گورکھپور میں پریم چند کے مہ و سال

ڈاکٹر کہکشاں عرفان

, گورکھپور میں پریم چند کے مہ و سال

گورکھپور موجودہ وقت میں ہندوستانی جمہوری حکومت اور سیاسی افق پر رخشندہ وتابندہ شہر ہے۔ پہلے یہ شہر ادبی نقطۂ نظر سے اہم تھا کیونکہ ہندوستانی عناصر، اور گنگا جمنی تہذیب کے عکاس مشہور و معروف شاعر رگھوپتی سہائے گورکھپوری کی جائے پیدائش یہی شہر ہے۔ مجنوں گورکھپوری کی شاعری، افسانہ نگاری اور تنقیدی صلاحیتوں کا امین بھی یہی شہر ہے۔ ظفر گورکھپوری کی مشترکہ تہذیب کی شعری روایتوں تشبیہ و استعاروں، معاشرت و معاشیت اور انسانی درد اسی شہر کا مرہون منت ہے کیونکہ یہ ظفر گورکھپوری کا بھی شہر ہے اور دوچار قدم آگے بڑھیں تو محمود الٰہی صاحب کا بھی یہی شہر ہے یہ تمام نام تعارف کے محتاج نہیں، اردو ادب کا ہر قاری ان کی شخصیت ان کی فکر و خیال اور عمل سے واقف ہے۔ پروفیسر افغان اللہ خان صاحب اسی شہر کی مٹی سے پیدا ہوئے تھے اور پنڈت دین دیال اپادھیائے یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں بحیثیت پروفیسر آف اردو اپنی ادبی خدمات انجام دیتے رہے۔ سیاسی سرزمین کا مشاہدہ کرتے ہیں ہم پاتے ہیں کہ موجودہ وقت کے وزیر اعلیٰ اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ کی عملی سرزمین بھی ہے وہ گورکھپور سے کئی بار ممبر آف پارلیامنٹ رہ چکے ہیں۔ ہندوستان اور بھوجپوری بولی کے مشہور ادا کار روی کشن کی بھی سیاسی سرزمین یہی شہر ہے۔

ہندوستانی آمد و رفت کی (Bone Marrow) ریڑھ کی ہڈی، روح رواں یعنی ریلوے سسٹم کے سات Zones میں سے ایک اترپوربی Zone Northeast کا ہیڈ کوارٹر بھی، گورکھپور ہے۔ دہلی، کلکتہ، ممبئی، مدراس، پنجاب، گجرات، ہر سمت کو یہاں سے ٹرینیں جاتی ہیں۔

گورکھپور بنارس اور لکھنؤ دو بڑے شہروں کے وسط میں واقع ہے، ایک طرف ریشمی لباسوں کی صنعت گری کا بڑا شہر ہے تو دوسری طرف، ادب و سیاست تہذیب و ثقافت کا گہوارہ لکھنؤ شہر ہے ایک طرف صبح بنارس کی بادصبا کا تاثر ہے تو دوسری طرف شام اودھ کی جگمگاتی روشنیاں ہیں، ایک طرف پریم چند کا شہر ہے تو دوسری طرف ادب کی کہکشاں ہے، سیاست کی شاہراہ ہے۔ اترپردیش کا دارالخلافہ ہے۔ گورکھپور کے نزدیک بھی چوری چورا جی ہے جس کا تاریخی واقعہ ہمیں ہمیشہ آزادی کی قربانیوں، بے گناہ شہیدوں کی یاد دلاتا رہتا ہے۔ گورکھپور سے چل کر کانپور کو جانے والی چوری چورا ایکسپریس اپنے وجود کے ساتھ آزادی کی خونی تاریخ کو بھی لے کر چلتی ہے۔ یوں تو چوری چورا چمڑے کے کچے مال کا بازار ہے اور یہاں سے یہ کچا مال کانپور جاتا ہے اور چمڑے سے بنی اشیاء جوتے، جویتاں، بیگ، بریف کیس، بیلٹ وغیرہ میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

گورکھپور کا جغرافیائی شجرہ دیکھا جائے تو یہ ہندوستان کے اہم صوبہ اترپردیش کے اتر پورب میں واقع ہے اور ملک نیپال کے بازئوں کے ساتھ گورکھپور کے بازو ہم آہنگ ہیں۔ بنارس اور لکھنؤ کے وسط میں یہ شہر راپتی ندی کے کنارے بسا ہوا ہے۔ گورکھپور کی سرزمین تاریخی عمارتوں، وراثتوں اور اپنی گنگا جمنی تہذیب کے لیے آج بھی کشش کا مرکز ہے، یہاں کا مشہور گورکھ ناتھ مندر، وشنو مندر، گیتا واٹکا، گیتا پرس، چوری چورا شہید اسمارک یہاں کا گول گھر، یہاں کا امام باڑہ، آنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ گورکھپور بنارس، لکھنؤ، بستی، اعظم گڈھ، جونپور، غازیپور، مئو، بلیا یہ تمام علاقہ پروانچل کا علاقہ کہلاتا ہے، یہاں کی بولی اودھی اور بھوجپوری ہے، اور دونوں بولیوں کا حسین سنگم ہے، یہاں کے باشندوں میں ہندوستانی ثقافت اور گنگا جمنی تہذیب نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ ساڑی تو بنارس کی مشہور ہے جو ہندوستانی لباس کی نمائندگی کرتی ہے مگر بندیا گورکھپور کی مشہور ہے، گورکھپوری خواتین میں جس قدر بندیا لگانے کا چلن ہے پورے ہندوستان میں نہیں یہاں ہر مذہب وملت کی عورتیں ساڑی، بندی، اور سندور کا استعمال کرتی ہیں اور سندور اور بندیاں سہاگ کی اہم نشانیوں میں شامل ہیں، ایسی قومی یکجہتی اور تہذیب و ثقافت کی مثال پورے ہندوستان میں کہیں نہیں ملے گی۔

تحقیقی مطالعوں سے یہ بات سامنے آتی ہے، اردو اور ہندی دونوں زبانوں کے مشہور اور معروف ادیب منشی پریم چند کا بھی گورکھپور سے بہت گہرا رشتہ ہے۔ جس کے نام کے آگے گورکھپوری لکھا ہے وہ تو اعلانیہ طور پر اپنے ساتھ گورکھپور کی شناخت لیے پھرتے ہیں، مگر ہندوستانی تہذیب اور خالص ہندوستانی سماج کے نباض اور ہندوستانی معاشرے میں رہنے والے غریب، مزدور، کسان اور عام آدمیوں کو کہانیوں کا شاہکار کردار تخلیق کرنے والے افسانہ نگار کی پوری زندگی صرف قلم سے ہی نہیں عمل سے بھی اور ذاتی شخصیت سے بھی گنگا جمنی تہذیب کی عکاس ہے، نام دھنپت رائے شری واستو، مگر اردو میں کہانیاں وہ نواب رائے کے نام سے لکھتے رہے بعد میں اردو کے ساتھ ساتھ ہندی میں بھی ناول اور کہانیاں لکھنے لگے اور منشی پریم چند کے نام سے اردو ادب کے افق پر چھا گئے، اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں یکساں طور پر مقبول اور مشہورافسانے پوت کی رات، منتر، عیدگاہ، دوبیل، بڑے گھر کی بیٹی اور کفن جیسے شاہکار افسانوں اور کہانیوں کے تخلیق کار پریم چند کا آبائی وطن تو بنارس کا ایک چھوٹا سا گائوں لمہی ہے۔ آپ لمہی کے ایک کائستھ خاندان میں ۳۱؍جولائی ۸۸۰اء؁ میں پیدا ہوئے، پریم چند خود بھی ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے اس لیے ان کی کہانیوں کے کرداروں کی طرح وہ خود بھی ہمیشہ جہد مسلسل میں سرگرداں رہے، ان کی زندگی بڑی پریشانیوں سے گذری۔

پریم چند ایک سرکاری ٹیچر تھے، نوکری ان کو بستی میں ملی، پر بستی سے تبادلہ ہوکر وہ گورکھپور پہنچے اور کئی سالوں تک یہاں مقیم رہے اور گورکھپور سے ان کو ادبی شناخت بھی ملی، اور انھوں نے معلمی اور ادبی خدمات بھی انجام دیں اور اردو ادب کے افسانوی ادب کی تعمیر و تشکیل میں پریم چند نے جو شاہکار افسانے اور ناول تخلیق کیے ہیں اردو ادب کا کوئی دوسرا ادیب ابھی تک اس مقام اور مرتبہ کو نہیں پہنچ سکا، پریم چند نے اپنی کہانیوں کے ذریعہ اپنے کرداروں کی مشکلیں، حب الوطنی، انسان دوستی روایتوں کی پاسداری، بزرگوں کا ادب اور ان خوبیوں کے ساتھ ہی ساتھ معاشرے کے ان سیاہ رنگوں کو بھی اجاگر کیا ہے جسے Explatation اور بے حسی بھی کہتے ہیں۔ پریم چند نے معاشرے کی حقیقتوں کی واشن کی بے بسی، مزدوروں کی بے بسی، ماہو کاردوں کی سود خوری، کے باوجود انسان دوستی کا جو نصب العین پیش کیا ہے وہ روایت آج کے ادیبوں کی تخلیقات میں نظر آتا ہے۔ بلکہ پریم چند کے ان شاہکار کرداروں کو عصر حاضر کے ادیبوں نے ابھی نیا رخ نئی سمت اور نیا مقصد دے دیا ہے۔ سریندر پرکاش کے بجو کا کاہوری، اسلم جمشید پوری کے افسانے عیدگاہ سے واپسی، کا بوڑھا حامد پریم چند کے ہی کردار ہیں عیدگاہ کا بچہ حامد اور اعلیٰ حامد مین تبدیل ہوگا، کٹوداں کا سوری محو کا معین سوئنڈ ہرٹیڈ ہو ری بن گیا، بقول اکبر الٰہ آبادی: وقت کے ساتھ نئی تہذیب ہوگی اور نئے سامان ہم ہونگے ۔ مجھے یہ کہنے میں بڑی خوشی محسوس ہوتی ہے کہ پریم چند ہماری ہندوستانی تہذیب کے رہنما ہیں، ہر ملک اور زبان کے ادیب و مفکر ان کی خدمات کو سراہ رہے ہیں، آج کے ہندوستان میں پریم چند کو ایک قومی ادیب کی حیثیت حاصل ہے۔ اور موجودہ وقت میں گورکھپور کو بھی ایک امتیازی حیثیت حاصل ہے، اور تحقیق کی روشنی میں یہ بتانا چاہونگی کہ پریم چند کا گورکھپور سے بڑا گہرا رشتہ رہا ہے، پروفیسر قمر رئیس صاحب کا پی ایچ ڈی کا مقالہ، اردو ادب میں منشی پریم چند پر پہلا تحقیقی کام ہے۔ اور اس کتاب کو ۱۹۴۰ میں سب سے معیاری نثری تصنیف کا ایوارڈ مل چکا ہے، ’’پریم چند کا تنقیدی مطالعہ بہ بحیثیت ناول نگار‘‘ پروفیسر قمر رئیس صاحب اپنی کتاب ’’پریم چند کا تنقیدی مطالعہ بہ بحیثیت ناول نگار‘‘ کے صفحہ۴۵ پر لکھتے ہیں:۔

’’۱۹؍اگست ۱۹۱۶ء کو پریم چند کا تبادلہ بستی سے گورکھپور ہوگیا اور ہمیں اس روز جب وہ بستی سے گورکھپور پہنچے بڑے لڑکے دھنو (شریت رائے) کی ولادت ہوئی، کچھ عرصے بعد گورکھپور ہی میں ایک اور لڑکا پیدا ہوا جو گیارہ مہینے کا ہوکر چیچکک کی نذر ہوگیا‘‘۔

گورکھپور ہی وہ شہر ہے جہاں پریم چند اولاد کی ولادت کی خوشی بھی محسوس کی اور ایک بیٹے کی موت کا دکھ بھی کیا، گورکھپور میں آنے کے بعد ان کی معاش حالت میں بھی بہتری آئی، ان کی تنخواہ میں بھی اضافہ ہوا، اور انہوں نے یہیں رہ کر اپنے چھوٹے بھائی کی تعلیم کے اخراجات بھی اٹھائے اور اپنے بچوں کی ضروریات کا بھی بہتر سے بہتر خیال رکھا۔

قمر رئیس صاحب لکھتے ہیں:۔
’’گورکھپور آکر چند مہینے بھی نہ گذرے تھے کہ ان کی تنخواہ میں دس روپئے کا اضافہ ہوگیا یعنی بچاس کے بجائے ساٹھ روپے ملنے لگے، اور انہیں روپئے ہوسٹل کے نگراں ہونے کی حیثیت سے بطور الائونس۔ لیکن اس کے ساتھ اخراجات بھی بڑھے پچیس روپے ماہوار اب وہ اپنے سوتیلے بھائی و بھیجنے لگے جو لکھنؤ میں زیر تعلیم تھا، باقی پچیس روپوں میں گھر کے دوسرے مصارف چلتے تھے،

معاش اور گھریلو زندگی کی خوشحالی کے ساتھ ساتھ گورکھپور کے زمانۂ قیام میں پریم چند کو ادبی عروج بھی حاصل ہوا ان کی کہانیوں کے دونئے مجموعے پریم پچیس اول اور دوم بھی شائع ہوئی۔ گورکھپور میں رہتے ہوئے پریم چند نے اپنا مشہور اور بلند پایہ ناول ’’بازارِ حسن‘‘ بھی تخلیق کیا جو جون ۱۹۱۹ء میں کلکتہ سے ہندی میں شائع ہوا، اور پریم نے ایک اور صحیح ناول سگھوشۂ بھی اسی شہر میں پایہ تکم یل کو پہنچایا جو جنوری ۱۹۲۱ء ہندی زبان میں شائع ہوا اور اسی ناول نے پریم چند کو شہرت کے بامِ عروج پر بٹھا دیا۔

قمر رئیس صاحب لکھتے ہیں:۔
’’گورکھپور کا زمانہ قیام پریم چند کی تصنیفی زندگی کے لیے بہت سازگار ہوا اور ان کی ادبی شہرت نے ملک گیر حیثیت اختیار کرلی۔ ان کی کہانیوں کے دو نئے مجموعے پریم پچیس حصۂ اول ۱۹۱۴ء میں اور حصۂ دوم ۱۹۱۸ء میں اور شائع ہوئے۔ جنور ۱۹۱۷ء سے جنوری ۱۹۱۸ء تک ایک سال کی مدت میں انہوں نے اپنا بلند پایہ ناول ’’بازارِ حسن‘‘ مکمل کیا جو جون ۱۹۱۹ء میں کلکتہ سے ہندی میں شائع ہوا، اس کے بعد میں ۲؍مئی ۱۹۱۲ء سے ۱۳فروری ۱۹۲۰ء تک مسلسل محنت اور لگن کے ساتھ انہوں نے اپنا دوسرا صحیح نول ’’گوشۂ عافیت‘‘ مکمل کیا، جو جنوری ۱۹۲۱ء میں ہندی زبان میں شائع ہوا اور جس کی مقبولیت نے انہیں شہرت و ناموری کا تاج پہنایا‘‘۔ صفحہ۴۷

پریم چند کی پوری زندگی پریشانیوں کے تپتے صحرا میں محنت و مشقت اور جد و جہد کی چکی پیستے گذر گئی۔ پریم چند اپنے عہد کی نمائندگی کرنے والے وہ عظیم فنکار ہیں جنہیں بین الاقوامی سطحپر دیکھا جائے تو وہ گورکی کا عکس نظر آتے ہیں، انہوں نے معاشرتی اصلاح کے مسائل کو اپنی تخلیقات کا مقصد بنایا، کہیں طبقاتی کشمکش کے تناظر می ںپیش کیا تو کبھی لسانیت کی کمزور شخصیت کو اپنے ناولوں کا مرکری کردار بنایا وہ عورت جسے نہ گھر میں نہ سماج میں نہ ملک میں نہ ادب میں کہیں بھی مرکزی تو کیا ثانوی حیثیت بھی حاصل نہیں تھی، پریم چند نے اپنے افسانوں اور ناولوں میں عورت کی حالت زار کو اس کے درد کو اس کی بے گھر کا اور دربدری اور جہد مسلسل کو بھی بڑے فن کا راناز انداز میں پیش کیا ہے، کفن کی بُدھیا کا درد گودان کی دھنیا کا جہد مسلسل بازارِ حسن کی سمن کی بے گھری، دربدری اور بے کسی و لاجاری کا مطالعہ کریں تو ایسا معلوم ہوتا ہے پریم چند اپنے معاشرے کے نباض تھے، جب کہانیاں اور کردار وہ تخلیق کر گئے وہ کہانیاں آج بھی موجود ہیں وہ کردار آج بھی زندہ ہیں، بیسویں صدی کے تقریباً نصف حصے کی عوامی جدوجہد پریم چند کے ادب میں اپنی تمام صداقتوں کے ساتھ موجود ہے۔ پریم چند ایک وسیع التجربہ مصنف تھے جو معاشرے اور مذہب دونوں حقیقتوں سے پوری طرح آگاہ تھے کہ پسماندہ طبقات کی زبوں حالی کے لیے وہ معاشرتی نظام ذمہ داریہ جو ناانصافی اور نفاق کو فروغ دیتا ہے، بہ حیثیت استاذ اپنے طالب علموں کو ایک شفیق اور محترم شخصیت تھے۔

گورکھپور میں جب پریم چند کا قیام تھا اور وہ اپنے استاد کے فرائض انجام دیتے ہوئے طالب علمی کا بھی حق ادا کر رہے تھے، ادبی ذوق اور تخلیقی عمل کے ساتھ وہ تعلیم میں مکمل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اور کتابوں کے مطالعے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ گورکھپور کے دوران قیام ہی پریم چند مء ۱۹۱۹ء میں انتالیس برس کی عمر میں گریجویشن کا امتحان پاس کیا تھا۔

پریم چند ایک حساس فطرت کے انسان تھے اور ایک سنجیدہ تخلیق کار تھے، وہ دور تحریک جنگ آزادی کا دور تھا، ۱۹۱۹ء کا جلیانوالہ باغ کا قتلِ عام ہر دل و ذہن کو لرزا چکا تھا، پریم چند کا دل بھی اپنی قوم اور وطن کی محبت سے مرتا رہتا اور غلامی کی ذلتوں سے برہم و بیزار تھا۔

پروفیسر قمر رئیس لکھتے ہیں:۔
’’(پریم چند) اپنے آپ کو اس مقدس جد و جہد سے کسی طرح دور رکھ سکتے تھے؟ اس زمانے میں مہاتما گاندھی سارے ملک کا دورہ کرتے ہوئے گورکھپور آئے، تقریباً دو لاکھ عقیدت مندوں کا مجمع بند ان کی تقریر سننے اور دیکھنے کے لیے جمع ہوگیا۔ علالت کے باوجود پریم چند بی اس جلسے میں شریک ہوئے، تقریر سنی اور اس سے اس درجہ متاثر ہوئے کہ چند روز بعد ۱۶فروری ۱۹۲۱ء کو مستقل سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا‘‘۔ پریم چند بحیثیت ناول نگار صفحہ۴۸

خود پریم چند نے اپنے دل اور روح پر مہاتما گاندھی کے اثرات کا ذکر کچھ اس طرح کیا:۔
’’مہاتما جی کی درشنوں کی یہ برکت تھی کہ میرے ایسے مردہ دل آدمی کے دل میں بھی جان آگئی اس کے دو ہی چار دن کے بعد میں نے اپنی بیس سال کی سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا‘‘۔

حوالہ زمانہ پریم چند صفحہ۱۲
بحوالہ پریم چند بحیثیت ناول نگار صفحہ ۴۹1
********
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں

کمنٹ کریں