سونے کی انگوٹھی

افسانہ نگار : زین العابدین خاں

, سونے کی انگوٹھی

میرے گائوں میں جو آدمی ممبئی میں جاکر ٹیکسی چلانے لگتا تھا اُسے سب لوگ اچانک سیٹھ کہنے لگتے تھے۔پہلے تو اِس گائوں سے لوگ کلکتہ پولیس میں نوکری کیے ،اِس کے بعد بہار پولیس میں نوکری کیے ،وہ لوگ بھی اچھا پیسہ کمائے ۔اگر اچھے تھانہ میں چلے گئے جہاں دِن رات پیسہ برستا تھا تو ایک سال میں اُس تھانہ میں رہنے کے بعد گائوں کا کچا مکان پختہ عمارت میں بدل جاتا تھا لیکن وہ لوگ گائوں میں کبھی سیٹھ کے نام سے نہیں پکارے گئے۔اب جبّار نے ہوش سنبھالا تو اُس کے شعور میں بات بیٹھ گئی کہ وہ سیٹھ بنے گا۔گھر کی کُل پراپرٹی وہی تین بیگھ زمین تھی ،اُسی کا گلّہ پورے سال کھایا جاتا تھا اور تو گھر میں کوئی انکم نام کی چیز نہیں تھی ۔عید،بقرعید پہ اُس کو نیا کپڑا مل جائے تو غنیمت تھی۔ جبّار کے نانا اور ماما امیر تھے جو جبّار کی ماں زبیدہ کا خیال رکھتے تھے ۔وہ عید،بقر عید سے پہلے اپنی بہن کو اتنا پیسہ دے جاتے کہ جبّار کا اور جبّار کی ماں زبیدہ کو نیا کپڑا میسر ہوجائے ۔گائوں میں جِس کے پاس زمین ہے پیٹ تو بھر جاتا ہے ۔کھیتی خود کرو نہیں تو کسی کو دے دو ،آدھی فصل کا اناج تو مِل ہی جاتا ہے۔
جبّار کے گھر کے بغل میں تھوڑی دور پہ خدیجہ کا گھر تھا ۔اِن دونوں کے گھر کے بیچ ایک کھنڈر نما ٹوٹا گھر تھا جس میں قدرتی طور پہ بیر اور امرود کے درخت اُگ آئے تھے ۔دونوں گھر کی عورتیں اس کھنڈر میں آکر سردیوں کے موسم میں دھوپ سینکنے بیٹھ جاتی تھی ۔دو چار پائی ہمیشہ بچھی رہتی تھی اور کبھی کبھی محلّہ کے بچے بیر یا امرود کی لالچ میں اِس کھنڈر میں آجاتے تھے ۔اُس دن جب جبّار کھنڈر میں گیا خدیجہ باقاعدہ برقعہ کا اوپری حصّہ بدن پہ ڈالے دھوپ میں اپنے بال سّکھا رہی تھی ۔اُس نے جب جبّار کو دیکھا تو اپنے لمبے لمبے بالوں کو برقعہ کے باہری کپڑے سے باہر نکال کر سُکھانے لگی ۔اُس کا مقصد تو صرف اپنے لمبے بالوں کو جبّار کو دکھانا تھا لیکن جب برقعہ کے باہری گائون کا حصّہ کُھلا تو اُس کے بڑے بڑے گول مٹول سینہ بھی باہر صاف صاف دکھنے لگے ۔چونکہ سب کچھ کپڑوں میں ڈھکا ہوا تھا پھر بھی اُس کا گول اور ملائم آکار اور بدن کے ساتھ ہلنا صاف نظر آرہا تھا ۔جبّار اُس سے تھوڑی دور کھڑا ہوکر اُسے سراپا گھورنے لگا ۔خدیجہ کو معلوم تھا کہ جبّار کی نظریں کہاں کہاں ہے لیکن جیسے وہ اپنے بدن کے تاج محل کو دکھانے پہ اُتر آئی تھی ۔


جبّار نے اُس کی انگلی میں انگوٹھی دیکھی اور کہا،
’’ خدیجہ یہ تو پیتل کی انگوٹھی ہے۔میں تمہاری انگلیوں میں سونے کی انگوٹھی پہنائوں گا ۔‘‘
’’ پہلے تو اپنے پائوں کے لیے چپل تو خرید لے ،پھر میرے لیے انگوٹھی خریدنا ۔‘‘ خدیجہ نے ہنستے ہوئے کہا۔
اُس نے اپنے پائوں پہ نظر ڈالی ۔سردیوں کی وجہ سے یا پھر اُس کے پائوں میں چپل نہ ہونے کی وجہ سے اُس کے پائوں کے چمڑے پھٹ چُکے تھے اور مٹی کی تہہ ایسی جمی تھی کہ اُس کے اندر سے خون رِس رہے تھے ۔ایسا اکثر سردیوں میں ہوتا ہے جب لوگ روز نہیں نہاتے اور پائوں کی مٹی صاف نہیں کرتے ۔اب تو وقت بدلا ہے ورنہ کتنے لوگ گائوں میں کبھی چپل جوتا پہنتے ہی نہیں اگر کبھی پہن لے تو اکثر جوتا ہی اُن کا پائوں کاٹ دیتا ہے اِس لیے بغیر جوتے کے وہ اپنے آپ کو بہت آرام دہ محسوس کرتے ہیں ۔جبّار نے اپنے پائوں کے اوپر سے نظریں اُٹھاکے کہا،
’’ خدیجہ تو دیکھنا میں ممبئی جائونگا ،ٹیکسی چلائونگااور سیٹھ بنونگا ،تب تو سونے کی انگوٹھی تمہارے لیے خرید بھی سکتا ہوں ۔‘‘
’’ جب جائے گا تب نہ‘‘
’’ دیکھ سلیمان سیٹھ آئے ہے،اُن کی چار ٹیکسی چلتی ہے ،میری ماں اُن کے پائوں پکڑ رہی ہے ،اِس بار جب وہ ممبئی جائیں گیں تو میں اُن کے ساتھ ضرور جائونگا اور پھر تمہاری انگوٹھی پکی۔‘‘
اِس بیچ خدیجہ کی ماں نے آواز دی اور خدیجہ جاتے جاتے پھر اپنے بڑے بڑے بالوں کو گائون کے اندر لیتے لیتے اپنے سینہ کا گول گول اُبھار دِکھا گئی ۔اُس کے جانے کے بعد جبّار وہاں اُس کھنڈر نما گھر سے نکلا تو اُس کی ماں زبیدہ مِل گئی اور بولی ۔
’’ تو جاکے کنویں پہ اپنے پورے بدن کو صاف کر ،اپنے پائوں کے میل کو چھڑا ،میں سلیمان سیٹھ کے پاس بہت روئی ،گڑگڑائی تو وہ مان گئے ۔پہلے تو کہہ رہے تھے کہ کھولی میں جگہ نہیں پھر وہ آمادہ ہوگئے اور بولے تم کو کھانا پکانا پڑے گا ،رات کے وقت کِسی کی گاڑی میں سونا ہوگا ،تھوڑے دِن تکلیف اُٹھا لینا ۔ممبئی میں تو پہلے جو جاتا ہے اُسے ایسا ہی کرنا پڑتا ہے ،جب وہ گاڑی چلانے لگتا ہے تو سیٹھ بن جاتاہے۔‘‘


جبّار کی تو خوشی کی انتہا نہ رہی کہ وہ ممبئی جا رہا ہے ۔سال دو سال کے بعد تو وہ سیٹھ بن جائے گا ،یہ خوشی کی خبر خدیجہ کے گھر جبّار کی ماں سُنا کے آئی کہ اب کے جبّار سلیمان سیٹھ کے ساتھ ممبئی چلا جائے گا ۔کچھ دنوں کے بعد میرے گھر سے غریبی بھاگ جائے گی ۔شام کو تھوڑا بتاشہ خرید کر خواجہ بابا کے نام سے نیاز بھی دلایا گیا ۔جبّار بھی ایک ایک دن میں کئی کئی بار نہا کر صاف ستھرا ہوگیا۔
تقریبًا تین دِن کے بعد جب وہ جانے لگا تو اُس کی ماں زبیدہ اُس کا ہاتھ پکڑ کے بہت روئی تھی ،اُس کے ہونٹ کانپ رہے تھے ،اُس کی بلائیں اتارتے ہوئے اُس کی ہاتھ کی انگلیاں بھی کانپ رہی تھی ۔زبیدہ نے اپنے شوہر سے اچھے دِن نہیں دیکھے تو اب شاید بیٹے کے ہاتھ سے اچھے دِن دیکھ لے۔خدیجہ بھی دیوار سے لگ کے کھڑی تھی ،بار بار اپنے ڈوپٹہ کو اُتارتی اور پھر سنبھال کے پہنتی ۔اُس ڈوپٹہ کو اُتارے اور دوبارہ اوڑھنے میں اُس کا پورا بھرا بھرا بدن صاف نظر آتا ۔جب جبّار رخصت ہونے لگا تو اپنی ماں کے بعد خدیجہ کی طرف دیکھا، خدیجہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’ وعدہ یاد ہے نہــ!‘‘
ممبئی پہنچنے کے بعد وہ گائوں کا سلیمان سیٹھ جس کی لوگ پوجا کرتے تھے وہ ایک جھوپڑے میں رہتے ہوئے مِلا ۔گائوں میں تو وہ روز صبح نیا قمیص پہنتا تھا لیکن یہاں ایک کمرہ میں آٹھ آدمی رہتے تھے ۔پاخانہ کے سامنے لوٹے میں پانی لے کر لائن لگانا پڑتا تھا ۔جبّار نے سوچا کہ سارے سیٹھ لوگ تو شروع میں ایسی ہی زندگی گزارتے ہیں تو اُسے بھی اِسی طرح جینا ہوگا۔
تقریبًا دو ہفتہ کے بعدگالیاں کھا کے ،جھڑکیاں سُن کے وہ سارا کام سیکھ گیا ۔چاول پکانا،دال بنانا ،روٹی بیلنا اور ایک وقت گوشت پکانا۔ ممبئی کے موسم میں وہاں وہ بنیان پہن کر رہتا ،دن بھر گرمی اور اُسی طرح کا کام ،بیچ بیچ میں اُسے دوکانوں سے چائے بھی لانی پڑتی تھی، اتنے کام کے بدلے میں کوئی پیسہ نہیں کھانا فری ،رہنا فری تھا لیکن پیسہ ایک بھی نہیں ۔اب جو اُس کو دوسرا کام ملا گاڑی دھونا ،صبح چار بجے اُٹھنا پڑتا ،بالٹی مگ اور کپڑا ہاتھ میں ہوتا ۔ایک گاڑی کی صفائی کا سو روپیہ مہینہ ،دو گاڑی کا دو سو روپیہ ،اِس طرح اُس کے پانچ گاڑی ہوگئے۔اب ہر مہینہ اُسے پانچ سو روپیہ ملنے لگے ۔جب کوئی گائوں جاتا وہ اپنی ماں زبیدہ کو پانچ سو روپیہ بھیج دیتا ،زبیدہ پورے محلہ میں بتاتی کہ جبّار کا پیسہ آیا ہے ۔نماز میں اب وہ دیر تک دعائیں مانگتی ’’اللہ ہمارے گھر میں برکت دے۔‘‘
جبّار نے اب گاڑی دھوتے دھوتے گاڑی چلانا سیکھ ہی لیا اب بس دیر تھی کہ اُسے کسی طرح لائسنس مل جائے۔گاڑی چلانے کا لائسنس ملنے کے بعد فوراًً ٹیکسی آدمی نہیں چلا سکتا ۔اس لیے کچھ دن پرائیوٹ کار کسی سیٹھ ساہوکار کی چلانی پڑتی ہے ۔جوانی میں امنگ بہت ہوتی ہے۔ اب جبّار یہی خدا سے دعا کرنے لگا کہ اُسے ایسا مالک یا سیٹھ مل جائے جو کبھی کھنڈالا جائے ،کبھی گُوا جائے تاکہ وہ بھی ان مقامات کی سیر کرے ۔گائوں میں پوکھروں،ندی نالوں کے علاوہ تھا ہی کیا اور اِس طرح گھومنے سے اُسے کھانے کا پیسہ الگ ملے گا۔
کچھ دِن بعد ایک بوڑھا پارسی مِل گیا ۔وہ صرف ایک بار گھر سے باہر نکلتا تھا وہ بھی سمندر کے کنارے چہل قدمی کرنے کے لیے۔ اُسے گھومنے گھامنے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی یا سارا دِن کتاب پڑھتا رہتا تھا لیکن تنخواہ وقت پر دے دیتا تھا اُسے مانگنا بھی نہیں پڑتا تھا۔ ہندوستان کی سب سے مہذب اور تعلیم یافتہ قوم پارسی ہیں ،اِن کے اندر بُری عادت بھی نہیں ۔وہ یہاں بہت زیادہ خوش تو نہیں تھا کیونکہ اُسے تو بہت زیادہ پیسہ کمانا تھا ۔
اب وہ ہر ماہ اپنے گھر اپنی ماں کو دو ہزار روپیہ کا منی آڈر بھی بھیجنے لگا تھا ۔ماں زبیدہ کی حالت اب بہت آسودہ ہوگئی تھی ۔اب وہ گائوں میں ممبئی سے آنے والوں کی راہ دیکھتی رہتی کہ کوئی آئے گا تو کچھ اُس کے بیٹے جبّار کا دیا ہوا تحفہ لائے گا اور جب وہ جائے گا تو چنا کا حلوہ،دھان کا چوڑا،گُڑ اُس کے حوالے کرے گی ۔جب بھی کچھ ممبئی سے تحفہ تحائف آتا تو جبّار کی ماں خدیجہ کو ضرور بلاتی بلکہ خدیجہ ہی اُس پاکٹ کو چیر پھاڑ کر کھولتی اور ایک ایک چیز باہر نکال کر دکھاتی۔
جبّار ممبئی تو آگیا لیکن وہ اِس گِنے چُنے پیسوں میں جو اُسے بطور تنخواہ کے ملتا خوش نہیں تھا ۔اِس بیچ اُس کے کئی دوست بھی بن گئے تھے جِن میں کچھ پھیری والے ،سبزی والے ،ناریل بیچنے والے بھی تھے۔سب کے اپنے اپنے مسائل تھے ،سب امیر ہونا چاہتے تھے اور سبھی گائوں میں ایک گھر چھوڑ کر آئے تھے ۔یہ لوگ جب ساتھ بیٹھتے تو اُن لوگوں کی کہانی شروع ہوتی جو ممبئی میں قُلی تھا اور کروڑ پتی ہوگیا یا پھر اُن غنڈوں کی کہانی جو ہفتہ وصولی کا کام کرتے تھے۔بس کوئی بھی طریقہ ہو پیسہ ملنا چاہیے۔اِن سارے اُٹھنے بیٹھنے والے دوستوں میں اُسے ایک مدراسی ملا اُس نے جبّار سے پوچھا،


’’ جبّار بھائی تم اپنی ڈیوٹی سے کب فِری ہوجاتے ہو؟‘‘
’’شام چار بجے ،وہ بوڑھا پارسی مجھے چھوڑ دیتا ہے۔‘‘
’’اِس کے بعد وہ تم کو دوبارہ بلاتا تو نہیں۔‘‘ مدراسی نے پوچھا۔
’’نہیں بالکل نہیں،کیونکہ میری ڈیوٹی شام چار بجے ختم ہوجاتی ہے۔‘‘
’’تم ایک کام کروگے ؟‘‘ مدراسی نے پوچھا۔
’’کیوں نہیں؟ میں چار بجے شام کے بعد با لکل فِری ہوں۔‘‘
’’ تو ایک کام کرو ،تم جو ہو چو پاٹی پر ناریل کا ٹھیلہ لگائو،آٹھ بجے رات تک تمہیں روز سو روپیہ مِل جائے گا ۔‘‘
’’ لیکن ٹھیلہ اور ناریل کہا ں مِلے گا ۔‘‘
’’یہ سب تم میرے اوپر چھوڑ دو ،وہ ٹھیلہ ناریل گِن کر دے گا اور وہ چھُری بھی دے گا جِس سے نایل کو چھیلا جاتا ہے ۔فی ناریل پانچ روپیہ تمہارا ۔اگر بیس ناریل بیچ دے تو سو روپیہ تمہارا ۔ہاں ایک بات اور ہے تمہیں ٹھیلہ ڈھکیل کے وہاں لے جانا ہوگا اور پھر مالک کو واپس کرنا ہوگا ۔
’’ میں آج ہی سے تیار ہوں ۔‘‘ جبّار نے کہا کیونکہ سو روپیہ روز سے تین ہزار مہینہ ہوتا ہے ،پارسی کی تنخواہ الگ تھی چار ہزار،اس طرح مکمل انکم سات ہزار ہوجائیں گیں۔یہ تو ٹھیک ہے۔
اب وہ مدراسی جبّار کو لے کر اُس آدمی کے پاس چلا گیا ۔وہ بھی ایک مدراسی تھا ۔کالا کلوٹا بھوت کی طرح تھا ۔اُس نے اُسے ٹھیلہ، ناریل اور اُس کے کانٹنے والا چھُرا سب فراہم کیا اور اِس طرح جبّار کا دوسرا دھنداشروع ہوگیا ۔وہ کبھی کبھی خدیجہ کو بہت یاد کرتا ،اُس کی وہ تصویر آنکھوں میں گھومنے لگی تھی جب اُس نے برقعہ کے گائون سے اپنے بالوں کو نکالا تھا اور اُس کے دو گول گول سینے باہر جھانکنے لگے۔ جب روپیہ آنے لگتا ہے تو خواہشات کے گھوڑے بھی دوڑنے لگتے ہیں۔اب کی بار جب اُس نے کِسی کے ذریعہ سامان بھیجا تو ماں کے لیے چپّل اور خدیجہ کے لیے ایک خوبصورت سینڈل بھی تھا ۔
جو ہو چو پاٹی پہ ایک چالیس پینتالیس سال کا آدمی اُس سے روز ایک ناریل لیتا تھا ۔اُس کا نام اِس کو بھی معلوم نہیں تھا ۔بس اُس نے ایک دِن جبّار سے پوچھا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو؟
جبّار نے کہا’’یوپی‘‘
’’ اِس کا مطلب تم بھیّاہو۔‘‘
’’ جی جو بھی کہہ لیجیے۔‘‘
’’ بھیّا جی یہ ممبئی ہے ،یہاں ناریل بیچنے سے کچھ نہیں ہوگا ،یہ شہر ایسا ہے کہ کچھ لوگوں کو آسمان پہ اُٹھا دیتا ہے اور کچھ لوگوں کو اتنا مجبور کر دیتا ہے کہ وہ ممبئی چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔اِس شہر میں پیسہ سڑکوں پہ پڑا ہے اُٹھانے والا چاہیے۔‘‘
’’ وہ تو ٹھیک ہے لیکن میرے پاس وقت نہیں،دِن میں ایک پارسی کی گاڑی چلاتا ہوں اور شام کو یہ ناریل کی گاڑی لگاتا ہوں۔‘‘
’’ بس اِسی جگہ اِسی ناریل کی گاڑی پہ ایک تیسرا کام بھی کر سکتے ہو اور پیسہ ہی پیسہ ہے۔‘‘
’’ وہ کیا کام ہے؟‘‘ جبّار نے پوچھا
’’ آج کل شہر میں ہیروئن کا بہت ڈیمانڈ ہے ۔اُس کی کچھ پُڑیا جیب میں رکھنا ہے اور جو گراہک آئے اُسے پکڑا دینا ہے ۔تمہیں فی ناریل پانچ روپیہ ملتا ہے ،اِس میں فی پُڑیاچالیس روپیہ ملے گا ۔ایک پُڑیا سو روپیہ کا ،ساٹھ روپیہ مالک کا ہوا اور چالیس روپیہ تمہارا ۔ بس ایک سال یہ کام کرو اور سچ مچ کا سیٹھ بن جائو ۔اِس میں کوئی وزن بھی نہیں ہے،جیب میں رکھ کے جہاں مرضی چلے جائو۔‘‘
جبّار کی آنکھیں خوشی سے چمک اُٹھی ۔اب یہ تیسرا دھندا بھی جبّار نے شروع کر دیا ۔پہلے ہی دِن دس پُڑیا بِک گئی اور اُس کی جیب میں چار سو روپیہ آگئے ۔اب ناریل کی گاڑی ایک بہانہ ہو گیا ،اصل دھندا ہیروئن ہو گیا ۔ایک خرید کے لے گیا تو اُس نے کئی کسٹمر کو بتا دیا کہ مال اُس ناریل کی گاڑی پہ ملے گا ۔اب روز جبّار کی جیب میں ہزار روپیہ آنے لگے ۔اُس نے ماں کو خط لکھا کہ وہ اینٹ خریدے،بالو خریدے ،سیمنٹ خریدے اور کِسی راج مِستری کو بُلا کر مکان بنانا شروع کر دے ۔ایک طرف سے سارا گھر توڑنا شروع کر دے اور اُسے پکّا بنانا شروع کر دے ۔وہی آدمی جو اُس کو پُڑیا سپلائی کرتا تھا اُس کا پیسہ منی آڈر کے ذریعہ اُس کی ماں کو بھیجنے لگا ۔چوری کے پیسہ میں ایمان داری بہت ہوتی ہے ۔جبّار رات کے وقت سوتے ہوئے خدیجہ کو ایک بار ضرور یاد کرتا ۔اُس نے سوچا واقعی یہ شہر ممبئی کِسی کِسی کو آسمان تک اُٹھا دیتا ہے۔
اُدھر مقامی پولیس پریشان تھی کہ علاقہ میں ہیروئن کے استعمال کرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی تھی ،جس کو دیکھو نالے کے کنارے بیٹھ کر سگریٹ کی پنی پہ ہیروئن رکھتا ،اُس کے نیچے ماچس کی تیلی سے آگ لگاتا پھر اُس کے دھوئیں کو زور سے ناک کے راستہ کھینچ لینا۔ تھوڑی دیر کے بعد اُسے اتنا نشہ ہوتا کہ وہ پورا دِن اُسی نالے کے کنارے بے سُدھ پڑا رہتا۔اِن نشٹریوں کی سب سے پیاری جگی تھی ریلوے یارڈ۔ پولس کے خبریوں نے جب اِس ناریل والے جبّار کی خبر دی تو پھر انہوں نے مَن بنا لیا کہ اُسے رنگے ہاتھوں پکڑا جائے ۔ویسے جبّار کو یہ کام کرتے ہوئے پتہ چل گیا تھا کہ اگر وہ پکڑا گیا تو پچاس ہزار جُرمانہ اور عمر قید کی سزا ہے لیکن اُس نے سوچا کہ پیسہ کمانے کے لیے کچھ تو رِسک لینا پڑے گا اور وہ یہ کام کرتا ہی رہا۔
ایک دِن پولیس سادے کپڑوں میں آئی ۔سڑک پہ دور کہیں اُن کی جیپ کھڑی تھی ۔دو پولیس سپاہیوں نے اُس سے پُڑیا خریدا اور ناریل کا ٹھیلہ پلٹ کے دھر دبوچا لیکن وہ پوری طاقت لگا کے اُن کی گرفت سے چھوٹ گیااور بھاگ کھڑا ہوا ۔شام کا وقت سڑک لوگوں سے بھری ہوئی ،وہ لوگوں کی بھیڑ میں بھاگتا رہا ،پولیس اُس کے پیچھے بھاگتی رہی ۔پولیس نے اپنی جیپ کو سڑک پہ دوڑایا لیکن ٹریفک کی اتنی بھیڑ تھی کہ جیپ تھوڑی دور چل کے رُک گئی ۔انسپکٹر نیچے اُتر کے دوڑنے لگا ،وہ بار بار چلّاتا’’ رُک جائو‘‘،اپنی وہسل بجاتا ،دو سپاہی پہلے سے اُس کے پیچھے دوڑ رہے تھے ۔اب یہ بھاگ دوڑ جوہو کی آبادی میں آگئی ،انسپکٹر اُس کے بہت قریب آگیا اور چلّایا ’’رُک جائو ورنہ گولی مار دونگا ‘‘ وہ ویسے ہی بھاگتا رہا ۔انسپکٹر نے اپنا ریوالور نکالا ،چاہا کہ اُس کے کمر پہ گولی ماردے ،اُس نے فائر کیا گولی اُس کے پیٹھ کو چیر کر باہر نکل گئی ۔تھوڑی دیر تڑپنے کے بعد جبّار مردہ ہوگیا ۔لاش کو بڑی مشکل سے اُس کے لواحقین کو تلاش کرنے کے بعد اُس کھولی کے ڈرائیوروں کے سُپرد کردیا گیا جو اُس کے گائوں کے تھے۔
تقریبًا پندرہ دِن کے بعد جب اُن کے گائوں کا آدمی اپنے گھر گیا ،جبّار کا ٹین کا باکس بھی لیتا گیا تاکہ اُس کی ماں زبیدہ کو دیا جاسکے۔ وہ باکس جب زبیدہ کے گھر پہنچا تو سوائے خدیجہ کے کِسی کی بھی ہمت نہیں پڑی کہ وہ کھولے ۔زبیدہ کا روتے روتے بُرا حال تھا ۔جب گھر سے عورتوں کی بھیڑ کم ہوئی تو خدیجہ نے اُس باکس کا تالا توڑا ۔باکس میں اُس کے کپڑے تھے ،چار شرٹ،چار پینٹ،ایک ٹاول ،ایک ٹوتھ پیسٹ اور ایک برش ۔ایک سفید کپڑے میں لپٹی ہوئی ایک چھوٹی سی ڈبّی ملی ۔جب خدیجہ نے اُس کو کھولا تو ایک چمچماتی سونے کی انگوٹھی تھی جِس پہ انگریزی کا ایک بڑا حرف لکھا تھا K اور ایک چھوٹا لال سا دِل بنا ہوا تھا ۔اُسے ہاتھ میں لیتے ہوئے خدیجہ چاروں خانے چت گر گئی اور رونے لگی ۔سونے کی انگوٹھی زمین پہ پڑی تھی اور وہ مرے سانپ کی طرح زمین پہ تڑپ رہی تھی۔
——
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں

کمنٹ کریں