گڑیا کی شادی 2020ء

رابعہ الربا/ rabia al raba
رابعہ الربا/ rabia al raba

مضمون نگار : رابعہ الرباء

دو ہزار بیس کا آغاز ہوا۔ دھند آلود فضاؤں میں آتش بازی کی آوازیں بتا رہیں تھیں کہ نئے سال کا پرانا آغاز ہو گیا ہے۔ تمام دنیا ”کرونا، نامی وبائی مرض کی لپٹ میں تھی، مگر گڑیا پاکستانی تھی، جاپانی نہیں۔ وہ اپنے واش روم میں دو واشنگ مشین لگائے کپڑے دھو رہی تھی۔ اس کو یقین ہو گیا، لو جی، سال کا آغاز کپڑے دھو نے سے ہو رہا ہے، تو اب سارا سال، وہ کپڑے دھوتی رہے گی۔ وہ مسکرائی۔“ چلو دیکھتے ہیں ”۔

”تم سے ملنے کی تمنا ہے، پیار کا ارادہ ہے“ ۔ اف یہ وہ پہلا میسج تھا، جو اس نے اس سال کے آغاز میں پڑھا۔ ساتھ لکھا تھا، ”نیا سال مبارک“ ۔ اس کے بعد بہت سے پیار اور ارادوں والے سال مبارک ناچ رہے تھے۔ وہ کوفی کا مگ لئے یہ سرد اور بے کار ارمان پڑھتی رہی۔ آخر میں ”آہ بز دلو“ ۔ کہہ کر سو گئی۔

صبح ہوتے ہی، اسے اس کی ایک کزن کا فون آیا۔ ”باجی باجی میری کمر میں بہت درد ہے، بس دعا کر نا“ ۔ وہ حیران ہوئی، کمر درد کا، دعا سے کیا تعلق ہے۔ اس کا تعلق تو ڈاکٹر سے ہو گا۔ لہذا اس نے اسے ڈاکٹر کے پاس جانے کا مشورہ دیا۔ لیکن محترمہ نے صاف کہہ دیا کہ بھئی ان کے میاں کو ڈاکٹر کے پاس جانے سے نفرت ہے۔ بس فرشتے دکھائی دے رہے ہیں۔ خیر اب یہ اس کا ذاتی مسئلہ تھا۔ گڑیا کسی کی ذات میں تب تک دخل نہیں دیتی تھی، جب تک کہ کوئی اس کی ذات کی دہلیز پار نہیں کر تا تھا۔

شام ہوئی، تو اس کی سہیلی مہیلی کا فون آ گیا، ”یار تو ایسا کر میرے شوہر سے شادی کر لے“ ۔
”دماغ خراب ہو گیا ہے تیرا! میرا ابھی نہیں ہوا“ ۔

پھر کوئی دوست پیغام بھیجتی، ”ارے یار شادی شادی ہوتی ہے اصلی وہ یا نقلی۔ مجھے گمان پہ غصہ ہے، لے بھلا شادی ہی کرنی تھی تو تیرے سے کر لیتا۔ اب ایک شاعر گھریلو عورت کے ساتھ کیسے رہے گا“ ؟

”گمان؟ اوئے بات سن، بات یہ ہے کہ گمان مجھ سے شادی کرنے کو کہتا بھی تو میں نہ کرتی۔ سر سے پاؤں تک بو کے انبار، سر پہ ہمیشہ ایک میلی ٹوپی۔ اور میرے سامنے آتے ہی اس کا سانس پھول جاتا ہے۔ ایسا مرد میں نہیں رکھ سکتی سوری۔ اور ویسے بھی شاعر ہے، ہلکی سے لائن مار چکا ہے۔ میں اس کی پٹڑیاں ٹھیک نہیں کر سکتی۔ معافی دو یار۔ دوست بنو۔ کم از کم اس کی دوست بنتی ہو تو میری بھی بن جاؤ“ ۔

جنوری اپنی دہلیز پار کرتی ہے، تو کمر درد والی کا فون آ تا ہے۔ ”باجی میرے بچے آپ کے ساتھ اٹیچ ہیں۔ ان کو کوئی اور نہیں پال سکتا۔ مجھے اب جینے کی کوئی امید دکھائی نہیں دیتی۔ پیٹ خالی نہیں ہے۔ ہم نے کچھ کیا بھی نہیں۔ مگر ڈاکٹر۔ ۔ ۔“

”کیا؟ کیا کہہ رہی ہو؟ اب ایک اور بچہ“ ؟

”ہاں بس اللہ کی مرضی، بس وہ آپ کو پہلے بھی یہی بتانے کی کوشش کی تھی مگر آپ سمجھیں نہیں۔ شادی شدہ نہیں ہیں ناں۔ تجربہ تجربہ ہی ہو تا ہے۔ اگر میں مر گئی تو میرے بچوں کی ماں بن جانا۔ شاید ابھی تک آپ کی شادی اسی لئے نہیں ہوئی۔ اور اگر ہو بھی جائے تو اب اولاد تو پیدا نہیں ہو گی ناں۔ اس کی ایک عمر ہوتی ہے۔ باجی میرے بچے تم سے بہت پیار کرتے ہیں“ ۔

”کیا؟ ارے یار۔ یہ سب کیا ترکی کے ڈراموں کا اثر ہو گیا ہے؟ یا یہ نئے پاکستانی ڈرامے میں احترام کے رشتوں سے عشق کی کہانی۔ توبہ“ ۔

گڑیا کے کانوں میں اس کی آواز گونج رہی تھی۔ وہ من ہی من میں مسکرائی۔ ”ارے الو، کہیں کی تو مرنے والی نہیں ہے۔ اگر تم نے مرنا ہو تا ناں، اب تک تمہاری پھوپھی کوئی قبرستانی خواب نہ صرف دیکھ چکی ہوتی، بلکہ پورے خاندان کو فون کر کے بتا بھی چکی ہوتی کہ ارے فلاں مرنے والا ہے۔ نئے جوڑے بنا لو“ ۔

محبت کا مہینا چل رہا تھا۔ کبھی بہار اور کبھی برف کی ہوائیں گڑیا کو گنگنانے پہ مجبور کرتیں تھیں۔ وہ ان کے سنگ چل پڑتی تھی۔

”ارے یار دیکھ یہ اس لڑکے کا فیس بک لنک ہے۔ اس کی پہلی بیوی سے سیپریشن ہو چکی ہے۔ اور اب وہ کوئی جیون ساتھی چاہتا ہے۔ اسے تنہائی کا احساس ستانے لگا ہے۔ اس کے بچے ہیں مگر پہلی بیوی کے پاس ہیں۔ میرا بہت اچھا دوست ہے۔ میں نے سوچا تیری شادی اس سے کروا دوں۔ یوں تیرے شہر میں میرا گھر بھی ہو جائے گا۔ بس اس کی ایک ہی خواہش ہے۔ بیوی بولتی نہ ہو۔ پہلی بیوی کو بھی اس نے اسی لئے چھوڑا ہے کہ وہ بہت زبان دراز تھی۔ تو تو گھر والوں کے سامنے نہیں بولتی۔ تجھ سے اچھی لڑکی اسے مل نہیں سکتی۔“

”یار میری بات سن۔ عورت کو زبان لگاتا کون ہے؟ مرد اور حالات۔ اس کو جے ماتا چاہیے۔ کوئی عورت نہیں۔ ویسے بھی مرد اگر جوانی میں طلاق دیتے ہوئے سوچ لے کہ بڑھاپے کی تنہائی، کی طاقت جوانی سے بہت زیادہ ہوتی ہے، تو وہ کبھی طلاق نہ دے۔ یاد رکھنا اب اس کی تنہائی کوئی دور نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ یہ تنہائی نہیں گلٹ ہے۔ اس کا چہرہ تو پڑھو۔ لہذا مجھے سمجھ نہیں آتا۔ میری طرف سے نہ ہی سمجھو“ ۔

سارا مہینا خاک ہو گیا۔ یہ کمینی سی سہیلیاں یہ کیوں نہیں سمجھتیں کہ ظالمو جو بندہ تم کو لڑکی تلاش کرنے والی ماسی بنا رہا ہو تا ہے۔ اصل میں وہ تم کو پرپوز کر رہا ہو تا ہے۔ خود تم اس کی گائے بننا نہیں چاہتیں اور دوسرے کو فارم ہاؤس کی چابی پکڑانے کی کوشش کر رہی ہوتی ہو۔ سہیلیے، تو طلاق یافتہ ہے۔ اس نے تجھے پرپوز کیا تھا۔ تو نے مرا ہوا، الٹا میرے حوالے، خلوص کی منافقت میں کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔ تو جان من میں نے اپنی تنہائی کا ساتھی تلاش کرنے کو کسی کو بھی نہیں کہا۔ بس جو یہ لڈو چکھ لیتے ہیں، وہ لڈو نا کھانے والے سے حسد کرنے لگتے ہیں۔ اور خود ان کو بھی اپنے اس احساس کی خبر نہیں ہوتی۔

ہائے ہائے۔ بہار بھی اب کے بار روتی ہوئی گزر رہی تھی کہ دنیا بھر میں میتوں کو قبولنے والی زمین بھی رو پڑی تھی۔ گڑیا کے دکھ اور خوشیاں الگ تھیں۔ نہ زمانہ اسے خوش ہو نے دے رہا تھا، نہ دکھی۔ وقت تھا کہ کبھی ٹھہر سا جاتا، کبھی صحرا کے طوفان کے مانند چلنے لگتا۔ شائیں شائیں کی آوازیں اس کے بہت اندر تک آ جا رہیں تھیں

”مجھے تمہارے ابا محروم خواب میں آئے ہیں۔ بہت دکھی تھے۔ بیٹا، کہہ رہے تھے۔ میری پیاری بہن مجھے معاف کر دینا کہ میرے بچے تم سے تو پیار کرتے ہیں، مگر میری چھوٹی بہن سے نفرت کرتے ہیں“ ۔

اس دکھ بھری داستان نے گڑیا کو چوکنا کر دیا۔ ”ہائے ابا محروم، اللہ آپ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ آپ نے زندگی میں ایسے سچ ہمیشہ چھپائے رکھے۔ اب لگتا ہے وہاں آپ کی صحبت بدل گئی ہے۔ مگر ابا جی ہم بھی آپ کی اولاد ہیں، دال میں کچھے کالا لگتا ہے۔ ذرا خواب میں آ کے بتائیے گا“ ۔

دن گزر رہے تھے، مہینے کٹ رہے تھے۔ سیاست بدل رہی تھی۔ انسان مر رہے تھے۔ سائنس کی ترقیاں ایک ویکسین بنانے میں کام یاب نہیں ہو رہیں تھیں۔ موت اپنے جوبن پہ تھی۔ سناٹا دھیرے دھیرے انسان کو بے خوف کر رہا تھا۔

گڑیا بی سی سی پہ نشر ہو نے والی انگریزی نظملاک ڈاؤن“ بار بار سن رہی تھی، جیسے یہ اس کے دل کی آواز تھی۔ انسان اصل میں انسان سے دلی طور پہ دور ہو گیا تھا۔ اگر اب وہ ملتا رہتا تو کچھے بہت گڑبڑ ہو نے کا خدشہ تھا۔ اس لئے فطرت سے ایک وبا سے انہیں جدا کر دیا۔ انہیں اپنے گھروں تک محدود کر دیا تھا۔ کیوں کہ وہ دوسروں کے گھروں میں بہت مداخلت کرنے لگا تھا۔ اب اس کو روکنے کا رستہ یہی خوف تھا۔

”ہائے ہائے ہائے ہائے، باجی مبارک ہو۔ بس لڑکا مل گیا ہے۔ کسی نے آپ کی شادی نہیں کرنی۔ کریں بسم اللہ اور کر دیں، ہاں۔ میلاد پہ بات ہوئی ہے۔ بس اللہ کا کرم ہی سمجھیں۔ بس ہاں کریں اور امریکا جائیں۔ آپ یہاں کی لگتی بھی نہیں۔ پہلے بھی دو تین رشتے آپ کو بتا چکی ہوں۔ تائی امی نے انکار کر دیا۔ کیا تھا۔ دولت ہی دولت تھی، اس لڑکے کی۔ بس بیوی کوما میں تھی۔ دس مرلے کا گھر، جوتیوں کا ذاتی کاروبار۔ کھلا کھانا پینا، مگر مجال ہے جو تائی جی کو پسند آ یا ہو“ ۔

”دوسرے کا کیا تھا۔ بس عمر ہی تو ساٹھ سال تھی۔ پڑھا لکھا تھا۔ دبئی میں تھا۔ سب بڑے بہن بھائیوں کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے مر ہی جانا تھا۔ ڈیفنس والا گھر بھی آپ کے پاس ہی آنا تھا۔ ہائے اور وہ تیسرے والا کا۔ وہ تو ہر طرح سے ریٹائر تھا۔ سارا دن گھر پہ ہو تا۔ پینشن آتی رہتی اور آپ دونوں مزے کرتے رہتے۔ اب بس آپ ہاں کریں اور اپنے گھر والوں سے کہیں کے شادی تو میں ہر صورت یہی کروں گی۔ اس کی شرافت کی تو میں خود گارنٹی دیتی ہوں۔“

”ثمینہ باجی بیس سال سے جانتی ہیں۔ دو دو نوکریاں کرتا ہے، امریکا میں۔ چھے مہینے یہاں چھے وہاں۔ آٹھ مرلے کا اپنا گھر۔ بس بیوی بے وفا نکلی، چھوڑ کے چلی گئی۔ اور بچی بھی چھوڑ گئی۔ مگر اتنا شریف ہے کہ بیس سال سے جب یہاں ہو تا ہے۔ بس صبح باجی ثمینہ کے گھر آ جاتا ہے اور پھر رات کا کھانا کھا کے ہی جاتا ہے۔ اس کا تو شناختی کارڈ اور پاسپورٹ تک باجی کے پاس ہوتے ہیں۔ نہ پان نہ سیگرٹ نہ کوئی نشہ، نہ یار دوست۔ سوچیں کتنا شریف ہو گا۔ جس کا کوئی مرد دوست ہی نہیں ہے۔ سارا دن بس باجی ثمینہ کے گھر پہ رہتا ہے۔ اور پھر سب سے بڑی بات، بیٹی ہے اس کی۔ آپ اس کی شادی کر دینا۔ یوں اس کا گھر بھی آپ کے نام ہو جائے گا۔ بیٹیوں کو کون وراثت دیتا ہے۔ بیٹا ہو تا تو آپ کو بھی تکلیف ہوتی۔ وہ وراثت کے لئے سامنے کھڑا ہو جاتا“ ۔

”ویسے بھی جب بچیاں بڑی ہو نے لگیں ہیں مائیں ان کو سجا سنوار کے شادیوں اور لوگوں کے گھروں میں لے جاتی ہیں تا کہ ان کا رشتہ ہو جائے۔ آپ کی ماں اس بات پہ غصے ہو رہی تھی کہ میری بیٹی کی تصویر پہلے لڑکے والوں کو کیوں دکھائی۔ لڑکی تو پھر یو نہی پسند ہوتی ہے باجی۔ بھلا کبھی لڑکوں کی کی تصویریں بھی منگوائی جاتی ہیں۔ ہمیشہ پہلے لڑکی پسند کی جاتی ہے۔“

گڑیا کا دل چاہ رہا تھا اتنا اچھا ہے تو باجی ثمینہ یا یہ خود طلاق لے کر اسے شادی کیوں نہیں کر لیتیں۔ یا ان دونوں نے ایسے محلے کی باجیوں کے گھروں میں گزر بسر جانے والے لونڈوں سے شادی کیوں نہیں کیں۔ چھے مہینے کیا برف صاف کرنے جاتا ہے امریکا۔ وہ اپنے ساتھ جنگ میں خاموش تھی کہ مردہ ہی قبر کا احوال جانتا ہے۔ یا بندہ ہی عالم نزاع کا۔

”تم یوں کرو ناں اس کی تصویر منگوا لو۔ اور پوچھ لو۔ کتنا پڑھا ہے کیا کرتا ہے؟ کتنے بہن بھائی ہیں۔ وغیرہ۔ یا خود جا کر مل آؤ“ ۔

”خیر اب آپ اپنی عمر دیکھیں اور ڈیمانڈ دیکھیں۔ میرے والدین نے تو بھری جوانی میں بھی نہیں پو چھا تھا کہ بیٹا کتنا پڑھے ہو۔ بس انہوں نے یہ کہا تھا۔ کوئی پوچھے تو بتا دینا کہ بی اے ہوں۔ خیر مجھے تو باجی آج تک خود نہیں پتا کہ آپ کے ایم اے کے سوا کچھ ہو بھی کہ نہیں۔ باجی رشتوں میں جاب یا تعلیم نہیں پو چھی جاتی۔ اور اگر اب آپ نے ہاں ناں کی، تو میں بڑی تائی کو بتا دوں گی۔ آخر مجھے بھی اپنی خاندانی ساکھ رکھنی ہے۔ انہوں نے مجھے آپ کا رشتہ تلاش کرنے کو کہا تھا۔ ویسے بھی اب ہم سب کے بچے، آپ کے لیے نا محرم ہو چکے ہیں۔ جائیں اور اپنا گھر بسائیں۔“

گڑیا کے ضبط کے سب پیمانے ٹوٹ گئے۔ ایک تیز لہر نے سب بند توڑ دیے۔

”کیا کہو گی تم؟ اور تمہارا تعلق کیا ہے میری شادی سے؟ میں نے کیا کیا ہے؟ میرے پاس کیا ہے، جو تمغا لگا لوں، اس کا؟ رکھو اپنی ساکھ، مگر میرے بنا۔ میں کسی کی ذمہ داری نہیں ہوں۔ میں ایک باشعور اور با اختیار عورت ہوں۔ میرے ساتھ کھیل کر میچ نہ ہی جیتا جائے تو اچھا ہے۔ میں زیادہ بحث نہیں کرنا چاہتی۔ سمجھی تم؟!“

دوسری طرف آ واز مدھم پڑ گئی۔ اور گڑیا سمجھ گئی کہ اب وہ خاندانی سیاست کھیلے گی۔ مگر اسے اس بات کی پروا نہیں تھی۔ کیوں کہ وہ جانتی تھی، خالی برتن بجنے کے لئے ہوتے ہیں۔ اور دکھانے والوں کے دانت نہیں ہوا کرتے۔ گڑیا کی ایک الگ دنیا تھی۔ جس دنیا کے باسی اقلیت کہلاتے ہیں اور ان پہ پتھر ہی برسائے جاتے ہیں۔

دسمبر لمبی لمبی سانسیں لے رہا تھا۔ اس کا دم نہ تو نکل رہا تھا نہ نگل رہا تھا۔ دھند، بارشوں اور وائرس نے ایک بار پھر انسان کو اس کے آنگن کا باسی بنا دیا تھا۔

”یار میں نے سوچا ہے، علی سے بات بھی کر لی ہے۔ اب میرا دل کرتا ہے، تو علی سے ہی شادی کر۔ کیوں کہ نجمہ علی سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ علی نے انکار کر دیا۔ نجمہ نے مجھے ہی اسے بات کرنے کو کہا تھا۔ مگر علی نہیں مانا کہ وہ شادی شدہ عورت سے شادی نہیں کرنا چاہتا۔ اگر تو علی کی بیوی بن گئی ناں، وہ بہت جلے گی“ ۔

”اف۔ مجھے کسی کو جلانے کے لئے کسی سے شادی نہیں کرنی۔ علی سے تو بالکل نہیں کرنی۔ جو ملتا کسی اور سے ہے۔ سوشل میڈیا پہ باتیں آزادی کی کرتا ہے۔ اور اندر سے ایک عام ٹپیکل مشرقی مرد۔ جو کسی عورت سے مل جل کر خوشی بھرا وقت تو گزار سکتا۔ شادی نہیں کر سکتا۔ شادی کرنے کے لئے اسے وہ عورت چاہیے، جو اس کی محبوبہ نہیں ہو“ ۔

”وہ عورت سب سے خطرناک ہوتی ہے، جس کی شادی نہیں ہوتی۔ وہ میری بچیوں پہ تعویذ کروا رہی ہے کہ ان کی بھی شادی نہ ہو۔ وہ میری بیٹیوں کے حسن سے جلتی ہے۔ ان کی تعلیم سے جلتی ہے۔ کیوں کہ خود تو وہ غریبوں کی طرح سکالر شپ پہ پڑھی ہے۔ بھلے ملک کے بہترین تعلیمی ادارے سے پڑھی ہے۔ میری بیٹیوں کی تعلیم پہ لاکھوں روپیہ لگا ہے۔ وہ ان لاکھوں سے جلتی ہے۔ بابا جی نے مجھے سب کچھے بتا دیا ہے۔ بابا جی بہت پہنچی ہوئی چیز ہیں۔ نام ملے لے کر سب کچھے بتاتے ہیں“ ۔

آہ۔ آج دسمبر کی آخری رات ہے اور گڑیا کو اندازہ ہوا ہے کہ یہ سال بہت پہنچا ہوا سال تھا۔ جب وائرس ہار نہیں مانتا۔ ٹرمپ اپنی ہار کو ہار نہیں مانتا۔ اسد عمر یہ نہیں مانتا کہ معیشت تباہ و برباد ہو گئی ہے۔ عمران یہ نہیں مانتا کہ اسد عمر ڈاکٹر ہے۔ مریم یہ نہیں مانتی کہ ابا جی چور ہیں۔ سعودی عرب یہ نہیں مانتا۔ ترکی وہ نہیں مانتا۔ فرانس نے مان لیا ہے، اسرائیل نہیں مانتا۔ اور فلسطین بھی تو نہیں مانتا۔ مولوی، مفتی آئین نہیں مانتے۔ آئین، مولوی کی مان لیتا ہے۔

مگر بابا جی کہتے ہیں امید ہے اگلے سال گڑیا کی شادی کو دنیا کا سب سے بڑا، اور سب کا ذاتی مسئلہ نہیں سمجھا جائے گا۔ بلکہ کرونا، معیشت، الیکشن، اور ویکسین پہ توجہ دی جائے گی۔ ورنہ کرونا بڑا ڈراؤنا ہے۔

شیئر کریں
2 کمنٹ
  1. Avatar

    واہ کمال کی تحریر ہر پہرہ ایک سبق،

    Reply
  2. رابعہ الربا

    thanks

    Reply

کمنٹ کریں