کیا غیر نامیاتی مرکبات سے زندگی ناممکن ہے؟

تحریر: قدیر قریشی
بشکریہ سائنس کی دنیا

, کیا غیر نامیاتی مرکبات سے زندگی ناممکن ہے؟

ہمارے پاس زندگی کا صرف ایک سیمپل موجود ہے یعنی زمین پر موجود زندگی جو ڈی این اے کی بنیاد پر قائم ہے اور خلیوں پر مشتمل ہے- زندگی کے ہومیوسٹیٹس کے لیے (یعنی توانائی حاصل کرنے، فضلہ خارج کرنے، اور ایکویلیبریم قائم رکھنے کے لیے) انتہائی پیچیدہ کیمیائی تعاملات درکار ہوتے ہیں- کیا ایسی پیچیدگی غیرنامیاتی مرکبات سے ممکن ہے؟ غالباً نہیں- ویسے بھی ہمیں علم ہے کہ کاربن ہائیڈروجن نائیٹروجن اور آکسیجن وغیرہ ہماری کہکشاں میں جگہ جگہ موجود ہیں اور نامیاتی مالیکیولز بھی جگہ جگہ موجود ہیں- اس لیے اگر کہیں زندگی ہے تو یقیناً وہ پیچیدہ مالیکیولز پر ہی مشتمل ہو گی اور پیچیدہ مالیکیولز زیادہ تر نامیاتی ہی ہوتے ہیں


زمین پر زندگی کاربن بیسڈ کیوں ہے کسی اور عنصر کے گرد کیوں نہیں گھومتی؟ اس کی وضاحت یہ سمجھی جاتی ہے کہ کاربن میں چار ویلینس الیکٹرانز ہیں اور اسے بیرونی شیل مکمل کرنے کے لیے یعنی سٹیبل ہونے کے لیے مزید چار الیکٹرانز کی ضرورت ہے- یہ چاروں الیکٹرانز کسی واحد دوسرے ایٹم سے حاصل کرنا ممکن نہیں ہے اس لیے کاربن بہت سے مختلف ایٹموں سے مل کر پیچیدہ بانڈز بنا سکتا ہے- کاربن کی یہ خصوصیت ہی زندگی کی بنیاد ہے کیونکہ زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے بہت سے پیچیدہ مالیکیولز درکار ہوتے ہیں- چنانچہ نہ صرف زمین پر پیچیدہ مالیکیولز زیادہ تر کاربن بیسڈ ہوتے ہیں (ان میں زیادہ تر کوویلنٹ بانڈز پر مشتمل ہوتے ہیں جنہیں ہم نامیاتی مالیکیولز کہتے ہیں) بلکہ کائنات میں جہاں بھی مشاہدہ ممکن ہے وہاں نامیاتی مالیکیولز کی موجودگی کی واضح علامات پائی گئی ہیں- اس کے علاوہ کاربن کائنات میں ہر جگہ موجود ہے کیونکہ ہر وہ ستارہ جو سپر نووا ہو کر پھٹتا ہے اس میں سے کثیر مقدار میں کاربن خارج ہوتی ہے- چار ویلینس الیکٹران رکھنے والے عناصر میں کاربن کائنات میں سب سے زیادہ پایا جاتا ہے اور اس سے زیادہ تعاملات کرتا ہے


کاربن کے علاوہ سیلیکون میں بھی باہری شیل میں چار الیکٹران ہوتے ہیں اس لیے کاربن کی طرح سیلیکون بھی پیچیدہ مالیکیولز بنا سکتا ہے- اس کے علاوہ جرمینیم اور کئی دوسرے عناصر میں بھی چار ویلنس الیکٹرانز ہوتے ہیں (سیلیکون اور جرمینیم کو سیمی کنڈکٹر دیوائسز میں اسی لیے استعمال کیا جاتا ہے کہ ان میں چار چار ویلینس الیکٹرانز ہوتے ہیں)- لیکن جیسے جیسے کسی ایٹم کا ایٹمی نمبر بڑھتا ہے ویسے ویسے آخری شیل کا مرکزے سے فاصلہ بھی بڑھتا جاتا ہے جس وجہ سے ان کے انرجی لیولز بھی مختلف ہوتے ہیں- چنانچہ سیلیکون کے مختلف مرکبات (جن کے بانڈز عین ویسے ہی ہوتے ہیں جیسے کاربن کے مرکبات کے) کی خصوصیات کارب کے مرکبات کی خصوصیات سے مختلف ہوتی ہیں-


مثال کے طور پر کاربن ڈائی آکسائیڈ جو کہ ایک کاربن اور دو آکسیجن کے ایٹموں سے مل کر بنتی ہے، ایک گیس ہے جو پانی میں بھی حل ہو جاتی ہے- اس وجہ سے پانی میں دوسرے نامیاتی مالیکیولز سے آسانی سے تعاملات کرتی اور پیچییدہ مالیکیولز سے تعاملات کرتی ہے- اس کے برعکس سیلیکون ڈائی آکسائیڈ جس کے مالیکیول کا سٹرکچر کم و بیش کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسا ہی ہے (یعنی یہ بھی ایک سیلیکون اور دو آکسیجن کے ایٹموں سے بنتا ہے) لیکن اس کی کیمیائی اور طبعی خصوصیات کاربن ڈائی آکسائیڈ سے بالکل مختلف ہیں- یہ ٹھوس ہوتا ہے کیونکہ ایک دوسرے سے مل کر کرسٹلز بنا لیتا ہے- ہم اسے ریت کے نام سے جانتے ہیں- اس وجہ سے سیلیکون کے پیچیدہ مالیکیولز بنانے میں بہت زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے جبکہ کاربن کے پیچیدہ مالیکیولز بنانے میں بہت کم توانائی درکار ہوتی ہے-


یہ تمام وہ بنیادی وجوہات ہیں جن کی بنا پر ہم زندگی کو کاربن بیسڈ پاتے ہیں اور فطرت میں سیلیکون بیسڈ زندگی کہیں نظر نہیں آتی اور کم از کم زمین پر کاربن بیسڈ زندگی ہی پائی جاتی ہے- البتہ سیلیکون بیسڈ کمپیوٹر چپس مصنوعی ذہانت کے حامل کمپیوٹرز میں استعمال ہو رہی ہیں چنانچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ فطری ذہانت کاربن بیسڈ زندگی میں ہے اور مصنوعی ذہانت سیلیکون بیسڈ پراڈکٹس میں ہے

شیئر کریں
قدیر قریشی بطور سائنس رائٹر سائنسی ادبی حلقوں میں مقبولیت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مشہور اردو سائنسی فورم "سائنس کی دنیا" کے سرپرست اعلی بھی ہیں۔

کمنٹ کریں