لفظ گمنام پہ اشعار

لفظ گمنام پہ اشعار, لفظ گمنام پہ اشعار

جب چھیڑتی ہیں ان کو گمنام آرزوئیں
وہ مجھ کو دیکھتے ہیں میری نظر بچا کے
علی جواد زیدی

وہ ایک شخص کہ گمنام تھا خدائی میں
تمہارے نام کے صدقے میں نامور ٹھہرا
حمید کوثر

جمی ہے گرد آنکھوں میں کئی گمنام برسوں کی
مرے اندر نہ جانے کون بوڑھا شخص رہتا ہے
اظہرنقوی

گمنام ایک لاش کفن کو ترس گئی
کاغذ تمام شہر کے اخبار بن گئے
عشرت دھولپور

کیا غم ہے جو ہم گمنام رہے تم تو نہ مگر بدنام ہوئے
اچھا ہے کہ میرے مرنے پر دنیا میں مرا ماتم نہ ہوا
سہیل عظیم آبادی

لفظ گمنام پہ اشعار

اب تو مجھ کو بھی نہیں ملتی مری کوئی خبر
کتنا گمنام ہوا ہوں میں نمایاں ہو کر
اظہرنقوی

چھپے ہیں لاکھ حق کے مرحلے گم نام ہونٹوں پر
اسی کی بات چل جاتی ہے جس کا نام چلتا ہے
شکیل بدایونی

کچھ معرکے ہمارے بھی ہم تک ہی رہ گئے
گمنام اک سپاہی کی خدمات کی طرح
سید انوار احمد

اپنا خط آپ دیا ان کو مگر یہ کہہ کر
خط تو پہچانئے یہ خط مجھے گمنام ملا
کیفی حیدرآبادی

شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے
ہم اسی آگ میں گم نام سے جل جاتے ہیں
قتیل شفائی

مقتل وقت میں خاموش گواہی کی طرح
دل بھی کام آیا ہے گمنام سپاہی کی طرح
پروین شاکر


شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں