فکشن نظریہ اختلاف حمایت

سنڈے اسپیشل کالم

کالم نگار ۔۔مشرف عالم ذوقی

, فکشن نظریہ اختلاف حمایت

۸۴۹۱ءمیں ژاں پال سارتر کی ایک اہم کتاب منظر عام پرآئی تھی۔ ادب کیا ہے ۔ اس کتاب پر سارتر نے دلائل کے ذریعے اپنے موقف کا اظہار کیاتھا۔
سارتر کے مطابق عصری ادب کو جمالیات اور لفظوں کی قلابازی سے بچنا ہوگا۔ عصری ادب نئے سماجی نظام اور نئی سیاسی صورتحال سے گریز کر ہی نہیں سکتا۔
سارتر نے صاف طور پر کہا…. ایک مصنف کے طور پر ہمارا کام اپنے عہد کی نمائندگی کرنا ہے۔ اور اپنے ہونے کی گواہی دینا بھی ہے۔
سارتر نے یہ بھی کہاکہ Poetry میں ہم زبان کے ساتھ کھلواڑ تو کرسکتے ہیں، تجربے بھی کرسکتے ہیںمگر فکشن کے لیے یہ تجربے خطرناک ہوںگے۔ سارتر کی نظر میں لکھنے والے کا کام ہتھیار کو ہتھیار کہنا ہے، یعنی جیسا کہ وہ ہتھیار ہے۔ اگر لفظ، مرض میں مبتلا ہیں تو پہلا کام یہ ہونا چاہیے کہ ہم اس مرض (لفظ) کا علاج کریں۔


شاید اس لیے سارتر نے جدید ادب کو ایک اور نام دیا— لفظوں کا کینسر
حمایت: لفظوں کی اہمیت سے بہر حال انکار نہیں کیاجاسکتا— لفظ اہم ہیں۔ لیکن فکشن میں جس قدر لفظ اہم ہیں اس سے کہیں زیادہ اہم موضوع ہے۔ جدیدیت کے بیس برسوں کی مثال کافی ہے کہ الفاظ کی قلابازی اور بازیگری نے نہ صرف قاری کو جدا کیا بلکہ جن چند لکھنے والوں کے اندر تھوڑے بھی امکانات موجود تھے، انہیں فیشن کی ڈگر پر چلا کر ان کے اندر کے تمام تر امکانات کو بھی خارج کردیاگیا۔
اختلاف:سیاسی وسماجی بصیرت کے ساتھ کہانویت کا ہونا لازمی…. لفظ، ترسیل کے لیے صرف ایک Bridge کاکام کریں گے۔ مصنف سیاسی وسماجی ڈھانچوں کے پیش نظر موضوع کا انتخاب کریںگے۔ اچھا اور بہتر ادب وہی ہوگا جو سماجی اور سیاسی دونوں صورتحال سے ہوکر گزرے گا۔


—پچاس سو برس پرانے قصباتی نظام کو زندہ کرنے والے افسانے بھی خارج ہوں گے اور ان کے لکھنے والے بھی۔
الف:وہ لوگ جو صرف الفاظ سے کھیلتے رہے ہیں کیا حقیقت میں آپ کے نزدیک نئے ادب کے معمار ہیں۔
ب: ایسے لوگ جنہیں نقاد اور مدیران زبردستی آپ پر تھوپنا چاہتے ہیں، کیا سچ مچ نئے ادب کے معمار ہیں؟
ج: ہزاروں برس پرانے ڈائنا سور ”یگ سے تعلق رکھنے والی، فنٹاسی سنانے والے کیا سچ مچ نئے ادب کے معمار ہیں؟“
د: مسلسل برسوں پرانے معاشرے اوربرسوں پرانے سماجی نظام کی کہانی دہرانے والے کیا آپ کے نزدیک نئے ادب کے معمار ہیں؟
ہ: کیا جن لوگوں کو نئے ادب کا معمار کہاجارہا ہے، انہوں نے عصری زندگی اور اس کے نئے Challenges کو قبول کیا ہے۔ اگر نہیں تو ایسے لوگ نئے ادب کے معمار کیسے بن گئے؟ سارتر کا یہ موقف صحیح ہے کہ نیا عصری ادب اپنے عہد کے سیاسی، سماجی ڈھانچے پر غور کیے بغیر تحریر ہوہی نہیں سکتا۔


پرانی صدی اور احتجاج
میری ادنیٰ سی رائے میں ادب اسی احتجاج کا نام ہے— آج کی فضا میں ہمارے ملک کے بیشتر لکھنے والوں کو قلمی اورعملی طور پر یہ رویہ اپنانا چاہیے تھا۔ مگر افسوس مشینی عہد میں احتجاج کا یہ جذبہ بھی سوچکا ہے۔ ہمارا یہ احتجاج آج کے بے سمت ادب کے لیے بھی ہے مذہب کے لیے بھی بے راہرو سیاست کے لیے بھی نیو کلیائی تجربوں کے لیے بھی ہے اور سارے عالم میں اشانتی کے خلاف بھی :
ہم اداس ہوں گے
ایک بھی آدمی کے مرنے پر
کیونکہ ایک بھی آدمی مرتا ہے
تو ہماری عالمگیر برادری میں ایک انسان کی کمی آجاتی ہے
مٹی کا ایک بھی ڈھیلہ بھی کم ہوتا ہے
تو ملک کم ہوجاتا ہے
آج جبکہ ساری دنیا میں تناؤ اور رسہ کشی کی فضا عام ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے اس احتجاج کو سنہری اورجلی حرفوں میں پڑھاجائے اور یہ احتجاج عالمی انسانیت کی کتاب میں درج ہو
اورآخر میں….


سارتر کی ایک مشہور کہانی ہے— The wall …. فلسفہ وجودیت پر مبنی ایک شاہکار تخلیق۔
”وہ سب جیل کی دیواروں میں قید ہیں۔ آنے والی صبح ان کے لیے موت کاپیغام لانے والی ہیں۔ جیل کی دیوار سے، سوارخ سے تھوڑی سی روشنی آرہی تھی…. روشنی جو زندہ رہنے کی دلیل ہے۔ اور جیسا کہ اوٹیا کے باقی دوستوں کے ساتھ ہوا…. موت کی سزا سنائی گئی۔ صبح ہوتے ہی گولی ماردی گئی۔
مگر اوٹیا کے حصے میں ایک سوال آیا…. ریمن گریس کو جانتے ہو؟
اور اوٹیا نے موت کو ذرا سا ٹالتے ہوئے ایک خوبصورت سا بہانہ بنایا۔ وہ تو قبرستان میں ہے۔
ریمن گریس سچ مچ قبرستان میں تھا۔ اس لیے پکڑا گیا۔ فاشسٹوں نے اسے پکڑ لیا۔
اور اوٹیا …. وجود کی اہمیت کی علامت بن گیا— ہمیں بہرحال خودکو زندہ رکھنا ہے۔ سب کچھ ہم تھوڑی سی خوشی کے لیے کرتے ہیں لیکن تھوڑی سی خوشی کو حاصل کرنا بھی کتنا مشکل کام ہوگیا ہے۔

شیئر کریں
نام : مشرف عالم ذوقی پیدائش : 24/ مارچ 1963 وطن : آرہ (بہار) والد کا نام : مشکور عالم بصیری والدہ کا نام : سکینہ خاتون شریکِ حیات : تبسم فاطمہ اولاد : عکاشہ عالم

کمنٹ کریں