غم حسین پہ شاعری

شیخ پڑے محراب حرم میں پہروں دوگانہ پڑھتے رہو
سجدہ ایک اس تیغ تلے کاان سے ہوتوسلام کریں
میر

ہے لہو کا قافلہ اَب تک رواں
اور قاتل، کربلا میں رہ گئے
امجد اسلام امجد

یزید آج بھی بنتے ہیں لوگ کوشش سے
حسین خود نہیں بنتے خدا بناتا ہے
قاصر

وہ تشنہ رہ کے عجب تشنگی سی چھوڑ گئے
یہ داستان کہ وابستہ اک فرات سے ہے
حسن جماعتی

سنا ہے زلزلے آتے ہیں عرش پر محسن
کہ بے گناہ لہو جب سناں پہ بولتا ہے
محسن نقوی


یہی کرشمہ ہے سچ کاواصف،یہی کرامت ہے کربلا کی
شہید کرکےیزیدفانی،شہید ہوکر حسین باقی
واصف علی واصف

یہ فقط عظمت کردار کے ڈھب ہوتے ہیں
فیصلے جنگ کے تلوار سے کب ہوتے ہیں
جھوٹ تعداد میں کتنا ہی زیادہ ہوسلیمؔ
اھل حق ہوں توبہتر بھی غضب ہوتے ہیں
سلیم کوثر

اے عشق کی خوشبو میں بسی حسن کی تصویر
اے میانِ شجاعت کی چمکتی ہوئی شمشیر
سرخیلِ شہیدانِ وفا مردِ حق آگاہ
اے ابنِ علیؓ، سبطِ نبیؐ، حضرتِ شبیرؓ
نظرؔ لکھنوی

حق ہو ستیزہ کار تو باطل ہو سر نگوں
دم بھر میں تار تار ہو شیرازۂ فسوں
دکھلا دیا حسینؓ نے اپنا بہا کے خوں
کرتے ہیں دیکھ سینۂ باطل کو چاک یوں
نظرؔ لکھنوی



ادراک تھا امام کو کیا ہے مقامِ عشق
سب کچھ نثار کر دیا اپنا بنامِ عشق
لے جا کے کربلا میں بھرا گھر لٹا دیا
حقا حسینؓ ابنِ علیؓ ہیں امام عشق
نظرؔ لکھنوی

آنکھوں کے ساحلوں پہ ہے اشکوں کا اک ہجوم
شاید غم حسین (ع) کا موسم قریب ہے

سپاہ شام کے نیزے پہ آفتاب کا سر
کس اہتمام سے پروردگار شب نکلا

قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم
اور نکلیں گے عشاق کے قافلے


حسینؑ ابن علیؑ کربلا کوجاتے ہیں
مگر یہ لوگ ابھی تک گھروں کے اندر ہیں


یہ دین پناہی کا شرف کس کو ملا ہے
یہ کس کا لقب ہے جو سر عرش لکھا ہے
اجمیر کے خواجہ نے یہ سچ خوب کہا ہے
لاریب کہ شبیر ہی کلمے کی بقا ہے
ریحان اعظمی

اصغر جگر کوتھام کے روتی ہے فوج شام
تم تیر کھا کے آئے ہویاتیر مار کے

کس کا اقرار سر نوک سناں شہ نے کیا
بات کیا تھی جو تہ تیغ نہ مانی پڑھیے

جب خیر و شر میں دقتِ تفریق ہوگئی
بے ساختہ حسین کی تخلیق ہو گئی

آج تک تاریخ میں کوفہ کی ملتا ہے رقم
نام کے تو سب مسلماں تھے مگر مسلم تھا ایک

دے کے سر شبیر نے اسلام زندہ کردیا
کربلا کو جس کے سجدے نے معلی’ کردیا




شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں