کیا ہمارے بچے پاکستان میں محفوظ ہیں؟

کالم نگار : تحریم عظیم

کیا ہمارے بچے

تین سال پہلے قصور میں کوڑے کے ڈھیر سے ایک لاش ملی تھی۔ یہ سات سالہ بچی تھی جسے ہم زینب انصاری کے نام سے جانتے ہیں۔ زینب کو اس کے محلے دار عمران علی نے اغوا کرنے کے بعد کئی روز تک ریپ کیا تھا اور پھر اس کا قتل کر کے اس کی لاش کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دی تھی۔


معاف کیجیے گا ویسے تو میڈیا کو جنسی زیادتی کے واقعات میں مظلوم کی پرائیویسی کا بہت دھیان رکھنا چاہیے مگر ایسا ہوتا نہیں ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ اول، میڈیا میں ایسے بہت سے لوگ کام کر رہے ہیں جنہیں وہاں کام نہیں کرنا چاہیے۔ دوم، سوشل میڈیا نے خبر کے اوپر صحافیوں کی اجارہ داری ختم کر دی ہے۔ اب ہر کوئی خبر بنا سکتا ہے چاہے وہ صحافی ہو یا نہ ہو۔ میڈیا بھی خبروں کے لیے سوشل میڈیا کا ہی رخ کرتا ہے۔


ہمیں اپنی پوسٹس وائرل ہوتا دیکھ کر جو خوشی ہوتی ہے، اس خوشی کی خاطر ہم بغیر سوچے سمجھے ہر چیز اپنے اکاؤنٹ پر اپ لوڈ کر دیتے ہیں۔ چاہے وہ جنسی زیادتی کے بعد قتل ہو جانے والی بچی یا بچے کی جلی ہوئی لاش کی تصویر ہی کیوں نہ ہو۔
زینب انصاری کے اغوا، ریپ اور قتل کے واقعے کے تین سال بعد سندھ کے ایک گاؤں سے ایک بچی کی لاش ملی ہے۔ اسے بھی زینب کی طرح قتل سے پہلے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ٹوئٹر پر عوام اس کے لیے ویسے ہی انصاف مانگ رہے ہیں جیسے تین سال پہلے زینب انصاری کے لیے مانگ رہے تھے۔ تین سال میں ہمیں یہ پتا لگا ہے کہ انصاف حاصل کرنے کے لیے مظلوم کا مرنا ضروری ہے ورنہ ہمارے دل نہیں پگھلتے۔


زینب انصاری کے قتل کے بعد حکومت نے بچوں کے تحفظ کے لیے بہت سے اقدامات کیے پر ہمارے بچے اب بھی غیر محفوظ ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال ایک ارب بچے مختلف قسم کے تشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔ اس رپورٹ میں کہا گیا کہ بہت سے ممالک میں بچوں کے خلاف تشدد کے حوالے سے قوانین تو موجود ہیں پر ان پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔


اقوامِ متحدہ نے ایک اور رپورٹ میں دنیا کے تمام ممالک کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بچوں کی حفاظت کے لیے درج ذیل نکات پر عمل کریں۔
بچوں کے تحفظ کے حوالے سے قوانین کا نفاذ کریں۔
صنف کے بارے میں معاشرے کی سوچ بدلیں۔
بچوں کے لیے محفوظ ماحول بنائیں جہاں ان پر تشدد نہ ہوتا ہو اور ایسی تمام جگہیں جہاں بچوں پر تشدد کے واقعات کی تعداد زیادہ ہے، ان کی بہتری کے لیے کام کیا جائے۔
والدین اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے افراد کے لیے تربیتی پروگرام متعارف کروائے جائیں۔
عوام کی معاشی حالت بہتر بنانے پر توجہ دی جائے۔
کم عمر مجرموں کے لیے سپورٹ پروگرام شروع کیے جائیں تاکہ وہ معاشرے کے لیے مفید ثابت ہو سکیں۔


بچوں کی تعلیم اور سکولوں کے ماحول پر کام کیا جائے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق سکول محفوظ ہونے چاہیے اور وہاں بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ معاشرے میں رہنے سہنے کے آداب اور اپنی حفاظت کے طور طریقے بھی سکھانے چاہییں۔
آپ خود بتائیں ہمارے ملک میں ان میں سے کتنے نکات پر عمل ہو رہا ہے؟ ہم اپنے بچوں کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ کچھ بھی نہیں۔ ایک واقعہ ہوتا ہے، اس پر شور اٹھتا ہے، حکومت اس شور کو ختم کرنے کے لیے تھوڑے بہت ہاتھ چلاتی ہے، دو روز بعد کوئی اور واقعہ ہو جاتا ہے، عوام کی توجہ وہاں مبذول ہو جاتی ہے، حکومت بھی اپنے دیگر ‘اہم کاموں’ کی طرف واپس لوٹ جاتی ہے۔


ایسے ہر کیس کے بعد عوام کی طرف سے مجرم کو سرِ عام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ عمران علی کو پھانسی دی گئی تھی۔ اس کے بعد ایسے واقعات پر کیا فرق پڑا؟ کیا عوام یہ جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
کیا حکومت نے صنف اور اسے سے جڑے نظریات کے بارے میں عوام کی سوچ تبدیل کرنے کی کوشش کی؟ کیا ہمارے سکولوں کو بچوں کے لیے محفوظ بنایا گیا؟ چین میں والدین بھی اپنے بچوں کے سکول میں داخل نہیں ہو سکتے۔ صبح اور شام سکول کے باہر محافظ ایسے کھڑے ہوتے ہیں جیسے یہ بچے نہیں بلکہ صدر یا وزیرِ اعظم ہوں۔ کیا ہمارے ہاں کسی سکول میں بچوں کی حفاظت اتنی سنجیدگی سے کی جاتی ہے؟
گُڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کا تو ہمیں بھی علم نہیں، ہم اپنے بچوں کو ان کے بارے میں کیسے بتائیں گے؟


ماں باپ کو بھی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ تو ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ ہم خود کو دنیا کی بہترین قوم سمجھتے ہیں۔ حقیقت میں ہم سے بری قوم شاید ہی کوئی ہو۔ جس ملک میں سات دن کا بچہ تک محفوظ نہ ہو اسے کیسے بہترین سمجھا جا سکتا ہے؟
حکومت تو جانے کب ان واقعات کو سنجیدگی سے لے گی، عوام سے گزارش ہے کہ خدارا اپنے بچوں کی حفاظت کریں۔ آپ کا کام انہیں پیدا کر کے ختم نہیں ہو جاتا۔ بچے بہت بڑی ذمہ داری ہوتے ہیں۔ انہیں اس دنیا میں لانے سے پہلے دس بار سوچیں۔ آپ جس ملک میں رہتے ہیں وہ بچوں کے لیے محفوظ ملک نہیں ہے۔ انہیں اس دنیا میں لانے کے بعد آپ کی ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی۔ ان کی پرورش اور حفاظت کرنا آپ کا فرض ہے۔


سوشل میڈیا پر جنسی زیادتی کے شکار افراد کے لیے آواز اٹھانے والوں سے بھی درخواست ہے کہ برائے مہربانی ان کی تصاویر یا ویڈیوز اپنے اکاؤنٹ پر اپ لوڈ یا شئیر نہ کیا کریں۔
پھانسی کے پھندے میں جھولتے انسان کی تصویر بھی اپ لوڈ نہ کیا کریں۔ ایسی تصاویر بہت سے لوگوں کے لیے تکلیف کا باعث ہو سکتی ہیں۔
جنسی زیادتی کے واقعات کے بارے میں پوسٹ لکھتے اور شئیر کرتے ہوئے ان پر کمزور دل افراد، چھوٹے بچوں اور جنسی زیادتی کے شکار افراد کے لیے تنبیہ لکھ دیا کریں۔
مجرم کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کرنے سے پہلے اس موضوع پر ایک دو ریسرچ پیپر ہی پڑھ لیں تاکہ آپ کو پتہ چل سکے کہ اس مطالبے سے تبدیلی آتی بھی ہے یا نہیں۔
سب سے ضروری، ایسی کسی پوسٹ میں ملک کے حکمرانوں کو ٹیگ کرنے سے پرہیز کریں۔ آپ تو اپنی طرف سے مظلوم کے لیے انصاف مانگ رہے ہوں گے، انہیں یہ بلیک میلنگ لگ سکتی ہے۔ انہیں بلیک میل کرنے سے احتراز کریں۔
حکومت تو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے قاصر ہے۔ آپ ہی کچھ کر لیں۔

شیئر کریں

کمنٹ کریں