فٹ پاتھ پہ کانٹے

افسانہ نگار : اسد محمود خان

, فٹ پاتھ پہ کانٹے

ایک خوشگوار حیرت نے دوسری بار اُن کے گاؤں میں پھیرا ڈالا تھا……
پہلی بار جب ٹی وی پر ”کمّے“ کی فوٹو چلی تو پورے گاؤں میں شور مچ گیاتھا؛ فوٹو کے ساتھ چلنے والی بریکنگ نیوز کی سرخ پٹی تو جیسے بڑوں بڑوں کی نظر سے پہلو بجا کر نکل گئی اور ایک کمّے کی فوٹو پر خوشی اور حیرت کی گڈھ مڈھ لکیروں نے چہروں پر ڈیرے ڈال لیے تھے؛ کچھ نے ٹی وی اسکرین کے پاس جا کر چھُونے کی کوشش میں کھسیانی ہنسی سمیٹی تو کچھ تصویر دیکھ کر ہی بھاگے اور باقی کی تفصیل کمّے سے دکان پر جاپوچھی؛

”کمّا! بڑا مشہور تھی گیئں!!!
دکان پر پہنچنے والی ایک آواز نے پرجوش انداز میں کہا؛
”ساریاں ٹی ویاں تے تیڈئی فوٹو پئی چلدی ہے“
ایک دوسری آواز نے پہلی آواز میں لقمہ دیا؛

ٹی وی پر چلنے والی بریکنگ نیوز کا ٹیکر دیکھ کر کمّے کے چہرے کا رنگ بدل گیا؛ اگلی کچھ دیر میں جہاں بہت سے لوگ کمّے کی دکان پر اپنی اپنی رائے کا اظہار کرنے پہنچے وہاں چند بچھڑے صحافی بھی اپنا اپنا ”لوگو“ اُٹھائے پہنچ گئے؛

”جی! ناظرین!! ہم اِس لمحے کرم دین کے ساتھ موجود ہیں، جو اپنی کہانی، اپنی زبانی بیان کریں گے!!!“

ایک جلد باز رپورٹر نے کیمرے پرٹیک، کیو کرتے ہُوئے کہا؛

”جی! کرم دین!!آپ کیا کہیں گے!!!“

رپورٹر نے مائیک اُٹھا کر کمّے کے سامنے کیا اور کیمرے پر چھوڑا گیا سوال بڑھا دیا؛

اگلے چند لمحوں میں گاؤں ہی نہیں پورے ملک میں کمّے کی ایک خبر نے پُوری کہانی بول دی۔*********

ٹی وی پر چلنے والی خبر پر کمّا بھی حیران تھا……

”کمّے“ کا اصل نام کرم دین تھا؛ پڑھائی میں ملنے والے میڈلز میں سے ایک بڑے استاد جی کی طرف سے دیا گیا ”نکمّے“ کا خطاب وقت کے ساتھ کمّا ہو گیا؛ وقت نے کلاسیں بدلیں لیکن کمّا اور کمّے کا نام نہیں بدلے، یہاں تک کہ میٹرک پاس کمّے نے کمپیوٹر اور موبائلوں کی دکان بنائی تو بھی لوگ اِس کے ہنر کے معترف ہونے کے باوجود بھی کمّے کی شناخت نہیں بھولے تھے؛ یہیں موبائل کھولتے جوڑتے کمّے نے موبائل کے اَندر کی دنیا بھی کھولنی جوڑنی سیکھ لی تھی اور اِسی کوشش میں اُس کی پہلی ملاقات ”جی“ سے ہوئی تھی؛

”ہائی!!!“

اسکرین پر پہلا میسج آیا تو ساتھ میں گوری چٹّی، گول مٹول، چھوٹی آنکھوں اور چپٹی ناک والی ایک لڑکی بھی تصویر میں ہاتھ ہلا رہی تھی؛

”ہائی جی!!!“

سوا نیزے پر کھڑے سورج کی ناک تلے بسنے والے چہروں میں جہاں ایک بھی ایسا چہرہ خواب تک میں دیکھنا مشکل ہو، وہاں کھلی آنکھوں میں جیتی جاگتی ایک تصویر کے ساتھ کسی کا یوں بلانا، کمّے نہیں کسی کے بھی ہوش گنوانے کو کافی ہو سکتا تھا؛

”اَو مائی گاڈ! ہَو گُڈّ یُو نو مائی نیم!!!“

دوسرے میسج میں جھلکنے والی انگریزی اور جوش سے کمّا کچھ زیادہ تو ناں سمجھ پایا البتہ جان گیا کہ تصویر والی لڑکی کی ساکن آنکھوں میں ایک چمک سی سی آکر گزر گئی ہے؛ دوطرفہ میسجز نے ربط بنایا تو کمّے کو تصویر والی جیتی جاگتی اُس خوب صورت لڑکی ”میی جی“ (Mei Ge) سے چیٹنگ کا سلسلہ چل نکلا؛ دونوں کی انگریزی اور زبان قریب ایک سی نکلی جس نے سمجھ کی پہلی حد کو پاٹ لیا؛میسجز نے جیتی جاگتی تصویر بنائی تو دونوں ہی اپنے اپنے رب کا شکر ادا کرتے نظر آئے؛ کمّے کی برسوں پرانی خواہش بھی جاگ گئی جو ویزے کے پیسے پورے نہ ہونے پر ادھوری رہ گئی تھی لیکن اب تو جی، جی جان کے ساتھ کمّے کی رفاقت کو ترس رہی تھی؛ پہلی بار کمّے کو رشتوں کے آسمانی ہونے کا یقین آیاتھا؛ ویڈیو پر بات چلی تو کمّے کی ”ٹائمنگ“ اور رنگ بھی بہتر ہونے لگا؛کمّا اپنی جی کے پاس جانے کو بے چین ہو رہا تھا اور جی اپنے کمّے کی خاطر سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اُس کے گاؤں آنے کے خواب دیکھ رہی تھی؛ بس یہی تفریق پچھلے کچھ دن کی نخرے بازی کا سبب بنی لیکن دن کی پہلی بریکنگ نیوز نے کمّے کو ایک خوش گوار حیرت میں ڈال دیا؛ جی نے اپنا کہا سچ کیا اورکمّے تک پہنچ گئی؛ پچھلے کچھ عرصے میں ایسا کئی بار ہُوا جب دیارِ غیر کی لڑکی نے انٹر نیٹ دوستی کی لاج نبھائی اور اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر یہاں دوردراز کے گاؤں میں آن بسی؛ لوگوں نے محبت اور ٹی وی والوں نے خوب کوریج بھی دی جس نے دلوں کی دوستی کو دیسوں کی دوستی تک معراج بخشنے کی بھی کوشش کی؛ اگلے چند دنوں میں کمّے اور جی کی شادی بھی، ٹی وی پر چلنے والی بریکنگ نیوز کی سرخ پٹیوں کے بیچ پورے ملک میں منائی گئی اوردوستی کی صورت کو کمّے سمیت سارے گاؤں نے سر آنکھوں پر بٹھا لیا؛ یُوں پہلی خوشگوار حیرت نے اُن کے گاؤں میں پھیرا ڈالا اور ڈیرہ ڈال کر بیٹھ گئی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اُس روزخوشگوار حیرت دوسری بار اُن کے گاؤں میں پھیرا ڈالنے آئی تھی……

گاؤں اور دریا کے درمیان بہت بڑا رقبہ پر کئی بار سرکاری ہرکاروں نے تھیو ڈولائٹ مشین،لیولنگ انسٹرومنٹس، میئرنگ ٹیپس،جی پی ایس اور سروے ٹرائی پائڈز کے ساتھ گھومتے پھرتے دیکھا تھا؛پچھلے چند مہینوں میں اِن سرکاری اہلکاروں کے ساتھ گوری چٹّی چمڑی پر گول مٹول چہرے، چھوٹی چھوٹی آنکھیں اور چپٹی چپٹی ناکوں والے غیر ملکی لوگوں کا آناجانا رفتہ رفتہ بڑھتا گیااور ایک دن ایسی ہی سرخ پٹی میں اپنا آپ بتاتی بریکنگ نیوز نے گاؤں بھر میں سانجھی بات کا موضوع کھول دیا؛ کمّے کے ساتھ ساتھ جی کے چہرے پر دَر آنے والی انجانی خوشی بھی دیدنی تھی؛

”ملک بھر میں معاشی راہداری پر کام کا آغاز؛ ماہرین کی آمد کا سلسلہ جاری“

ٹی وی اسکرین پر چمکنے والی بریکنگ نیوز کی پٹی چیخ رہی تھی؛چھوٹے سے گاؤں میں چھوٹی خبر نہیں چھپتی تھی، اب بھلا اتنی بڑی خبراور خبر سے جڑی کوشی کو کون دبا کر بیٹھ سکتا تھا؛ سب اپنی اپنی بیٹھک کی جانب دوڑے اور کچھ نے تو حد ہی کردی جب باہر جانے سے پہلے صندوق میں رکھی رجسٹری کو ہاتھ لگا کر اطمینان کیاتو چہرے پر آنے والی رونق دوچند سی ہو گئی؛

”پتر! تئیں بار دا سوچیں کھلااِیں، اِے تاں باہر آلے اِتھیئں آندے ودَین“
(بیٹا! تم باہر کا سوچ رہے تھے اور یہ باہر والے یہیں پر آ رہے ہیں)
کمّے کی دکان پر بیٹھے ایک بوڑھے نے چلم کا کش لے کر دھواں ہوا میں چھوڑا اور سامنے لگی اسکرین پر چلنے والی بریکنگ نیوز کی پٹی میں چمکنے والی خبر کے ہجّے نکال کر عبارت کا مفہوم بناتے ہُوئے کہا؛
”ہاں چاچا! اب یہاں ٹائم والی بس نہیں ٹرین چلے گی“
کمّے نے ہاتھ میں پکڑا موبائل ایک طرف رکھا اور سامنے کی اسکرین پر نظریں جماکر گہری سوچ میں جواب دیا؛
”جی! تم واقعی میں قسمت کی دھنی ہو“

سوچ کے غوطے سے لوٹتے کمّے نے خودسے کہا؛ ایسا کہتے سمے اَس کی آنکھوں میں تیرنے والی پانی میں اُترے قوس قزاح کے رنگ بکھرتے صاف دکھائی دے رہے تھے؛ لگن سچی ہو تو یاوری خود راستہ بناتی ہے اور جی کی لگن تو دنیا نے اسکرینوں پربھی دیکھی تھی؛ یہ بھی اُسی نے پہلے روز کمّے کو کہا تھا کہ وہ اُس کی زندگی میں پریشانی نہیں آنے دی گی جبھی تو فیصلہ ہُوا کہ جب تک آنے والی زندگی کے لیے کچھ جمع نہیں ہوجاتا، وہ اور کمّا ایک دوسرے کے ساتھ تو ہوں گے لیکن پاس نہیں آئیں گے؛اُس روز بھی کمّے کی آنکھوں میں تیرنے والی پانی میں قوس قزاح کے رنگ بکھرے تو سمیٹنے والی صرف جی تھی۔

گاؤں کے لوگوں نے جتنی محبت جی کو دی، یہی لگتا تھا کہ جیسے وہ کمّے کے گھر میں نہیں، گاؤں میں بیاہ کر آئی تھی اور اب تو اُس کا پُورا میکہ ہی اِدھر آرہا تھا؛ کمّے کی خوشی تو دیدنی تھی البتہ جی کی خوشی بھی کمّا ہی محسوس کرسکتا تھا؛ چند دنوں میں سامان سے لدے پھدے بڑے بڑے ٹریلر ز نے گاؤں اور دریا کے بیچ کی مٹی کی نچلی تہہ اُٹھا دی؛ ایک طرف کمپنی کے خیمے جمادیے گئے اور دوسری طرف کمپنی کے زیرِ استعمال آجانے والی اراضی کی سرکاری قیمت دستی دستی لوگوں کے حوالے کر کے کام کی شروعات یقینی بنانے کی پُوری تیاریا ں ہو چکی تھیں۔ گاؤں کے لوگ زمین کی قیمت پر ناخوش ہوئے بھی تو جی کے میکے والوں کی چٹّی چمڑیوں نے گنتی کی ترتیب بھلا دی؛ وہ تو اِسی میں خوش تھے کہ ننگی ٹانگوں بلکہ اتنی ننگی کہ بالوں کی مہین چادر بھی نہیں تھی، والی گول مٹول چہروں پرچھوٹی چھوٹی آنکھیں اور چپٹی چپٹی ناکوں والی کئی لڑکیوں نے گاؤں میں رونق ہی بنا دی تھی۔ جی! بھی اپنے ہم شکل میکے داروں کو دیکھ کر ایسی مہمان داری میں لگی کہ سسرالیے بھول گئی اور سارا سارا دن گھر اور گاؤں آنے والے مہمانوں کے ساتھ رہی جسے کمّا نے بھی محسوس کیا تھا؛

”جی! تمہیں اپنا گھربہت یاد آتا ہے!!!“
حسبِ معمول شب کی کالی چادر کا پلو لے کر گھر میں داخل ہونے والی جی کو دیکھ کر کمّے نے پوچھ لیا؛
”ہیں!نہیں!! بس نوکری کی کوشش میں ہوں اور وہ بھی تمہارے لیے؛ وعدہ بھی تو پورا کرنا ہے ناں!!!“
جی! نے چونک کر دیکھا اور ایک بھر پور مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا؛

کیمپ کے کچے خیموں کی بنیادیں، سیمنٹ،ریت اور بجری کا بوجھ لے کر زمین سے باہر نکلیں تو منصوبے کی شک کے مطابق مقامی ہنرمند افراد کی بھرتی کا عمل بھی تیزی پکڑ چکا تھا؛ کیمپ میں آنے والے غیر ملکی مہمانوں کی شکلیں پہلے پہل تو ایک سی لگتی تھیں لیکن رفتہ رفتہ سب کے چہرے اپنی اپنی الگ شناخت کے ساتھ گاؤں میں پہچانے جانے لگے؛ اگرچہ ”چینگ“ کا چہرہ یُوں بھی اپنے بڑے منہ کی وجہ سے الگ تھلگ تھالیکن ایسا نہ بھی ہوتا تو منیجرایچ آر کی سیٹ پربھرتی والی ذمہ داری نے اِسے سب میں پہچان دِلوانی ہی تھی؛ اچھا خاصا ”چینگ بائی“ تھوڑے دنوں میں ”چینگ بھائی“ کے نام سے مشہور ہوچکا تھا؛گاؤں کے گاؤں اپنے کاغذ جمع کروانے پہنچ گیا؛ جی نے بھی اپنے اور کمّے کے کاغذ بھی جمع کروائے توچینگ کی آنکھوں میں موجود شناسائی نے کمّے کی اُمید بڑھا دی تھی؛

”جی! مجھے بھی نوکری مل جائے گی ناں!!!
“ کمّے نے امید کا دامن پکڑے جی سے سوال کیا؛ ”
ہاں! مل تو جائے گی لیکن کہاں یہ کہنا مشکل ہے!!!“
جی نے ایک ٹھنڈی سانس چھوڑتے ہوئے کہا؛
”کہاں کیا! تمہارے ساتھ ہی ہوگی!!!“
کمّے نے پہلی بار جی پر اپنے حق کا دعویٰ کرتے ہُوئے کہا؛
”میرے ساتھ!!!“ جی جو قدرے حیرت سے چیخی تھی؛
”ہاں! یہ سب تمہیں جانتے ہیں، کیا اتنا بھی نہیں کریں گے!!!“
کمّے نے آہستہ سے پوچھا؛ ”کریں گے مگر وہی جو معیار ہوگا“
جی نے اپنے آپ کو بیچ سے نکالتے ہُوئے جواب دیا؛

بھرتی کاکام زمین سے سر نکالتی دیواروں پر چھتیں رکھنے تک مکمل ہوچکا تھا جہاں اب ایک نئی کالونی نے گاؤں اور دریا کے بیچ اپنی آنکھیں کھول لیں تھیں۔ احاطے بنائے جاطکے تھے اور کام کی رفتار بڑھائی جارہی تھی۔ احاطے سے باہر کے لیے کی جانے والی بھرتی کے لیے کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد لگنے والی فائنل لسٹ نے کئی لوگوں کا مایوس کیا تھا؛ فائنل لسٹ پر آنے والوں کے ناموں کے سامنے ہی ٹریڈ بھی لکھا گیا تھا جس میں جی اور کمّے کانام ہی نہیں تھا؛ کمّے کو مایوسی کا شدید جھٹکا لگاتو جی کی جانب دوڑا؛

”جی! جی! لسٹ میں ہمارا نام ہی نہیں ہے!!!“
کمّے نے گھر کی دہلیز پار کرتے ہی کمرے کا دروازہ یوں جھنجھوڑا جیسے اُکھا ڑ پھینکا ہو لیکن اندر کے منظر میں جی کو اپنا بیگ سمیٹے دیکھ کر حیرت کا ایک اورجھٹکا لگاجس نے کمّے کو پلنگ پر دھکیل دیا؛
”جی! تم کہیں جا رہی ہو!!!“
کمّے نے پوری طرح سے مایوسی میں ڈوبی آواز میں پوچھا؛
”ہاں! کمپنی کی پالیسی ہے کہ ایڈمن کے لوگ کیمپ ایریا میں ہی رہیں گے!!!“
جی نے بیگ کی زیب کھینچ کر اُس کا کھلا منہ بند کرتے ہُوئے کہا؛
”لیکن تمہارا نام تو لسٹ میں نہیں ہے!!!“
کمّے کو اپنے کانوں کے ساتھ ساتھ آنکھوں کی بینائی پر بھی شک سا ہونے لگا تھا؛
”ایڈمن کی سیٹ پر کوئی مقامی اِلیجیبل ہی نہیں تھا، اِس لیے لسٹ بھی نہیں تھی
“ جی نے بیگ اُٹھا کر ایک طرف کیا اور ڈریسنگ ٹیبل پر موجود چیزوں کو سمیٹتے ہُوئے کہا؛ ”تم وہاں رہو گی تو میں کہاں رہو گا!!!“
کمّا ابھی تک آفٹر شاک ایفیکٹس میں خود کو سنبھالنے کی کوشش میں تھا؛
”میں کونسا واپس جا رہی ہُوں؛آتی رہوں گی اور پھر یہ سب تمہارے لیے ہی تو کر رہی ہُوں!!!“

جی نے جانے سے پہلے آخری بار ایک بھر پور مسکراہٹ سے کہا اور بیگ اُٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھا دیا جسے کمّے نے پیار سے روک لیا اور بیگ اُٹھا کر اپنے کندھے پر اُٹھا لیا؛ شاید! کمّا پہلے جھٹکے کے جولٹس سے باہر آچکا تھا جہاں ایک گوری چٹّی، گول مٹول، چھوٹی آنکھوں اور چپٹی ناک والی لڑکیہاتھ ہلا رہی تھی؛ کمّا، جی کو کیمپ کے دروازے پر چھوڑنے آیا تھا جہاں چینگ بھائی پہلے سے موجود تھے؛جس کی آنکھوں میں گہری شناسائی، دریا کی سمت اُترنے والے سورج کے گہرے رنگوں میں شامل ہو کر کناروں سے پرے اُتر رہی تھی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر کمٗے کی جانب دیکھا جو بوجھل قدموں سے لوٹ رہا تھا۔

کمّا گاؤں کی جانب پلٹا توجی کے قہقہوں کی آواز بہت دیر تک گاؤں کی نکڑ پر گونجتی رہی۔

شیئر کریں

کمنٹ کریں