’’اس ناول میں نثر کے مختلف اسالیب کا سہارا لیا گیاہے اور روایتی بیانیہ ،خودکلامی،شعور کی رو ،مابعدالطبیعیات ،اساطیر اور فکر و فلسفہ کی مدد سے ایسا متن تیار کیا گیا ہے جس میں فنکاری ہے انفرادیت ہے۔‘‘ فرات: ’’اظہار کی بیباکی ،فکر کی ندرت اور لہجے کا توازن حسین الحق کے معاصرین سے بالکل منفردہے۔اظہار کا یہ شعری والہانہ پن کرشن چندر اور احمد ندیم قاسمی کے اسلوب کی یاد دلاتاہے‘‘۔


ندی: ’’ناول شروع سے آخر تک پیچیدہ اور استعاراتی کینوس پر مشتمل ہوتے ہوئے بھی اسلوب کی روانی اور بہائو کی وجہ سے قاری کو اپنے ساتھ تیزو تند موجوں کی طرح بہا لے جاتی ہے۔انداز شاعرانہ ہے اور اپنی جامعیت میں ایک جہان کشادگی لئے ہوئے ہے‘‘۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ متذکرہ تمام ناولوں کا جائزہ لیتے ہوئے اعظمی نے فکشن کی تنقید کو ایک نئی معنویت عطا کی ہے۔ان ناولوں سے ان کا محض ’’ضرورت بھر‘‘ کا رشتہ نہیں رہا بلکہ اس قبیل کے تقریباً تمام ناولوں میں رونما ہونے والے و قوعوں کے روایتی و غیر روایتی اظہاریے اور اسالیب کی روشنی میں تلخ و تند عصری زندگی کی پیچیدگیوں ،مختلف ناولوں میں بیان کردہ کرداروں کے غیر معمولی افعال سے متاثر ہوتے سماجی و سیاسی نظام حیات و ملک کے تاریک اور روشن مناظر کو اپنی روح کی گہرائیوں میں اتارا ہے تب کہیں جاکر فکشن کی تنقید میں ایک قابل رشک تصنیف کا اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے لا شعوری طورپر چند معاصر ناول نگاروں کا تقابلی مطالعہ بھی پیش کیاہے۔اعظمی نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ نفسیاتی کیفیت کے اظہار کے لیے فرات کے حسین الحق ممتاز مفتی سے دس قدم آگے ہیں۔عبدالصمد کا ایسا ماننا ہے کہ فکشن کی زبان ornamentalنہیں ہونا چاہیے۔اعظمی کے مطابق عبدالصمد بنیادی طورپر سادہ بیانیہ کے قائل ہیں یعنی وہ بیانیہ جو پریم چند کے گئودان اور حیات اللہ انصاری کے لہو کے پھول کی روایت کو آگے بڑھا نے میں کار گر ہے ۔صمد لا شعور ی طورپر کلام حیدری کی نثر سے متاثر معلوم ہوتے ہیں۔۔۔دوگز زمین کے مطالعے کے بعد اعظمی کو یہ بھی پتہ چلا کہ صمد کو زبان و بیان پر بھی قدرت حاصل ہے۔(ص۳۰۱)یہاں صمد کے سلسلے میں کئی جگہ اعظمی کی تنقیدی فکر میں تضاد نظر آیاہے۔وہ مزید بتاتے ہیں کہ صمد چونکہ polishedزبان سے احتراز کرتے ہیں اس لئے ان کے ہر ناول کا اسلوب سادہ اور عوامی ہے۔ان کے تمام ناول اسلوب کے اعتبار سے یکساں ہو گئے ہیں۔اور دوگز زمین کی طرح ہی سادگی ،سلاست اور صفائی کی خصوصیات رکھتے ہیں۔صمد کے اسلوب کی طرح ان کے ناولوں کے بعض واقعات میں بھی یکسانیت پائی جاتی ہے مثلاًمہاساگر ،دھمک وغیرہ۔اعظمی کا یہ بھی ماننا ہے کہ صمد اپنی صلاحیتوں کا بہترین استعمال و اظہار دوگز زمین میں کر چکے ہیں اب آگے بڑھنا ممکن نہیں(ص۳۰۴)


جنسی بے راہ روی کے اظہار میں جن ناول نگاروں کے یہاں شدت پائی جاتی ہے ان پر کئی مقامات پر خوبصورت پیرایہ میں اظہار کیا گیا ہے۔سب سے پہلے جنس کا کھلا ڈلا اظہار اُداس نسلیں ناول میں ملتاہے۔اداس نسلیں کی کہانی میں فطری ارتقا کا فقدان ہے۔بے ربطی ،پھیلائو اور ڈھیلے پن نے فنی سطح پر اس ناول کو کمزور بنادیاہے جبکہ فرات کی صورت اس کے برعکس ہے۔علی پور کا ایلی کی تو پوری فضا ہی جنسی بے راہ روی اور لذت کوشی پر قائم ہے۔اعظمی کا ماننا ہے کہ پورے ناول میں افراد واقعہ کے لئے اگر کوئی موضوع دلچسپی کا حامل ہے تو وہ جنس ہے۔جنسی تلذذ کی ایک سحر آگیں فضا ’’ندی‘‘ میں undercurrent ہے۔ندی میں عورت اور مرد کے دائمی رشتوں کی کشش پر قلم توڑا گیا ہے۔اعظمی نے ندی کو جسم کی مایوس پکار کا استعارہ بتایاہے۔ندی کے خوبصورت اسلوب پر روشنی ڈالتے ہوئے اعظمی نے اس بات کا اعتراف کیاہے کہ ’’ناول کا آغاز ایک حسین غزل کی طرح ہوا ہے ۔سچ یہ ہے کہ غزل کی لطافت ،نزاکت اور شیرینی کا تاثر ناول کے آخری صفحہ تک ہر جگہ ہر سطر میں چھایا ہوا ہے‘‘۔زبان و بیان کی سطح پر شاعرانہ اسلوب کے قریب تر ناولوں میں میرے بھی صنم خانے،تلاش بہاراں،پڑائو،فرات ،مم اور ندی پر بطور خاص گفتگو کی گئی ہے۔کہتے ہیں کہ فطرت ،عورت ،بدن یہ وہ شعری استعارے ہیں جن کی شمولیت سے نثری زبان بھی شعری فضا کی اسیر ہو جاتی ہے،ہر چند کہ بقول بزرگ ناقد ڈاکٹر وہاب اشرفی’’فکشن کا فن سماجی ناہمواریوں کے اظہار کا ذریعہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے لیکن بعض لکھنے والے اپنی فکر ی صورتیں اس طرح سامنے لاتے ہیں کہ زندگی کے بہت سارے مضمرات دخیل ہو کر عجیب کیفیت پیدا کر تے ہیں‘‘زیر مطالعہ کتاب نے یہ ثابت کر دیاکہ ناول کے اسالیب ۱متنی جائزے کے تحت ہی اس کی نئی معنویت اور تخلیقی پر اسراریت کا انکشاف کیا جا سکتاہے۔اور اس مقام پر بلا شبہ شہاب ظفر اعظمی خاصے کامیاب نظر آتے ہیں۔
کہا جا سکتا ہے کہ منفرد اسالیب کے زیر اثر ان ناولوں میں پہاڑ ی ندی کی طرح بہتی ہوئی زندگی کی موثر عکاسی کی گئی ہے ۔ناول نگار کی فطری شخصیت کے اظہار کی ترجمانی میں بھی ان ناولوں کا اہم رول رہاہے،ہر چند کہ فرداً فرداً انداز نگارش کی شناخت کوئی آسان کام نہیں لیکن جہاں تک ممکن ہو سکا ہے زیر مطالعہ کتاب میں اعظمی نے اپنی بساط بھر کوشش کی ہے کہ زبان وبیان کے حوالے سے ہر ناول نگار کے منفرد اسلوب کو ایک واضح سمت اور نام دیا جاسکے۔تاکہ مروجہ گھسے پٹے اسالیب کے درمیان شعوری طورپر اپنے خدوخال واضح کرتے ہوئے ان ناولوں کے اسالیب اور زبان پر کھل کر گفتگو کی جاسکے۔تحقیق و تنقید کی کسوٹی پر اعظمی نے جن ناولوں کو اعتبار بخشا ہے ان کے عہد ساز رجحانات ،عصری مسائل و افکار ہماری اجتماعی اور خارجی صورت حال کے حد درجہ عکاس ہیںاور شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے اسالیب کبھی کبھی جمہوری ہوتے ہوئے بھی ’’خاص‘‘ نظر آتے ہیں۔اس کی ایک بنیادی وجہ تو یہ بھی ہے کہ زبان وبیان کی سطح پر ان ناولوں میں موضوعی تنوع کے ساتھ ساتھ بے تکلفی اور ایک خاص ٹیسٹ کے بیانیہ کا والہانہ پن بدرجہ اتم موجود ہے۔پوری کتاب میں اگر کچھ کھٹکتا یا کچھ چھوٹتا سا محسوس ہوتا ہے تو جاسوسی ناولوں کے شہنشاہ ابن صفی کا ایک بھی سطر میں ذکر نہ ہونا۔جبکہ اس باب میں جاسوسی ناول نگار کی حیثیت سے اعظمی نے ظفر عمر کے حوالے سے یہ اعتراف کیا ہے کہ ظفر نے سلیس بیانیہ میں جاسوسی ناول لکھے ،پھر کیا سبب ہے کہ اپنے زمانے کے اور ایشیا کے مقبول ترین جاسوسی ناول نگار ابن صفی کے کسی ایک بھی ناول کے حوالے سے ان کے قاری پسند اسلوب پر گفتگو نہیں کی گئی؟اگر انہوں نے دانستہ ابن صفی کو ناول نگار نہیں مانا ہے تو یہ ابن صفی کے ہزاروں مداحوں کے لیے حیرت اور افسوس کی بات ہے۔اسے میں ابن صفی کی بد قسمتی سمجھوں یا ناقدان ادب کی کوتاہ نظری؟کیا ہم مغربی ناقدین سے اتفاق کر تے ہوئے جاسوسی ادب یا جاسوسی ناولوں کی پوپولر لٹریچر سے زیادہ نہیں سمجھتے؟جاسوسی ادب کیا فکشن کے خانہ سے واقعی باہر ہے؟افتخار امام صدیقی مدیر شاعر کا تو یہاں تک ماننا ہے کہ ’’ابن صفی کی نثر اردو کے قدیم وجدید اہم ترین نثر نگاروں سے کہیں زیادہ تخلیقی اور زرخیز ہے‘‘۔بہر حال شہنشاہ جاسوسی ادب ابن صفی کی روح کو تسکین پہنچانے کے لیے محققین و ناقدین پہلی فرصت میں پروجکٹ تیار کریں کہ بلا شبہ ابن صفی کی ناول نگاری ایک مستقل تحقیق و تنقید کا موضوع ہے۔اردو میں سائنس فکشن کی پہل کے حوالے سے بھی انہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ہمارے عہدکی نسل تو ابن صفی سے حد درجہ متاثر تھی،بقول ہم عصر شاعر دوست شاہد جمیل:


تمام لوگ فریدیؔ حمیدؔ جیسے ہیں یہ شہر ابن صفی کی کتاب لگتاہے ہمیںتو اس کا بھی اعتراف ہے کہ ابن صفی کے ناولوں نے ہی ہمارے ادبی ذوق و شوق کو پروان چڑھایا،فکری تنوع اور تجسس دیا،لکھنے لکھانے پر اُکسایا۔
اس میں شک نہیں کہ اعظمی نے ایک متحرک اور تخلیقی ذہن پایاہے ۔زیر مطالعہ کتاب کے حوالے سے انہوں نے میدان تحقیق کو ایک وقار اور توانائی بخشی ہے ۔زیر مطالعہ کتاب میں ان کا نقطئہ نظر دلائل وبیان باوزن اور سائنٹفک ہیں ۔اس میں ان کا شوق مطالعہ اور ذوق جنوں اپنے عروج پر ہے ۔یوں تو پیش نظر کتاب میں عالمی شہرت یافتہ اردو کے تقریباًان تمام ناولوں کا اسلوبیاتی مطالعہ قلمبند ہواہے جن پرہر عہد میں ہمارے ناقدان ادب اپنی اپنی مخصوص’’تنقیدی عینکیں ‘‘لگاکر ’فرمان‘جاری کرتے رہے ہیں ۔یہ بھی کم نہیں کہ اعظمی نے ان ناولوں کو بھی توجہ کا مستحق قرار دیا ہے جو اب تک ایک مخصوص حلقہ تک محدود رہے ہیں۔اس طرح ان کا پیش نظراردو ناول کے اسالیب کا مطا لعہ up to dateضرور کہا جاسکتاہے ۔مجھے خوشی ہے کہ اس ضخیم تنقیدی کتاب میں انہوں نے پیش نظر موضوع کو بہت سنبھالا اور تحقیقی کام کے افادی پہلوئوں کو نظر انداز نہیں ہونے دیاہے۔کہا جا سکتاہے کہ اعظمی اپنے ’’نصب العین ‘‘کو حاصل کرنے میں قطعی عجلت پسند واقع نہیں ہوئے ۔شائد یہی وجہ ہے کہ ہر مقام پر مطالعہ کی دلچسپی اور یکسوئی برقرار رہتی ہے۔ہمارے باذوق قارئین اس بہانے ان ناولوں کا بھی سرسری مطالعہ کر تے ہیں جو اپنے عہد کے بھاری بھرکم ناول کہے جاتے رہے ہیں ۔ان میںتو کچھ ناول اب ادب کی منڈی میں دستیاب بھی نہیں اور ان میں کچھ ایسے ناول بھی شامل ہیں جن کا براہ راست مطالعہ ہمارے ذہن کو یقینا بوجھل کر دیتا۔بہر حال ان سب کا نچوڑ اسلوبیاتی مطالعہ کے تحت اعظمی نے کچھ اس طرح خوبصورت اور پر لطف پیرایئہ اظہار میںپیش کیاہے کہ انہیں نہ پڑھنے کی تشنگی کافی حد تک جاتی رہتی ہے۔اردو ناول کے اسالیب کا جائزہ لینے کے پروسس میں ان کے مطالعہ کی دیوانگی کا یہ عالم ہے کہ ترقی پسند تحریک سے قبل لکھے گئے ناولوں سے ترقی پسند تحریک کے زیر اثر لکھے گئے ناول اور پھر جدید عہد کے ترجمان ناولوں سے جدید تر ادب کے تمام قابل ذکر اور اہم ناولوں کا صفحہ بہ صفحہ مطالعہ کرتے ہوئے پیش نظر موضوع کو مزید آفاقی بنانے میں مغرب ومشرق کے ان تمام ماہر اسلوبیات کی تحریروں کی بھی کانٹ چھانٹ کی ہے جن کے بارے میں کہا جاتارہا ہے کہ ’’مستند ہے میرا فرمایا ہوا‘‘اور تب کہیں جاکر اپنی ایک رائے قائم کی ہے ۔اس مقام پر وہ اپنے معاصرین محققین کی طرح لکیر کے فقیر نہیں رہے ہیں۔


اس میںبھی شک نہیں کہ اعظمی نے اسلوب کے امتیازات و خصائص پر روشنی ڈالتے ہوئے ماہر لسانیات پرفیسر گوپی چند نارنگ کی تحریروں سے بطور خاص استفادہ کیا ہے۔یوں زیر مطالعہ کتاب میں اسلوبیات کو ادبی تنقید میں گتھم گتھی کرکے اردو ناول کے اسالیب کا نتیجہ خیز مطالعہ پیش کیا ہے۔ساتھ ہی مغرب و مشرق کے اہم نظریہ ساز اور مختلف نقطئہ نظر رکھنے والے دانشوران ادب کی تحریروں سے حسب ضرورت کتاب کو معتبر بنایا گیاہے۔یہاں موسمی ناقدوں کی طرح ’’اقتباسات ‘‘کے ڈھیر نہیں لگائے ہیں بلکہ انہیں چھانٹ پھٹک کر قابل ہضم ’’اسلوبی شوربہ ‘‘پیش کیا گیاہے اس شوربہ میں جو حسب ذائقہ مرچ مسالہ اور نمک ہے وہ اعظمی کا اپناہے۔یہاںجو ’’شوربہ‘‘ہے وہ نہ صرف ہماری زبان کا چٹخارہ بدلتاہے بلکہ ان کی تحریر کو Readableبھی بناتاہے۔ایسا لگتاہے کہ اسلوب کے حوالے سے اب کہنے کو کچھ باقی نہیں رہا۔۔۔اگر واقعی ایسا ہے تو ہم کس درجہ عجلت یا سہل پسند ہو گئے ہیں۔شکر ہے کہ زیر نظر کتاب میں اعظمی نے اپنا تنقیدی منصب فراموش نہیں کیاہے۔یوں جابہ جامختلف نظریوں اور رویوں کے حامل ماہر اسلوبیات کے مستند حوالوں سے زیر بحث موضوع پر قلم اٹھاکر نہ صرف درس گاہوں کے معیار تحقیق بلکہ اردو فکشن کی تنقید کو درجئہ اعتبار بخشاہے۔اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اعظمی نے یہاں اپنی غیر معمولی تنقیدی صلاحیت اور اردو فکشن کی تنقید کے تئیں اپنی گہری ذہنی و ابستگی و سپردگی کا بے مثل نمونہ پیش کیاہے ،جس کا ثبوت بہت کم وقت میں اس کتاب کی غیر معمولی مقبولیت بھی ہے ۔کیونکہ اسے نہ صرف اتر پردیش اردو اکادمی اور بہار اردو اکادمی سے اب تک اول انعام سے نوازا جاچکا ہے بلکہ اردو کے معتبر اہم قلم اور دانشوروں نے بھی تحسین آمیز نگاہوں سے دیکھا ہے ۔نمونے کے طورپراعظمی کی تازہ ترین کتاب ’’جہان فکشن ‘‘(۲۰۰۹ء )میں شامل اہل علم کے تاثرات سے محض چند جملے ملاحظہ فرمائیں:
’’اردو ناول کے اسالیب پر آپ کے مقالے کا خاکہ ہر اعتبار سے مکمل ہے‘‘(ڈاکٹر گوپی چند نارنگ)
’’کم از کم میری نگاہ سے ایسا تحقیقی اور تنقیدی کام نہیں گزرا۔اردو ناول کے اسالیب ،تحقیقی اور تنقیدی اعتبارسے نئے تنقیدی جہات سے مملو ہے‘‘(پروفیسر وہاب اشرفی) ’’اردو ناول کے اسالیب ان کا ایسا کارنامہ ہے جس میں اردو ناولوں کی تفہیم کے لیے اسلوبی مطالعے کی اہمیت ثابت کی گئی ہے۔شہاب ظفر اعظمی کا انداز تجزیہ ایک امتیازی وصف کا حامل ہے‘‘(ڈاکٹر علیم اللہ حالی)


’’اردو ناولوں پر کسی بھی جہت سے گفتگو ہوگی تو اس کتاب کا ذکر ناگزیر ہوگا۔مصنف نے فکشن کی تنقید کے سلسلے میں ایک اہم نکتے کو جو ہمیشہ فراموش کر دیا جاتاہے ،بنیاد بناکر تجزیاتی تحقیق پیش کی ہے۔وہ نکتہ ہے ناول اور اسلوب کا رشتہ ۔مصنف کا اپنا اسلوب بھی خاصا موثر ہے۔‘‘(ڈاکٹر منصور عالم) ’’اردو ناول کے اسالیب اپنے محتویات اور اسلوب کے لحاظ سے دوسری کتابوں سے بہت مختلف ہے۔یہ اردو میں تنقید کا نیا منظر نامہ پیش کرتی ہے۔(راشد انور راشد) اپنے مطالعے اور اِن آراء کی روشنی میں مجھے بھی یہ کہنے دیجئے کہ بلاشبہ معاصر اردو تنقید میں شہاب ظفر اعظمی کی تنقیدی کاوش ’’اردو ناول کے اسالیب‘‘کی حیثیت دستاویزی ہوگی ۔

شیئر کریں
ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی بھارت میں اردو فکشن کی تنقید کا ایک سنجیدہ اور معتبر نام ہے۔ان کی پیدائش یکم اپریل ۱۹۷۲ء کو گیا (بہار) میں ایک عالم دین مولانا عبدالبر اعظمی کے گھر میں ہوئی۔انہوں نے ابتدائی تعلیم والد گرامی سے ہی حاصل کی ،اس کے بعد مگدھ یونیورسٹی ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔جون ۲۰۰۳ء میں ان کا تقرر شعبٔہ اردو ،پٹنہ یونیورسٹی میں ہوا،جہاں ابھی وہ بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسرتدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ان کے مضامین ملک و بیرون ملک کے موقر رسائل و جرائد میں شایع ہوتے رہے ہیں اور ادب کے سنجیدہ قارئین کے درمیان توجہ اور انہماک سے پڑھے جاتے رہے ہیں۔ان کی اب تک چھ کتابیں (۱)ضیائے اشرفیہ،۱۹۹۰ء(۲)اسلام کا معاشرتی نظام،۱۹۹۲ء(اردو کے نثری اسالیب،۱۹۹۹ء(۴)فرات،مطالعہ ومحاسبہ،۲۰۰۴ء(۵)اردو ناول کے اسالیب،۲۰۰۶ء(۶)اور جہان فکشن،۲۰۰۸ء شایع ہو چکی ہیں۔ان میں اردو ناول کے اسالیب اور جہان فکشن کو خاصی مقبولیت حاصل ہوئی ،بالخصوص اردو ناول کے اسالیب کو اترپردیش اردو اکادمی اور بہار اردو اکادمی سے اول انعامات سے او ر جہان فکشن کو بہار اردو اکادمی کے اول انعام سے نوازا گیا۔پروفیسر وہاب اشرفی نے ’’تاریخ ادب اردو‘‘ میں اول الذکر کتاب کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے یہاں تک لکھا کہ ’’کم ازکم میری نگاہ سے ایسا تحقیقی اور تنقیدی کام نہیں گذرا۔یہ تحقیقی و تنقیدی اعتبار سے نئے جہات سے مملوہے‘‘۔ڈاکٹر اعظمی اردو کی قومی اور بین الاقوامی مجلسوں ،سیمیناروں اور جلسوں میں شرکت کرکے بھی اپنی شناخت قائم کر چکے ہیں۔

کمنٹ کریں