حیرت اور دریافت کا کھیل

تحریر: سید کامی شاہ، کراچی

, حیرت اور دریافت کا کھیل

ماہرینِ ادب اور نقادانِ فن نثری نظم کی جو بھی تعریف معتین کریں مجھے ذاتی طور پر ایسا لگتا ہے کہ نثری نظم ایک چیخ ہے اور چیخ کی کوئی اخلاقیات نہیں ہوتی،
دکھ میں، بے بسی میں، جھنجھلاہٹ میں یا شدید غصے کی حالت میں وارد ہونے والی چیخ کو کسی ضابطہٗ اخلاق کا پابند نہیں کیا جاسکتا۔
وجیہ وارثی کی نظمیں بھی ایسی بے ساختہ اور بے قاعدہ چیخیں ہیں جو اس کتاب میں آکر جمع ہو گئی ہیں اور اب خوب شور مچارہی ہیں۔ آپ کانوں پہ ہاتھ رکھیں یا آنکھیں بند کرلیں یہ نظمیں آپ کا پیچھا چھوڑنے والی نہیں۔


اگر کسی کو یہ لگتا ہے کہ نثری نظم کہنا محبوبہ کو خط لکھنے جیسا آسان ہے تو اسے یہ جان لینا چاہیے کہ نثری نظم کہنا محبوبہ کو خط لکھنے جیسا ہی مشکل کام ہے۔
دلاور فگار نے ملکی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا
حالاتِ حاضرہ کو کئی سال ہوگئے،،
وجیہ وارثی کا تعلق بھی اس ملک کی اسی نسل سے ہے جو کم و بیش چالیس سال سے ایک سے حالاتِ حاضرہ کا شکار ہے اور مستقبل قریب میں بھی ان حالات میں بہتری کی کوئی امید دکھائی نہیں دیتی، وجیہ وارثی کی کچھ نظموں کی ٹکڑے دیکھتے ہیں۔


ہم قسطوں میں مررہے ہیں
دائیں آنکھ مارشل لائوں کی ہیبت ناک تصویر دیکھ کر بنجر ہوچکی ہے
بائیں آنکھ کی بینائی کسی گمنام شاعر کی طرح گم ہوچکی ہے
جیب کی حالت اُس بیسوا کی طرح ہے
جسے ایڈز جیسے مہلک مرض نے آن گھیرا ہو
کندھے چاہنے والوں کی بے وفائیوں کی لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک چکے ہیں،،
نظم اجازت نہیں کی یہ لائنیں۔۔۔۔
لڑکی پردے کے پیچھے سے دنیا دیکھتی ہے
پردے میں مسلسل دیکھنے کی وجہ سے
آنکھ جتنا چھید ہوگیا ہے
جس سے نظر آتی ہے
نیلی سبز آنکھ
جو مجھے دیکھتی ہے
پردے کے پیچھے کیا ہوتا ہے
کچھ پتا نہیں
وہ پستول، گولی اور ملک الموت کے ساتھ رہتی ہے
اس کے سارے بھائی
اس کے نام کی گولی
بلاناغہ پستول میں بھرتے ہیں
اسے کمرے میں روشنی کرنے کی اجازت نہیں
اندھیرے میں کیا ہوتا ہے
کسی کو معلوم نہیں
اسے کبھی بولتے نہیں سنا
شاید گونگی ہے
یا
اسے بولنے کی اجازت نہیں
اندھیرے میں رونے کی آواز آتی ہے
وہ بھی کسی پختہ عمر کی عورت کی
شاید اس کی ماں ہے
شاید اسے بریسٹ کینسر ہے
ڈاکٹر کو دکھانے کی اجازت نہیں
وہ مرجاتی ہے
اس کے سارے بھائی ماں کو دفن کرنے جاتے ہیں
اُس دن وہ پردے کے دوسری طرف آتی ہے
مجھے دیکھ کے مسکراتی ہے
میں اس کی مسکراہٹ سے ڈر جاتا ہوں،،
علی زریون نے کہا تھا
شاعری مشغلہ نہیں میرا
اِس سے دنیا کو دیکھتا ہوں میں،،


وجیہ وارثی کے لیے بھی شاعری مشغلہ نہیں ہے، نہ تو وہ ڈرائنگ رومی دانشور ہیں اور نہ فیس بکی نقاد، وہ اس گھٹن زدہ معاشرے کے ایک عام انسان ہیں اور ان سارے حالات و واقعات سے عام آدمی کی طرح ہی متاثر ہوتے ہیں، ان کا کمال یہ ہے کہ وہ ان حالت و واقعات سے صرف متاثر ہی نہیں ہوتے بلکہ اس پر اپنا بھرپور تبصرہ بھی پیش کرتے ہیں۔ محمد حسن عسکری نے منٹو کے بارے میں کہا تھا کہ منٹو اتنا ظالم ہے کہ اپنے مریض کو آپریشن سسے قبل کلوروفارم دینا بھی پسند نہیں کرتا۔ وجیہ وارثی بھی اپنے اظہاریئے اور بیانیے میں ایسے ہی سفاک دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دانشورانِ فن ان کی نظموں کو کس خانے میں رکھتے ہیں۔ انہیں نہ تو شاعر ہونے کا کوئی دعویٰ ہے اور نہ یہ زعم کہ وہ شاعری کے ذریعے اس نام نہاد سوسائٹی میں کوئی تبدیلی لاسکتے ہیں۔ اور ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ شاعر کا یہ کام بھی نہیں ہے۔


وجیہ وارثی کی نظمیں اس آدمی کی بے بسی اور جھنجھلاہٹ میں لپٹی چیخیں ہیں جسے ہر طرف سے زندہ لاشوں نے گھیر لیا ہے اور اس کے لیے بجٹ میں صرف جوتے ہیں۔
وجیہ وارثی کی نظموں کے عنوانات ہی اتنے بامعنی ہیں کہ ان پر تادیر گفتگو کی جاسکتی ہے، ہم جس ملک میں رہتے ہیں اس کے حالات سے کم و بیش ایک ہی طرح سے متاثر ہوتے ہیں مگر اس سارے منظر نامے میں جو چیز وجیہ وارثی کو منفرد بناتی ہے وہ ان کا بیانیہ ہے، وہ عام آدمی کی طرح سیاسیات اور سماجیات کو گالی دے کر مطمئن نہیں ہوجاتے بلکہ اپنے دکھ کا فنکارانہ اظہار کرتے ہیں۔
بات محبت کی ہو یا نفرت کی وجیہ وارثی کے ہاں ہر موضوع اہمیت کا حامل ہے، بدتمیز، غربت، خودکش بمبار، اداسی تنہا نہیں ہوتی، بھٹکے ہوئے خواب، پیار کرنے کے سو آسان طریقے، خانہ جنگی اور خانہ داری، ایک لڑکی جو بلاوجہ جلا دی گئی، ایکوریم سے جھانکتی مچھلی، تتلی اور للن کی شادی، دشمنی کی فارنزک رپورٹ، شیم کلنگ، مسلسل بجٹ، بون سائی، کافور، قسطوں میں موت، کرسٹوفر اینڈرسن اور دیگر نظمیں دیکھ لیں ہر نظم میں ایک حساس اور ذہین شخص بولتا دکھائی دیتا ہے۔
وجیہ وارثی کی یہ پہلی کتاب ہے اور ہم تہہِ دل سے اس کا خیرمقدم کرتے ہیں یہاں یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ اپنی اگلی نظموں اور آنے والی کتابوں میں وجیہ وارثی منافق سماجوں اور گروہِ جاہلاں کی مزید درگت بناتے نظر آئیں گے۔


اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں

lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں
سید کامی شاہ معروف شاعر اور افسانہ نگار ہیں، گاہے گاہے ادبی مضامین اور کالم بھی لکھتے ہیں، ایک طویل عرصے سے اس دشت کی سیاحی میں مشغول ہیں، ان کی شاعری کے اب تک دو مجموعہ کلام اشاعت پذیر ہوچکے ہیں، پہلی کتاب تجھ بن ذات ادھوری ہے کہ نام سے دو ہزار آٹھ میں شائع ہوئی جبکہ دوسری کتاب قدیم کے نام سے دو ہزار اٹھارہ میں شائع ہوئی۔ کئی شعری انتخابات کا حصہ بھی بن چکے ہیں۔ افسانے، مضامین، کالم اور شاعری کثیر تعداد میں ملکی و غیر جرائد میں اشاعت پذیر ہوتی رہتی ہے۔ سید کامی شاہ پیشے کے لحاظ سے صحافی ہیں، اخبارات و جرائد میں طویل عرصے تک صحافیانہ ذمہ داریاں نبھانے کے بعد الیکٹرانک میڈیا میں طویل عرصے سے سرگرم ہیں۔ اردو زبان کے ایک کثیر الاشاعت جریدے گوسپ کے ایڈیٹر رہ چکے ہیں اور میڈیا ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں برقی صحافت بھی پڑھاتے رہے ہیں۔ آج کل ایک نجی میڈیا ہائوس میں ویب پروڈیوسر کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ تخلیقی میدان میں اپنی کہانیوں کی کتاب کاف کہانی، شاعری کے مجموعے وجود سے آگے اور ناول کشش کا پھل پر کام کررہے ہیں۔ عصری شعرا و ادبا پر لکھے گئے مضامین کا مجموعہ تازہ کامی کے نام سے زیرِ طبع ہے۔
4 کمنٹ
  1. Avatar

    نثری نظموں کی حمایت اور رد میں دلائل اور مباحث کے منطقی اور غیر منطقی رشادات کا انبار ہے. اس صنف سخن میں طبع آزمائی کرنے والوں کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے اور صنف سخن کے اختیار یا ترک پر بھی کسی کا زور نہیں ہے.

    تو پھر یہ چشمک اور تنقیص کیوں؟ یہ بات اگرچہ مسلم ہے کہ میں ذاتی طور پر نصر کو نصر اور نظم کو نظم کے طور پر برتنے اور موصوف کرنے کا قائل ہوں….. لیکن ان مصنفین کی تذلیل کو بھی برا سمجھتا ہوں جو نثری نظمیں یا “چیخ” لکھ رہے ہیں.

    Reply
  2. Avatar

    نثری نظموں کی حمایت اور رد میں دلائل اور مباحث کے منطقی اور غیر منطقی رشادات کا انبار ہے. اس صنف سخن میں طبع آزمائی کرنے والوں کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے اور صنف سخن کے اختیار یا ترک پر بھی کسی کا زور نہیں ہے.

    تو پھر یہ چشمک اور تنقیص کیوں؟ یہ بات اگرچہ مسلم ہے کہ میں ذاتی طور پر نثر کو نثر اور نظم کو نظم کے طور پر برتنے اور موصوف کرنے کا قائل ہوں….. لیکن ان مصنفین کی تذلیل کو بھی برا سمجھتا ہوں جو نثری نظمیں یا “چیخ” لکھ رہے ہیں.

    Reply

    کمنٹ کریں

    Reply
  3. Avatar

    جی شکریہ تاج حسین رضوی صاحب

    Reply
  4. Avatar

    بہت شکریہ کامی شاہ

    Reply

کمنٹ کریں