گرین زون فلاسفی

مضمون نگار : زہرہ نقوی

گرین زون فلاسفی

جب میں نے پہلی بار گرین زون فلاسفی کے بارے میں سنا تو یہ کوئی لگ بھگ 2004 کی بات ہو گی – اور بات یوں ہوئی تھی کے ایک شاعر دوست کی چار سال کی بچی نے کہا ابا بھائی نے میری گڑیا توڑ دی ہے اس لئے میں ریڈ زون میں ہوں ابھی میں بات نہیں کرسکتی – تھوڑی دیر میں بچی نے پھر باپ سے آکر کہا کہ اگر آپ مجھ کو نئی گڑیا دلا نے کا وعدہ کریں تو میں پھر گرین زون میں آجاؤں گیں – شاعر دوست کا خیال تھا کہ یہ ا تنی آسان فلاسفی ہے کہ گھر میں چند لمحات کی گفتگو کے نتیجے میں ان کی بچی اس کو اپنانے میں کامیاب ہو گئی –


پھر بات ہوئی کہ سہیل صاحب کے ایک اور دوست کی جنہوں نے اپنے آفس میں اپنے کیبن پر تین مختلف رنگ کے جھنڈے لگا کرگرین زون فلاسفی کو استعمال کیا تاکہ وہ اپنی جذباتی کیفیات کا اظہار اپنے کولیگس کے لئے کریں اور لوگ ان کی جذباتی کیفیت سے آگاہ رہیں اور اآپس میں گفتگو میں آسانی رہے –


پھرseven steps towards greenzone living آئی – سہیل صاحب کی ہر کتاب کی طرح میری اس کتاب کے لئےبھی وہی خواہش تھی کہ کاش یہ اردو میں ہوتی – اردو پڑھنے والوں کو اس کی زیادہ ضرورت ہے کیونکہ انگلش میں تو شاید اوربہت کچھ میسر ہو – حالانکہ میں غلط ثابت ہوئی وہ اس طرح سے کہ ہاں انگریزی میں ذہنی صحت پر بہت کچھ میسر ہے مگر ان آسان الفاظ میں نہیں جس میں یہ کتاب بات چیت کرپاتی ہے –
اور پھر وہ دن آگیا جب ثمراشتیاق نے اس گرین زون ورک بک کا ترجمہ اردو میں کیا اور خالد سہیل صاحب نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی گرین زون گروپ تھیرپی کو اپنی کلینک سے نکال کر zoom میٹنگ پر لے آئیں گے اور وہ بھی اردو میں –


گرین زون گروپ تھیریپی کا زوم پر تجربہ تواقعات سے کہیں زیادہ دلچسپ اور کامیاب ثابت ہوا – مجھ کو اس لیے فخر محسوس ہوتا ہے کہ میں اس پائلٹ پراجیکٹ کا حصہ رہی کہ مجھ کو اس میں مشاہدے اور اپنے اوپر اطلاق دونوں کا تجربہ ایک ساتھ حاصل ہوا-


گرین زون فلاسفی نفسیات کے ایک انتہائی بینادی اصول سیلف اویرنس یعنی خود شناسی پر استوار ہے اس پر عمل کرنے سے آپ کو سیلف اویرنس یا خود شناسی کی ہماری زندگیوں میں کمیابی اور اس کی اہمیت کا احساس ہوتا جاتا ہے – جوں جوں آ پ اس پر عمل کرتے ہے آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ اپنے سے کتنے کم آگاہ تھے اور اس آگاہی سےآپ کو کیا کیا فوائد حاصل ہوسکتے ہے –


یہ خود شناسی کا عمل دو حصوں میں ہوتا ہے یا اس سیلف اویرنس کے دو بنیادی حصے ہیں – پہلا حصہ لمحہ بہ لمحہ آگاہی – جیسے ابھی ہم کیا محسوس کررہے ہیں یا ہم اس وقت جذبات کے کون سے زون میں ہیں – گرین یلو یا ریڈ – یہ آگاہی شروع میں آپ کو تھکاوٹ کا احساس بھی دلا سکتی ہے –


دوسری آگہی آپ کی آپ کے ماضی کے تجربات کی آگاہی ہے جو کہ یا تو فلیش بیکس کی شکل میں وقتا فوقتا اپنی شکل دکھاتی رہتی ہے – یا پھر اس کو آپ نے کسی برےخواب کی طرح بھلا دیا ہوتا ہے مگر چونکہ وہ کوئی خواب نہیں حقیقت تھی تو وہ آپ کی نفسیات پر اثر انداز ہورہی ہوتی ہے – یہ آگاہی آپ کو وقتی طور پر اور افسردہ کر سکتی ہے –


مگر یہ تھکاوٹ اور افسردگی وقتی طور پر ہوتی ہے – جیسے اگر آپ نےآج ورزش کی تو کل آپ کے پٹھوں میں کافی تکلیف ہوگی – مگر وہ تکلیف آپ کے جسم کو اصل میں صحت مندی کی طرف لے جا رہی ہو گی اور جلد ہی دور ہوجاۓ گی –
گرین زون ورک بک آپ کو کچھ ایسے ٹولز مہیا کرتی ہے جن کو استمعال کرکے آپ اپنے بارے میں اپنی آگاہی کو بڑھا سکتےہیں – جیسے گرین زون ڈائری لکھنے سے آپ اپنے آپ کو اور اپنے حالات کو تھوڑا باہر سے دیکھنے کے قابل ہوجاتے ہیں – جب آپ اپنے آپ کو باہر سے دیکھتے ہے تو اس میں وقوع پریر ہونے والی تبدیلیاں اور ان تبدیلیوں کی وجوہات بھی دیکھ پاتے ہیں – جس سے آپ میں آہستہ آہستہ یہ صلاحیت پیدا ہونے لگتی ہے کہ آپ اپنی مرضی سے اپنے اندر اور اپنے حالات میں تبدیلیاں پیدا کرسکیں –


جب آپ اپنے آپ کو ‘ اپنے آپ سے اپنے رشتے کو اور پھر اپنے ماضی اور حال کو بہتر طریقے سے دیکھنے کے قابل ہوتے ہیں تو آپ اپنی زندگی میں اپنے دوسرے رشتوں کو غور سے دیکھنا شروع کرتے ہیں – آپ کے قریبی رشتے کون کون سے ہیں ان رشتوں کی جذباتی نوعیت کیا ہے – اور پھر آہستہ آہستہ آپ کو اس بات کا بات اندازہ ہونے لگتا ہے کہ ان رشتوں میں کیا چیز ہے جو آپ کو گرین زون مہیا کرتی ہے کیا آپ کو یلو زون میں لے جاتی ہے اور کیا آپ کو ایک دم سے ریڈ زون میں پھینک دیتی ہے – اور پھر آپ کے رشتوں کا مستقبل بھی تبدیل ہونے لگتا ہے – چاہے وہ اپنے سے ہو یا دوسروں سے –


ان رشتوں کو استوار کرنے کے لیے گرین زون تھیرپی آپ کو خط لکھنے کا مشورہ دیتی ہے – خطوط سے آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کا لاشعور آپ کے رشتے کے بارے میں کیا محسوس کررہا ہے – اگر جذبات ریڈ زون میں ہیں تو کیوں ہیں – ان ریڈ زون رشتوں کو resolve کرنا ہے desolve کرنا ہے یا کسی غیر جانبدار فرد کو بیچ میں ڈال کر حل کرنا ہے – جذباتی برساتی کیونکر کام کرپاتی ہے اور اس کا سہارا کب اور کیسے لینا ہے –


گرین زون تھراپی کا ایک اہم حصہ ان نظاموں کا مشاہدہ کرنا ہے جس کا کوئی بھی فرد حصہ ہوتا ہے – جیسے کہ خاندانی نظام ‘ سماجی نظام اور معاشی نظام – کیونکہ نظام فرد سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتے ہیں تو ان میں فرد کی حیثیت اہمیت اور عزت و احترام کا مشاہدہ کرنا – اور فرد میں وہ جذباتی صلاحیتیں پیدا کرنا جس سے وہ ان نظاموں میں رہتے ہوئے اپنے لیے بہتر اور زیادہ مواقع پیدا کرسکے – تاکہ ان نظاموں میں کم سے کم پھنسا ہوا محسوس کرے-


گرین زون فلاسفی سے آپ اپنی مدد خود کرتے ہوئے اپنے لیے ایک پرسکون زندگی تعمیر کرسکتے ہیں کیوں کہ آخر تک آپ کو اس بات کا احساس ہوجاتا ہے کہ آپ کو کیا پسند ہے اور کیا نا پسند – کیا آپ اپنے کو خوش کرنے کے لیے کر رہے ہیں کیا دوسروں کو خوش کرنے کے لیے – کون سی چیزیں ہیں جو آپ کے لیے کام کررہی ہیں اور کون سی ہیں جو کہ کام نہیں کر پارہیں – اس طرح آپ لاشعور سے شعور کا سفر طےکرتے ہوئے اپنی زندگی کو گرین زون گھنٹے سے شروع کرکے گرین زون لائف سٹائل تک پہنچا سکتےہیں –


آپ کے لئے گرین زون ورک بک اردو انگریزی اور مستقبل قریب میں کئی اور زبانوں میں دستیاب ہے اس کو استمعال کرنے کی کوشش کریں اگر کوئی سوال ہو تو گرین زون ٹیم سے رابطہ کریں ہم کو خوشی ہو گی اگر آپ کا گرین زون لائف سٹائل کی طرف سفر سہل اور کامیاب رہے –

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں