فنکار اور فلسفی

فلسفہ فلسفی فلاسفی philosophy philosopher falsafa

محترم پروفیسر عبد الوباب سوری نے درج ذیل سات خصوصیات کی بنا پر شعراء، فنکار اور ادیبوں کے کام کو،، حکماء، فلسفیوں اور متکلمین کے عالمانہ محققانہ کاموں سے الگ کیا ہے اور سمجھایا ہے کہ شاعری، ادب اور فنی اظہاریہ جمالیاتی لحاظ سے پرُ کشش ہونے کے باوجود کسی بھی شئے یا مظہر کو سچا یا جھوٹا ثابت کرنے کی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتا، اس لیے دنیاوی زندگی میں کلیدی معاملات کسی فنکار کے فن یا شاعری کے تحت نہیں چلائے جا سکتے …

سب سے پہلی چیز جو شاعری، ادب اور فنکاروں کو دیگر سے جدا کرتی ہے وہ خیال کی originality اصلیت پر. ان کا اصرار ہے، یعنی جو فنکار یا ادیب یا شاعر اوریجنل نہیں ہے وہ حقیقی معنوں میں فنکار یا ادیب یا شاعر نہیں ہے اگرچہ دوسروں سے inspiration لی جا سکتی ہے لیکن فن کا حاصل اوریجنل ہونا چاہیے، اس کے برعکس سچ، عدل یا صداقت کی دریافت میں ایسی شرط کی ضرورت نہیں ہے کہ منطقی دلائل اور الحق ازل سے ابد تک یکساں ہے اور بہتر منطقی امثال اور دلائل کے ساتھ دہرائے جا سکتے ہیں.

دوسری چیز جو فنکاروں یا ادیبوں اور شاعروں کے کام کو دیگر سے ممتاز کرتی ہے وہ novelty یعنی نیا خیال، تازہ پن اور منفرد اور اچھوتے تصورات… جو کبھی بالکل Original بھی ہو سکتے ہیں اور کبھی دیگر شعراء، ادیبوں اور فنکاروں کے کام سے ماخوذ و استفادہ بھی ہو سکتے ہیں لیکن نئے ضرور ہونا چاہیے، جبکہ بیشتر فلسفیوں کے خیال میں سچ یا صداقت معروضی ہوتا ہے متکلمین کے نزدیک بھی اس کے برعکس الحق یا سچ اچھوتا نہیں بلکہ عام ہوتا ہے اور یکساں رہتا ہے اس لیے شعراء و فنکار الحق کو دریافت نہیں کر سکتے البتہ جو فلسفی نیٹشے، دریدا یا وہینگسٹائن سے متاثر ہیں وہ شاعرانہ. متعلقیت کے قریب چلے گئے ہیں .

تیسری اہم خصوصیت جو فنکاروں و شعراء میں پائی جاتی ہے وہ differentiation ہے، فن فرق. پیدا کیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا، ہر مذہب، سائنسی، علمی اور ادبی نظریے سے فرق ہی کسی ادب، شاعری اور فن کو آگے بڑھاتا ہے، معتبر بناتا ہے، اس کے برعکس سائنسدان، منطقی محقق فلسفی اور متکلمین. مختلف مظاہر میں جڑاؤ کی صورتیں تلاش کرتے ہیں یکسانیت، قدر مشترک کے پیچھے بھاگتے ہیں کلیہ جات کے ذریعے عموم کے ذرائع پیدا کرتے ہیں ساری سائنسی علمیت، اور فلسفے، ان رحجانات کی تلاش سے لبریز ہیں. الحق بھی وحی الہیہ کے ذریعے یہی چیز انسانوں تک پہچاتا ہے تا کہ انسان بھٹکتے نہ پھریں.

چوتھی چیز جو شاعری، فن اور ادب کے طریقہ کار کو دیگر علمی کاموں سے علیحدہ کرتی ہے وہ spontaneously یعنی بے ساختہ آمد ہے، یعنی فنکار یا ادیب اور شاعر خود بیشتر صورتحال میں خود نہیں جانتا کہ اس کی خیال آرائی کا ماخذ کیا ہے بلکہ وہ اس پر فخر کرتے ہیں کہ ان پر نامعلوم سورس سے آمد ہوئی ہے لیکن یہ آمد کسی علمی دائرے میں صفر درجے سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی فلسفیوں اور متکلمین کے نزدیک یہ خوبی نہیں بلکہ برائی ہے کہ اگر. کوئی شاعر یا ادیب یہ نہ بتا سکے کہ اس پر آمد کہاں سے ہوئی ہے اور کس علمی پروسس سے ڈھل کر مشاعرے یا سٹیج پر پیش کی گئی ہے وہ ناقص چیز ہے. کیونکہ فلسفیوں اور متکلمین کو اپنے علمی سورس کی وضاحت لازمی طور پر دینا پڑتی ہے جبکہ بیشتر شعراء اور فنکار ایسی وضاحت دینے سے قاصر ہوتے ہیں یا اسے کسی unmeasured. سورس کی طرف موڑ دیتے ہیں.

پانچویں خاصیت جو شعراء، ادیب یا فنکاروں کو دیگر علمی. تحقیقاتی کاموں سے جدا کرتی ہے وہ contingency یا ہنگامی اور عارضی پن ہے، یعنی ایسی چیز جو علت و معلول کی وضاحت سے نہ جڑی ہو، فوری، temporally ہو، اس کے برعکس فیلسوف، متکلم اور اہل حکم کے نزدیک ہنگامی یا فوری نوعیت کے خیالات کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی کیونکہ ضروری نہیں کہ ہر contingent صداقت کی ضروریات کو پورا بھی کرتا ہو، لمحاتی اور ہنگامی خیال کے زور پر زیادہ دور تک نہیں جایا جا سکتا.

چھٹی خاصیت جو شعراء اور ادیبوں کے کام کو دیگر سے الگ کرتی ہے وہ subjectivity یا داخلیت پسندی اور پرستی ہے، لیکن یہ چیز خوبی نہیں بلکہ خامی ہے کیونکہ حد سے زیادہ داخلیت پسندی ہمیں معروضیت، synthesis اور systematic approach سے دور لے جاتی ہے یہ چیز اہل فکر اور اہل علم کی نظر میں خرابی ہے کیونکہ اسے چیلنج نہیں کیا جا سکتا، آپ کسی آرٹ کو غلط نہیں کہہ سکتے زیادہ سے زیادہ گھٹیا کہہ سکتے ہیں منٹو نے بھی اپنے ادب کو اسی بنیاد پر فن کی فارم قرار دیا ہے اور عدالتی مقدمہ میں بھی یہی دلیل استعمال کی تھی کہ یہ فحاشی نہیں آرٹ ہے آپ آرٹ کو سطحی کہہ سکتے ہیں لیکن غلط نہیں کہہ سکتے، جبکہ فیلسوف کے نزدیک ایسی غیر معروضی خیال آرائی اور پھر اس کا جذباتی دفاع کسی. ارتکاب گناہ سے کم نہیں ہے.

ساتویں خصوصیت جس کی بنا پر شعراء، فنکار اور ادیب کے جمالیاتی اظہاریہ کو علمی و فکری کاموں سے علیحدہ کیا جاتا ہے وہ relativism ہے یعنی اضافت اور متعلقیت.. فنکار کے نزدیک سچائی اور مقام عدل وہ ہے جو کہ اس. بے خود کر کے اظہاریے میں ڈھالنے کے لیے مجبور کر دے اب چاہے یہ آمد وحی الہیہ سے ماخوذ آفاقیت سے لبریز ہو یا تلبیس ابلیس.. شاعر یا فنکار کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے اور اسے اس اصول کی بھی پروا نہیں ہے کہ فلاں خیال آرائی اس کے ماضی کے کلام سے بھی مطابقت بھی رکھتی ہے یا نہیں بلکہ غزل میں تو یہ خوبی سمجھی جاتی ہے کہ پہلے شعر میں شاعر خدا کی حمد بیان کر رہا ہے لیکن دوسرے شعر میں محبوب کے تل یا سرمئی آنچل میں پھیلی ہوئی رات تلاش کر رہا ہے. یہ تناقضات متعلقیت کے تحت فنکار کی قدر و قیمت میں اضافے کا باعث بنتے ہیں، اور کسی اصول کے تابع بھی نہیں رہتے، اس کے برعکس فلسفیوں اور متکلمین کے نزدیک اس قسم کی متعلقیت انہیں زندگی کے عملیت سے دور لے جانے کا باعث ہوتی ہے، اور اگر کسی فلسفی کے کلام میں اس قسم کا تناقض سامنے آئے تو اسے باقاعدہ کسی علمیاتی اصول و زبان میں وضاحت دینا پڑتی ہے یا فلسفی کے فکریاتی ارتقاء کی ناپختگی سے تعبیر کی جاتی ہے جبکہ شاعر، ادیب یا فنکار اس پابندیوں سے آزاد ہے، اسے کسی اصول سے چیلنج نہیں کیا جا سکتا، فنکار ادیب اور شاعر اس متعلقیت کی آڑ میں اس ذہنی مشقت سے بچ جاتے ہیں جو کہ کسی سلیم الفطرت فلسفی، متکلم یا سائنسدان کو سلامت فکر کے تابع رہ کر اٹھانا پڑتی ہے.

کیا اتنی مشقتوں کے بعد بھی فلسفیوں، متکلمین اور سائنسدانوں کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ دنیاوی معاملات چلانے کے عنوان اور ضمن میں ڈرئیونگ سیٹ پر متمکن رہیں؟؟؟؟

شیئر کریں

کمنٹ کریں