غزل

, غزل
rbt

کم ہی ہوتے ہیں مقدر کےسکندر چہرے
کتنے مُرجھائے ہیں ان چہروں کے اندر چہرے

اہل کشتی کو تو ساحل کے ہی خواب آتے ہیں
تکتا رہتا ہے سفینوں کے سمندر چہرے

قہر کیا ٹوٹ پڑا رات کو اِسی بستی پر
ایسے جُھلسے جو نظر آتے ہیں گھر گھر چہرے

دل میں اِک تیر جو سرعت سے اُتر جاتا ہے
جب گھڑی بھر میں بدل جاتے ہیں تیور چہرے

یہ نہیں سوچتے قاتل  بھی تو ہو سکتے ہیں
چاند کے بھیس میں تاریک سے بدتر چہرے

فرش کیا عرش پہ بھی ملتے ہی نہیں ہیں خندہ
تیری تصویر کے چہرے کے برابر چہرے

شیئر کریں

کمنٹ کریں