گل بخشالوی کی نعت کا جائزہ

مضمون نگار : محمد سلیم سندھو

, گل بخشالوی کی نعت کا جائزہ

گل بخشالوی نے حمد، نعت، غزل اور نظم ہر صنف میں طبع آزمائی کی ہے اور ہر صنف سخن کے تقاضوں کو پوری طرح نبایا ہے۔ لیکن نعت ان کا خاص موضوع ہے۔ ۔ ان کا پہلا نعتیہ مجموعہ ” گلزارِ محمد “ ہے جو 2010ءمیں شائع ہوا۔ اس مجموعہ میں نعتوں کے علاوہ چند حمدیں بھی شامل ہیں۔اس مجموعہ کی خوبی یہ ہے کہ اس میں انہوں نے احمد فراز کی غزلوں کی بحور میں نعتیہ کلام لکھا ہے۔ زبانوں و بیاں کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو احمد فراز کا اسلوب اپنے ہم عصر شعراءمیں نمایاں اور منفرد نظر آتا ہے۔ احمد فراز نے بڑی خوبصورتی سے طویل ردیف کے استعمال کو عصری تقاجوں اور ادبی دھاروں سے طویل ردیف کے استعمال کو بھی عصری تقاضوں اور ادبی دھاروں سے ملا دیا ہے۔ گل بخشالوی ، احمد فراز کی شخصیت اور اس کے کلام کا شیدابھی ہے اور متاثر بھی۔ اس لئے اس نے اپنے پہلے نعتیہ مجموعے میں اس کی بحور کو صنف نعت کے لئے استعمال کیا ہے۔


احمد فراز
کروں نہ یاد مگر کس طرح بھلاؤں اسے ””” غزل بہانا کروں اور گنگناؤں اسے
وہ خار خار ہے شاخ گلاب کی مانند ””””” میں زخم زخم ہوں کیسے گلے لگاؤں اسے
گل بخشالوی
کہوں میں نعت نبی اور گنگناؤں اُسے ”””’ جو میرا دل ہے مدینہ، تو میں سجاؤں اُسے
جو میں نے دیکھا ہے منظر نبی ترے گھر کا ””””’ میری مجال ، یہ ممکن نہیں بھلاؤں اُسے


گل بخشالوی احمد فراز کے بارے میں لکھتے ہیں۔
مشاہیر کے مصرعوں پر غزل گوئی شعراءکی ایک مروج روایت ہے کہ یہ مشق سخن خود کو آزمانے کا ایک موثر انداز ہے۔ بعض شعراءمشہور غزلوں کی بحور میں نعت گوئی کو وسیلہ ء اظہار بناتے رہے ہیں۔ صنفِ نعت گوئی میں یہ تجربہ اس سے پہلے بھی ہمیں کئی شعرا کے ہاں ملتا ہے۔ اس کا مقصد فن نعت کو شعری رفعتوں سے آشنا کر کے اس فن کی آبیاری کرنا ہے۔ شمالی امریکہ میں امان اللہ خاں دل نے غالب کی غزلوں پر کامیاب نعتیں لکھیں اور انہیں ” شہ لولاک“ کے نام سے شائع کیا۔ ۔ گل صاحب نے ” شہ لولاک“ کی روش سے متاثر ہو کر اپنے پسندیدہ شاعر احمد فراز کی غزل پر نعتیں لکھیں اور اپنا مخصو ص اسلوب برقرار رکھا۔


رفیع الدین راز اس سلسلے میں رقمطراز ہیں۔” اس عہدکے بہت سے شاعروں کی طرح گل بخشالوی بھی احمد فراز سے بہت متاثر ہیں۔ احمد فراز کی غزلوں کو سامنے رکھ کر انہوں نے حمد و نعت کہی ہےں۔ ان کی اس کوشش میں ایسی انفرادیت ہے کہ اگر فراز آج زندہ ہوتے تو داد دئےے بغیر نہ رہتے اکثر شعرا ءنے اس سے پہلے غالب کی زمینوں میں نعتیں لکھ کر نعتیہ شاعری کو اعلیٰ نمونوں سے ہم کنار کرنے کی کوشش کی ہے
گل کا دوسرا نعتیہ مجموعہ ” حیات طیبہ“ جو 2011ءمیں اشاعت کے مراحل سے گزر کر منظر عام پر آیا۔اس میں منظوم سیرت النبی نہایت خوبصورت انداز میں پیش کی گئی ہے۔ یہ مجموعہ مثنوی کی ہیت میں لکھا گیاہے۔ ” حیات طیبہ“ کے ایک ایک لفظ سے خلوص ، وارفتگی، وجد اور عشق رسول ﷺظاہر ہوتا ہے۔ مثنوی کا اسلوب نہایت سادہ اور رواں ہے۔ مثنوی کے آغاز سے لیکر آخر تک بڑی آسان اور عام فہم زباں استعمال کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں بیان شدہ ہر بات اور واقعہ قاری کے دل میں اتر جاتا ہے۔حیات طیبہ کے بارے میں مامون ایمن لکھتے ہیں۔


” حیاتِ طیبہ ،، کی اشاعت پر گل مبارک باد کے مستحق ہیں۔ سیرت النبی پر نظم و نثر میں کامیاب کاوشیں پہلے سے موجودہیں لیکن گل صا حب کی کاوش پر اُن کے اپنے کردار کی چھاپ ہے۔ یہ کردار دین ، جذب، قرابت، انکساری، تمنا، دعا، احترام، نیت، دنیا و عقبیٰ کے حوالوں سے معمور ہے۔ اس کاوش میں دماغ تاریخی حالات و واقعات کا احاطہ کرتا ہے اور دل عشق رسول کا اعتراف کرتا ہے۔ اس اعتراف سے خود سپردگی ہے۔ یہی خود سپردگی اس کاوش کی اساس ہے


حیات طیبہ کا آغاز ” حمد رب جلیل“ سے کیا گیا ہے۔ اس کے بعد مختلف عنوانات کے تحت منظوم سیرت محمدی پیش کی گئی ہے۔ عنوانات کے انتخاب سے ہی شاعر کی بصیرت اور قوت مشاہدہ اور وسیع مطالعہ نظر آ جاتا ہے۔” حیاتِ طیبہ“ میں سیرت النبی کو درج ذیل عنوانات کے تحت پیش کیا گیا ہے۔محمد مصطفی کا حسن و جمال، ولادتِ مصطفی سے قبل، ولادتِ مصطفی ، تلاش حقیقت، دو میں ایک راستہ، پیغام نبو ت ، تبلیغ کا آغاز، معجزہ شق القمر، ہجرت حبشہ، شعبِ ابی طالب میں نظر بندی، عام الحزن، طائف میں دعوت حق، الوداع مکہ، ہجرت مکہ سے مدینہ، قبا میں تشریف آوری، تعمیر مسجد نبوی اور آغازِ نبوت، جنگِ بدر، جنگِ احد، معرکہ احد کے خاص پہلو، جنگِ احد کے اثرات، جنگِ خندق، جنگِ خندق سے فتح مکہ تک، عمرة القضائ، فتح مکہ، اعلانِ حج، مدینہ سے واپسی ، ازواج مطہرات، اولادِ مصطفی اور خاندگی زندگی، بی بی خدیجہ کی عظمت اور اختتامیہ شامل ہیں۔ ” حیاتِ طیبہﷺ “ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دل و دماغ پر حب رسول چھائی ہوئی ہے ۔ وہ عشق مصطفےٰ میں خود سپردگی اور وارفتگی کے عالم میں ہے۔ گل خود کہتے ہیں:” رب ذوالجلال نے میرے فکر و خیال کو وسعت دی۔ میرے دل و دماغ پر سرورِ کائنات کی سیرت طیبہ چھا گئی، میرے فکر و شعور کی زمین پر محبت مصطفی کی برسات ہونے لگی اور انتہائی مختصر عرصے میں اللہ تعالیٰ کے کرم اور حضور کے صدقے نے حیاتِ طیبہ کے اعزاز سے سرفراز کر دیا ”حیات طیبہﷺ“ میں سادگی، روانی، خلوص اور محبت کا انداز ملاحظہ کیجئے۔ عنوان ” دو میںایک راستہ“ کے تحت لکھتے ہوئے کہتے ہیں۔


کسی انساں کی پہلی یہی پہچان ہوتی ہے ””’ کہ جو وہ سوچتا ہے اس میں کتنی جان ہوتی ہے جو اپنی فکر میں اندر کی طاقت دیکھ لیتا ہے ”””وہ ظاہر دیکھ کر باطن کی صورت دیکھ لیتا ہے
قبول عام تو کوئی روایت ہو بھی سکتی ہے ””””مگر یہ دیکھنا کتنی حقیقت در حقیقت ہے
گل بخشالوی کا تیسرا نعتیہ مجموعہ ” گلستان نعت“ ہے جو 2014ءکو شائع ہوا۔ اس مجموعہ میں آٹھ حمدیں اور 32 نعتیں شامل ہیں۔ اس مجموعہ کے مطالعہ سے یہ بات بخوبی معلوم ہو جاتی ہے کہ یہ حمد و نعت کا گلستان ہے۔ یہ اسلوب بیاں، الفاظ و خیالات اور جذبات و احساسات کا حسین و جمیل مرقع ہے۔ اس میں عقیدت و محبت اور خلوص کے چشمے پھوٹتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس مجموعہ میں پہلے کی نسبت زیادہ مشاقی نظر آتی ہے۔ یہاں زبان و بیاں زیادہ واضح اور رواں ہے۔ اس مجموعہ میں قربت اور دیدار کی خواہش کا اظہار بھی زیادہ نظر آتا ہے۔جیسے
میں خالی ہاتھ تو آیا نہیں مدینے سے
ہوا بہار کی آنے لگی ہے سینے سے
نہا کے دھوپ میں آیا ہوں جب مدینے سے
مہک گلاب کی آنے لگی پسینے سے

وہ زندگی میں نظارے سحر کے دیکھتے ہیں
نبی کو دل میں جو اپنے اُتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے حمد و ثنا ہی سے ہی دید ملتی ہے
کچھ اپنے ہم بھی کرشمے ہنر کے دیکھتے ہیں


سرور انبالوی ” گلستانِ نعت“ کے بارے میں رقمطراز ہیں:” گل بخشالوی حمد، نعت، منقبت اور غزل کے میدان میں کافی عرصہ سے اپنی جولانیاں دکھا رہے ہیں اور اب وہ بارگاہِ رسالت میں نعتیہ مجموعہ ” گلستان نعت“ لے کر حاضر ہوئے ہیں۔ حضور سے والہانہ عقیدت و محبت اور دل گداز کی نغمہ سرائیاں ان کی نعت کا سرمایہ افتخارہیں
گل وہ شاعر ہیں جنہوں نے نعت گوئی کے تقاضوں کو بھرپور طریقے پر سمجھا اور شعر کے ادبی پہلوؤں کو جان کر نعتیہ شاعری میں ایک دلکش اسلوب اپنایا۔ ان کا ایک خاص اسلوب ہے جس کے حوالے سے ان کی انفرادیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ ان کے اسلوب کی دلکشی اور بیان کی خوبی ان کے کلام سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔ اور ان کے لحن کی گونج سے بھی ان کا آہنگ فضائے نعت پر چھایا ہوا لگتا ہے۔ان کی نعتوں کے اسلوب کی سب سے بڑی خوبی روانی، سلاست، سادگی اور نغمگی ہے۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جو قریباً ان کی ہر نعت میں موجود ہیں۔ انہوں نے اپنی نعتوں کےلئے عام فہم، سادہ اور بول چال کی زبان استعمال کی ہے۔ ان کی نعتوں میں نامانوس الفاظ شاذ ہی ملتے ہیں۔ وہ بڑی سادگی کے ساتھ اپنے خیالات اور جذبات و احساسات کو نظم کے پیرائے میں پیش کر دیتے ہیں۔ یہ خوبی ان کے تمام نعتیہ کلام میں موجود ہے۔


ایسا جھونکا لگا صبا جیسے
یہ مدینے کی ہو ہوا جیسے
دل کی دھڑکن میں مصطفےٰ ﷺ جیسے
ڈھل گیا نورِ کبریا جیسے
سوچ سکتا ہے کوئی کیا جیسے
چاند ٹکڑوں میں دو ہوا جیسے
آئے دنیا میں انبیاءلیکن
کوئی آیا نہ مصطفےٰ ﷺ جیسے
گل کے اس اسلوب کے بارے میں رفیع الدین راز لکھتے ہیں:” اس مجموعہ کے طرزِ اسلوب نے بھی مجھے چونکادیا۔ گل صاحب کا مجموعہ پڑھتے ہوئے مجھے نظیر اکبر آبادی بہت یاد آئے۔ نظیر نے جب اپنی شاعری میں عوامی بول چال کی زبان استعمال کی تو مصحفی جیسے سکہ بند اہل زباں کو بھی یہ عمل ناگوار گزرا لیکن آنے والے وقت نے نظیر کو سب سے بڑا شاعر تسلیم کر لیا
گل نے نعتیہ کلام میں جو زبان استعمال کی وہ بہت سادہ ہے اور انداز پر فکر ہے۔ وہ انتہائی سادگی میں کھری بات کہہ جاتے ہیں۔ ان کی اس شاعری میں سنجیدگی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ یہی سادہ اور رواں اسلوب انہیں اپنے ہم عصر شعراءسے ممتاز کرتاہے۔


بن ترے فیض کے دل شاد نہیں ہونے کے
عشق میں ہم کبھی فرہاد نہیں ہونے کے
در پہ اشکوں سے میں دامن کی سیاہی دھو لوں
ورنہ عاصی کبھی دل شاد نہیں ہونے کے

میری حیات ایسے نبی کی غلام ہے
جو انبیاءکا عرشِ بریں پر امام ہے
ہے نور کے وجود میں وحدانیت کا راز
اے شاہِ انبیائ! تجھے میرا سلام ہے
گل صاحب نے اپنی استعداد اور صلاحیتوں کے مطابق اردو ادب کی خدمت کی ہے جس میں سرقہ یا نقل کا عمل دخل نظر نہیں آتا جو محسوس کیا قلمبند کر کے قارئین کی نذر کر دیا۔ جو کچھ انہوں نے کہا وہ ان کی فکر اور طرزِ نگارش ہے بعض نعتیں مشکل بحروں میں بھی لکھی ہیں لیکن ان مشکل بحروں والی نعتوں میں کہیں بھی موسیقیت اور روانی مجروح نہیں ہوئی۔ ان نعتوں میں بھی سر سبز وادیوں میں بہتے ہوئے دریا کی سی روانی پائی جاتی ہے


خوشبو بدن، گلابِ سخن سے حبیب نے
معبود کے جہاں کو گلستان کر دیا
بھٹکے تھے جو بہشت سے پیارے نبی نے گل
حسنِ عمل سے صاحبِ ایمان کر دیا
گل بخشالوی ادبی دنیا میں ایک نیا نام سہی لیکن کلام کے اعتبار سے پختگی فکر کی علامت ہے۔ گل صاحب ایک پشتون معاشرے میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق مردان سے ہے۔ پشتو میں سوچتے اور اردو میں اظہارِ خیال کرتے ہیں۔ یہ باب قابلِ داد ہے کہ ایسا شخص جس کی مادری زبان اردو نہیں ہے اسے اردو سے اتنا لگاؤ ہے کہ اسے اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے اور اپنے جذبات و احساسات کے اظہار کے لئے بھی اسے مناسب سمجھا ہے۔ گل صاحب کے فن کا جہاں تک تعلق ہے اس میں روایتی فکر کے ساتھ ساتھ عصر جدید کے تقاضوں کی ترجمانی بھی ملتی ہے۔ وہ جذبہ اور خیال کو ہم آہنگ کرنے کا ہنر بھی جانتے ہیں اور بڑی سادگی کے ساتھ اپنے خیال کو قاری تک پہنچانے کا فن سمجھتے ہیں۔ گل کی نعت کے مطالعے سے یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے کہ ان کا اسلوب اپنے ہم عصر شعرا سے جدا اور ممتاز ہے اور یہ اُن کی کامیابی ہے کہ اسے برقرار رکھے ہوئے ہے۔


کسی بھی کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے جذبہ عشق سے سرشار ہونا اشد ضروری ہے۔ اقبال نے اپنی نظم ” عقل و دل“ میں عقل پر عشق کو ترجیح دی ہے۔ ان کے مطابق جو کام عشق سر انجام دے سکتا ہے وہ عقل کے بس میں نہیں۔ عشق کی بدولت انسان پہاڑوں سے ٹکرا جاتا ہے۔ لشکروں کے مقابلہ میں نکل کھڑا ہوتا ہے اور اگر عشق خدا اور رسول خدا سے ہو تو انسان کو اپنی معراج تک پہنچا دیتا ہے۔ اسی عشق کے سبب حضرت بلال حبشی ؓدہکتے کوئلوں پر لیٹ گئے۔ اس عشق کے باعث حضرت امام حسین ؓنے اپنا سر نیزے کی نوک پر چڑھا دیا۔ یہی جذبہ عشق گل بخشالوی کی نعتیہ شاعری کا منبہ اور ماخذ ہے۔ ان کا ایک ایک شعر عشق رسول کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وہ خود لکھتے ہیں۔
” میں اس حقیقت سے انکار نہیں کروں گا کہ شانِ مصطفی میں وہ کچھ نہیں کہہ سکا جو کہنا چاہےے تھا۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ میں نہ تو صاحب علم ہوں اور نہ صاحب زباں۔ سرور کائنات سے محبت جو مجھے میرے خون سے ورثے میں ملی وہ ہی میری ادبی، شخصی اور مذہبی پہچان ہے۔ اور میں اس پہچان پر فخر کرتا ہوں


گل کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے ہے۔ ان کی والدہ پرہیز گار متقی خاتون تھیں۔ والد بھی خدا اور رسول خدا سے عشق کرنے والے درویش صفت انسان تھے۔ اس طرح گل کو عشق رسول اور مذہب سے وابستگی اپنے والدین سے ورثہ میں ملی۔ اس مذہبی وابستگی کی باعث ان کی شاعری کا رجحان زیادہ تر نعت گوئی کی طرف رہا۔ یہی وابستگی نعت گوئی میں ان کی مہارت اور مشاقی کا باعث بنی۔


زندگی عشقِ محمد میں سجائے رکھنا
آس جینے کی مدینے میں لگائے رکھنا
فکر میں روضہ ء اقدس کو سمائے رکھنا
دل کی آنکھوں کو مدینہ میں جھکائے رکھنا
یہ حقیقت ہے کہ جب تک آنحضور کی ذات سے والہانہ عشق نہ ہو کامیاب نعت نہیں لکھی جا سکتی اور کامیاب نعت وہی ہے جس میں حضور کی حیات طیبہ اپنے تمام تر محاسن اور اخلاق حسنہ کے ساتھ اس طرح جلوہ گر ہو کہ قاری کے دل میں اتر جائے۔ گل بخشالوی کی نعت اسی لئے کامیاب نعت کہلاتی ہے کہ ان کی نعت کا ہر شعر محسن انسانیت محمد کے ساتھ بے پناہ عشق اور محبت کا بین ثبوت فراہم کرتا ہے۔ گل بخشالوی صاحب نے خالق کائنات اور اس کے لاڈلے پیغمبر نبی آخرالزماں محمد سے اپنے والہانہ لگاؤ کو الفاظ کا جامہ پہنا ہے۔ فرطِ عقیدت کا یہ منہ بولتا شاہکار ہے۔ الفاظ دل کی گہرائیوں سے نکلتے ہیں اور قلم اور کاغذ کو عقیدت و محبت کے موتیوں سے مالا مال کر دیتے ہیں۔
نعت گوئی کے لئے عشق رسول بنیادی عنصر ہے۔ سچے عشق کے لئے رسول کی اتباع انتہائی ضروری ہے بلکہ یہ کہا جائے کہ اتباع رسول ہی عشق صادق کا پیمانہ ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ یہ جذبہ عشق جتنا شدید تر ہو گا نعتوں میں اتنا ہی زیادہ اثر و سرود ہو گا۔


نعت گلزار مدینہ میں سناتے جاتے
ہم بھی خوش بوئے محمد میں نہاتے جاتے
تیرے قدموں کے نشاں دیکھتے گلیوں میں تری
خاک پلکوں پہ مدینہ کی اُٹھاتے جاتے
احسان دانش کا قول ہے:” نعت کہنے کا حق صرف عاشق رسول ﷺہی کو پہنچتا ہے۔‘ گویا جب تک دل عشق رسول سے منور تر نہ ہو جائے اس وقت تک شاعر کا قلم نعت کے انمول موتی بکھیرنے کے قابل نہیں ہو سکتا۔ یوں کہہ لیں کہ نعت گوئی اس شخص کو انعام کے طور پر ملتی ہے جس کے دل میں عشق محمد سما چکا ہو۔ گل صاحب کا اس ذات برکات کے ساتھ عشق ان کی زندگی کا منبہ اور محور ہے۔ یہ جذبہ عشق ان کی زندگی کی طرح ان کے کلام میں بھی ہر جگہ جاری و ساری نظر آتا ہے۔ وہ خود رطب اللسان ہیں۔” رب ذوالجلال نے فکر و خیال کو وسعت دی۔ میرے دل و دماغ پر سرور کائنات کی سیرت طیبہ چھا گئی۔ میرے فکر و شعور کی زمین پر محبت مصطفی کی برسات ہونے لگی


گل صاحب سرور کائنات سے عشق کو ہی زندگی کی حرارت سمجھتے ہیں۔ اور اسی عشق میں ڈوبے رہ کر اس تمانیت اور فرحت سے محفوظ اور فیض یاب ہوتے رہتے ہیں۔ان کی نعتوں کا ایک ایک شعر پڑھنے ولوں کے دل پر اپنے اثرات ثبت کرتا چلا جاتا ہے۔ گل بخشالوی کی نعتوں کی یہی خوبی انہیں اس عہد کے بڑے نعت گو شعراءکی صف میں شامل کرتی ہے۔گل بخشالوی اظہار عشق کے بارے میں لکھتے ہیں۔” میں جانتا ہوں کہ میرے اظہارِ محبت میں کئی ایک فنی خامیاں ہوں گی لیکن میرے خیال میں اظہارِ عشق فنِ عروض کا محتاج نہیں۔ آداب و تہذیب ہی محبت کی عظمت ہے


عشق احمد میں ہوا مجھ کو عطا یہ تحفہ
زندگی ساتھ ہے میرے کسی پیارے کی مثال
ہم تو بس ذکر محمد میں مہکنا چاہیں
نعت گوئی تو ہے بس اپنی گزارے کی مثال
نعت گوئی کے ابتدائی دور میں نعتیہ شاعری کے زیادہ تر موضوعات یہی رہے کہ روضہ رسولﷺ کو دیکھنے کی خواہش ، شہر مدینہ اور روضہ پر حاضری کی تمنا، پلکوں سے روضے کو چھونا، روضہ رسول کی جالیوں کو چومنایا پھر حضور کی سراپا نگاری، اس کے بعد والے دور میں حضور کی ذات و صفات سے مکمل وابستگی، آپ کی سیرت نگاری اور سیرت سے فیض حاصل کرنے کی خواہش کو بھی نعتیہ موضوعات میںشامل کیا گیا۔ حالی او راقبال سے پہلے خاصا نعتیہ ادب تخلیق ہوا جو زیادہ تر حضور سے عقیدت و محبت اور والہانہ لگاؤ کی پیداوار نظر آتا ہے۔ لیکن ان تمام نعت گو شعرا میں جو قدر مشترک نظر آتی ہے وہ ذاتِ رسول مقبول سے گہریعقیدت و محبت ہے۔ نعتیہ شاعری کے چشمے اسی محبت رسول مقبول ہی سے پھوٹتے ہیں۔ گل کی شاعری میں بھی حضور کی ذاتِ مبارکہ کےساتھ عقیدت و محبت کا اظہار جا بجا نظر آتا ہے۔
دل کے نگر میں ہم رہتے ہیں میر ا خدا اور میں
میرے پیارے ، میرے محمد، اُن کی ضیاءاور میں
میری دنیا، میری دولت، اس سے بڑھ کر کیا
شہرِ مدینہ، جنت منظرِ، بادِ صبا اور میں
حضور کی ذات اقدس سے عقیدت نعت گوئی کا اولین او رلازمی جزو ہے۔ آپ کی ذات مبارکہ کے سبب انسان کو اللہ کی پہچان ہوئی ہے۔ یہی وہ ذات ہے جس کے باعث ہر مسلمان کے دل میں ایمان کی شمع روشن ہے اور اسے کفر و شرک کے تیز و تند طوفانوں سے بچائے ہوئے ہے۔ بلکہ اسی ذات کو وجہ تخلیق کائنات کہا گیا ہے۔ مولانا ظفر علی خاں کا ایک شہرہ آفاق شعر ہے۔


سب کچھ تمہارے واسطے پیدا کیا گیا
سب غایتوں کی غایت اولیٰ تمہی تو ہو
یہی عقیدت و محبت ہمیں امیر مینائی کے ہاں نظر آتی ہے۔
دل میں ہے خیالِ رُخِ نیکوئے محمد
اللہ کے گھر میں ہے بس بوئے محمد
کیا رنگ تصور ہے کہ ہر سانس سے مل کر
آتی ہے ہوائے چمن کوئے محمد
مولانا ظفر علی کے ہاں عقیدت کا اظہار دیکھئے ۔ ان کا زبانِ زد عام شعر ہے۔


دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہی تو ہو
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہی تو ہو
عقیدت و محبت جب گل کی شاعری میں آتی ہے تو ان پر وجد و خود سپردگی اور وارفتگی کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہبی صورت میں شعر تخلیق ہو رہے ہیں۔
مرا قیام مدینے میں عمر بھر کر دے
مرے خدا تو مدینے کو میرا گھر کر دے
مرے خدا کا بڑا اور کیا کرم ہو گا
اگر حیات مدینے میں مختصر کر دے
گل کے نعتیہ کلام میں عقیدت و محبت اور حضور سے وابستگی کی جو جھلک ہمیں نظر آتی ہے۔ وہ جہاں ان کو ایک بلند پایہ نعت گو شاعر کے روپ میں ظاہر کرتی ہے۔ وہیں ان کی مذہب کے ساتھ وابستگی اور لگاؤ کو بھی سامنے لاتی ہے۔ مذہب سے لگاؤ انہیں بچپن ہی سے تھا لیکن نعت گوئی نے ان کی مذہب سے وابستگی کو عیاں کر دیا اور حضور سے عقیدت کے جذبات، جو ان کے اندر شروع سے موجود تھے ایسے باہر نکلے کہ پھر نہ تو قلم کی روانی میں کوئی فرق آیا اور نہ ہی خیالات کی فراوانی میں کوئی کمی واقع ہوئی۔


عشقی نبی کو دل میں فروزاں کئے ہوئے
پھرتے ہیں جاں کا صحرا گلستاں کئے ہوئے
چومے جبیں خاک ، مدینہ میں جذب ہوں
آنکھوں میں کب سے اشک ہیں مہماں کئے ہوئے
گل بخشالوی نے اپنی نعتیہ شاعری میں تشبیہات و استعارات کا استعمال بڑے توازن کے سا تھ کرتے ہوئے آپ کی سراپا نگاری کی ہے۔ اس دوراں حدود و قیود کا بڑا خیال رکھا گیا ہے۔ اس طرح سراپا نگاری کرتے ہوئے ان کا انداز بیاں منفرد نظر آتا ہے۔حضور کے سراپا کے وافر مرقعے نظر آتے ہیں ۔ ایک اور جگہ آپ کے حسن و جمال کاتذکرہ یوں کرتے ہیں:


قد و قامت میں ان کی شخصیت کے رنگ نکھرے ہیں
نظارے، روپ ، منظرلے کے وہ جنت سے آئے تھے
نبی کی چال جیسے جھیل میں کوئی کنول لگتے
وہاں ذرے مہک اُٹھتے قدم پیارے جہاں رکھتے
وجاہت میں کوئی ان سا نہ آیا ہے ، نہ آئے گا
قیامت تک یہ عالم آپ ہی کے گیت گائے گا
گل بخشالوی نے نعت گوئی میں ایک راست، صحیح اور حقیقت پسندانہ معیار قائم کیا جوآپﷺ کی تعلیمات کے عین مطابق ہے اور جس میں نہ صرف یہ کہ توحید کا تصور مجروح نہیں ہو تا بلکہ رسالت کا تقدس بھی قائم و دائم رہتا ہے لیکن اس سب کے باوجود گل بخشالوی نے شاعرانہ رنگ آمیزیوں میںفرق نہیں آنے دیا۔ وہ بڑے خوبصورت اور دلکش انداز میں اپنے تصورات کو اپنی نعت میں پیش کرتے ہیں اور ان کی شاعریاسلامی خطوط کے عین مطابق ہے۔


گل بخشالوی نے اپنی نعتوں میں جہاں صفاتِ نبوی بیان کی ہیں وہاں تعلیمات نبوی پر بھی زور دیا ہے۔ آج کے مادہ پرستانہ دور اور نفسا نفسی کے عالم میں انسان اپنی مجبوریوں میں اس قدر پھنس چکا ہے کہ دوسروں کے بارے میں سوچنے کا بھی وقت نہیں ملتا۔ ایسے مشکل دور میں گل بخشالوی نے نعت کے مروجہ طریق کار سے ذرا مختلف انداز میں لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ زندگی یہ نہیں جیسے ہم گزار رہے ہیںبلکہ آپ کی تعلیمات پر عمل کرکے ہم یقینا ایک اچھے معاشرے کی تشکیل کر سکتے ہیں۔ کیونکہ اللہ نے بھی قرآن میں فرمایا ہے۔ من یطع الرسول فقد اطاع اﷲ( القرآن)۔


ہر ایک انسان ہے خاکی یہاں مخلوق قدرت کی
سبھی اولاد ہیں اس مردِ آدم! ایک عورت کی
کیا تقسم تم کو پھر قبیلوں ، خاندانوں میں
کہ ہو پہچان انسانوں کی نسلوں اور زبانوں میں
گل بخشالوی کا منفرد انداز تحریر عشق رسول سے بھرپور ہے۔ انہوں نے نعت گوئی میں ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے اور انہیں اچھی طرح احساس ہے کہ ان کا اندازِ تحریر انہیں کسی اپنے کمال کے باعث نصیب نہیں ہوا بلکہ یہ کمال اس ذات مبارکہ کا ہے کہ جس کے عشق کی وجہ سے ان کے قلم کو تاثیر حاصل ہوئی اور ان کے کلام میں جدت اور انفرادیت پیدا ہو گئی ہے۔
یہاں امن و اماں کا خیال بھی رکھنا ضروری ہے
خدا کے سامنے کعبے میں سجدہ بھی ضروری ہے
کبھی غافل نہیں ہونا خودی کو بھول مت جانا
تمہیں تکلیف جو بھی ہو خدا کے گھر چلے آنا
گل بخشالوی کے تین نعتیہ مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان غزلوں اور نظموں کے جو مجموعے اب تک شائع ہو چکے ہیں ان میں کہیں کہیں حمدیہ اور نعتیہ کلام شامل ہے۔ انہوں نے دوسرے اردو شعراءکی طرح اپنے ہر شعری مجموعہ کی ابتدا، حمد و نعت سے کی ہے۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ انہیں مذہب سے گہری وابستگی ہے۔ یہی مذہبی وابستگی نعت میں ان کی مہارت کا باعث بنی ہے۔
گل نے اپنی نعتوں کے لئے زیادہ تر غزل کی ہیئت استعمال کی ہے۔ ان کے پہلے نعتیہ مجموعہ ” گلزارِ محمد“ کی تمام حمدیں اور نعتیں احمد فراز کی غزلوں میں لکھی ہوئی ہیں۔ ا س کے علاوہ تیسرے نعتیہ مجموعہ ” گلستانِ نعت“ میں بھی کئی نعتیں ایسی ملتی ہیں جو احمد فراز ہی کی غزلوں کی زمینوں میں لکھی ہوئی ہیں جیسے کہ


جشنِ انوار میں گلزار کو تکتے جاویں
دل ٹھہرنے دے تو آنکھیں بھی جھپکتے جاویں
نعت کہتا ہوں کہ اعزاز کا طالب ہوں میں
لفظ میرے تری الفت میں دمکتے جاویں
تیرے در پر ہے گداؤں کے گداؤں کی دعا
شامِ رخصت تیری خوش بو مہکتے جاویں
گل بخشالوی نے نعت کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے حضور کی خدمت میں ہدیہ نعت کے پھول بکھیرے ہیں اور اس کے ساتھ ان کے ہم عصر بے شمار شعراءبھی اس سعا دت کو حاصل کر رہے ہیں۔ اور اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ غزلیہ نعت ہی پسندیدہ رہی ہے اور اب بھی ہے۔ اس روش کے باعث اردو نعت میں عام طور پر اور گل بخشالوی کے نعتیہ کلام میں خاص طور پر غزلیہ خصوصیات موجود ہیں۔ گل کے نعتیہ کلام میں غزلیہ شاعری کا خاص وصف سوز و گداز موجود ہے۔ عشق مجازی کے زیر اثر اس کے سبب جہاں بہت ہی پُر اثر اشعار اردو ادب کے دامن کو میسر آئے وہاں اسی سوز و گداز کے باعث گل کے نعتیہ کلام کو چار چاند لگ گئے ہیں۔ ان کی نعتوں میں دیدار رسول اور مدینے کی آ رزو، خواہش اور تمنا ان کے اندر وہ تڑپ پیدا کرتی ہے جو عشق رسول کا تقاضا ہے۔


سنا ہے آتی ہے خوشبو وہاں کی گلیوں سے
گلی گلی سے چلو ہم گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے آتی ہے خوشبو حریمِ جنت سے
چلو کہ شبنمی قطرے سحر کے دیکھتے ہیں
ہیں خوش نصیب جو رہتے ہیں گل مدینے میں
نظارے لطف میں شام و سحر کے دیکھتے ہیں
سوز و گداز کے علاوہ ایجاز و اختصار ، گہرائی اور گیرائی اور تشبیہ و استعارہ شاعری کی وہ خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے غزل میں حسن پیدا ہوا ہے۔ ایجاز و اختصار چند لفظوں میں بیان کئے جانےوالے وسیع مضامین کا حسن ہے۔ تشبیہ و استعار صنائع بدائع غزل کی جان ہیں۔ ان سے غزلیہ کلام میں حسن پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح جب آقائے نامدار کا ذکر ہو تو صنائع بدائع اور تشبیہات و ا ستعارات ادب کے تمام تقاضے نبھاتے ہوئے اشعار کی خوبصورتی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ گل نے اپنی نعتوں میں ان تمام خصوصیات کو بڑی کامیابی سے برت کر اپنے کلام میں حسن پیدا کیا ہے۔


مجھے عنایت جو زندگی ہے اُس کا محور مرا نبی ہے
جو ہے سلیقہ سجود رب کو، مرے نبیکی ہی روشنی ہے
جمال فطرت، نظام قدرت، بفیضِ احمد ملا جہاں کو
عمل سے اس نے بتایا ہم کو، کہ ایک ہستی خدا کی بھی ہے
مذہب کی نا قابل تردید حقیقتیں جب پردہ سخن میں صورت اظہار پاتی ہیں تو لفظ لفظ میں شاعری کا باطنی جذبہ ظاہر ہونے لگتا ہے اور شہرِ نعت میں اجالا ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں قاری نعت گو شاعر کی کاوش کی داد دئےے بغیر نہیں رہ سکتا ہے۔ گل کی نعتیہ شاعری میں جمال فن بھی ہے اور جذبہ و احساس کی لطافت بھی۔ لہٰذا قاری ان کی شاعری پڑھ کر وجد و وارفتگی کے عالم میں جھوم اُٹھتا ہے۔


بس اک آپ تھے تو کوئی نہ تھا، کوئی تھا تو بس اک خدا ہی تھا
وہ محب تھے آپ حبیب تھے ، یہ جہاں ہے عشق کی زرگری
وہ وحی میں اپنے مثال ہیں، وہ عمل میں اپنے کمال ہیں
وہ مثالِ حسنِ جمال ہیں ، پڑھی نعت ان کی خدا نے بھی
گل ادبی خلوص، شاعرانہ سچائی اور تخلیقی لطافت کے ساتھ نعت گوئی میں مصروف ہیں۔ جدت پسندی اورالفاظ و تراکیب کے صحیح استعمال نے انہیں وہ مقام دلایا ہے جس کے لئے لوگوں کی عمریں بیت جاتی ہیں۔ پھر بھی حاصل نہیں کر پاتے۔ ان کی شاعری میں شاعرانہ مصور ی کی بہترین مثالیں ملتی ہیں۔ ان کی نعت کی خوبی یہ ہے کہ جدت طرازی اور تازہ کاری کی عمدہ مثال ہونے کے باوجود ان کی نعت تاثراتی سطح پر نعت ہی رہتی ہے۔ غزل یا نظم کے درجے پر نہیں آتی۔ موضوع سے اتنی گہری وابستگی اور نسبت رسول کا ایسا شدید احساس آج کے کم شعراءمیں ہے۔ جس قدر ان کے ہاں موجود ہے۔ ان کی شاعری میں والہانہ پن بارگاہِ نبوت میں جہاں سے گزر جانے کے جذبے اور مدینے کی فضاؤں میں تحلیل ہو جانے کی آرزو سے عبارت ہے۔ ان کی نعتیہ شاعری جذبے کی شاعری ہے۔ جس کی سادگی اور پرکاری سے ترسیل جذبہ اور ابلاغ خیال سہل ہو گیا ہے۔ ان کی نعتیہ شاعری میں جذبات و احساسات بھی پائے جاتے ہیں۔و ہ اپنی فکر کا جوہر بڑی سادگی اور سلاست کے ساتھ اپنی نعتوں میں پیش کر دیتے ہیں۔ ان کی نعتوں میں موضوعاتی تنوع پایا جاتا ہے۔ اس وجہ سے ان کے نعتیہ کلام کو منفرد مقام حاصل ہو گیا ہے۔ حضور کے اوصاف حمیدہ، اسوئہ حسنہ اور غزوات کے حوالے سے ان کی شاعری اپنی الگ شناخت رکھتی ہے۔ ان کو شہر نبی میں آسودگی اور قلبی سکون میسر آتا ہے۔ اس لئے ان کے ہاں مدینہ لفظ کی تکرار اور گونج بار بار سنائی دیتی ہے۔ آزاد نظم میں نعتیہ مضامین پیش کرنے والے شعراءاطہر نفیس، شبنم رومانی، سرشار صدیقی، انور مسعود، سعید وارثی، حفیظ تائب وغیرہ کے نام آتے ہیں۔ گل بخشالوی نے اس روایت کو بھی برقرار رکھا ہے۔ آزاد نظم کی ہیت میں چند نعتیں لکھی ہیں۔


اٹھی جو میرے نبی کی انگلی
تو چاند ٹکڑوں میں بٹ گیا تھا
زمیں پہ رحمت وہ بن کے آئے
بہ روز محشر ہیں سر پہ سایا
میں عشق احمد کا ایک گل ہوں
مہک ہے میری جہاں میں افضل
مرا قبیلہ محمدی ہے

شیئر کریں
والدین کا دیا ہوا نام : سبحان الدین ۔ قلمی نام : گل بخشالوی ۔ تعلیم : میٹرک ( پرائیویٹ ) پیدائش 30مئی 1952 ۔ مقام ِ پیدائش : بخشالی ضلع مردان،خیبر پختونخواہ ۔مادری زبان : پشتو شاعر کالم نگار ادب دوست ، ناظم اعلیٰ قلم قافلہ کھاریاں۔ ادبی سفر کا باقاعدہ آغاز1984ء حال مقیم کھاریاں شہر ضلع گجرات پنجاب (پاکستان)

کمنٹ کریں