غالب کے خطوط میں تاریخی مصوری

مضمون نگار : داکٹر صالحہ صدیقی

, غالب کے خطوط میں تاریخی مصوری

یک قلم کاغذ آتش زدہ ہے صفحہ ٔ دشت
نقش پا میں ہے تب گرمی رفتار ہنوز (غالبؔ)


غالبؔ کے فکر وفن ان کی شاعری پر اردو کے ممتاز قلمکاروں اور مفکروں و دانشوروں نے اپنے نظریات پیش کیے اور نئے انکشافات کیے ۔جہاں تک بات ان کی مکتوب نگاری کی ہے تو اس کی ادبی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ۔ان کے مکاتیب کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے ۔جو کہ اکثر وبیشتر حالتوں میں بندھی ٹکی باتیں ہیں ۔جو ان کی مکاتیب کی فارم میں کہی گئی ہیں مثلا ان مکاتیب میں غالب نے قدیم طریقہ القاب و آداب کا استعمال نہیں کیا ،غالب نے مراسلہ کو مکالمہ بنا دیا اور مروجہ اسلوب کی بجائے سادہ ،عام فہم ،اور سلیس اسلوب تحریر ایجاد کیا ۔خاط کی ان خصوصیات پر زور دیا جن کا تعلق خطوط کے موضوعات سے ہے مثلا ان کے خطوط سے مرزا کی حالات زندی کے متعلق بہت سی دلائل معلوم ہوتی ہیں ۔یہ خطوط ان کی شخصیت کی ترجمان ہیں ۔لیکن ان سب میں غالب کے خطوط کی سب سے بڑی اہمیت تاریخی دستاویز کی ہیں ۔جس سے اٹھارہ سو ستاون کے ہنگامے کی تاریخ مرتب کرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔لیکن جہاں تک ادب کا تعلق ہے ان کا دائرہ عمل بالکل مختلف ہے ۔ان خطوط کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ ان خطوط کا نثری اسالیب کے ارتقاء میں بہت بڑا حصہ رہا ہے ۔لیکن اس مضمون میں ہم ان خطوط میں جو تاریخی مصوری ہوئی ہے اس کی بات کریں گے ۔مرزا غالب نے 1857 کا غدر کا ہنگامہ اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔غالب اس ہنگامے کے وقت دہلی میں ہی موجود تھے ۔جس کا بیان انھوں نے اپنی فارسی کتاب ’’دستنبو‘‘ میں کیا اور آنکھوں دیکھا حال بیان کیا۔ اس ہنگامے سے غالب کے حساس دل پر جو کچھ گزری انھوںنے تمام احساسات کو قلمبند کر لیا جس کا ذکر انھوں نے اپنے مختلف خطوط میں بھی بات چیت کے انداز میں کیا ۔غالب کی شاعری ان کے خطوط اور دستنبو کے مطالعہ سے غالب کی حب الوطنی اور اس وقت کے خونخوار ماحول کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے ۔ایسا ہی ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے اپنے ایک خط میں مرزا غالب لکھتے ہیں ’’میں مع زن و فرزند ہر وقت اس شہر میں قلزم خوں کا شناور ہوں ۔دروازے سے باہر قدم نہیں رکھا،نہ پکڑا گیا ،نہ نکالا گیا ،نہ قید ہوا ،نہ مارا گیا ۔‘‘ (۱)غالبؔ کی مصیبتیں یہی نہیں رکی بلکہ وقت کے ساتھ بڑھتی چلی گئیں۔ایک اور خط میں لکھتے ہیں’’دہلی پر انگریزوں کا دوبارہ تصرف ہو جانے کے بعد غالب ؔ پر پے در پے مصیبتیں نازل ہونا شروع ہوئیں ۔اس وقت وہ محلہ بلی ماران میں حکیم محمد حسن خاں کے مکان میں رہتے تھے ۔ فتح شہر کے بعد پانی وغیرہ کا سلسلہ بھی بند ہو گیا اور دو دن بے آب و نان بسر کرنا پڑے(۲) غالب کی بڑھتی مصیبتوں اور تکلیفوں کا ذکر کرتے ہوئے گوپی چند نارنگ لکھتے ہیں :
’’لڑائی کے دوران غالب کے دوستوں ،عزیزوں اور شاگردوں میں سے کئی قتل ہوئے ،کئی انگریزوں کے معتوب ٹھہرے اور کئی خانماں برباد دہلی سے نکل گئے ………مولوی فضل حق خیر آبادی کو کالے پانی کی سزا ہوئی ۔شیفتہ کو حبث ہفت سالہ کا حکم سنایا گیا ،صدر الدین آزردہ کی ملازمت موقوف ،جایداد ضبط۔نواب ضیاء الدین اور نواب امین الدین ،دہلی پر انگریزوں کے غلبے کے بعد لاہور جانے کے لیے روانہ ہوئے ۔ابھی مہر ولی تک پہنچے تھے کہ لٹیروں نے لوٹ لیا ۔ادھر دلی میں ان کا گھر تاراج ہوا اور تقریبا ’’۲۰ ہزار روپے کی مالیت کا کتب خانہ ‘‘ لٹ گیا ۔(اردوئے معلی،ص، )مرزا کا فارسی اور اردو کلام ان کے ہاں جمع ہوتا تھا وہ بھی ضائع ہو گیا ۔مظفر الدین حیدر خاں او ر ذوالفقار الدین حیدر خاں (حسین مرزا ) پر اس سے بھی بڑھ کر گزری ۔نہ صرف ان کے گھروں پر جھاڑو پھر گئی بلکہ پردوں اور سائبانوں میں ایسی آگ لگی کہ گھر پھک گیا ۔‘‘(۳)


ان تمام حالات کو مرزا غالب نے بھی یوسف مرزا کو لکھے اپنے ایک خط میں بیان کیا اور تمام مصیبتوں پر روشنی ڈالی ۔اس خط میں مرزا غالب ؔ کی ذہنی اور جذباتی کیفیات ان کی تکلیف کو بھی بخوبی محسوس کیا جا سکتا ہے ،لکھتے ہیں :
’’میرا حال سوائے میرے خدا اور خداوند کے کوئی نہیں جانتا ۔آدمی کثرت غم کے سودائی ہو جاتے ہیں عقل جاتی ہے ۔اگر اس ہجوم غم میں میری قوت متفکر ہ میں فرق آگیا ہو تو کیا عجب ہے بلکہ اس کا باور نہ کرنا غضب ہے ۔پوچھو کہ غم کیا ہے ،غم مرگ ،غم فراق ،غم رزق ،غم عزت ،غم مرگ میں قلعہ ٔ نا مبارک سے قطع نظر کر کے اہل شہر کو گنتا ہوں ۔مظفر الدولہ ،میر ناصر الدین مرزا عاشور بیگ میرا بھانجہ ،اس کا بیٹا احمد مرزا انیس برس کا بچہ ۔مصطفی خاں ابن اعظم الدولہ اس کے دو بیٹے ارتضیٰ خاں اور مرتضیٰ خاں ،قاضی فیض اللہ ،کیا میں ان کو اپنے عزیزوں کے برابر نہیں جانتا تھا ۔اے لو بھول گیا ۔حکیم رضی الدین خاں ،میر احمد حسین میکش ،اللہ اللہ ! ان لوگوں کو کہاں سے لاؤں ۔‘‘ (۴)اسی طرح ایک اور خط میں غالب نے اپنے درد دل کو بیان کرتے ہوئے لکھا :
’’یہ کوئی نہ سمجھے کہ میں اپنی بے رونقی اور تباہی کے غم میں مرتا ہوں ،انگریز کی قوم میں سے جو ان روسیاہ کالو ں کے ہاتھ سے قتل ہوئے اس میں کوئی میرا امید گاہ تھااور کوئی میرا شفیق ،اور کوئی میرا دوست ،کوئی میرا یار اور کوئی میرا شاگرد۔ہندستانیوں میں کچھ عزیز ،کچھ دوست ،کچھ شاگرد،کچھ معشوق،سو وہ سب کے سب خاک میں مل گئے ۔ایک عزیز کا ماتم کتنا سخت ہوتا ہے جو اتنے عزیزوں کا ماتم دار ہو اس کی زیست کیونکر نہ دشوار ہو ۔ہائے اتنے یار مرے کہ جو اب میں مروں گا تو میرا کوئی رونے والا بھی نہ ہوگا ۔‘‘(۵)


غدر کے حالات نے ہر طرف تباہی و بربادی اور انسانی زندگی کو تہس نہس کر دیا تھا ،جس کا اندازہ غالب کے خطوط میں بیان کردہ حالات سے بخوبی ہو جاتا ہے۔گوپی چند نارنگ نے بھی اس عہد کے حالات کو غالب ؔ کے نظریے سے سمجھا اور اس وقت کے حالات پر غو ر فکر کیا ۔اکثر لوگ غالب کی وطن پرستی پر سوال اٹھاتے ہیں اور انگریزوں کی تعریف میں لکھے قصیدوں پر انھیں گنہگار ٹھہراتے ہیں لیکن غالب جیسا ذہین ،مفکر شاعر ایسا کیوں کر رہا تھا ؟ یہ سوچنے کا موضوع ہے ۔غالب ؔ کی تکلیف،اس وقت کے حالات و واقعات،خون ریزی ،آتش زدگی اور حیوانیت کو جس طرح پیش کیا جس طرح اپنے احساس کو رقم کیا اس سے یہ اندازہ لگانا بہت آسان ہو جاتا ہے کہ غالب کس درد و کرب سے گزر رہے تھے ایسے میںاس وقت کے حالات پر اپنے غصے کو باہر نکالنا سب سے آسان کام تھا لیکن اپنے اوپر ضبط کر غالب نے جس طرح انگریزوں کی تعریفیں کیں ان کی شان میں قصیدے کہے وہ یقینا ان کے دواندیشی کی طرف اشارہ ہے۔جس کو گوپی چند نارنگ نے بخوبی بیان کیا ،لکھتے ہیں :
’’غدر کے بعد دہلی کے جو حالات تھے ،جس طرح جگہ جگہ پھانسیاں لگی ہوئی تھیں اور جس طرح باشندگان دہلی کے قتل و خون کا بازار گرم تھا ان حالات میں غالب سے بغاوت کی موافقت یا انگریزوں کی مخلافت کی توقع تو نہیں کی جا سکتی لیکن غالب نے جس طرح بڑھ چڑھ کر انگریزوں کی مدح و ستائش کی ہے ،وہ خاصی معنی خیز ہے ۔آخر ایسی کیا بات تھی کہ غالب اس درجہ تعریف پر مجبور تھے ؟ اس سوال کے جواب میں مندرجہ ذیل حالات کا علم دلچسپی سے خالی نہ ہوگا:
1855 میں غالب نے ملکہ وکٹوریہ کی تعریف میں ایک فارسی قصیدہ لکھ کر لارڈ کیننگ کی معرفت ولایت بھجوا یا تھا ۔اس کے ساتھ ایک عرضداشت تھی کہ روم اور ایران کے بادشاہ شاعروں پر بڑی مہربانیاں کرتے ہیں اور اگر برطانیہ کی ملکہ مجھے خطاب ،خلعت اور پنشن سے سرفراز کرے تو بڑی عنایت ہوگی ۔غالب کو جنوری 1857میں لندن سے جواب ملا کہ درخواست پر تحقیق کے بعد حکم صادر ہوگا ۔اس جواب کو پاکر مرزا ’’کوئین پوئٹ ‘‘ ہونے کا خواب دیکھ رہے تھے کہ تین ماہ بعد غدر ہو گیا …………..غدر کے ایام میں ایک جاسوس گوری شنکر نے انگریزوں کو خفیہ اطلاع دی کہ 18جولائی 1857کو جب بہادر شاہ نے دربار کیا تو مرزا غالب نے سکہ کہہ کر گردانا ۔چنانچہ امن قائم ہونے کے بعد جب غالب نے پنشن اور دربار بحال کیے جانے کے لیے جنبانی کی تو انھیں صاف صاف کہا گیا کہ وہ غدر کے دنوں میں باغیوں سے اخلاص رکھتے تھے اور اس بنا پر ان کی پنشن اور دربار موقوف رہا ۔‘‘(۶)


اس اقتباس کے مطالعہ سے غالب کے اصل مقصد کی وجہ کافی صاف ہو جاتی ہے لیکن غالب اس برے وقت میں بھی انگریزوں کی شان میں جو قصیدے کہہ رہے تھے اس پر مزید وضاحت کے لیے یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں جس سے یہ تصویر اور بھی صاف ہو جائے گی کہ غالب جو کچھ کر رہے تھے خوشی سے نہیں بلکہ زندہ رہنے کے لیے اور کوئی راستہ بچا نہیں تھا ،ضرورتیں پوری کرنے کے لیے خوشامد ہی واحد راستہ بچا تھا،اس کے علاوہ غالب کی حب الوطنی پر اٹھ رہے سوالوں کے جواب اور ان کے پیچھے کیا اہم وجوہات تھے ان تمام موضوعات کو سمجھنے کے لیے یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں :
’’یہ غالب کی شخصی اور ذاتی ضرورتیں تھیں جن کی وجہ سے وہ انگریزوں کے اثرات سے علم و آئین کی جو نئی کرن پھوٹ رہی تھیں ،غالب اس کا خیر مقدم کرتے تھے کیونکہ ان ترقیوں کے مقابلے میں انھیں مغلیہ نظام ازکار رفتہ اور بوسیدہ معلوم ہوتا تھا اور وہ ان کی نظروں کے سامنے پارہ پارہ بھی ہو رہا تھا ،لیکن اس کے ساتھ ساتھ ملک و قوم کی بربادی اور اپنی سلطنت اور حکومت کے جاتے رہنے پر ان کا دل کڑھتا بھی تھا، اور اپنے ہم وطنوں کی تباہی بالخصوص شہر دہلی کی ویرانی و بربادی پر انھوں نے اپنے خطوں میں خون کے آنسو بھی بہائے ہیں ۔انگریزوں کی مدح کرنے اور ملک و قوم کی تباہی پر غم زدہ ہونے کی ان دونوں کیفیتوں میں بظاہر تضاد ہے۔غالب کے یہاں یہ تضاد مسلسل ایک تخلیقی کشاکش میں ڈھلتا رہا ہے ۔وہ چونکہ واقعیت پسند تھے ،ان کی واقعیت پسندی انھیں مجبور کرتی تھی کہ جہاں وہ انگریز کو نئی ترقیوں کا استعارہ سمجھ کر قبول کریں وہاں اپنے ہم وطنوں کی تباہی و بربادی کا ماتم بھی کریں ،یعنی انھوں نے اپنے عہد کی ان دونوں متصادم صداقتوں میں کسی ایک سے بھی نظر نہیں چرائی بلکہ دونو ں کو ان کی پوری تاریخی و تہذیبی کشاکش کے ساتھ قبول کیا اور برتا ،ان کا یہ تخلیقی ڈائلیما موج تہ نشیں کی طرح ان کی شاعری میں جاری و ساری ہے :
ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے ‘‘(۷)


غدر کے واقعات کو غالب نے برے ناموں اور ایک ڈراؤنے خواب سے تعبیر کیا ہے ۔اس ہنگامے سے ان کے مشغیل کا نقشہ بگڑ گیا تھا لیکن اس بات کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ ان کے دل میں حب الوطنی کا جذبہ نہیں تھا یا انھیں اپنے ہم وطنوں سے ہمدردی یا انسیت نہیں تھی ۔لیکن ان کے یہاں یہ تصور دوسرے شعرا ٔ کے مقابلے مختلف انداز میں ملتا ہے ۔غدر کے بعد انگریزوں نے اردو شعرأ پر مظالم کے جو پہاڑ توڑے اسے غالب ؔ نے اپنی تحریروں میں اتارا ۔غالب نے اپنے وطن کی پامالی اور شہر کی ویرانی کو اپنے تذکروں میں بارہا دہرایا جو بڑا ہی دردناک ہے۔دلی پر انگریزوں کے غلبے کے بعد کسی میں ہمت نہیں تھی کہ وہ انگریزوں کے خلاف ایک لفظ بھی کہنے یا سننے کی ہمت کرتا لیکن یہ غالب کی ہمت ہی تھی کہ انھوں نے اپنے خطوط میں انگریززوں کی سختیوں ان کی زیادتیوں اور ظلم و جبر کی طرف زبردست اشارے کیے اور تمام حالات رقم کیے ۔اپنے ان تمام احساس کو اپنے جذبات کو اپنے اشعار میں بھی اتارا ۔یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں :
گھر سے بازار میں نکلتے ہوئے
زہر ہ ہوتا ہے آب انساں کا
چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے
گھر بنا ہے نمونہ زنداں کا
شہر دہلی کا ذرہ ذرہ ٔ خاک
تشنۂ خوں ہے ہر مسلماں کا
کوئی واں سے نہ آسکے یاں تک (۷)
اس عہد کے کئی شعرأ نے غالب کی طرح اپنے دکھ کا اظہار کیا ۔جس سے اندازہ ہو تا ہے کہ اس وقت ہر عام و خاص اس قدر آفت و مصیبت میں مبتلا تھا کہ اس مصیبت کا سامنا اور زندہ رہنے کی جد و جہد میں کچھ اور نظر نہیں آریا تھا ،جب موت سر پر ہو تو جان بچانے کی فکر ہونا لازمی ہے یہی سوچ اس عہد کے ہر شعرا ٔ کے یہاں دیکھنے کو ملتا ہے۔ ہر شاعر اس عہد کا جنگ و جدل اور خون خرابے کا ہی اپنے اوپر گزر رہی مصیبتوں کا ہی ذکر رہا تھا مثال کے طور پرشیفتہ بھی ان میں ایک ہے جو انگریزوں کی ظلم و ذیادتی سے سخت نالاں تھے ۔قلم کے اس سپاہی نے اپنے اشعار میں بھر اظہار کیا ۔ان کی جاگیر ضبط ہو گئی تھی ابتدائی عدالت نے سات برس کی سزا سنائی تھی بعد میں بڑی مصیبتوں سے بری ہوئے انھوں نے ان تمام تکالیف کا اظہار اپنے اشعار میں کچھ یوں کیا کہ :
ہائے دہلی و زہے شدگان دہلی
آپ جنت میں ہیں اور دل نگران دہلی
وہی جلوہ نظر آتا ہے تصور میں ہمیں
مٹ گئے پھر بھی یہ باقی ہے نشان دہلی
گر نہ کہویں کہ یہ دلی ہے تو ہر گزنہ پڑے
دلی والوں کو بھی دلی پہ گمان دہلی
اسی طرح اس وقت کے حالات پر استاد شاعر داغ دہلوی بھی لکھنے سے خود کو نہ روک سکے ۔انھوں نے ایک شہر آشوب لکھا تھا جو ’’فقان دہلی ‘‘ میں درج ہے۔انھوں نے اس وقت کے شہر کا حال جنگ و جدال کا منظرکچھ یوں بیان کیا کہ :
یہ شہر وہ ہے کہ انس و جان کا دل تھا
یہ شہر وہ ہے کہ ہر قدر دان کا دل تھا
یہ شہر وہ ہے کہ ہندوستان کا دل تھا
یہ شہر وہ ہے کہ سارے جہان کا دل تھا
رہی نہ آدھی یہاں سنگ و خشت کی صورت (۸)


اس طرح اس عہد میں بے شمار شعرا ٔ نے جنگی اشعار لکھے اور آنکھوں دیکھا حال بیان کیا ۔یہ سچ ہے کہ غالب کے یہاں حب الوطنی پر مبنی اس طرح شاعری نہیں کی گئی جس طرح اقبال یا دیگر شعرا ٔ کے کلام میں نظر آتی ہے ۔غالب نے اٹھارہ سو ستاون کی غدر میں جو خونریزی کا ماحول دیکھا ،ہر طرف چیخ و پکار دیکھی ،روتے بلکتے لوگ دیکھے ،اپنوں سے پچھڑنے کا غم دیکھا ایسے وقت میں حب الوطنی کے قصیدے پڑھنا ممکن بھی نہیں تھا ،نہ کوئی ایسا ماحول تھا جو بعد کے شعرأ کو حاصل ہوا۔تصویر کے اس رخ کی وضاحت اور غالب کے یہاں باقاعدہ حب الوطنی پر مبنی اشعار نہ ملنے کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر گوپی چند نارنگ لکھتے ہیں :
’’یہ صحیح ہے کہ غالب کے ہاں وطن پرستی کا وہ تصور نہیں ہے جو بعد میں سیاسی اور تاریخی حالات کے تحت اور نئی تعلیم کے اثر سے انیسویں صدی کے اواخر میں پیدا ہوا۔ہاں اگر اپنے تہذیب و تمدن سے محبت کرنا ،اپنے ہم وطنوں سے ہم دردی رکھنا اور ان کے دکھ میں اپنا دکھ سمجھنا وطن پرستی کہا جا سکتا ہے تو غالب بھی وطنیت کے اس جذبے سے عاری نہ تھے ۔ان کے خطوط سے ان کے نہاں خانۂ دل کے جوراز ہم پر ظاہر ہوئے ہیں ،ان میں ایک یہ بھی ہے کہ دلی اور دلی والوں کی بربادی کا انھیں گہرا دکھ تھا ۔غدر کے بعد مسلمانوں پر جو شدت روا رکھی گئی تھی ،اس کا انھیں دلی صدمہ تھا اور ایسی شکایتوں سے ان کے خط بھرے ہوئے ہیں ۔جنوری 1858 میں دلی میں ہندوؤں کے آباد ہونے کا حکم ہو گیا تھا لیکن مسلمانوں کو ایک مدت تک شہر میں رہنے کی اجازت نہ تھی ۔بعد میں حکم ہو ا کہ جو مسلمان حاکم شہر کی مرضی کے مطابق جرمانہ ادا کرے اور ٹکٹ حاصل کرے ،وہ شہر میں داخل ہو سکتا ہے ۔‘‘(۹)
اس مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ غالب کے خطوط میں پوشیدہ تاریخی حقائق ان کی مصوری کتنا اہم دستاویز ہے ۔ساتھ ہی ان خطوط کی ادبی اہمیت بھی اپنی جگہ مستحکم ہے ۔کیونکہ غالب سے قبل اردو میں دقیق اور مسجع و مقفیٰ نثر کا رواج تھا ۔فسانہ ٔ عجائب کی نثر نے پورا سکہ جما دیا تھا اور اردو نظم کی طرح اوزان مقرر تھے ،عبارت میں قافیہ کا خیال رکھا جاتا تھا ۔الفاظ دقیق استعمال ہوتے تھے ۔جن میں فارسی اور عربی الفاظ کی بھرمار ہوتی تھی ۔لیکن جدید نثر کی بنیاد اور ادب میں لطیف مزاح کی داغ بیل خطوط غالب سے ہی پڑی ۔ان سے قبل نثر کا قدیم انداز تھا اور نثر مسجع و مقفیٰ عبارت آرائی اور مصنوعی حسن کی چہاردیواری میں قید تھی۔غالب نے اس قید سے رہائی دلائی ۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ غالب کے خطوط معلومات کا گنجینہ ہیں ۔ان کے خطوط سے اس عہد کی سیاسی ،سماجی ،معاشی ،معاشرتی زندگی پر بھرپور روشنی پڑتی ہے ،غدر کے حالات کے بعد کے چشم دید حالات بھی ان کے خطوط میں بیان ہوئے ہیں جیسا کہ اوپر مطالعہ میں سامنے آیا۔ان خطوط میں بہت سے ایسے خطوط بھی شامل ہیں جو شاگردوں کے نام ہے جن میں ان کے کلام پر اصلاح دی گئی ،ان اصلاح میں زبان و بیان کے نکات پر بھی غالب نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔بلاشبہ اردو ادب کی اس صنف میں غالب کے خطوط کو نمایا ں مقام حاصل ہے ۔
یہ یقینا ایک وسیع موضوع ہے جسے چند صفحات میں سمیٹنا اور اس پر تفصیلی گفتگو کرنا ممکن نہیں ۔لیکن اس مضمون میں ان تمام اہم نکات اور وجوہات پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے جس سے اٹھارہ سو ستاون کے حالات غالب کی حب الوطنی اور ان کی تاریخی اہمیت پر بھر پور روشنی پڑسکے اور اس موضوع کو سمجھا جا سکیں ،امید یہ میری یہ کاوش آپ کو پسند آئے گی ۔
{حواشی }
(۱)بحوالہ: بنام عبدالغفور سرور ،اردوئے معلی،ص ۱۰۴۔
(۲)دستنبو ،ص ۳۲۔
(۳)مضمون : غالب کا جذبہ ٔ حب الوطنی اور واقعات سنہ ستاون ،گوپی چند نارنگ ؛ص،۴۸۔
(۴)اردوئے معلی ،ص ۲۵۵۔
(۵)بنام تفتہ ،اردوئے معلی ۔ص ،۹۱۔
(۶)مضمون : غالب کا جذبہ ٔ حب الوطنی اور واقعات سنہ ستاون ،گوپی چند نارنگ ؛ص،۵۰۔
(۷) غالب نام آورم ،انجمن ترقی اردو ،کراچی ،پاکستان ،1969۔
(۸)اردوی ۔ص ۳۰۳۔
(۹)غالب کا جذبہ ٔ حب الوطنی اور واقعات سنہ ستاون ،گوپی چند نارنگ ؛ص۶۲،۶۳۔
ڈاکٹرصالحہ صدیقی(الٰہ آباد)

شیئر کریں
ڈاکٹر صالحہ صدیقی کی پیدائش اعظم گڑھ یو۔پی کی ہے یہ الہٰ آباد میں مقیم ہیں ۔ابتدائی تعلیم مدرستہ البنات،منگراواں،اعظم گڑھ میں حاصل کی انہوں نےپی ۔ایچ۔ڈی کی ڈگری جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی (موضوع : علامہ اقبال کی اردو شاعری میں ڈرامائی عناصر:نگراں وجیہ الدین شہپر رسول )سے حاصل کی ۔ مرتب کئی کتابیں مرتب کی ہیں جن میں اردو ادب میں تانیثیت کی مختلف جہتیں ، ضیائے اردو ’’ضیاء ؔ فتح آبادی ‘‘ ،نیاز نامہ ’’نیاز جیراج پوری :حیات و جہات قابل ذکر ہیں ۔ تصنیفات : علامہ اقبال کی زندگی پر مبنی ڈراما ’’ علامہ ‘‘ تراجم (اردو سے ہندی ) :’’ضیاء فتح آبادی کا افسانوی مجموعہ ‘‘ سورج ڈوب گیاکا (2017)میں ہندی ترجمہ ڈراما ’’علامہ ‘‘ کا ہندی ترجمہ (2017)میں کیا۔ زیر اشاعت : مضامین کا مجموعہ ’’دیداور‘‘مضامین کا مجموعہ ’’نوشتہ‘‘ ، کہانیوں کا مجموعہ ’’حکایات صالحہ ‘‘ بچوں کی کہانیوں کا مجموعہ۔ تحقیقی کام ’’منظوم ڈراما ‘‘، نظموں کا مجموعہ ’’خامہ‘‘ ، خواتین مضامین کا مجموعہ اعزازات و انعامات :اتر پردیش اردو اکیڈمی ایوارڈ 2015’’ڈراما علامہ پہلے ایڈیشن کے لیے،ریاستی سطحی ’’اردو خدمت گار ایوارڈ 2015‘‘احمد نگر ،ضلع اردو ساہتیہ پریشد وہفت روزہ مخدوم ،سنگم نیر۔ ( اردو ادب میں تانیثیت کی مختلف جہتیں کے لیے )،لپ کیئر فاؤنڈیشن کی جانب سے ’’جہانگیری اردو لٹریری ایوارڈ ‘‘ 2015(ڈراما علامہ کے لیے )،اتر پردیش اردو اکادمی انعام ’’نیاز نامہ ‘‘ کے لیے،نوجوان قلمکار اقبال ایوارڈانہیں ان کے سوشل ورک کے لیے ہندستان کی کئی این جی اونے انھیں اعزاز ات سے نوازا ہے۔

کمنٹ کریں