غرور پر شاعری

غرور پر شاعری, غرور پر شاعری

آسماں اتنی بلندی پہ جو اتراتا ہے
بھول جاتا ہے زمیں سے ہی نظر آتا ہے
وسیم بریلوی

شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے
جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے
بشیر بدر

ادا آئی جفا آئی غرور آیا حجاب آیا
ہزاروں آفتیں لے کر حسینوں پر شباب آیا
نوح ناروی

وہ جس گھمنڈ سے بچھڑا گلہ تو اس کا ہے
کہ ساری بات محبت میں رکھ رکھاؤ کی تھی
احمد فراز

روز دیوار میں چن دیتا ہوں میں اپنی انا
روز وہ توڑ کے دیوار نکل آتی ہے
خورشید طلب

غرور پر شاعری

آسمانوں میں اڑا کرتے ہیں پھولے پھولے
ہلکے لوگوں کے بڑے کام ہوا کرتی ہے
محمد اعظم

کسی مغرور کے آگے ہمارا سر نہیں جھکتا
فقیری میں بھی اخترؔ غیرت شاہانہ رکھتے ہیں
اختر شیرانی

ہم ترے عشق پہ مغرور نہ ہو جائیں کہیں
اس قدر پاس نہ آ دور نہ ہو جائیں کہیں
راحیل فاروق

جگمگاتے ہوئے شہروں کو تباہی دے گا
اور کیا ملک کو مغرور سپاہی دے گا
منور رانا

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں