عظیم بلوچ شاعر غنی پہوال کی عظیم مزاحمتی شاعری

بلوچ شاعر, عظیم بلوچ شاعر غنی پہوال کی عظیم مزاحمتی شاعری

بلوچی کلاسیکل شاعری کا بیشتر حصہ قبائلی جنگوں کی داستانیں ہیں اور رزمیہ شاعری کی صورت میں ہے لیکن رزمیہ شاعری کے علاوہ ایک بڑا حصہ رومانوی بھی ہے ۔ بلوچ رومانوی شاعری نے بلوچ ادب کو ایک نہایت پرکشش جہت عطا کی ھے جسے فراموش کرنا ناممکن ھے

کلاسیکل بلوچ شاعری دو طرح کی ھے۔ جنگوی اور رنگوی شاعری۔ یعنی جنگ سے متعلق اور رنگوں سے متعلق جو کہ عشقیہ شاعری ھے۔ زیادہ تر بلوچ شاعری نظموں اور خاص کر طویل نظموں کی صورت ھے۔جن میں اجتماعی، علاقائی اور ذاتی و خاندانی کہانیاں بیان ھوتی ھیں۔
غنی پہوال موجودہ دور کے ایسے شاعر ھیں جو بلوچ کلاسیکل شاعری کو ساتھ لیکر نئے زمانے کے بدلتے حالات کی عکاسی کرتے چلے جا رھے ھیں

میں جب انکی شاعری پر غور کرتا ھُوں تو ایک طلسماتی فضا میں خود کو پاتا ھُوں جو مضمون کی مناسبت سے طبیعت پر دیر تک اثر چھوڑتی ھے۔، شمالی امریکہ کے جن اھم شُعرا کی شاعری کو ھمارے ادب میں بھی بڑی پزیرائی ملی ھے۔ اُن عظیم شُعرا کو مَیں غنی پہوال کے پلّے کے شعرا کہوں گا۔اور بعض جگہ غنی پہوال اُن سے بہت آگے بھی چلے جاتے ھیں۔ یہ فتوی دینے سے پہلے میں نے بغور انکی شاعری کا مطالعہ کیا ھے۔اور دلیل کے طور پر انکی نظموں سے اقتباس پیش کرسکتا ھُوں کہ کیسے زمین سے جڑی شاعری تاثیر سے بھری ھوتی ھے۔

اردو کی موجودہ شاعری عمومی طور پر زمین سے جڑی شاعری نہیں ھے بلکہ میں صآف صآف کہوں گا کہ نہایت گھٹیا ادب اردو میں تخلیق کیا جا رھا ھے اور اس گھٹیا پن کے ٹانٹے نام نہاد مذھب اور عربی کلچر کے مسلط کئے جانے سے جا ملتے ھیں، اپنا کوئی کلچر نہ ھونا بھی اردو شُعرا کی ذھنی غرابت کا سبب ھے۔ لیکن بلوچوں کی تہذیب کی مکمل چھاپ انکے ادب میں نظر آتی ھے۔ھندوستانکی ناجائز تقسیم کے ساتھ اردو زبان کو بھی مسلمانوں کی زبان ثابت کرنے کے لئے جو کھیل پاکستانی مذھبی فوجی اشرافیہ نے کھیلا اُس کا اثر مقامی قدیم زبانوں پر بھی پڑا ھے پاکستان مین پنجابی زبان تو دب گئی لیکن سرائیکی ، سندھی بلوچی زبان نے مزاحمت کی ھے اسی مزاحمت کے ایک بڑے علم بردار غنی پہوال ھیں۔
غنی پہوال نے اپنی شاعری بلوچ زبان میں لکھی ھے لیکن اردو پر بھی انکی کمال دسترس ھے اس لئے انکی اپنی بلوچی نظموں کے ترجموں کے علاوہ اردو میں کہی گئی نظمیں اپنا خاص اثر رکھتی ھیں، انکی شاعری میں رزمیہ مبازرت، زمین سے جڑا دُکھ، ھجرت، اور ملک میں جاری ظلم و ستم کے خلاف احتجاج ایک نہایت دبنگ آواز کی صورت میں سامنے آتا ھے۔

ایک نظارہ مجھ میں ہمیشہ زندہ ہے
میری بے حس و حرکت ماں
چار پائی پر پڑی ہے
کچھ ہمسائیاں بین کرتی ہوئی
اُسے سفید چادر اوڑھا رہی ہیں
ماں کی رحلت کا یہ منظر
میرے اندر پینٹ ہوجاتا ہے
“۔۔۔۔
اسی نظم کو وہ آگے بڑھاتے ھیں تو مجھے کینیڈین شاعر جان ڈنلن یاد آ جاتا ھے، جو یتیم خانے کے اندر رہنے والے ایک فرد کے دل میں اتر کر نظم کہتا ھے۔۔۔۔ غنی پہوال کہتے ھیں۔۔
“””
رفتہ رفتہ برگد سے قریب تر ہوتا گیا
اور دھیرے دھیرے مجھ پر انکشاف ہوا
کہ برگد بلکل میری ماں کی طرح سانس لیتا ہے
اس کی دھڑکنیں ماں کے دل کی طرح ہیں
پھر مجھے اس کی پناہ میں سکون آنے لگا
جیسے میں اپنی کھوئی ہوئی ماں کی ممتا دریافت کرچکا تھا
آج ساٹھ سالوں کے بعد
اسی ممتا کی چھاوں میں بیٹھے
سوچ رہا ہوں
کہ لوگ یتیم خانوں میں
برگد کے پیڑ کیوں نہیں لگاتے
“”””
آپنے غور کیا کس سادگی سے آخری سطروں میں قاری کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ھے۔ میں جب اس نظم کو پڑھ رھا تھا اس سطروں تک پہنچ کر میرے جسم کے رونگٹے کھڑے ھوگئے۔۔
اچھا شاعر تاثیر رکھتا ھے۔ برا شاعر کرافٹ اور پرانی جگالی میں ضائع ھوتا ھے۔جس منظر کے پیچھے سچائی ھوگی وھاں تاثیر بھی ھوگی۔ غنی پہوال کے ھاں مسلسل ایسے مناظر نظموں میں نظر آتے ھیں جو آپ کو اپنے ارد گرد کی دنیا سے کچھ دیر کے لئے باھر کھینچ لیتے ھیں۔
غنی پہوال اردو کے بیشتر موجودہ اور گزشتہ شُعرا کی طرح سائینس اور جدید علم سے نابلد نہیں ھیں۔بلکہ وہ بلیک میٹر یا سیادہ مادے کی ماھیت کی جانچ سے باخبر ھیں اور اُس کو شاعری میں عین اُس جگہ متعارف کرواتے ھیں جہاں اسکی ضرورت ھے۔
کائنات کا سیاہ مادہ، طبیعات میں وہ مادہ ھے جو نظر نہیں آتا، لیکن پھر اسکی موجودگی کیسے ظاھر ھوئی؟ جواب یہ ھےکہ دُور کی روشنی کی شعائیں کسی بظاھر غیر موجود مادے سے ٹکرا کر قدرے خمیدہ ھوتی ھیں تو پتہ چلتا ھے کہ درمیان میں کچھ موجود ھے ،یہ درمیان کا کچھ ۔۔سیاہ مادہ کہلاتا ھے۔
غنی پہوال اپنی نظم میں کہتے ھیں۔
“”

تین لاکھ سینتالیس ہزار
اور ایک سو نوے مربع کیلو میٹر پر پھیلا
گُل بوٹوں سے سجا میرا لہو لہان بدن
کسی کو نظر کیوں نہیں آتا۔۔۔۔۔۔؟
کیا ہوگیا ہے زندہ ضمیروں کو
میرے سامنے سے گزرتے ہیں
مگر میں کسی کو نظر نہیں آتا
تاریک مادے (۱) کی طرح
داستانِ زمان کا راوی تو یہی کہتا ہے
کہ لوگ آنکھ بھی رکھتے ہیں اور کان بھی
تو کیا میرا وجود اس داستان سے جُدا بس میرا گُمان ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موجودہ اردو ادب میں بلوچستان پر جبر اور قتال سے جُڑی شاعری موجود نہیں ھے۔ تاھم بلوچ شاعر غنی پہوال بروقت اپنی زمین اور اپنی ثقافت اور اپنے لوگوں کے لئے اپنی احتجاجی شاعری کرتے چلے جا رھے ھیں۔ صابر ظفر نام کے ایک اھم شاعر بھی غنی پہوال کے ساتھ رزمیہ و احتجاجی شاعری بلوچستان کے لئے کر رھے ھیں لیکن عمومی طور پر پنجاب ، سندھ اور سرحد سے بوجہ نسلی تعصب ، خود غرضی اور بزدلی کے ، کوئی آواز نہیں آ رھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غنی پہوال کی شاعری کو ادبی تنقیدی نگاہ سے دیکھیں تو انکے ھاں تہذیبی رچاو اور منظر کشی اپنے پورے معراج پر نظر آتی ھے۔۔جیسے ایک نظم میں کہتے ھیں۔۔
/۔۔۔”
مگر رستے سوئے رہتے ہیں
دادی امّاں کی کہانی کے
اُس نکمے دیو کی طرح
جو کہانی کے بستر کے علاوہ
دادی امّاں کے ہونٹوں پر بھی
خرّاٹے بھرتا ہے
۔۔۔۔۔۔
ایسے منظر تراشنا اور بیان کرنا تجربے کی بھٹی اور مشاھدے کی عظیم صلاحیت کے بغیر ممکن نہیں ھوتا۔
ایک اور جگہ وہ کہتے ھیں۔۔
۔۔۔۔

ماں تم تو جانتی ہو نا ں
مجھے زندگی سے کسقدر پیار ہے
وہ دن یاد ہے تمہیں
جب کِچن میں ایک کاکروچ آیا
تُم خوف اور کراہت سے چیختی ہوئی
مجھ سے ٹکرائی
اور میرے ہاتھوں سے
میریے بچپن کی گڑیا گر کر ٹوٹ گئی
تم مسلسل چیختی رہی
ماردو،مار دو، زہریلا ہے یہ
مگر میں نے ہنس کر اُسے
آرام سے اپنی ہتھیلی پر رکھ لیا
اورباہر درختوں میں چھوڑ آئی
تم تو جانتی ہو ماں مجھے زندگی سے کسقدر پیار ہے
پھر اچانک ایک دن ایک شریر کاکروچ
زندگی کے پاکیزہ بدن میں
اپنی ساری گندگیوں کا زہر اُنڈیلنا چاہتا تھا
میں روکتی رہی،روکتی رہی۔۔۔۔۔۔
پھر نجانے کیسے میری بے بسی نے
اُس زہریلے کاکروچ کا خاتمہ کردیا
ماں آج مجھے تم بہت یاد آرہی ہو
جانتی ہو کیوں۔۔۔۔۔
آج مجھ سے کہا گیا ہے کہ
جس کا تم سات سالوں سے مر مر کر انتظار کر رہی ہو
کل کا سورج وہ پَل اپنے ساتھ لائیگا
میں کال کو ٹھری کے ایک کونے میں
دیوار سے اس طرح چمٹ کے بیٹھی ہوں
جیسے میں اس دیوار میں پیوست کوئی خشت ہوں
اور کوٹھری سے باہر کا منظر
ایک جسیم کاکروچ میں تبدیل ہو کر
اپنی لمبی لمبی مونچیں اوپر نیچے ہلاتے ہوئے
مجھے عجیب نظروں سے گھور رہا ہے
مگر میں زندہ رہنا چاہتی ہوں
ہاں ۔۔۔۔ یہ بہت زہریلے ہوتے ہیں ماں
جلدی سے آکر اس کاکروچ کو مار دو
تم تو جانتی ہو
مجھے زندگی سے کسقدر پیار ہے

دل دہلا دینے والی نظم ، اصل میں غنی پہوال نے ریحانہ جباری کے لئے کہی تھی جسے ایران میں پھانسی دے دی گئی تھی۔

غنی پہوال شاعری میں بنیاد پرستی کے قائل نہیں بلکہ زمانے کے تحرک کے ساتھ انہوں نے
بھی اپنی نظموں کو جدید اسلوب پر استوار کیا ھے۔ جدید مسائل جدید منظر نامے کو جدیدیت کے ساتھ باندھا ھے۔ خدا کی خاموشی انکے ھاں جبر و استبداد و قتال کے مناظر سے مِلا کر دکھائی گئی ھے۔
۔۔۔۔
خدا کو رحم نہیں آتا۔۔۔

ذرّے نے عظیم مطابقت
پیدا کرنے کے بعد
مادہ میں جب حسیت کا جوہر
منتقل کرنا چاہا
تو یہی وہ لازوال لمحہ تھا
جب ارتقاء کی مطابقت
محبت میں متشکل ہونے جارہی تھی
پھر فطرت کی ممتا نے
اربوں سالوں کی تپسیا کے بعد
زندگی کا گیان پایا
مگر آج۔۔۔۔۔
زندگی کی ان نایاب فضاوں
اور محبت کی پاکیزہ ہواوں کو
ہوس کے زہریلے کاربن گیسوں
اور بارود کی دھووں سے
آلودہ کیا جا چکا ہے
ہر نوزائیدہ خواب
ھیرو شیما اور ناگا ساکی کے
بچوں کی طرح معذور پیدا ہوتا ہے
اور ہر خواہش استحصالی ھولو کاسٹ کے خوف سے
پیدا ہونے سے پہلے مرجاتی ہے
اور ہوس کی خود غراضانہ درندگی نے
تہذیب کا باوقار لبادہ اوڑھ کر
سرمایہ کو ہی زندگی کا سرمایہ بنا دیا ہے
دوسری طرف
اندھا عقیدہ تلوار کی طرح
نفرت کے وحشتناک ہاتھوں میں
تھما دیا گیا ہے
قطار در قطار انسانوں کی گردنیں
بین الاقوامی گوشت سپلائی کرنے والی
کمپنیوں کی خود کار مشینوں میں
بے حس و حرکت جانوروں کے سروں کی طرح
خود بخود کٹتے جارہے ہیں
مگر خدا وندِدو عالم
دو زانوں بیٹھے خاموشی سے سر جھکائے
سب دیکھ رہا ہے
کیونکہ خدا کو رحم نہیں آتا
رحم تو انسانی صفت ہے
اور خدا کے بندے
صرف اور صرف بندے ہیں
انسان بن نہیں پائے

جب غنی پہوال منظر کشی کرتے ھیں تو سچ مچ پڑھنے والا خود کو اُسی زمین، اُسی بستی میں موجود خیال کرتا ھے۔ جیسے ان سطروں میں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔””
ایک پاکیزہ سمندر
آس کی آنکھوں سے ہوتے ہوئے
میرے آنکھوں میں اُتر آیا
ٹھاٹھیں مارتا چاروں جانب ایک سراب
صوفی کا وجدانی دھمال
اور صحرا کا مردہ محراب
میرے کمزور عقائد پر حاوی ہونے لگے
اللہ کی ایک سبز دلیل
جیسے دور افلاک میں کوئی سبز ستارہ
اور اُس میں ایک سبزجھیل
“””
،،،،،،،،،،،،
یہ تو وہی کمہارن بڑھیا ہے
جس نے خواب دیکھنے کے جرم میں
تمہارے گھڑے کی خمیر میں آمیزش کی تھی
دھوپ کی تمازت میں جھلسے ہوئے
میرے چٹیل پہاڑوں کی تشنہ
مگر خوددار مٹی
خواہشوں کے بے قرار جزیروں کی طرح
کبھی پانی کے جبر میں تحلیل نہیں ہوتی
کیوں اتنا بے حس ہے یہ بہتا دریا
نہ کوئی شور نہ اضطراب
یہ پُژمردہ موجوں کا دودھیا پانی
پہاڑوں کا برفاب نہیں ہے
ہمارے رگوں کا خون ہے
جو سپید ہوچکا ہے
سوہنی تم کہاں ہو۔۔۔۔۔
تم یہاں کسی منظر میں نظر کیوں نہیں آتی
دیکھ میں شہ مرید کی ہانی
اپنی صدیوں کی پیاس کی
مسخ شدہ لاش
افلاس کے کاندھوں پر اُٹھائے
کتنی دور سے آئی ہوں
ہمارے سب خواب دریا کے پار
اُس مکاّر بڑھیا نے
کسی اجتماعی قبر میں قید کر لئے ہیں
آو سوہنی
اب آگ اور خون کے
اس دریا کو عبور کر لیتے ہیں
اور اپنی مجبور محبتوں کے
مدفون خوابوں کی فاختاؤں کو
ایک بار پھر
زندگی کی کھلی فضاوں میں آزاد کر لیتے ہیں

شاعری بیان کی اعلی ترین صنف اسی لئے ھے کہ اس کے ذریعے ایک پوری تہذیب کا منظر نامہ چند سطروں ، مصرعوں، شعروں میں بند کیا جا سکتا ھے۔۔ مثلاً غنی پہوال صاحب کی ایک نظم زمان و مکان طے کرتی انفراد سے اجتماع اور پھر انفراد پر ختم ھو جاتی ھے۔ ساتھ میں فلسفیانہ تفکر و مذھبی و سماجی روایات کی لہریں شاملِ تفکر ھوتی ھیں۔۔اس نظم میں یہ منظر بڑا ھی تفکر آمیز ھے۔
،،،

جور کے زہریلے پودے پر
کِھلنے والے
دلکش پھول کی
چنچل خواہش نے
چڑیا بن کر
خواب کے پیاسےصحرا میں
جب اُڑنا چاھا
لیکن گرم ھوا کا ھاتھ پڑا تو
چنچل خواھش کی چڑیا
ریت پر آکر ڈھیر ھوئی
بس تھوڑی سی ھی دیر ھوئی
اور مَیں نے اپنے قحط زدہ
ھاتھوں کی شفقت
اُس کو آن تھمائی
اُس کی آنکھ میں مُجھ کو دیکھ کے
تھوڑی وحشت آئی
لیکن آخری ھچکی
اُس کو تاڑ چُکی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔
فورؔآ ایک سمندر
پہلے اُسکی ۔۔۔۔ اور پھر
میری مدد کو
میری آنکھ میں آیا
ٹھاٹیں مارتا چاروں چانب ایک سراب
صوفی کی دھمـال اور صحرا کا محراب
میرے کمزور عقائد پر
اُتری اللہ کی اک سبز دلیل
جیسے دُور کا کوئی سبز ستارہ
اور اس میں پانی کی اک جھیل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انکے ھاں تشبیہات و استعارہ جات میں قدرتی مناظر کے مشاھدے اور اس منظر کے پس منظر سے آگاھی کا جھلکنا سب سے زیادہ خوشکُن ھے،یعنی کسی منظر کے پس منظر اور ماخذات کا جاننا اور پھر اس حوالے سے اس کا بیان نہایت بلوغت کی نشانی ھے۔۔۔یعنی وہ لفظی درآمد کر کے نطم ترتیب نہیں دیتے بلکہ مضمون کے لئے تجربات و مشاھدات میں سے مناظر و تشبیہات لاتے ھیں۔۔اسی لئے وہ کہتے ھیں۔۔
۔۔۔
قطار در قطار انسانوں کی گردنیں
بین الاقوامی گوشت سپلائی کرنے والی
کمپنیوں کی خود کار مشینوں میں
بے حس و حرکت جانوروں کے سروں کی طرح
خود بخود کٹتے جارہے ہیں
مگر خدا وندِدو عالم
دو زانوں بیٹھے خاموشی سے سر جھکائے
سب دیکھ رہا ہے
کیونکہ خدا کو رحم نہیں آتا
رحم تو انسانی صفت ہے

یہ مذھبی نقطہ ھے۔۔ کہ تمام مذاھب اپنے اپنے خداوں کو رحم کرنے والا مشہور کرتے ھیں، جبکہ فلسفیانہ و سائینسی مشاھدات و تجربات بتاتے ھیں کہ خدا یا خدائی طاقتیں ھرگز ھم جیسا انسانی رحم نہیں محسوس کرتیں۔۔ صاف ظاھر ھے کہ اگر وہ رحم محسوس کرتیں تو ایسا نظام ھی کیوں ترتیب دیتیں جس مین زندگیوں کا دار و مدار ایک دوسرے کے خون پر ھو۔

غنی پہوال، گزرے اھم فلاسفہ پر پوری نظر رکھتے ھوئے ماضی و موجود و مستقبل پر نظم کہتے ھیں۔ مطالعہ کی جس کمی کا شکار عمومی اردو شاعری ھے اُس سے بچ کر پہوال صاحب کہتے ھیں۔۔:
۔۔”
اُف۔۔۔۔۔کس قدر کربناک ہے خود سے بچھڑ جانا
میں کہاں ہوں۔۔۔۔۔۔؟
کوئی ہے جو آکر
آئینے میں میرا عکس ڈھونڈ لے
یہ رنگ، روپ اور جسامت
یہ خصلتیں
کچھ بھی تو میرا نہیں
یہ سب میرے اجداد کی منافقتیں ہیں
جو جینز کی شکل میں
آج بھی مجھ میں زندہ ہیں
میں اپنے وجود کی کشتی سے
کیا کیا دریا بُرد کر دوں
میرے نجات دہندہ۔۔۔۔حضرت ہیگل
تمہیں دوبارہ آنا ہوگا
اور مجھے میرا وجود دلانا ہوگا
دیکھو تمہاری ’’ آفاقی روح ‘‘
اس خود غرض ترقی کے
ساحرانہ دائرے میں
کس طرح کولہو کا بیل بنی ہوئی ہے
حضرتِ ہیگل
اُس خالص روح کی دریافت کیلئے
وہ سلسلہ ہمیں پھر سے شروع کرنا ہوگا
آؤ اور مجھے ایک بار پھر
اُنہی غاروں میں چھوڑ آؤ
جہاں میں اپنے اندر کے کمروں کی
چابیاں بھول آیا تھا

یہ ممکن ھی نہیں ھے کہ انکی شاعری کو پڑھتے ھوئے کوئی بوریت کا شکار ھو۔ تاھم انکی نظم کے زھریلے ذائقے علامات کے ذریعے ذھن کو تلخی پہنچاتے ھیں،سرخوشی بھی ھے اور رجائیت بھی لیکن رزمیہ انداز میں جو دبدبہِ الفاظ ھے وہ مجھے اختر حسین جعفری کی چند نظموں میں بھی نظر آیا تھا۔الفاظ کے ذریعے منظر میں ایک دبدبہ پیدا کرنا بڑا مشکل کام ھے خاص طور پر جب آپ سچائی اور زمین سے جڑی حقیقتوں کی عکاسی کر رھے ھو، پس اس حوالے سے غنی پہوال ایک بڑے شاعر کے طور سامنے آ چکے ھیں۔ امید ھے کہ وہ اپنی تمام بلوچ شاعری کے تراجم سے بھی ھمیں مستفید کریں گے
۔۔۔۔۔
رفیع رضا (کینیڈا)

شیئر کریں
رفیع رضا
مصنف: رفیع رضا
رفیع رضا کینیڈا میں مقیم معروف شاعر ہیں۔ ان کا شعری مجموعہ "ستارہ لکیر چھوڑ گیا" کے عنوان سے منظرِ عام پر آ چکا ہے۔

کمنٹ کریں